تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : کیا تحریک انصاف کی حکومت ختم ہورہی ہے؟

شاید یہ قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوجائیں کہ تحریک انصاف کی حکومت ختم ہو رہی ہے اور ملک میں قومی اتفاق رائے کی حکومت بنانے کے بعد مڈ ٹرم انتخابات کا اہتمام کیا جائے گا۔ تاکہ عمران خان کے برسر اقتدار آنے کے بعد ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جاسکے۔ فی الوقت یہ اندازے، افواہیں ، تجزیے یا ’باخبر‘ ذرائع سے حاصل کی گئی معلومات اسی قیاس کو درست ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔
حکومتی ارکان سے ان قیاس آرائیوں کے بارے میں پوچھا جائے تو ان کے خیال میں ان کا ماخذ وہی مافیا گروہ ہیں جو ملکی سیاست میں بدعنوانی کی مثال قائم کرنے کے بعد اب اقتدار سے محروم ہوئے ہیں اور اپنی افواہ سازی اور سازشوں کے ذریعے ایک ’کامیاب‘ حکومت کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے بنفس نفیس سابقہ حکمرانوں کے بارے میں ’چور اچکے‘ کا سکہ بند بیان دینے کی بجائے اب مافیا گروہوں کا ذکر کرتے ہیں جو اپنی مذموم سرگرمیوں سے معاشرے کو کھوکھلا کرنے کا کام کررہے ہیں۔ عمران خان کے بقول یہ لوگ سیاست میں بدعنوانی کے ریکارڈ قائم کرنے کے بعد اب موجودہ حکومت کو ناکام بنانے کے لئے مہنگائی میں اضافہ کے مختلف ہتھکنڈے اختیار کررہے ہیں۔ اس طرح عمران خان شاید میں تاریخ پہلے ایسے سیاسی رہنما کی حیثیت ہوں گے جو مہنگائی، ذخیرہ اندوزی، بدانتظامی، بدعنوانی اور دیگر سماج دشمن سرگرمیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے ، سابقہ حکومتوں یا بعض ’مافیا گروہوں‘ کو اس کا سبب قرار دیتے ہیں۔ وہ اس سادہ سوال کا جواب نہیں دیتے کہ اگر ملک میں اجناس ناپید ہوگئیں اور اس کے نتیجے میں قیمتوں میں اچانک اضافہ ہو ا تو اس کا جواب حکومت کے علاوہ کس سے طلب کیا جائے؟
عمران خان نے مہنگائی کا خاتمہ کرنے اور محتاج لوگوں کو بنیادی ضرورت کی اشیا فراہم کرنے کے مقصد سے چند ارب روپے فراہم کرنے کا قصد ظاہر کیا ہے ۔ البتہ وزیراعظم یا کوئی سرکاری نمائیندہ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا کہ بائیس تئیس کروڑ آبادی کے ملک میں جہاں ایک چوتھائی آبادی غربت کے عالمی معیار سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو اور بے روزگاری کے سرکاری اعداد و شمار دس فیصد تک پہنچ رہے ہوں، وہاں غربت کے خاتمہ یا قیمتوں کو کم کرنے کے منصوبہ پر پندرہ بیس ارب روپے صرف کرنے سے کیا مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے؟ اس سے البتہ عمران خان سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کا کام ضرور لے سکتے ہیں یا ملک میں غریبوں کی مددگار بیوروکریسی کے اختیار و وسائل میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ یہ طریقہ غریبوں کی مدد سے زیادہ سرکاری کرپشن کا راستہ ہموار کرنے میں معاون ہوگا۔ عمران خان کے لئے البتہ یہ پہلو اہم نہیں ہیں۔ انہیں نعرے بازی کے ذریعے اپنا ایک غیر واضح سیاسی ایجنڈا فروخت کرنا ہے۔ یہ مقصد شاید کسی حد تک حاصل کیا جاسکتا ہے۔
اس کے باوجود موجودہ حکومت کے خاتمہ اور ملک میں کسی سیاسی تبدیلی کی خبریں تواتر سے سامنے آرہی ہیں۔ یہ خبریں فراہم کرنے والے اس تبدیلی کے لئے ملک کی خراب معاشی صورت حال کو ہی عذر کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے والے حلقے اب ان کی کارکردگی سے اس قدر مایوس ہوچکے ہیں کہ ان کی تبدیلی کو ناگزیر سمجھا جانے لگا۔ نواز شریف کی ملک سے روانگی یا اس سال کے شروع میں پارلیمنٹ میں ترمیم شدہ آرمی ایکٹ کی ’اتفاق رائے‘ سے منظوری جیسی خبرو ں سے یہ شبہات تقویت پکڑتے رہے ہیں کہ ملک میں حکومت تو تحریک انصاف کی ہے لیکن اختیار کسی اور کا ہے۔ حال ہی میں احسان اللہ احسان کے فرار پر طاری سناٹے اور لال مسجد کا قبضہ واگزار کروانے کے لئے مولانا عبدالعزیز سے ہونے والا معاہدے سے بھی حکومت کے اختیار اور قوت فیصلہ کی حیثیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
اب جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایک میڈیا گفتگو میں واضح کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ برس نومبر میں اسلام آباد میں دیا جانے والا دھرنا اس یقین دہانی کے بعد ختم کیا تھا کہ اعلیٰ ترین سطح پر تین لیڈروں کو علیحدہ کیا جائے گا اور مارچ تک نئے انتخابات کروائے جائیں گے۔ اس ملک میں اس قسم کی یقین دہانی کروانے کی صلاحیت پارلیمنٹ کے علاوہ صرف ایک طاقت کے پاس ہے۔ پارلیمنٹ کا اختیار پہلے تو سینیٹ میں اپوزیشن کی واضح اکثریت کے باوجود گزشتہ برس صادق سنجرانی کے خلاف عدام اعتماد کی تحریک ناکام ہونے سے ہی واضح ہوگیا تھا ۔ اور اس سال کے آغاز پر پارلیمنٹ نے جس عجلت اور قومی جذبہ سے سرشار ہوکر سروسز ایکٹ میں ترامیم منظور کی ہیں، ان سے اس کی ’خود مختاری و طاقت ‘ کا رہا سہا بھرم بھی جاتا رہا ہے۔ کسی کو یہ ماننے اور کہنے میں شرمندگی بھی محسوس نہیں ہوتی کہ پارلیمنٹ کے ارکان خود ہی اپنے اختیار اور عوامی مینڈیٹ کا مذاق اڑانے کاسبب بنتے ہیں۔ حتیٰ کہ ایک دلاور وزیر تو ٹی وی ٹاک شو کی میز پر فوجی بوٹ رکھ کر اس سچائی پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے کہ جمہوریت کے نام پر رچایا جانے والا ڈرامہ دراصل کہاں سے تصنیف اور ڈائریکٹ ہوتا ہے۔
اس طرح ملک میں ایک ہی طاقت باقی بچتی ہے جو قومی مفاد کی محافظ بھی ہے اور سیاسی منظر نامہ میں کسی تبدیلی کا اشارہ دینے اور اسے وقوعہ بنانے کی قدرت بھی رکھتی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جمہوریت کو طریقہ ، مقصود اور منزل بتانے والے سیاست دان اسی طاقت کے حوالے سے مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے ہیں یا اس کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں ۔ جیسا کہ مولانا فضل الرحمان نے فرمایا ہے کہ مارچ تک عمران خان سمیت اہم لیڈروں کی تبدیلی اور نئے انتخابات کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اب انہوں نے چوہدری پرویز الہیٰ کو اپنے اخفائے راز کے حلف سے آزاد کرتے ہوئے ان سے کہا ہے کہ وہ جس راز کے امین ہیں اب اسے قوم کے سامنے لے آئیں۔ جس طرح مولانا فضل الرحمان سیاسی طور سے مناسب سمجھتے ہیں کہ اس وقت ہی پنجاب اسمبلی کے اسپیکر سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ نومبر کا دھرنا ختم کرنے کے بارے میں ’خفیہ تفصیلات‘ عام کریں اسی طرح چوہدری پرویز الہیٰ کو یہ مشکل درپیش ہے کہ شاید تبدیلی کی فصل ابھی کٹائی کے قابل نہیں ہوئی ۔
اسی لئے انہوں نے مسلم لیگ (ق) کے ساتھ مذاکرات کرنے والی سرکاری ٹیم کے سربراہ وزیر دفاع پرویز خٹک کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ امید ظاہرکی ہے کہ تحریک انصاف ہی تبدیلی لانے اور اپنی باقی ماندہ مدت پوری کرنے میں کامیاب ہوجائے گی تاکہ پھر عوام یہ فیصلہ کرسکیں کہ حکومت کرنے والی پارٹیاں اپنے وعدے پورے کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں یا ناکام رہی ہیں۔ آج پرویز خٹک نے پرویز الہیٰ کے ساتھ مل کر کی گئی پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ کیا کہ ’حکومت کے اتحادی کہیں نہیں جارہے‘۔ تو پرویز الہیٰ نے اس کی ’تصدیق‘ تبدیلی کا وعدہ پورا کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کی۔ یعنی انہوں نے یہ سیاسی پتہ ہاتھ میں سنبھال رکھا ہے کہ اگر کسی مرحلے پر چوہدری برادران کو ’تبدیلی ‘ میں کھوٹ دکھائی دیا تو وہ خود تبدیلی برپا کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ کیوں کہ بالآخر مقصد تو تبدیلی ہے۔ کب اور کس کی تبدیلی؟ اس بارے میں ملک بھر کے تجزیہ نگار دن رات ایک کئے ہوئے ہیں ۔ مسائل سے گھرے ملک میں پوری قوم کو حکومت کی تبدیلی کے تازہ بہ تازہ منصوبوں کے سنسنی خیز انکشافات سے سیراب کیا جارہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے دعوے اور مجوزہ تبدیلی رونما نہ ہونے کی ایک وجہ آرمی چیف کی توسیع کے معاملہ پر سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی نومبر کے آخر میں مداخلت بھی ہوسکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس حکم میں آرمی چیف کی توسیع کو ناجائز قرار دے کر پارلیمنٹ سے حتمی فیصلہ کرنے کے لئے کہا تھا۔ عدالت کا یہ فیصلہ دیگر سیاسی تبدیلیوں کے حوالے سے شاید طے شدہ ٹائم فریم کو متاثر کرنے کا سبب بھی بنا۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کی حکومت کو تبدیل کرنے یا اسے مزید موقع دینے کے بارے میں فیصلہ ساز شاید خود بھی تذبذب کا شکار ہیں۔ اسی لئے میڈیا کے ذریعے باخبر حلقوں کے حوالے سے ملے جلے سگنل دیے جاتے ہیں۔ کبھی اپوزیشن پرجوش ہوکر کسی نئے لیڈر کو وزیر اعظم کے روپ میں دیکھنے کا خواب دیکھنے لگتی ہے اور کبھی حکومت کے ترجمان یہ دعویٰ کرنے لگتے ہیں کہ ہم مضبوط ہیں اور سیاسی تبدیلی کی خبریں پھیلانے والےعناصر شکست خوردہ اور ملک دشمن ہیں۔
اس سیاسی اور ذہنی اضطراب کے ماحول میں ایک بات البتہ واضح ہورہی ہے کہ پاکستان میں جاری جمہوری نظام میں یہ فیصلہ عوام نہیں کرتے کہ کون وزیر اعظم بنے گا یا کون سی پارٹی آئیندہ پانچ برس کے لئے حکومت قائم کرے گی۔ اس کا فیصلہ کچھ دیگر عوامل اور معاملات کی بہتر تفہیم رکھنے والی طاقتیں، وسیع تر قومی مفاد میں کرتی ہیں۔ فی الوقت اس وسیع تر مفاد کا تحفظ عمران خان کی سربراہی میں کیا جارہا ہے لیکن تا بہ کجا کی تلوار ان کے سر پر لٹکی رہے گی۔

( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker