ادبلکھاریماہ طلعت زاہدی

پاپا کی روداد : چند حیرت انگیز واقعات ۔۔ ماہ طلعت زاہدی

غم جس نے سہے ہوں وہی غم جانتا ہے
ٹوٹے ہوں اَلم جس پہ الَم جانتا ہے
جوہر کی صفت جوہری پہ روشن ہے
اور سنگ کی لذت سرِ خم جانتا ہے
(غیر مطبوعہ، سید مقصود زاہدی)
صہبا لکھنوی نے بلا مبالغہ پچاس مرتبہ پاپا سے کہا ہوگا، مقصود بھائی اپنی خود نوشت مجھے دیجیئے، حتٰی کہ انہوں نے پاپا کی تعزیت میں بھی جو خط مجھے لکھا،اس میں یہی کہا” افسوس مقصود بھائی نے اپنی خود نوشت نہ لکھی“۔ وہ جانتے تھے کہ،پاپا جہانیہ جہاں گشت تھے، ان کے تجربات، مشاہدات کے علاوہ ملاقاتوں کا سلسلہ گوناں گوں مشاہیرِ ہندوستان سے جا ملتا تھا، سروجنی نائیڈو، محمد علی جناح، مولوی عبدالسلام نیازی، جوش،فراق ،سجاد حیدر یلدرم،مولانا ابوالکلام آزاد،ذاکر حسین(صدرِ ہندوستان) اور جانے کون کون۔
لیکن پاپا کو آغاز ِ حیات کے دکھ ہمیشہ چپ کروا دیتے۔ وہ لکھنا شروع کرتے مگر ان کا قلم رک جاتا، وہ راز ہاۓ سینہ کو دل میں دبائے خاک ہو گئے۔لیکن میرے داغ ہاۓ سینہ تازہ ہیں، میں جب کبھی ان کی ادھوری تحریریں دیکھتی ہوں تو خون کے آنسو روتی ہوں۔ میں بھی وہ سب کچھ احاطہء تحریر میں نہیں لا سکتی۔مگر کچھ کچھ لکھنے کی کوشش میں ہوں۔
مثلاً ان کی بڑی بہن کا سِل پر چوڑیاں پیسنا خود کُشی کے لئے اور راتوں رات دادی اماں کا اُنہیں ماموں کے ساتھ ان کے منکوحہ شوہر سید شریف حسین نقوی کے پاس عبداللہ پور بھیجنا، کہ ” اپنی امانت سنبھالو“۔
پاپا کا یہ دیکھنا کہ سید جعفر حسین نے جنون،غیض و غضب کی حالت میں اوراقِ مقدسہ کو اس طرح پھینکا کہ وہ بیت الخلا تک چلے گئے، معصوم پاپا کا سوچنا کہ اب آسمان ٹوٹ پڑے گا،یا زمین اُلٹ جاۓ گی ، مگر ایسا کچھ نہیں ہُوا ، پھر عیش و آرام میں پلَی ماں کو ایسے بازاری شخص کی باندی بنے دیکھنا ،یہ سب پاپا کے اعصاب کو کتنا توڑ رہا ہوگا کہ ایک دن
انہوں نے دہلی میں جمنا کے پُل سے دریا میں چھلانگ لگادی۔تیرنا تو آتا نہیں تھا، قسمت سے پیچھے ایک انگریز آرہا تھا،اس نے فوراً پانی میں کُود کر پاپا کو بچا لیا، یقینا ً بعد میں ڈانٹا اور سمجھایا بھی ہوگا، مگر اب گھر سے بھاگنا پاپا کا مقدر ہو گیا تھا،بقول مخدوم محی الدین
گھر سے سڑتے ہوۓ ناسُور کی بُو آتی ہے۔
اس آوارگی میں انہوں نے عجائبات عالم کی سیر بھی کی، اور وہ کسی چیز کے قائل رہے ہوں یا نہیں، لیکن روحانیت،ٹیلی پیتھی یا اشراق (جسے آجکل ماڈرن زبان میں mind science کہا جاتا ہے اور جس کو مہاتما گوتم بدھ نے دریافت کیا ) کو مانتے تھے۔خود ان کے اپنے ہاں بھی روحانیت کام کرتی تھی۔
میرے چُھٹپن کا عجیب واقعہ ہے جب ان کا کلینک سدوحسام میں تھا،ان دنوں ہمارے ہاں مظفرگڑھ کے باپ بیٹی، غلام محمد،لال مائی کام کرتے تھے، وہ دونوں چھٹی پر گۓ ہوئے تھے، شام کے وقت پاپا کلینک میں بیٹھے تھے ایک بزرگ دوست کپتان صاحب کے نام سے معروف تھے سامنے تشریف فرما تھے، وہ میرے نانا کے ہم عمر ہونگے مالک دوکان تھے اور ان کا ہمارے اور ہمارا ان کے گھر آنا جانا تھا،یہ واقعہ ہم نے ان کی زبانی ہی سُنا، کہ پاپا نے کسی دیہاتی کو سڑک پر متلاشی نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھتا پایا، پاپا نے دوست سے کہا ” یہ مجھے ڈھونڈ رہا ہے “تھوڑی ہی دیر میں وہ دیہاتی اندر آ گیا اب پاپا نے پوچھا ” تمہیں غلام محمد نے بھیجا ہے “وہ دیہاتی بولا ”ہاں جی“۔ پاپا نے پوچھا ”لال مائی مر گئی؟ اس نے جواباً کہا“ ہاں جی غلام محمد نے مجھے یہی خبر دینے کو بھیجا تھا کہ لال مائی کو سانپ نے کاٹ لیا اور وہ مر گئی“۔ یہ خبر دے کر وہ اجنبی تو غائب ہو گیا دوست انگُشت بدنداں رہ گئے اور میں ابھی تک عالمِ تحیر میں ہوں۔۔
میں بی اے میں ہونگی جب پاپا نے مجھے مارک ٹوئین کی خود نوشت پڑھنے کو دی ۔ اس میں مارک ٹوئین نے عجیب واقعہ لکھا کہ اس کی بیوی جو پچاس پچپن برس میں مری ،جب گیارہ سال کی تھی تو پہاڑی کی ڈھلان سے ایسی پھسلی کہ کمر بیکار ہو گئی اور وہ بستر پہ پڑ گئی ہر طرح کے علاج معالجے کے باوجود اٹھنے کے لائق نہیں رہی ،ایک دن گاؤں میں شہرت پھیلی کہ کوئی بزرگ آۓ ہیں جو مریضوں کے لئے مسیحا ہیں، بیمار بچی کے مایوس والدین انہیں اپنے گھر بلا لاۓ اور اپنی کتھا سنائی، ان بزرگ نے بچی کے سر اور کمر پر ہاتھ پھیرا اور کہا get up my child اور وہ بچی اٹھ بیٹھی، پھر کہا let’s walk اور بچی نے چلنا شروع کر دیا۔میں نے بےیقینی میں اس واقعے پر حیرت ظاہر کی تو پاپا اطمینان سے بولے ایسے لوگ ہوتے ہیں۔
دس بارہ سال بعد ہی میرے ماموں زاد بھائی حسن کے ساتھ بہاولپور میں ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ اس کی کمر میں چُنک (جسے چُک بھی کہتے ہیں) ایسی پڑی کہ وہ آدھا بستر پہ تھا اور آدھا فرش پر۔ میری خلو کے جیٹھ ڈاکٹر محمود ان دنوں بہاولپور بی وی ہسپتال کے ایم ایس تھے، انہوں نے ایمبولینس کے ذریعے حسن کو بلایا، اور تمام متعلقہ مراحل طے کئے، ادویات کے ساتھ گھر بھیجا،مگر تکلیف اپنی جگہ بدستور تھی اور کوئی تدبیر بن نہ پڑتی تھی، روز کے ہسپتال کے چکروں میں ایک دن ڈرائیور نے مودبانہ میرے ماموں سے عرض کیا ، آپ نے سب کچھ کرکے دیکھ لیا اگر میری بھی بات مان لیں ، یہاں دُور ایک دیہاتی بابا جھونپڑی میں مقیم ہیں، صرف ان کی کٹُیا تک جانا ہوگا۔ مرتا کیا نہ کرتا ماموں صاحب بیٹے حسن کو لےکر وہاں پہنچے، قریب پہنچ کر ڈرائیور نے حسن سے کہا ”تم دروازے پر دستک دینا، اندر سے آواز آۓ گی، کون؟تم صرف کہنا، ًچُک ۔ جواب آۓ گا، ” جا مُڑ نہ آئیں “۔ اور تم پلٹ آنا، اور ہاں ایک شرط ہے واپس پیچھے نہ دیکھنا “۔ حسن نے ایسا ہی کیا۔اور پھر ماموں صاحب کے سارے سیٹلائٹ ٹاؤن والوں نے دیکھا، کہ جو حسن ٹیڑھا میڑھا لوگوں کے سہارے گیا تھا وہ اپنے قدموں پر چل کر لَوٹ رہا تھا۔(اب یہ الگ مسئلہ ہے کہ ایسے لوگ نایاب کیوں ہیں، کچھ خاص ہی لوگوں کو کیوں ملتے ہیں، یہ باتیں جو beyond belief ہیں کیسے کہیں کہیں ظاہر ہو جاتی ہیں وغیرہ وغیرہ،؟)
پھر پاپا نے مجھے ایک اپنی محیّرالُعقول واردات سنائی، وہ بارہ تیرہ برس کے ہوں گے جب گھر سے بھاگ کر مالے گاؤں پہنچے، یہ خوشحال جولاہوں کی بستی تھی۔ ایک خوش شکل اور خوب سیرت بزاز کی دوکان میں پاپا اپنی بِپتا سنانے اور پناہ مانگنے ہی والے تھے کہ بزاز کو پاپا کی صورت شکل پر ترس آیا،اس نے کہا، بیٹھ جائیں میاں میں ابھی سنتا ہوں، یہ جملہ ابھی اس کی زبان پر ہی تھا کہ ایک شخص دوڑتا آیا اور بزاز کے کان میں کچھ کہا اور دونوں نے پاپا کی طرف دیکھا۔پاپا کی تو جان ہی لرز گئی، وہ سمجھے کہ پولیس پکڑنے آ گئی۔ لیکن بزاز اُٹھا اور پاپا سے کہا چلیے میاں میرے گھر، راستے میں اس نے پاپا کو بتایا میرا بچہ آپ کی عمر کا چھ ماہ پہلے مرا ہے تب سے میری بیوی کا حال بے حال ہے اس پر دورہ سا پڑتا ہے اور وہ کوئی نا معلوم زبان بولنے لگتی ہے۔ میری دوکان میں آپ کے آتے ہی اس نے گھر سے کہلوایا کہ وہ بچہ جس کو ہمارے لئے بھیجا گیا تھا آ گیا ہے۔ جب پاپا گھر پہنچے تو ایک عورت زمین پہ پڑی اجنبی زبان میں اول فول بک رہی تھی، اردگرد لوگوں کا ہجوم تھا پاپا کو دیکھتے ہی اس عورت نے کہا تم آگئے میرے بچے اور بحال ہو گئی۔ ان لوگوں نے چھ ماہ پاپا کی ہر طرح آہت نِہت کی، اسکول میں داخل کرایا، لباس کا تو کیا ذکر سونے کی انگوٹھی بنوا کر پہنوائی ۔ خیر پاپا چھ ماہ بعد وہاں سے بھی بھاگ نکلے۔ اصل میں اب ان کے پاؤں میں ایک چکر بھی تھا اور زنجیر بھی۔
اس واقعے میں مجھے جو چیز حیران کرتی ہے وہ ہے اس عورت کا حالتِ بے حالی میں کوئی اجنبی زبان بولنا۔ میں نے کبھی great men of India میں کسی ماہرِ نفسیات کا لکھا ہوا ایسا ہی واقعہ پڑھ رکھا تھا ، وہ کتاب کوئی سو سال پہلے کی چھپی ہو گی ، مجھے اس کے علاوہ کچھ یاد نہیں کہ بقول اس ماہرِ نفسیات کے تمام انسانوں کا اجتماعی تحت الُشعور collective subconscious ایک ہے جب کبھی ہم حالِ دیگر میں پہنچ جاتے ہیں تو ذہن بھی کہیں اور لے جاتا ہے۔(میں نفسیات کے ماہرین سے معذرت خواہ ہوں، یہ میرا موضوع نہیں،نہ میں اس بارے میں جانتی ہوں، بلکہ وہ میرے علم میں اضافہ کر سکتے ہیں، یہ بات ضِمناً تذکرے میں آگئی۔)
اب مجھے یاد آئی وِدیا بالَن کی آرٹ مووی،ًبھُول بُھلّییاںً جس میں انتہائی خوبصورتی سے اسی مسئلے کو پیش کیا گیا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ پاپا نے یہ سب اپنی زبانی کیوں نہیں سنایا،اور مجھے اس کام پہ کیوں لگا دیا؟ بات یہ ہے کہ جب آدمی گھاٹ گھاٹ کا پانی پی لے،دنیا جہان کا ادب چاٹ لے، نظریات میں بھی لوٹ پلٹ ہو جائے، گھر اور ملک کے ہی نہیں دنیا کے حالات میں بھی صدیوں سے رُکا ہوا انقلاب برپا ہو ،عالمی جنگوں نے لکُھوُکھا جانیں تلف کر دی ہوں، تو آدمی کو چپ لگ جاتی ہے۔
ٹی ایس ایلیٹ نے اپنے خطوط سیف میں رکھوا دئے تھے،کہ اس کی موت کے بعد نکالے جائیں
اور مارک ٹوئین نے بھی اپنی وصیت میں اپنی سوانح بعدِ مرگ شائع کرنے کو کہا۔ خیر:
عالم کی سیر میر کی صحبت میں ہو گئی
قسمت سے آج وہ ہمیں بے دست و پا ملا

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker