تجزیےرضی الدین رضیکشمیرلکھاری

کشمیر آزاد ہو کربھلا ”پاکستان “ کیوں بنے گا ؟ ۔۔رضی الدین رضی

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جیسے بہت سے نظریئے باطل ہوگئے ۔بہت سے خواب بے تعبیرہوئے اوروقت بہت سی امیدوں پر پانی پھیر گیا ۔اسی طرح یہ سوال بھی بے معنی اور پرانے ہوچکے کہ کیا صرف نعرے بازی کے ذریعے کشمیر حاصل کیاجاسکتا ہے؟ کیا صرف نعرے بازی سے کشمیری آزاد ہوجائیں گے؟ اور کیا کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کے لیے ملک بھر میں عام تعطیل ضروری ہے؟اور یہ سوال بھی اب پرانا ہوگیا کہ کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قراردینے والا قائداعظم کافرمان اصلی بھی ہے یا نہیں؟ہم اس حساس سوال کو زیربحث ہی نہیں لاتے لیکن اس کے باوجود ہم گزشتہ 72برس سے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ ہی سمجھتے ہیں۔ ہم نے کشمیر کے نام پر جنگیں بھی لڑیں ۔جانوں کی قربانیاں بھی دیں اور کشمیر کی آزادی کے نام پر عوام کے جذبات سے بھی کھیلاگیا۔
عوام کے جذبات سے کھیلنے والوں میں ایوب خان بھی شامل تھے ،جنرل ضیاءالحق اورپرویز مشرف بھی۔ اسی طرح ذوالفقارعلی بھٹو ،بے نظیر بھٹو اور نوازشریف نے بھی کشمیر کے نام پر بہت سے دعوے کیے۔ بہت سی بڑھکیں ماریں اور ایسی ہی بڑھکیں ہمیں آج کل بھی سننے کومل رہی ہیں۔ شاید اس لیے کہ عوام بڑھک کے اسیر ہیں۔ اور بڑھکوں کے سہارے جینے کے قائل ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کشمیر پاکستان کی ریاست کا بیانیہ ہے اور حکومت کوریاست کا بیانیہ ہمیشہ تسلیم کرناپڑتا ہے۔ ریاست کابیانیہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اتارچڑھاﺅ کاشکاررہتاہے۔اسے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کے مطابق تبدیل کرتے رہنا ریاست اورحکومت دونوں کے لیے ضروری ہوتا ہے۔قیام پاکستان کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل میں کشمیرکے حوالے سے وقتاًفوقتاً ارتعاش پیداکیاگیا۔پاکستان اوربھارت نے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات تو کیے لیکن مسئلہ حل نہ کیا۔ دونوں ملکوں نے اس بنیاد پر الزام تراشیاں بھی خوب کیں۔دونوں ممالک کے سربراہوں کے غیرملکی دورے ہوں یا ان کی کسی عالمی کانفرنس میں شرکت، کشمیر کے حوالے سے ایک لگا بندھا بیان اورسربراہوں کی ملاقات ہمیشہ سے میڈیا کی زینت بنتی ہے۔کس نے کشمیر پر ڈٹ کر بات کی؟کس نے اسے عالمی سطح پر متعارف کروایا ؟کس نے کشمیریوں کے خون کاسودا کیا؟اورکس نے کشمیریوں کے لیے جان کی قربانی دی ؟ یہ سب سنتے سنتے اور پڑھتے پڑھتے کئی نسلیں رخصت ہوگئیں۔ان 72برسو ں کے دوران اسی ماحول میں کئی نسلیں جوان ہوئیں اور کئی بوڑھی ہوگئیں لیکن ایک دائرے کاسفر ہے جو ختم ہونے میں ہی نہیں آرہا۔
کشمیر کے نام پر چندہ جمع کیاگیا ، تربیتی کیمپ بنائے گئے ، جنگجو بھرتی کیئے گئے ، انہیں سرحد پاربھیجا گیااور جانے والوں میں سے بہت سے ایک ایسی جنگ کارزق ہوگئے کہ جس کے بارے میں ابھی تک یہ طے نہیں ہوسکا کہ وہ کس کی جنگ ہے۔مائیں اپنے بچوں کی راہ تکتی مرگئیں یاپھر انہیں مبارکباد کے ساتھ اپنے بچوں کی ”اطلاع“ اس طرح وصول کرناپڑی کہ وہ نم آنکھوں کے ساتھ رندھی ہوئی آواز میں خیر مبارک بھی نہ کہہ سکیں۔جسے ہم آزاد کشمیر کہتے ہیں وہ کس قدر آزاد ہے یہ ایک الگ سوال ہے۔اور ایسا سوال کہ جس پر بات کرنابھی مناسب نہیں سمجھا جاتا۔آزاد کشمیر میں رہنے والے کشمیری خود کو کتنا آزاد سمجھتے ہیں یہ سب بخوبی جانتے ہیں لیکن بہتری اسی میں ہوتی ہے کہ اس پر بات نہیں کرتے۔ہرسال کی طرح اس مرتبہ بھی فروری کے آغاز سے ہی چینلوں پر کشمیر کی گردان شروع ہوگئی۔وہی نعرے جو ہم ہمیشہ سے سنتے آرہے ہیں۔ اس مرتبہ بھی لگائے گئے ۔حیرت ہے کہ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کا نعرہ کشمیر کی آزادی کے تناظر میں لگایا جاتا ہے اور کوئی یہ پوچھنے والا بھی نہیں کہ اگر کشمیر آ زاد ہوگا تو پھر وہ پاکستان کیوں بنے گا۔کیا لڑائی صرف اتنی ہے کہ جنہیں بھارت نے غلام بنارکھا ہے ہم انہیں اپنی غلامی میں لینا چاہتے ہیں ؟
پانچ اگست 2019ءسے کشمیرلاک ڈاﺅن میں ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جب بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35۔ اے کو معطل کرکے کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کردی۔اس طرح جموں وکشمیر عملاً بھارت کاحصہ بن گیا۔ یعنی جسے ہم قیام پاکستان کے بعد سے مسلسل ”مقبوضہ “کہہ رہے تھے وہ درحقیقت اب عملی طورپربھارت کے قبضے میں چلاگیا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بھارت نے کشمیریوں پرظلم کی انتہا کررکھی ہے ۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں رہنے والے کن مسائل سے دوچار ہیں ۔ان کی زندگیاں کتنی اجیرن ہوچکی ہیں ، اس کی تو خبر ہی باہر نہیں آرہی۔لیکن اس سے بھی زیادہ افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ ہم ان مظلوموں کی کوئی مدد نہیں کرسکے۔پاکستان کی تمام تر سفارتی کوششوں کے باوجود بھارت نے کشمیریوں پر مظالم میں کوئی کمی نہیں آنے دی۔ہمارے وزیراعظم جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران کشمیر پر بات کرتے ہیں تو جواب میں انہیں ثالثی کی پیشکش کی جاتی ہے ۔ اس پیشکش کو نریندر مودی فوری طورپرحقارت کے ساتھ ٹھکرادیتے ہیں اوربات بات پر سیخ پا ہونے والے ٹرمپ مودی کے انکارکا برا بھی نہیں مانتے۔
دوسری جانب ہمارے وزیرخارجہ کی آنیاں جانیاں بھی دیکھنے والی ہیں۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ وہ بھی اس حوالے سے عالمی رائے عامہ کو ہموار نہیں کرسکے۔کشمیر کے بارے میں سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان تمام تر بھاگ دوڑ کے باوجود مطلوبہ ووٹ حاصل نہیں کرسکا تھا۔رہ گئی ہماری عرب دنیا ۔ تو نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر،بیشتر اسلامی ممالک بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات بنانا چاہتے ہیں۔وہ اس کے ساتھ تجارت کو فروغ دے رہے ہیں۔اس کے ساتھ دفاعی معاہدے کیے جارہے ہیں اور کشمیرلاک ڈاﺅن کے دوران ہی متحدہ عرب امارات میں پہلا مندر بھی قائم ہواجس کا افتتاح خود بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کیاتھا۔
اس تمام تر صورت حال میں یہ سوال پھراہمیت اختیارکرجاتا ہے کہ ہم یکجہتی کشمیر کاڈرامہ آخرکیوں کرتے ہیں؟ کیوں ہم ہرسال کشمیریوں کامذاق اڑاتے ہیں؟ ایک حقیقی انسانی مسئلے کیوں مسلسل سیاست کی بھینٹ چڑھایا جارہاہے۔کیا وجہ ہے کہ کشمیر کو جہاد کے نام پر کاروبار کاذریعہ بنالیاگیا۔ اور ہم ہرسال ہاتھوں کی زنجیر بنا کر نعرے لگاتے ہیں لیکن درحقیقت ہم کشمیریوں کو زنجیر کیے جانے میں اپنی بے اعتنائی کے ذریعے مسلسل حصہ ڈال رہے ہیں۔ہمیں تو آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ یوم کشمیر منا کر ہم کشمیریوں کودھوکا دے رہے ہیں یا خوداپنے آپ کو؟

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker