ادبکالم

حشمت وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو : گریبان / منو بھائی

ہر دور اپنے ساتھ اپنی مصلحتیں لے کر آتا ہے اور اپنی مصلحتوں کے ہمراہ چلا جاتا ہے ۔ یہ جملہ میرا نہیں حشمت وفا کا ہے ۔امروز ملتان کے سینیئر سب ایڈیٹر حشمت وفا کا جو تیس برس تک پاکستانی صحافت کی خدمت کرنے کے بعد دس جنوری کو باون سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے محراب پور سندھ میں انتقال کر گئے ۔ اور اپنے پیچھے ملتان کی بے شمار مزدور تنظیمیں جن میں پی پی ایل ورکرز یونین بھی شامل ہے دوستوں کا ایک وسیع حلقہ ،صحافت کے ان گنت کارنامے ، عزت اور احترام ، مختصر مگر پر خلوص پنجابی شاعری ،ایک بیوہ اور دس بچے اور میرے دل میں ان چار مہینوں کی یادیں بھی چھوڑ گئے جو میں نے ملتان میں گزارے ۔
آنے جانے والے ادوار میں آنے اور پھر چلے جانے والے ایک دور کی یہ مصلحت بھی تھی کہ مجھے راولپنڈی اسلام آباد سے ملتان تبدیل کر دیا جائے چنانچہ مجھے ملتان تبدیل کر دیا گیا ۔راولپنڈی میں گیارہ سال گزارنے کے بعد اس شہر کو چھوڑنے کا مجھے دکھ تھا۔ تیزی سے پھیلنے والےمرکزی دارالحکومت میں روز افزوں رونقیں چھوڑنے کی بھی تکلیف تھی ۔ اتنے بڑے ” نیوزسینٹر “سے ایک ضلعی صدر مقام میں تبادلہ مجھے یوں لگا جیسے وفاقی وزیر کے عہدے سے گرا کر ڈپٹی کمشنر بنا دیا گیا ہوں ۔چنانچہ قدرتی رد عمل یہی تھا کہ ملتان پہنچ کر ملازمت سے استعفٰے دے دوں ۔ دوستوں نے کہا گھبرانے کی بات نہیں ہے حشمت وفا کے شہر میں جا رہے ہو کچھ کرنا بھی ہے تو حشمت وفا سے مشورہ کے بعد کرنا ۔

hashmat wafa
حشمت وفا۔۔ 1979 کی آخری فوٹو۔۔امروز کے آفس میں

ملتان پہنچا۔ حشمت وفا سے ملاقات ہوئی۔بہت تپاک سے ملے گھر لے گئے کھانا کھلایا ۔ میں نے استعفٰی دینے کا ارادہ ظاہر کیا تو بولے
” تمہارے والد صاحب کی کوئی جاگیر ہے ؟ “ کہا نہیں ہے ۔پوچھا ” کوئی فیکٹری ،کوئی کارخانہ ،مکانات ، جائیداد ،ڈیری فارم ،مرغی خانہ وغیرہ “ کہا نہیں کوئی نہیں ۔مزید پوچھا ” تمہارے بھائی دوبئی ، مسقط ،لندن یا سکنڈے نیویا گئے ہوں اور تمہیں وہاں سے زر مبادلہ بھیج رہے ہوں ؟ “ بتایا کہ میرا تو کوئی بھائی نہیں ہے “ استفسار جاری تھا “ کوئی اور ملازمت ڈھونڈ لی ؟” بتایا کہ “ نہیں “ حشمت وفا نے کہا ” پھر گدھے ہو کہ استعفٰی دینے کی سوچ رہے ہو “ اور میں واقعی اپنے آپ کو گدھا محسوس کرنے لگا ۔ میں نے اپنا سایہ دیکھا خاص طور پر یہ دیکھا کہ کہیں میرے کان گدھوں جیسے تو نہیں ہو گئے ۔
حشمت وفا کہہ رہے تھے ۔ ” ہر دور اپنے ساتھ اپنی مصلحتیں لے کر آتا ہے اور اپنی مصلحتوں کے ہمراہ چلا جاتا ہے،ہم سب ان مصلحتوں کے مہرے ہیں اور اپنی حرکات پر بہت کم اختیار رکھتے ہیں “ اس قسم کا فلسفہ بگھارنے کا حشمت وفا کو بہت شوق تھا اور دوسرا شوق لطیفے سنانے اور قہقہے لگانے کا تھا ۔ پرانے لطیفے نئے انداز میں سناتے تھے اور سننے والوں سے زیادہ قہقہے لگاتے تھے ۔یو ں لگتا تھا جیسے یہ لطیفہ انہوں نے خود اپنے آپ کو سنایا ہے ۔ پنڈی اور اسلام آباد کی با رونق مجلسی ، ثقافتی اور سیاسی زندگی سے کٹ کر ملتان کے خاموش اور منقار زیرِ پر ماحول میں پہنچ کر بہت اداس ہوا ۔مسعود اشعرادبی محفلوں میں لے گئے مگر اجنبیت دور نہ ہو سکی ۔حشمت وفا نے مزدور انجمنوں کی سیاست میں گھسیٹنا چاہا مگر یہ اپنے بس کا روگ نہیں تھا چنانچہ رات کو ملتان کی سنسان سڑکوں پر منیر نیازی کے گیت میں تضمین کر کے بلند آواز سے گانا شروع کر دیا کہ
تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو
حشمت وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو
حشمت وفا نے کہا ” تنہائیوں کا زہر ماحول میں نہیں ہوتا خود اپنے اندر ہوتا ہے ۔ جس طرح حسن دیکھنے والوں کی آ نکھوں میں ہوتا ہے اسی طرح بد صورتی بھی دیکھنے والوں کی نگاہوں میں ہوتی ہے ۔ دل اداس ہو تو شہر بھائیں بھائیں کرتا دکھائی دیتا ہے ۔ دل کی اداسی دور کرو ،ماحول میں دلچسپی لو ، کسی ہنگامے میں مصروف ہو جاﺅ تو یہی ماحول بارونق ہو جائے ۔یہی ملتان اسلام آباد بن جائے گا ۔
حشمت وفا کے انداز میں باپ کی سی شفقت اور ماں کی سی مامتا تھی ۔ مجھے وہ بہت خوبصورت لگے اور میری تمام تر اداسی غائب ہو گئی اور میں ماحول میں اور ملتان شہر میں اور ملتان شہر کے مسائل میں دلچسپی لینے لگا اور ” ملتانیات “ کے عنوان سے کالم شروع کر دیا جو خاصا ہنگامہ پرور ثابت ہو ااور ملازمت سے استعفٰی دینے کا ارادہ یوں غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ
کثیر الاولاد اور قلیل آمدنی ہونےکے باوجود حشمت وفا بہت صاف ستھرے رہتے تھے ۔ سفید کھدر ان کا پہناوا تھا کبھی کبھی واسکٹ کا اضافہ بھی کر لیا کرتے تھے ۔ ان کے مقابلے میں شمشاد قطعی طور پر ” بوہمینیئن “ ہو اکرتے تھے خاص طور پر لباس کے معاملے میں بہت لاپرواہ تھے چنانچہ حشمت وفا کے مذاق کا موضوع بنے رہتے تھے ۔حشمت وفا کے مذاق کے دوسرے ہدف شبیر حسن اختر ہوا کرتے تھے جو جوابی کارر وائی میں بھی بہت تیز تھے چنانچہ ان دونوں کی جملے بازی چلتی رہتی تھی ۔ حشمت شبیر حسن اختر کے بارے میں روز ایک نیا لطیفہ گھڑتے تھے اور شبیر حسن اختر گھر سے جوابی لطیفہ گھڑ کر لایا کرتے تھے اور ان دونوں کی لطیفہ بازی سے پورا دفتر کھلکھلا اٹھتا تھا ۔ وہ اپنی زندگی کے انتہائی دکھ بھرے اور تکلیف دہ واقعات بھی قہقہے لگالگا کر سناتے تھے ۔ بعض اوقات حیرت ہوتی تھی کہ اس شخص کے پاس زندہ دلی کے کتنے خزانے ہیں جو ختم ہونے میں ہی نہیں آتے ۔تھوڑے ہی دنوں میں حشمت وفا نے میرے گرد زندہ دل دوستوں کا ایک ہجوم کر دیا اور ہمارے قہقہوں کی آوازیں ملتان کی سڑکوں پر رات گئے تک گونجنے لگیں اور ” حشمت وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو “ کا مفہوم یکسر بدل گیا ۔ چار ماہ کے بعد جب مجھے ملتان سے واپس بلایا گیا تو دوسرے دوستوں کے علاوہ حشمت وفا بھی مجھے الوداع کہنے اسٹیشن پر آئے ۔میں اس وقت ملتان چھوڑنے پر بھی اتنا ہی اداس ہو رہا تھا جتنا کہ راولپنڈی چھوڑنے پر ہو ا تھا ۔حشمت وفا نے پے در پے دس بارہ لطیفے سنا دیئے ۔
انہی قہقہوں کے دوران انجن نے وسل دے دی اور حشمت وفا نے کہا ” ایک لطیفہ تو رہ ہی گیا “ اس کے بعد حشمت وفا سے ملاقات نہ ہو سکی اور وہ لطیفہ جو رہ گیا رہ ہی گیا ۔ اب میں اگر کبھی ملتان جاﺅں گا تو ” حشمت وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو “ کا مفہوم بدل چکا ہو گا ۔ ہر دور کی اپنی مصلحتیں ہوتی ہیں تو یقیناً ہر دور کا اپنا مفہوم بھی ہوتا ہوگا ۔

روزنامہ امروز ۔۔ جنوری 1979 ء

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker