ادبلکھاریماہ طلعت زاہدی

صہبا لکھنوی : یادگارِ زمانہ ہیں ہم لوگ .. ماہ طلعت زاہدی

وہ 1980 فروری کا آخر تھا، امی،پاپا اور میں صبح سویرے کراچی ریلوے اسٹیشن پر اترے۔ صہبا چچا ہمیں لینے کو کھڑے تھے، جب ہم سب ان کی بہت پرانی کار میں بیٹھ گئے، جسے وہ خود چلا رہے تھے، یکدم انہوں نے پاپا کی طرف منہ کر کے کہا، ًزاہدی یار عجیب آدمی ہو ، ایک پوسٹ کارڈ میں لکھ دیا کہ 23کی صبح پہنچ رہا ہوں، اور یہ نہیں بتایا کہ کس ٹرین سے ، صبح سے دوسری مرتبہ آیا ہوں، یہی سوچتا رہا کہ کہاں مارے مارے پھرو گےً، پاپا حسب معمول مسکراتے ہوئے بولے ًارے صہبا بھائی غضب ہو گیا کیا واقعی میں نے ٹرین نہیں لکھی تھی؟ میں دل میں سوچ رہی تھی یہ کس سیارے کے لوگ ہیں۔۔ کراچی میں پی آئی بی کالونی سے اسٹیشن آنا دوسریدفعہ؟ معنی دارد! جبکہ میر تو کب کا کہہ کے چلے گئے
اس عہد میں الٰہی مروت کو کیا ہوا؟
sehba lakhnawi
صہبا چچا نے نہ صرف ہمیں اپنے ہاں ٹھہرایا، بلکہ اپنے سالے کی کار ڈرائیور سمیت منگا کر ہمارے تصرف میں دے دی اور اپنی بیٹی مینا کو ہمیں کراچی گھمانے کی ڈیوٹی سونپ دی۔ صرف یہی نہیں بذاتِ خود بھی ہمیں لے کر پھرے ادا جعفری کے ہاں آرٹس کونسل کی تقریب میں، جہاں شبنم رومانی کی کتاب کی رونمائی تھی اور پھر مجنوں گورکھپوری کے ہاں۔
صہبا چچا کا دفتر اور گھر ادیبوں اور شاعروں کا مرکز تھا۔ہم سے پہلے گوپی چند نارنگ ٹھہرے ہوئے تھے، ہمارے قیامِ کراچی میں رام لعل آۓ لیکن ہمارے وہاں ہونے کی وجہ سے کہیں اور رکے، رام لعل جب مجھ سے صہبا چچا کے دفتر میں ملے تو کہنے لگے بھئ انجم آعظمی تمہاری نظم سمندر استعارہ ہے ً کی بہت تعریف کر رہے تھے( یہ اضافی جملہ اس لیے لکھا کہ صہبا چچا کا گھر ہو یا دفتر ادیبوں شاعروں سے بھرا رہتا اور ہر وقت ادب و شعرکی باتیں ہوتی رہتیں ) ۔صہبا چچا کی بیٹی مینا جو میری ہم سِن تھی ، اب دوست بن گئی تھی، کیسٹ پلیئر پر سہگل کا گیت ، میں کیا جانوں کیا جادُو ہے ان دو متوارے نینوں میں؟ُ سنواتے ہوے اس نے بتایا کہ صہبا چچا نے نو سال ڈاکٹر حنیف فوق کو اپنے ہاں رکھا، محض دوستی کے ناطے، ہمارے ہی سامنے ڈاکٹر فوق صاحب ترکی سے بیوی بیاہ کر لاۓ، جس پر سب سے زیادہ خوش صہبا چچا تھے۔
صبح دم وہ قرآن ضرور پڑھتے تھے، لیکن اپنے رسالے افکار میں کبھی نعت، سلام یا حمد نہیں شائع کی کہتے تھے یہ ادبی رسالہ ہے اور اس میں صرف ادب ہی چھپے گا۔ تیز تیز بولتے ہوئے مجھ سے کہتے ،کیا سارے دن نظمیں ہی لکھتی رہتی ہو، پھر اگلے ہی سانس میں حکم دیتے دیکھو اپنی سات آٹھ نظمیں مجھے اکھٹی بھیج دو میں لگاتا رہوں گا۔ دوسری مرتبہ دسمبر 2001 میں اور اسد اریب ملنے گئے تو اگرچہ انہیں چُپ لگ گئی تھی مگر وضع داری میں فرق نہیں آیا تھا، اریب صاحب کو دیکھ کر مجھ سے بولے:اچھا انتخاب ہے، پھر یک ٹُک مجھے دیکھتے رہے، میں سمجھ گئی،اور ان سے پوچھا چچا کیا یار آ رہا ہے جواب دیا مقصود بھائی ً ۔ جب ہم اُٹھ کر آنے لگے تو انہوں نے پھر مجھے گہری نظروں سے دیکھا اور کہا کہاں ٹھہری ہو ؟ میں نے کہا ہوٹل میں ، بولے یہیں آ جاؤ ، اور ہم آخری بار اس حالت میں صہبا چچا کے مہمان بنے جب وہ چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے . ان کی بیگم نے بتایا کہ کسی صدمے سے گزرے ہیں ، ٹرسٹ افکار کے کچھ ایسے دوستوں نے افکار پر قابض ہونا چاہا ، جن سے انھیں یہ امید نہ تھی
ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
( غالب )
میری پہلی نظم کرشن چندر مئی 1977 میں افکار ہی میں چھپی تھی ، اس کے بعد تا حیات صہبا چچا نے سال کےبارہ میں سے چھ شماروں میں مجھے شائع کیا۔

، تہ محض صہبا لکھنوی کی حوصلہ افزائی تھی یا میری خوش نصیبی کہ میں اس افکار میں چھپ رہی تھی ، جہاں ساحر لدھیانوی بھی چھپا کرتے تھے
میں پل دو پل کا شاعرہوں
پل دو پل مری کہانی ہے
پل دو پل میری ہستی ہے
پل دو پل مری جوانی ہے

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker