تجزیےڈاکٹر عفان قیصرلکھاری

صحیح عمر کی ٹرینڈنگ شادی اور معاشرہ : گونج / ڈاکٹر عفان قیصر

سوشل میڈیا پر کچھ بھی منٹوں میں وائرل ہوجاتا ہے اور یہ کسی کو بھی راتوں رات مقبول بنا دیتا ہے۔ کہتے ہیں یہ شہرت پانی کے بلبلے جیسی ہے،آج ہے ،کل نہیں، جیسے ایک چائے والے صاحب اپنے حسن کی وجہ سے راتوں رات ایک تصویر کی وجہ سے مشہور ہوئے، اسی طرح ایک بچہ احمد ایسا مشہور ہوا کہ وہ ہر مارننگ شو اور پھر رمضان ٹرانسمیشن یا گیم شوز کی زینت بن گیا، پھر کئی اور نام جو راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے،یہ شہرت اکثر اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ یہ سرحدیں بھی پار کردی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ٹرینڈنگ کا یہ فارمولہ اس قدر کار آمد ہے کہ کئی ڈراموں اور فلموں کی ریٹنگ اوپر نیچے کرنے میں بھی اسی فارمولے کا ہاتھ ہے اور اب باقائدہ کئی سوشل میڈیا ایکسپریٹ بہت مہنگے داموں اس کام کے لیے مخصوص کیے جاتے ہیں ،جو کام ہی ٹرینڈنگ کا کرتے ہیں،کئی ڈیجیٹل ادارے یہ کام کررہے ہیں اور اس طرح لاکھوں ڈالرز کا بزنس ہورہا ہے۔
اب یہ سب ایسے ہوگیا ہے کہ جیسے ہر روز کوئی نئی خبر چاہیے جو ٹرینڈنگ میں چلے،پھر وہ مین سٹریم پر جائے اور یوں اگلے روز نئی خبر۔ کوئی سکینڈل، کوئی لیک وڈیو، کوئی مسالہ دار خبر،کوئی بریکنگ سٹوری یا ایسا کچھ بھی، بس یوٹیوب یا سوشل میڈیا کے باقی ذرائع کو کلک بیٹ ملنی چاہیے،لوگ دیکھیں، لائیکس ملیں، شئیر ملیں،سبسکرائیبر ملیں، فالو کرنے والے مل جائیں ،ایک ایسی ریس ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ایسے میں پھر کسی کا بھی راتوں راتوں احمد بن جانا ناممکن نہیں۔ ایسی ہی آج کل کی ایک ٹرینڈنگ سٹوری نمرہ اور اسد کی ہے، جنہوں نے سوشل میڈیا پر کم عمری میں ہی شادی کرکے سب کو حیران کردیا۔
اب اس میں حیران ہونا اور سوشل میڈیا پر اس عمر میں شادی پر بحث چھڑ جانا ایک عجیب سی ہی بات تھی،مگر یہ ٹرینڈنگ میں آگیا۔اسد کو نمرا بہن کے کلینک پر کام کرتے اچھی لگی،اسد مسقط رہتا تھا،اس سے دوری برداشت نہ ہوئی۔اس نے والدین سے خواہش کا اظہار کیا،اور میٹرک میں ہی رشتہ بھیج دیا،یوں فرسٹ ائیر کی نمرہ سے اسد کی شادی ہوگئی۔یہ دھوم دھام سے کی گئی شادی تھی،جس کی وڈیو ،اسد کی بہن نے ٹک ٹاک پر ڈالی اور پھر یہ جوڑا پورے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا،جہاں ایک طرف صحیح عمر میں نکاح پر ان کو داد ملنے لگی،وہیں ان پر بے انتہا تنقید کی جانے لگی ،کہ والدین بچے کے ساتھ،اس کی اہلیہ کا بھی خرچ اٹھائیں گے، اور نجانے کیا کیا۔
میں ذاتی طور پر ان کی سٹوری کو کافی فالو کرتا رہا،ان کے ڈیجیٹل میڈیا پر انٹرویو دیکھے،تصاویر دیکھیں اور پھر اپنے جوانی کے اس دور کو یاد کرنے لگے،وہ احساس جو شاید مجھے صنف نازک کی طرف کھینچ کر لے جاتا تھا۔ کئی ایسی وقت گزاریاں، وقت کا ضائع کرنا، بے نامی محبتیں یاد آنے لگیں اور پھر ایک سمندر تھا،جس میں شاید میں داخل سا ہوتا گیا۔مجھے ایک ایسا معاشرہ یاد آنے لگا جہاں تیس پینتیس سال کی شادی کی عمر کو عام صرف اس لیے کردیا گیا کہ ماں باپ بیٹیوں کا جہیز نہیں بنا پاتے،یا لڑکا پہلے وہ جہیز بنا بنا کر اپنی بہنیں رخصت کرتا ہے اور پھر اس کی باری آتی ہے۔ اس تمام عرصے میں جو خماریاں جنم لیتی ہیں،انہوں نے معاشرے کی جڑیں ہلا کر رکھ دی ہیں اور اس پر کوئی بات نہیں کرتا۔ آپ مذہب کی بات کریں تو بھی آپ کو صحیح عمر میں شادی کا حکم ہے،کیونکہ نکاح ایمان بچا لیتا ہے اور آپ اس فارمولے کو معاشرے پر لگا کر دیکھیں تو آپ کو بہت سے مسائل حل ہوتے دکھائی دیں گے۔ نام کو تو یہ شادی ایک ایسے معاشرے میں ٹرینڈنگ میں دیکھی گئی،جہاں دس سال کی بچیاں بھی ،چالیس سال کے مردوں سے پیسے کی لالچ میں بیاہ دی جاتی ہیں، مگر کسی نے اس عمل کے صحیح ہونے کے اصل پہلو کو نہیں دیکھا۔
اگر کسی کے والدین ،تعلیم کے ساتھ بچوں کے اخراجات برداشت کرسکتے ہیں،اور بچوں نے کسی حرام رشتے کے بغیر عزت کے رشتے کو ترجیح دی اور خود کوبہت سی برائیوں سے بچا لیا تو اس میں کیا برائی ہے؟ مجھے ذاتی طور پر اپنے میڈیکل کالج کی وہ راتیں یاد آنے لگی،جب آدھا ہاسٹل دونوں طرف فون پر ہوتا تھا،اور ہر کوئی اپنی وہ فرسٹیشن نکال رہا ہوتا تھا،جس کو معاشرتی لیٹ میرج سیٹ ایپ اٹھارہ انیس سال کی عمر سے پینتیس سال پر لے آیا ہے۔یہ فرسٹیشن اچھے مستقبل،اچھے ساتھی ،بچوں کے ساتھ،انسان کی بنیادی جبلت اور ضرورت کی بھی ہوتی تھی، جس میں جسم اور روح دونوں شامل ہیں۔ انسان اس عمر میں محبت کرتا ہے اور یہی محبت انسان اپنی ضرورت کے لیے کرتا ہے،وہ جو اس کی جبلت میں ہے۔ہم ایک طرف مغرب کے معاشرے کے پیروکار کہ جس نے ایسے تمام احساسات کو لیونگ ریلیشن، کلب کلچر، بوائے فرینڈ، گرل فرینڈ کلچر اور نجانے کس کس نام سے آزاد کردیا ہے،وہ اس سب حوس زدہ فرسٹیشن سے نکل گئے ہیں اور دوسری طرف ہمیں حلال رشتوں پر بھی تنقید اور اعتراض ہے،جائز عمر میں نکاح پر بھی اعتراض ہے۔ پھر ہم بچوں اور بچیوں کے ساتھ بڑھتی زیادتیوں، پیڈوفیلیا کے کالے نیٹ ورک، معاشرے میں طلاق کی شرح اور نفسیاتی بیماریوں پر بات کرتے ہیں۔
راقم القلم کسی اور کے نہیں اگر اپنی جوانی کے ایام ہی واپس لے آئے تو اس بات کی بھرپور تائید کرتا ہے کہ ہمیں معاشرے میں جہیز جیسی لعنتوں سے نکل کر، یہاں تک کہ ذات،پات،سوشل سٹیٹس وغیرہ کی زنجیروں کو بھی توڑ کر، صحیح وقت میں اولاد کو حلال رشتوں میں باندھنے کی سعی کرنی چاہیے۔ہم نے غربت کے ساتھ ایسے بہت سے ظلم معاشرتی طور پر اپنی نسلوں پر خود کر رکھے ہیں، جن کا کوئی حل نہیں۔ اب رہی بات اس بات کی اس عمر میں ایسی شادیاں کرکے پڑھائی کیسے جاری رکھی جاسکتی ہے،اس کا جواب صرف اتناہے کہ ڈاکٹروں کی مشکل ترین پڑھائی پوسٹ گریجویشن شروع ہی اکثر شادیوں کے بعد ہوتی ہے، یہ لوگ وہ مشکل ترین پڑھائی بھی کرتے ہیں اور ساتھ بچے بھی بڑے ہوجاتے ہیں، جلدی شادی کبھی بھی تعلیم کا حرج نہیں ہوتی ، البتہ وقت پر شادی نہ ہو تو معاشرہ ضرور ایک ایسی راہ پر چل پڑتا ہے جس میں سوائے تلخ یادوں، خود کشی جیسے اقدام، مغربی طرز کے تعلقات، ہوس، فرسٹیشن، ڈپریشن کے علاوہ کچھ نہیں ملتا اور اس سے انسانوں کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔ ہم مشرق کی کشتی میں بیٹھ کر مغرب کو دیکھ رہے ہیں اور ہماری سمت سوائے تاریکیوں کے کچھ نہیں،ایسی ناﺅ گہرے سمندروں میں ڈوبا نہیں کرتی ،بلکہ گرداب میں پھنس جاتی ہے اور پھر نسلیں کنفیوژ ہوکر،کہیں کی بھی نہیں رہتیں۔ نمرہ،اسد کے والدین نے جو کیا،ہمیں بطو ر معاشرہ اس اچھے عمل کو عام کرنا چاہیے،تاکہ اس سے آنے والی نسلوں کی زندگیاں حلال رشتوں میں سکون بھرا آغاز عمر کے اس حصے میں کرلیں جہاں ایک اٹھایا غلط قدم سب جلا کر راکھ کرسکتا ہے۔ یہی وہ وجوہات ہیں کہ جن کی وجہ سے آپ کو کئی انٹرنیٹ کیفوں کی وڈیوز انٹرنیٹ پر عام ہوتی دکھائی دیتی ہیں، نجانے کتنے ایم ایم ایس روزانہ لاکھوں کی تعداد میں مختلف ویب سائیٹس پر اپ لوڈ کیے جاتے ہیں، کتنے والدین اولا د کے دھوکوں میں کس قدر پریشانی اٹھاتے ہیں،کتنی لڑکیاں کس کس طرح بلیک میلینگ کا شکار ہوتی ہیں، کتنی نادانی میں گھر سے بھاگ کر تاریک راہوں کا شکار ہوجاتی ہیں اور کتنی اپنے آپ کو ختم کرلیتی ہیں، کتنے لڑکے ایسے ہیں جو تیس پینتیس سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ایسی ہی کسی بے نام محبت کا روگ پال لیتے ہیں اور اس کا اثر ان کی پکی عمر میں کی گئی شادی کے باقی سالوں پر بھی رہتا ہے اور کتنے لڑکے ایسے ہیں جو اس چکر میں اپنا مستقبل برباد کرلیتے ہیں۔ پورا معاشرہ ایسی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔
یہ اثرات اس قدر بھیانک ہوتے ہیں کہ اس سے بہت دیر بعد بھی بسنے والے گھر تباہ ہوجاتے ہیں، اس کی وجہ اکثر وہ نفسیاتی مسائل بھی ہوتے ہیں جن سے انسان اتنا عرصہ لڑتے آیا ہوتا ہے،اور بعد میں اسے تنہائی کی زندگی کے پکے حصے میں شراکت کی زندگی مشکل نظر آرہی ہوتی ہے۔ دیر سے شادیاں معاشرتی طور پر بگاڑ کی بہت سی وجوہات کی جڑ ہیں لہذا صحیح عمر کی نمرہ اور اسد کی سوشل میڈیا ٹرینڈنگ شادی کو معاشرتی تنقید اور مزاح بنانے کی بجائے اس میں معاشرتی اصلاح کا پہلو تلاش کریں،آپ کو بہت سے سوالوں کے جواب خود مل جائیں گے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker