ادبلکھاریماہ طلعت زاہدی

پا پا کی شخصیت : کچھ یادیں کچھ باتیں ۔۔ماہ طلعت زاہدی

اُن کی ٹوٹی پھوٹی پڑھائی کا سلسلہ ہر دو تین ماہ بعد جُڑ جاتا،محض ان کی ذہانت اور مطالعے کی کثرت کی وجہ سے ۔انگریز کا دور تھا وہ ذہانت کی قدر کرتا تھا، ایسے جہالت بھرے ماحول میں، یہاں تک کہ پاپا نے فیض عام ہائی اسکول سے میٹرک اور مَنصبییہ گورنمنٹ کالج سے ایف اےکیا ، ایف اے میں ان کے انگریزی کے استاد بنے، پروفیسر کرار حسین صاحب۔ بی اے پاپا نے تقسیم ہند کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے پرائیویٹ کیا، گو میں سمجھتی ہوں انہیں اسکولنگ سے یونیورسٹی تک کسی سند کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ اتنے کثیرالمطاعہ آدمی تھے کہ اب میں سوچ کر بھی حیران ہوتی ہوں کہ انہوں نےاس معاشرے میں اپنا وقت کیسے کاٹا ہوگا؟
فرانس،روس،چین،ایران ہندوستان کا تمام ادب و شعر وہ پڑھ چُکے تھے ایک مرتبہ میں نے پوچھا
پاپا آپ کس شخصیت سے متاثر ہوئے،بولے
”ًکسی سے نہیں ”
یہ انہوں نے تفخّر میں نہیں بلکہ حقیقتاًً کہا تھا
انہوں نے سب سے سیکھا تھا اور اپنی الگ پہچان قائم کی تھی۔ کہا کرتے میں اتنے بُرے لوگوں میں رہا ہوں کہ چاہتا تو بد ترین آدمی بن سکتا تھا۔
ان کی کتاب” ذکر و فکر “میں ایک مضمون ”ماحول “ کا آخری جملہ ہے
ً”ہمارے کاندھوں پر سب سے بھاری چیز ماحول کا جوا رکھا ہوا ہے، ہمارا کام ماحول کے اس جوے کو اُتار پھینکنا ہے“
اور یہ انہوں نے کر دکھایا۔ کہتے ہیں انسان دوسروں کو وہی دیتا ہے جو اس کے پاس ہوتا ہے، پاپا نے لوگوں کو وہ دیا جو انہیں خود نہیں ملا تھا۔ ،مزاج میں نرمی ،زبان میں مٹھاس روئیے میں سب کے لئے پیار۔کہا
لوگوں کا نیاز مند ہو کر دیکھو
انسان کا درد مند ہو کر دیکھو
پستی ہے انا کی خود فریبی پستی
پستی سے ذرا بلند ہو کر دیکھو !
وہ کوچوان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بات کرتے ، جو بھی کوئی دروازہ کھٹکھٹاتا،دروازہ کھول کر سلام میں پہل کرتے، ہم بھائی بہن کے ساتھ دوستوں سے بھی زیادہ آزادی برتتے، اس کے باوجود اگر ہم کبھی کچھ کھانے سے انکار کر دیتے اور امی مارے ممتا کے کچھ مربّہ وغیرہ دینا چاہتیں تو سختی سے منع کر دیتے ، کہتے ”جو پکا ہے وہی کھائیں گے، ورنہ نہیں “
ایک واقعہ بمبئی کے ہوٹل کا سُناتے کہ میں کھانا کھاتے ہوۓ عادتاً روٹی کے موٹے کنارے توڑ کر الگ رکھتا جا رہا تھا، ایک انگریز دیکھ رہا تھا وہ قریب آیا اور پوچھا ?may I sit here پھر کہا ینگ مین تم یہ روٹی ضائع کیوں کر رہے ہو why are you wasting this bread یہ کہا اور وہ سارے ٹکڑے جمع کر کے پاپا کے سامنے کھا گیا۔
یہ ترکیب تو بارہا سُنی سیلف میڈ، مگر میں نے پاپا پر مِن و عَن صادق آتے دیکھی۔
وہ نصیحت نہیں کرتے تھے لیکن بقول اخترالایمان اپنی اصلاح پر نظر رکھتے تھے۔پڑوس کی ایک بچی کو ہڈیوں کی ٹی بی ہو گئی اُسے خود لےکر سول ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر بخاری کے پاس پہنچے، چھ ماہ کے علاج میں روزانہ ایک ٹیکا لگانا ہوتا تھا۔جو پاپا اپنے ہاتھ سے لگاتے ، ڈاکٹر بخاری بھی مطلبی فرید آبادی کے عزیز تھے ،پاپا سے کہتے ً ”آپ عجیب آدمی ہیں، ہمیں تو یہ نہیں پتہ ہمارے پڑوس میں بَستا کون ہے“۔
اسلام آباد کی ایک شادی میں مجھے اور امی کو نواں شہر ملتان کی ایک خاتون ملیں، جو چکی والے کاظمی کی بیوی معروف تھیں، انہیں نہیں معلوم تھا کہ پاپا گزر چکے ہیں جیسے ہی یہ خبر سنی آٹھ آٹھ آنسو رونا شروع کردیا بولیں ” وہ میرے پورے گھر کے مسیحا تھے،اگر رات کو ایک بجے بھی ضرورت پڑتی تو وہ انکار نہیں کر تے تھے “۔ میرے اور امی کے لۓ شادی گھر میں انہیں چپ کروانا مشکل ہو گیا۔
ایسی معیشت کر لوگوں سے
جیسی غم کش میر نے کی
برسوں ہوئے ہیں اُٹھ گۓ اُن کو، روتے ہیں ہمسائے ہنوز۔۔میر
جب 2000 ءمیں دوبارہ میں نے ملتان میں قدم رکھے تو اسد اریب چائلڈ اسپیشلسٹ ذوالقرنین حیدر کے ہاں مجھے لے کر گئے، ان کی بیگم نے یہ سنتے ہی کہ میں مقصود زاہدی کی بیٹی ہوں،اپنی بچیوں کو آوازیں دیں اور کہا ”تمہارے ڈاکٹر کی بیٹی ہیں یہ“۔ میں نےتحیُّر میں پوچھا مگر ان کے والد تو خود۔انہوں نے بات کے بیچ میں کہا” وہ تب انگلینڈ گۓ ہوۓ تھے، اسپیشلسٹ بننے کے لئے،اور میرے بچے سواۓ آپ کے پاپا، کسی سے ٹھیک نہیں ہوتے تھے“۔
علی سجاد حیدر گردیزی کی بیگم نے بھی اپنے بھائی حسن نواز سے متعلق کچھ ایسا ہی سنایا کہ ہم نے تو آپ کے پاپا کا نام حسن کا ڈاکٹر رکھ دیا تھا ۔ علی سجاد حیدر گردیزی خود بہت اچھے ہومیو پیتھ ہیں ، انہوں نے اپنی بیگم کا علاج کیا اور میں چشم دیدگواہ ہوں۔ مجھ سے پہلی ملاقات میں انہوں نے بھی پاپا سے اپنے تعلقات کا ذکر کیا۔
ایم اے کے دوران ڈاکٹر اسد اریب میرے استاد تھے، وہ مغربی تنقید پڑھاتے اور ایک کتاب کا تعارف بہت تحسین کے ساتھ کروایا ”مغرب کے تنقیدی اصول“، مترجم کا نام سجاد باقر رضوی بتایا اور تعریف میں ان کا شعر بھی سُنایا :
خواہش پہ مجھے ٹوٹ کے گرنا نہیں آتا
پیاسا ہوں مگر ساحلِ دریا پہ کھڑا ہوں
میں پاپا کے ساتھ بڑے شوق سے جب لاہور اوریئنٹل کالج پہنچی تو باقر صاحب پاپا سے بڑے تپاک سے ملے، میرے ایک دو جملے سُنتے ہی بولے:
کاش آپ ہمارے پاس پڑھتیں!
میں فورا ً بولی مجھے بہت اچھے پروفیسر ملے، پوچھا، مثلا ً میں نے نام انُہی کا لیا، جنہوں نے موصوف کا تعارف کرایا تھا، وہ ایک دم پہلو بدل کے پاپا سے کہنے لگے، جناب یہ لوگ جو پی ایچ ڈی کرتے ہیں،
ابھی وہ اتنا ہی کہہ پاۓ تھے کہ میری چھٹی حس نے مجھ سے یکدم کہلوا یا ،
معاف کیجئے میں اپنے استادوں کے بارے میں کچھ نہیں سُن سکتی۔
اب کئی دہائیوں بعد سوچتی ہوں تو حیرت زدہ رہ جاتی ہوں، پاپا قطعا ً کوئی لفظ نہیں بولے، مسکراتے رہے اور بات بدل دی۔یہ کوئی آسان بات نہیں تھی۔اتنا ضبط اور تحمُّل
میں ایک مرتبہ کسی مشکل میں عبادت سے متّصِل ہو ہی رہی تھی، پاپا نے میرے قریب سے گزرتے ہوئے کہا
رنج پہنچے جو بُتوں سے تو خدا یاد آیا۔
اپنی آخری عمر تک اگر مجھے کچھ پڑھتے دیکھا تو ضرور سوال کیا،
کیا پڑھ رہی ہو؟
وہ یہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ میں معیاری چیز سے کچھ کم پڑھوں۔ میں ان کا معیار کہاں سے لاتی ۔۔گو اپنے مطالعے کا دباؤ کبھی نہیں ڈالا،ہاں انگریزی یا اردو کسی بھی کتاب کا مطالعہ کرتے دیکھتے تو فوراً کہتے، ڈکشنری ساتھ لے کے بیٹھا کرو جو لفظ اسی وقت نہیں دیکھا،دوبارہ زندگی بھر یاد نہیں رہے گا۔
مجھے دیکھ رہے تھے کہ میں سواۓ قلم کتاب یا فلم اور گیت کے زندگی کی کسی سرگرمی گھر، گھرہستی میں دلچسپی نہیں رکھتی تھی،حتٰی کہ میں کپڑوں،چوڑیوں ،مہندی عید تہوار شادی بیاہ سب سے بے نیاز تھی۔(جب اسد اریب پہلی دفعہ مجھے بیگم فیضان کے ہاں لے کر گئے، تو انہوں نے ایک سوال کیا،”ہم ایک پیغام ساہیوال کا لے کر گئے تھے، تو آپ کے پاپا نے انکار کے بعد کہا تھا اپنی بچی کا مزاج میں خود سمجھتا ہوں،“
”اس سے کیا مراد تھی ان کی؟“ وہ بھی عوام الناس کی طرح کسی غلط فہمی کا شکار تھیں۔ میں اس وقت کیا جواب دیتی ،سواۓ یہ کہ وہی جانتے ہوں گے۔ صدیقہ بیگم نے بھی کچھ ایسا ہی پوچھا کہ ”اتنی لمبی زندگی آپ نے کیسے گزاری؟“انہیں میں نے بتایا کہ دو طرح کے انسان ہوتےہیں جسمانی لذت اٹھانے والے اور ذہنی رفاقت میں آسودہ۔ مجھے پاپا نے جو ذہنی آسودگی دی اس میں میری زندگی جنت سے کم نہیں تھی پاپا میری شاعری کے ذوق پر خوش بھی بہت رہتے، پھر بھی ایک دن کمرے میں آکر کہا،
” اتنے خواب بھی نہیں دیکھتے “۔ ایک دن میں نے کہا”پاپا رات نیند نہیں آئی“، میں نے بڑا طبی مسئلہ بنا کر پیش کیا۔انہوں نے مسکرا کر رومینٹک کردیا اور کہا ”شاعری شروع کر دی ہے اب نیند کیسے آئے گی ”
بیدل کا شعران کی ڈائری پر لکھ رکھا تھا
با ہر کمال اندکے آشفتگی خوش است
ہر چند عقلِ کُل شدہء بےجنوں مباش
انہوں نے صفحے کے نیچے اپنی تحریر میں لکھا،
با ہر جنون اندکے فرزانگی خوش است،
بے شک جنون کُل شدہء بے خرد مباش۔
بادنٰی تصرف(مقصود زاہدی)
یہ تصرف کرکے انہوں نے ڈائری میری میز پہ رکھ دی۔
جب میں نے نیا نیا لکھنا شروع کیا تو ایک مرتبہ میں نے صبح صبح پاپا سے کہا،رات مجھے نیند نہیں آئی، مسکرا کر کہا شاعری شروع کر دی ہے اب نیند کیسے آئے گی؟ گویا میں نے اسےطبی مسئلہ بنا کر پیش کیا اور پا پانےمسکرا کر رومینٹک کر دیا ۔
اعلی فلم دکھاتے،اور ادھر کوئی منظر یا مکالمہ معیار سے نیچے گرا اُددھر وہ کھڑے ہوئے اور ساتھ ہی امی،بھائی جان اور میں بےچاری بھی۔ان کے لئے عمدہ فلم مثل ایک اعلی کتاب کے تھی۔ ریاض شاہد کی فلم ”خاموش رہو “ہم دیکھنے گئے ،وہاں گورنمنٹ اسکول کی ہیڈمسٹریس مسز نواز کی بھاوج، جو پاپا کی مریضہ بھی تھیں،انہوں نے حیرت سے کہا ”ڈاکٹر صاحب آپ بچی کو یہ فلم دکھانے لائے ہیں “(میں بی اے میں تھی)فلم طوائف کے موضوع پر تھی،یوں سمجھیے منٹو کا افسانہ ہو جیسے۔پاپا چپ رہے کوئی جواب نہیں دیا۔
یہ مصرع تو اکثر میرے سامنے دہراتے
زمانہ گر تو نہ سازد،تو با زمانہ ستیز
کبھی کہتے یاد رکھنا اپنا حق چھیننا پڑتا ہے، اگر بچہ روئے نہ تو ماں دودھ نہیں پلاتی ۔
کبھی میں کسی سے مایوس ہوتی تو کہتے،با ہمیں مردماں بباید ساخت۔
اکثر کہتے ، میں چاہتا ہوں تم اتنی ہومیوپیتھی ضرور سیکھ لو کہ تمہارے کام آۓ، شکر کہ تھوڑی سی میں نے سیکھ لی۔
وہ نہ صرف بےحد پڑھے لکھے ہومیوپیتھ بلکہ دو ہومیوپیتھک کتابوں کے مصنف اور مترجم بھی تھے۔ ان کی تصنیف ہومیوپیتھی کا بنیادی فلسفہ آج بھی لاہور ڈاکٹر مسعود ہومیوپیتھک کالج میں پڑھائی جاتی ہے۔ اس کتاب میں پاپا کا نام غلط شائع ہو گیا سید مقصود(احمد) زاہدی۔ بہرحال کتاب کا دیباچہ شبیر حسن اختر(ایم اے)ہومیو کا لکھا ہوا ہے،
اُن کےمطابق ”آپ نے1942میں امپیرئیل ہومیوپیتھک میڈیکل کالج میرٹھ سے باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد سند حاصل کی۔ملتان کے طبی حلقوں اور عوام میں ہومیوپیتھی کے وقار اور مقبولیت کی مثال پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر زاہدی کا نام فخر سے پیش کیا جا سکتا ہے “۔
جب ان کے انتقال کی خبر ملتان میں ان کے کمپوڈر شاہد نذیر کو ملی تواس کا کہنا تھا دوپہر کے وقت میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔
مسعود اشعر نے تعزیتی خط میں لکھا:”وہ ایسے انسان تھے کہ اگر کوئی انہیں برُا بھی کہتا تو وہ جواباً اُسے بُرا نہیں کہتے تھے “۔
صہبا لکھنئو نے تعزیتی خط میں لکھا، ”زاہدی بھائی نے کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا“
احمد ہمیش نے مجھے کبھی نہیں دیکھا تھا ،وہ اپنی تحریروں میں لکھتے ”اسلام آباد میں ایک ایسی شاعرہ بھی ہے جو گوشہ نشینی میں ادب تخلیق کر رہی ہے “جب میں اسد اریب کے ساتھ ان سے پہلی دفعہ 2001ءمیں ملی تو انہوں نے کوئی سوال تو نہیں کیا لیکن ان کی آنکھوں میں حیرت میں نے پڑھ لی،شاید وہ سوچ رہے تھے مجھ جیسی گوشہ نشین نے اتنا بڑا اور عجیب قدم کیسے اٹھایا؟ میں نے خود ہی کہا ہمیش صاحب! یہ آۓ تو محض اتفاقاً اپنی ضرورت میں تھے لیکن سچ یہ ہے کہ پاپا کے بعد میں مر چُکی تھی، اسد اریب نے مجھے دوبارہ زندہ کیا ہے۔
اصل میں میرے پاس میرا اپنا کچھ بھی نہیں، سواۓ میری خامیوں کے ،خوبیاں جو بھی ہیں وہ پاپا کی عطا کردہ ہیں۔
ایسا کہاں سے لاؤں ،کہ تجھ سا کہیں جسے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker