تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

آزادی مارچ یا طویل غلامی کی طرف ایک قدم .. سید مجاہد علی

مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ راولپنڈی پہنچ رہا ہے۔ وہ کل صبح ایک بڑے ہجوم کے ساتھ اسلام آباد میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس ہجوم کی قوت اور تعداد کے بارے میں اندازے، دیکھنے اور رپورٹ کرنے والے کی صوابدید اور پسند وناپسند کے معیار کے مطابق ہی قائم کیے جارہے ہیں۔ تاہم اسلام آباد انتظامیہ کی تیاریوں اور حکومت کی پریشانی سے لگتا ہے کہ احتجاجی جلوس توقع سے بڑا ہو سکتا ہے۔



اس احتجاج کا کوئی بھی نتیجہ نکل سکتا ہے۔ یہ تند و تیز تقریروں کے بعد پر امن طریقے سے منتشر بھی ہو سکتا ہے۔ کوئی انتظامی غلطی، تصادم یا تشدد کے نتیجہ میں احتجاجی ہجوم مشتعل بھی ہوسکتا ہے۔ ایسی صورت میں جان و مال دونوں کو اندیشہ لاحق ہوگا۔ ایک دور از قیاس امکان یہ بھی ہے کہ عمران خان کی جگہ ان ہاؤس تبدیلی کے ذریعے کسی دوسرے زیادہ قابل قبول شخص کو وزیر اعظم بنا دیا جائے اور مولانا کی آواز میں آواز ملانے والے سب سیاسی لیڈر اور احتجاج کرنے والے، اسے اپنی کامیابی قرار دیں۔ اس حوالے سے درست صورت حال کا اندازہ جمعرات کو اسلام آباد میں اکٹھا ہونے والے ہجوم کی تعداد اور اس کے قائدین کے لب و لہجہ سے ہی ہو سکے گا۔ تاہم ان تینوں صورتوں میں کوئی بھی وقوعہ رونما ہو، اس احتجاج کے بارے میں دو باتوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک یہ کہ فوجی قیادت کو طے کرنا ہوگا کہ وہ کس حد تک سیاسی پارٹیوں کو قومی معاملات میں ’سپیس‘ دینے پر تیار ہے۔ دوسرے یہ کہ ایک مذہبی جماعت کی قیادت میں اس احتجاج کے بعد ملک میں مذہبی عناصر کی قوت میں اضافہ ہوگا۔ اس طرح معاشرے کی بعض بنیادی صفات کو مزید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔



مولانا فضل الرحمان گو کہ ایک معتدل مزاج لیڈر ہیں اور وہ ملک میں جمہوری نظام کے حامی ہیں۔ لیکن اقلیتوں اور خواتین کے بارے میں ان کے خیالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ احتجاج کے نتیجہ میں اگر ان کی سیاسی قوت اور قد کاٹھ میں اضافہ ہوتا ہے تو وہ دیگر سیاسی پارٹیوں کو اپنے منشور و نظریات کے مطابق رعایت دینے پر مجبور کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ اگرچہ مولانا فضل الرحمان کا دعویٰ ہے کہ اس وقت پوری قوم عمران خان اور حکومت کے خلاف ’ایک پیج‘ پر ہے۔ لیکن اس سیاسی یکسوئی کے باوجود یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی سو فیصد حمایت حاصل نہیں ہے۔ نواز شریف اور آصف زرداری نے ضرور مولانا فضل الرحمان کے احتجاج کا مکمل ساتھ دینے کا عندیہ دیا ہے لیکن شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے تحفظات اپنی جگہ موجود ہیں۔ ان میں کچھ درست ہوں گے اور کچھ اس خوف پر مبنی ہوسکتے ہیں کہ مولانا کی سیاسی مقبولیت، ان جماعتوں کی عوامی حیثیت کو متاثرکرے گی اور حصول اقتدار کی سودے بازی میں ان کی پوزیشن کو کمزور کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔



اسلام آباد پہنچنے والے آزادی مارچ کے حوالے سے عسکری قوتوں کا کردار ہی فیصلہ کن ہوگا۔ اگرچہ ابھی تک یہی تاثر دیا گیا ہے کہ فوج عمران خان اور ان کی حکومت کی پشت پر کھڑی ہے لیکن ہجوم کے مزاج اور طاقت کو دیکھتے ہوئے وہ اپنا فیصلہ اور ارادہ تبدیل بھی کرسکتی ہے۔ مولانا اگر اندازوں سے زیادہ لوگ اسلام آباد میں جمع کرنے میں کامیاب ہو گئے تو شاید وہ خود بھی اپنا ارادہ تبدیل کرلیں اور اقتدار میں مناسب حصہ کی ضمانت کے بغیر اسلام آباد چھوڑنے پرآمادہ نہ ہوں۔ اسلام آباد کے ریڈ زون کو قلعہ بند کرنے کے جو انتظامات کیے گئے ہیں، وہ بھی مجمع کی تعداد اور اس کے لیڈروں کی حکمت عملی کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہو سکتے ہیں۔ احتجاجی ہجوم کی تعداد اگر بیس پچیس ہزار بھی ہوئی تو وہ حکومت سے قابل ذکر مراعات لینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ یہی وجہ ہے ہجوم کی سیاست کا سب سے پہلا نشانہ ووٹ کی طاقت ہوتی ہے۔ اس کا مظاہرہ اس ملک میں پہلے بھی کیا جاچکا ہے اور اس کے نتائج بھی عوام نے بھگتے ہیں۔ اب ایک بار پھر اہل پاکستان کو ماضی جیسی افسوسناک صورت حال کا سامنا ہے۔



مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں جمع ہونے والے لوگ اگر ایک لاکھ یا اس سے زیادہ بھی ہوں تو بھی وہ ملک کے 9 کروڑ ووٹروں کی نمائیندگی نہیں کرسکتے۔ لیکن ایک مقام پر اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع کرنے والا لیڈر، وہ مطالبات منوا لیتا ہے جو ووٹ کی پرچی پر پسند کی پارٹی یا امید وار کے نام پر مہر لگانے والا ووٹر تسلیم نہیں کروا سکتا۔ مولانا کے مطالبات اور دلائل کی حمایت کی جائے یا ان کی تنقیص، اس بارے میں دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ جلوس اور ہجوم کی سیاست سے کسی بھی معاشرے میں جمہوری روایت کو مستحکم نہیں کیا جاسکتا۔ عمران خان کو ضرور عسکری عناصر کی حمایت بھی حاصل رہی ہوگی لیکن یہ بھی سچ ہے کہ تحریک انصاف نے 2018 کے انتخاب میں پونے دو کروڑ ووٹ لئے تھے۔ اب چند ہزار یا چند لاکھ کا مجمع اسے دیوار سے لگانے کے لئے تیار کھڑا ہے۔ اسے بہرصورت نہ تو جمہوریت کا نام دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس طریقے سے جمہوریت مستحکم ہوگی۔ لیکن یہ صورت حال پیدا کرنے میں عمران خان اور تحریک انصاف کو بری الذمہ نہیں کیا جاسکتا۔



گزشتہ برس حکومت سنبھالنے کے بعد سے عمران خان نے بطور قائد ایوان اور وزیر اعظم، اپوزیشن کے ساتھ توہین آمیز اور عدم تعاون کا رویہ اختیار کیا ہے۔ وہ مسلسل اپوزیشن لیڈروں کی کردار کشی کو ہی اپنی کامیابی سمجھ رہے ہیں۔ اس رویہ کا مظاہرہ نواز شریف کی علالت، عدالت میں ان کی ضمانت اور دو روز پہلے ننکانہ صاحب میں عمران خان کی گفتگو سے بھی کیاجاسکتا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ مولانا فضل الرحمان کئی ماہ سے احتجاج کی بات کررہے ہیں اور ایک ماہ سے اس کی باقاعدہ تیاریاں بھی شروع کردی گئی تھیں لیکن حکومت نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے کوئی سیاسی اقدام کرنا ضروری نہیں سمجھا۔



عمران خان بدستور اس زعم میں مبتلا ہیں کہ فوج بہر صورت ان کی پشت پر کھڑی رہے گی۔ اس گمان یا یقین کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ انہیں خاص طور سے ملک کی قیادت کے لئے چنا گیا تھا۔ لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ عوامی دباؤ کی سیاست کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ یہ اگر عمران خان کو وزیر اعظم بنانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں تو انہیں اقتدار سے محروم کرنے میں بھی فیصلہ کن ہو سکتے ہیں۔ طاقت ور حلقوں نے قومی مفاد کے نام پر نہ ماضی میں کبھی عوام کے ووٹوں کی پرواہ کی ہے اور نہ ہی اب ان سے اس قسم کی توقع کی جاسکتی ہے۔ عمران خان اگر فوج کی اعانت کی بجائے عوام کی حمایت پر بھروسہ کرتے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرتے تو شاید وہ موجودہ مشکل صورت حال سے بچ سکتے تھے۔



کم تعداد میں لوگ جمع ہونے کی صورت میں مولانا فضل الرحمان کے پاس چند گرما گرم تقریریں کرنے کے بعد اپنے حامیوں کو گھر بھیجنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ اس صورت حال کے بارے میں ہی مبصرین کا خیال ہے کہ اس احتجاج کے ذریعے مولانا فضل الرحمان نے اپنا سیاسی مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔ تاہم مارچ اور اس کے شرکا کے بارے میں اب تک موصول ہونے والی خبروں سے یہ تاثر قائم نہیں کیا جاسکتا کہ آنے والی رات ان کے سیاسی عروج کی آخری گھڑیاں ہوں گی۔ وہ سیاست کے گرم و سرد چشیدہ ہیں۔ ان کی جماعت منظم ہے اور انہیں ایک خاص حلقہ میں وسیع پذیرائی بھی حاصل ہے۔ اسی لئے اندیشہ ہے کہ بڑا ہجوم اکٹھا کرنے کے بعد ان کی امیدیں اور مطالبے بھی بڑھ جائیں گے۔ یہ صورت حال عمران خان اور حکومت ہی کے لئے نہیں بلکہ اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیوں کے لئے بھی سیاسی طور سے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور شہباز شریف نے اس احتجاج کا مکمل ساتھ دینے کا اعلان کرنے کے باوجود ابھی تک کسی گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔



تاہم آزادی مارچ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ سیاست میں فوج کا کردار بڑھ جائے گا۔ مولانا فضل الرحمان بھی انہیں حلقوں کا ہاتھ پکڑ کر سیاست کرتے رہے ہیں جن کی سرپرستی پر عمران خان کو ناز ہے۔ اسی لئے یہ بدگمانیاں بھی سیاسی فضا میں موجود ہیں کہ کیا یہ احتجاج محض سیاسی قوتوں کو ایک دوسرے کے ہاتھوں کمزور کروانے کا ہی کھیل ہے؟ اس لئے کل کے بعد کوئی بھی صورت رونما ہو۔ احتجاج کے پر امن منتشر ہوجائے یا اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کردیا جائے، سیاسی بساط پر کٹھ پتلیوں کی جگہ بنانے اور بدلنے والے ہاتھ ہی مضبوط ہوں گے۔ امن و امان کا کوئی بڑا مسئلہ پیدا ہونے کی صورت میں براہ راست فوجی مداخلت کا خطرہ بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔



راولپنڈی جاتے ہوئے گوجرانوالہ میں ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ’اب قوم عمران خان کو مزید مہلت نہیں دے گی۔ عمران خان نے ملک کی معیشت تباہ کر دی اور جب معیشت تباہ ہو جائے تو ملک اپنا وجود کھو بیٹھتا ہے۔ اب عوام کے ووٹ کو عزت دینا ہوگی۔ اس اصول پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا‘ ۔ مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو مولانا کو عوام نے یہ احتجاج منظم کرنے کے لئے منتخب کیا ہے اور نہ ہی وزیر اعظم کا استعفی ان قوتوں کی مرضی و منشا کے بغیر حاصل کیا جاسکتا ہے جن سے ووٹ کی عزت کو خطرہ لاحق رہتا ہے۔



مولانا ایک منتخب وزیر اعظم کے استعفی کے لئے انہی قوتوں کی حمایت چاہتے ہیں۔ یہ طریقہ ووٹ کو عزت دینے کی بجائے، ملک میں غلامی کی طویل رات کا نقطہ آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

( بشکریہ : کاروان .. ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker