ادبلکھاریماہ طلعت زاہدی

یادگارِ زمانہ ہیں ہم لوگ : مجنوں گورکھپوری .. ماہ طلعت زاہدی

جیون کے سفر میں راہی ملتے ہیں بچھڑ جانے کو،
اور دے جاتے ہیں یادیں تنہائی میں تڑپانے کو۔ ساحر لدھیانوی
جس شاعر پر پچھلے مضمون کا اختتام کیا تھا،جی چاہا کہ اُسی کے نام سے تازہ تحریر کا آغاز کروں !
صہبا چچا ہم سب کو آرٹس کونسل لے گئے تھے۔ سامنے اسٹیج پر سب سے زیادہ نمایاں شخصیت مجنوں گورکھپوری کی تھی۔ تقریب شبنم رومانی کی کتاب جزیرہ سے متعلق اور سب سے عمدہ تقریر انجم اعظمی کی تھی۔ بلکہ تقریب کے بعد جب میں پاپا سے ملی تو وہ مجھ سے بولے تم نے انجم اعظمی کی گفتگو سنی، باتیں تھیں یا سلکِ مروارید! میں حیران رہ گئی اپنی اور ان کی ذہنی ہم آہنگی پر! اس تقریب کی خاص بات ایک سیکرٹری تھا جو فلمی اداکار اور اخبار جہاں، اخبار ِ خواتین کا صحافی بھی تھا، اس نے مائیک پر ایک عجیب جملہ ادا کیا کہ: آج یہاں جو مشاہیر جمع ہوۓ ہیں، ممکن نہیں کہ وہ دوبارہ اکھٹے ہوں۔ کیسا سچ اسد جعفری کی زبان سے نکل گیا تھا۔
تقریب کے اختتام پر مجنوں صاحب کو سلام کیا تو وہ بولے بھئی میں اسی شہر(کراچی
) میں رہتا ہوں آؤ کسی دن۔
پھر صہبا چچا ہمیں لے کر مجنوں صاحب کے ہاں گۓ، جانے سے پہلے میں نے ان کی کتاب ً ادب اور زندگی ً خرید لی تھی، میں نے مجنوں صاحب کی تقریباً سب کتابیں پڑھ لی تھیں، ثمن پوش، پردیسی کے خطوط، جمالیات، میں اُن سے ذہنی طور پر بہت متاثر تھی ،بلکہ میرے یہ تاثرات سُن کر انجم اعظمی نے ان کے اعزاز میں ہونے والی تقریب کے بروشر میں میری راۓ چھاپی تھی, یہ 1980 تھا تب اتنے بڑے ادیب پر دو لفظ لکھنا خود میرے لئے بہت بڑا اعزاز تھا۔ مجھے اُن کے جو کلیدی مباحث ملے تھے،ان پر میں نے قلم اٹھانے کی کوشش کی تھی۔
ًعورت تیرا نام کمزوری ہےً ۔ میں خود اس فرضی محاورے سے بہت تنگ تھی،اور انہوں نے اس قول کی گرہ یوں کھولی، یہ شیکسپیئر کے ایک کردار کا کہنا ہے ایک کمزور عورت کے کردار سے۔ یہ مفروضہ تمام دنیا میں کُلیہ بن کر گھوم گیا، عورت کی مزید تزلیل کرنے کے لئے۔
اگلا نکتہ تھا جینا کوئ میر تقی میر سے سیکھے،
نامرادانہ زیست کرتا تھا
میر کا طَور یاد ہے ہم کو

یہ مجنوں صاحب اس شاعر کے لئے کہہ رہے تھے، جسے پہلے کے تمام جُغادری نقاد ، قنوطی، اور رنج و غم کا مارا مایوس شاعر بتا چکے تھے، یہاں ڈاکٹر سید عبداللہ کا نام لے دوں، کہ نقدِ میر(پوری کتاب)میں وہ کوئی جملہ ایسا نہ دے سکے جو روایتی نقادوں کے بہتّر نشتر سے آگے جا سکے، میں نے افکار میں عبداللہ صاحب کی خود نوشت پڑھی تھی، اصل میں جو اُستاد رجسٹر سے پڑھائے اور جگہ جگہ یہ لکھے کہ یہاں طلبا کو لطیفہ سُنانا ہے، یہاں تاریخی واقعہ، وہ میر تقی میر پر کیا لکھ سکے گا؟ کشمیر میں اعجاز نعمانی کو میر کا یہ شعر کبھی سنایا تھا،
اب بھی دماغِ رفتہ ہمارا ہے عرش پر
گو آسماں نے خاک میں ہم کو ملا دیا
اعجاز نعمانی نے2005 کے تباہ کن زلزلے کے حوالے سے بتایا کہ مجھے اُس وقت میر کا یہ شعر یار آ رہا تھا،جو آپ سے پہلی دفعہ سُنا تھا۔ پھر فیض نے اپنی کتاب کا انتساب میر کے اس شعر پہ کیا
موسم آیا تو نخلِ دار پہ میر
سرِ منصور ہی کا بار آیا
اصل میں میر کو سمجھنے کے لئیے ان کے چھ دیوان پڑھنے کے لئے ساری عمر لگانی پڑتی ہے،تب مجنوں صاحب کے مختصر سے مضمون میں یہ نکتہ ہاتھ آتا ہے ً میر کی شاعری نشاطِ غم کی شاعری ہےً !!
مجنوں گورکھپوری نے پردیسی کے خطوط میں کمسن لڑکیوں کو مخاطب کیا ہے۔اس میں دو پہلو ہیں۔مجنوں صاحب ترقی پسندوں کے سرخیل ادیب ہوتے ہوئے بھی رومانی تحریک سے الگ نہیں ہوۓ تھے۔ انہوں نے ادب اور زندگی میں ایک جگہ لکھا، زندگی بیشک روٹی ہے، مگر زندگی صرف روٹی نہیں ً ان کے مزاج کا یہ توازن مجھے بھاتا تھا،اور وہ ایک زاہدِ خشک کی طرح روکھے پھیکے اشتراکی ادیب بننے سے بچ گۓ تھے۔ چنانچہ وہ کم عمر لڑکیوں سے اس لئے مخاطب ہوتے ہیں کہ نفسِ مضمون تروتازہ اور لطیف رہے۔ اور ایک بھرپور تجربہ کار ماضی ایک نوخیز ،ناپختہ حال کو زندگی سے روشناس کرانے کا بہانہ تراشتہ رہے۔
یہ چھوٹی سی کتاب ادب اور زندگی، میرے لئے سرمایہ ء لوح و قلم بن گئی تھی۔اُن کے مختصر سے جملے پوری زندگی کا احاطہ کر جاتے ہیں۔مثلا ً ناگوار باتوں کے دوہرانے سے عمر گھٹتی ہےً۔
خیر صہبا چچا مجھے اور پاپا کو لے کر مجنوں صاحب کے ہاں پہنچ گئے اور مجنوں صاحب کے ہاتھ میں وہ بروشر تھما دیا،جس میں اوپر درج مجھ ناچیز کی آراء چھپی تھیں، میں نے کہیں اُن کے افسانوں ،ثمن پوش کے حوالے سے ایک جملہ لکھ دیا تھا ً اُن کے افسانوں میں انہونی ہو جاتی ہےً مجنوں صاحب نے مجھے پہلے تو یہیں پکڑا اور بولے ً انہونی کبھی نہیں ہوتی، صرف ہونی ہوتی ہے ً۔ پھر صہبا چچا نے اُن کے حضور مجھ سے نظم سُنانے کو کہا۔ میں نے شروع کی نظموں سے ایک نظم پڑھی، پانیوں کا سفر۔ پاپا کی طرف دیکھ کے کہا اس بچی کے ہاں امیجری کی تازگی موجود ہے صہبا چچا نے بہ حثیت مدیر خوش ہو کر ہاں میں ہاں مِلائی۔ اب مجنوں صاحب نے میری دوسری غلطی
پکڑ کی،کہیں اس نظم میں  ، میں نے ن اور ہ دونوں زبر کے ساتھ باندھ دئے تھے۔

انہوں نے اپنی بڑی بڑی روشن آنکھوں سے مجھے گُھورا اور بولے لفظ نہر ہے جزم کے ساتھ، زبر کے ساتھ عربی زبان میں ایڑی کے پچھلے حصے کی ایک رگ بن جاتی ہے، جو یونانی دیومالا میں ایک دیوتا کی جان لینے کو کاٹی گئ تھیً۔

پھر دوبارہ پاپا کو دیکھا، وہ صرف مسکراتے رہے، یہ نہیں کہا کہ یہ نامعقول کبھی نظم لکھ کر دکھاتی نہیں۔ اب مجنوں صاحب نے صہبا لکھنوی کو گھُورا ، تم شاعری اشاعت سے پہلے کس کو دکھاتے ہو ؟
مجنوں گورکھپوری ایک منحنی، پستہ قامت، نازک سراپا رکھتے تھے، مگر اپنے علم و دانش کی وجہ سے چھا جانے والی شخصیت تھے۔
انہوں نے پاپا سے انکی رباعیات سُنیں کسی حوالے سے سورہء مریم کا زکر نکلا تو عربی میں آیات پڑھ کر بولے،اور اُسے کسی مرد نے ہاتھ ہی نہیں لگایاً!!
بہرحال میں نے جلدی سے ادب اور زندگی آگے کر دی ،یہ میرا پہلا اور آخری آٹوگراف تھا ۔ انہوں نے Robert Browning کی یہ لائنیں لکھیں۔
Grow old along with me,
The best is yet to be.

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker