ان سے میں کراچی میں صہبا لکھنوی کے دفتر اور گھر میں پاپا ہی کے ہمراہ ملی تھی، 1980کا زمانہ تھا ، تب سواۓ شاعری کے اور کچھ نہیں سُوجھتا تھا،وقت بھی فراواں اور مہربان تھا، پھر پاپا کا ساتھ۔ چنانچہ وہیں اردو بازار سے ان کی سب کتابیں خرید لیں۔ ًچہرہً کے مقدمے میں انجم اعظمی نے ایک بڑی با معنی بات کہی،جو کسی مقدس قول کا جواب ہے کہ شاعر جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں۔
انجم اعظمی نے لکھا” میں نے ہمیشہ وہی بات لکھنے کی کوشش کی ہے جو میں کرتا ہوں“
یہ ایک بڑا دعوٰی ہے،لیکن اگر آدمی صاحب ِ کردار ہے تو پھر ایسا مشکل بھی نہیں۔ ایک وقت تھا کہ عوام الناس شعرا کو آئڈیل کی طرح پوجتے تھے۔ پھر وہ بُرا عہد بھی آیا جب شاعروں اور ان پر مستزاد شاعرات نے اس طبقے کو کچھ کا کچھ بنا دیا۔بہت معذرت کے ساتھ اس میں علامہ اقبال جوش ملیح آبادی صاحب،اور احمد ندیم قاسمی صاحب کے نامِ نامی نمایاں ہیں ۔ مصطفے زیدی اور بہتیروں کی فہرست طویل ترین ہو جاۓ گی۔ حتٰی کہ شاعر بمبئی افتخار امام صدیقی کے پرچے میں کسی صاحب کا خط چَھپا ” آجکل مشاعرے نہیں مجرے ہوتے ہیں “۔ یہ خط بھی تقریباً اُسی زمانے کا ہے جب میں نے بد نصیبی سے شاعری شروع کی تھی۔ اور شاعری ذریعہء عزت نہیں رہی تھی ۔ پاپا نے خود کو بھی ہمیشہ ساری عمر مشاعروں سے دور ہی رکھا۔ وہی عادت مجھ میں کچھ تو خود بخود سرایت کر گئ اور کچھ پاپا کا مزاج بھی سامنے رہا۔بلکہ میں تو اپنے معاملے میں اتنی سخت ہوئی کہ سوائے ادبی رسائل کے کہیں اور چھپنا بھی گوارا نہ کیا۔
بہرحال ذکر تھا انجم اعظمی کی کتابوں کا، انہوں نے اپنے تنقیدی مضمون میں یہ بھی کہا ” شاعری کوئی تفریح کی چیز نہیں بلکہ علم ہے اور شعر کے مادّے سے ہی شعور بنتا ہے “۔ یہاں برسبیلِ تذکرہ اگر کہہ دیا جائے کہ ممتاز مفتی شعرا اور فنکاروں کو (abnormal) کہا کرتے تھے اور ممکن ہے بہت سے شاعر ادیب اپنے کو غیر معقول بنا بھی لیتے ہوں۔ لیکن پھرفارسی کا یہ قول تو اپنے معانی ہی کھودے گا :
شاعری جزوایست از پیغمبری ۔
چلئیے آگے بڑھنے سے پہلے انجم اعظمی کی یہ دو نظمیں تو پڑھ لیں:
آج کا دن۔
کتنا خوش ہوں
کہ اتفاق سے آج
مجھ پہ گزرا نہ حادثہ کوئی
اور نہ ازراہ ِ لطف میرے لئے
کوئی لایا ہے سوگوار خبر
آشنا دوست اجنبی سب نے
آج کے دن مجھے معاف کیا
آج کا دن بڑا غنیمت ہے۔
سپنا
آج کی رُت میں ملا تھا کوئی
آج ہی کوئی بچھڑ گیا ہے
ایک ہی دن تھا مدھر ملن کا
اور وہ دن بھی گزر گیا ہے
جیسے کچی نیند کا سپنا
آنکھ کُھلی تو بکھر گیا ہے۔
میں نے انجم اعظمی کی کتابوں سے بہت فیض اُٹھایا ہے، اُن کی نظم غزل اور نظری تنقید ایک بند معاشرے کی کُھلی کہانی ہے۔ انُ کے ہاں گاؤں سے شہر آنے کا المیہ دکھائی دیتا ہے،اور صنعتی شہروں کی نفسا نفسی بھی۔ اور پھر جو کراچی کا حال ہُوا وہ بھی ظاہر ہے،مگر ایک رنگِ جمال کے ساتھ۔ مثلا ًغزلوں کے کچھ شعر یادداشت کے بھروسے پر:
وہ چشمِ غزال لاپتہ ہے
موتی کی گلے میں اک لڑی ہے
ایسے میں جیالا ہو تو آۓ
سُولی تیرے شہر میں گڑی ہے۔
ڈرانے کو کھڑی ہیں راستے میں
مشینیں موت بن کر آدمی کی
عمر گزری تو یہ کُھلا کہ کوئی
لاکھ تنہا ہو مر نہیں جاتا
یہ مانا اس میں سعئی ناخنِ تدبیر بھی ہوگی
تمہاری دوستی لیکن مری تقدیر بھی ہوگی۔
میں نے دیکھا اپنی آنکھوں سے یہ جبرو اختیار
اُن کو جانا تھا مگر جاتے ہوئے مل کر گئے۔
نظم
پُروا کا لہرا بہتا تھا
جِھلمِل جِھلمِل رات
گوری آنگن میں سوئی تھی
ہوئی پُرانی بات
تیسری منزل،شور سڑک کا
آنکھیں ہیں بے خواب
کس کا بدن ہے چہرہ غائب
دریا ہے پایاب
شہر میں آ کر آعظمی صاحب
کیا کھویا کیا پایا
یاد کرو تم اُس گوری نے
تم کو بہت سمجھایا!

