اُن کی ٹوٹی پھوٹی پڑھائی کا سلسلہ ہر دو تین ماہ بعد جُڑ جاتا،محض ان کی ذہانت اور مطالعے کی کثرت کی وجہ سے ۔انگریز کا…
Browsing: صہبا لکھنوی
غم جس نے سہے ہوں وہی غم جانتا ہے ٹوٹے ہوں اَلم جس پہ الَم جانتا ہے جوہر کی صفت جوہری پہ روشن ہے اور سنگ…
ان سے میں کراچی میں صہبا لکھنوی کے دفتر اور گھر میں پاپا ہی کے ہمراہ ملی تھی، 1980کا زمانہ تھا ، تب سواۓ شاعری کے…
جیون کے سفر میں راہی ملتے ہیں بچھڑ جانے کو، اور دے جاتے ہیں یادیں تنہائی میں تڑپانے کو۔ ساحر لدھیانوی جس شاعر پر پچھلے مضمون…
وہ 1980 فروری کا آخر تھا، امی،پاپا اور میں صبح سویرے کراچی ریلوے اسٹیشن پر اترے۔ صہبا چچا ہمیں لینے کو کھڑے تھے، جب ہم سب…
