اہم خبریںسرائیکی وسیب

ملتان : جنید حفیظ کے خلاف توہینِ مذہب مقدمے میں حتمی دلائل آج شروع ہوں گے

ملتان : بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے لیکچرار جنید حفیظ کے خلاف لگ بھگ سات برس قبل درج کیے گئے توہین مذہب کے مقدمے میں حتمی دلائل آج (جمعرات) سے شروع ہو رہے ہیں۔
جنید حفیظ کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ 13 مارچ 2013 کو درج کیا گیا تھا جو عدالت میں اب تک زیرِ سماعت ہے اور وہ تاحال قید میں ہیں۔ملتان جیل میں ہونے والی عدالتی کارروائی کے دوران پہلے استغاثہ کے وکیل اور پھر وکیلِ صفائی حتمی بحث میں حصہ لیتے ہوئے دلائل دیں گے۔
جیند حفیظ کے وکیل اسد جمال نے صحافی عباد الحق سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 12 دسمبر کو ہونے والی کارروائی میں حتمی دلائل آج شروع ہوں گے اور دونوں فریقین اپنا اپنا مؤقف عدالت کے روبرو پیش کریں گے۔قانونی ماہرین کے مطابق حتمی بحث کا مطلب یہ ہے کہ مقدمے کا ٹرائل آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے اور حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت کی جانب سے کسی بھی وقت فیصلہ سنایا جا سکتا ہے۔
گذشتہ سات برس سے جاری توہین مذہب کے اس مقدمے کی شنوائی کرنے والے آدھ درجن سے زائد جج تبدیل ہو چکے ہیں جبکہ مقدمے کی پیروی کے دوران ہی وکیلِ صفائی راشد رحمان کو بھی قتل کر دیا گیا۔
وکیل صفائی راشد رحمان کو سات مئی 2014 کو ملتان میں ہلاک کیا گیا تھا۔ اسد جمال ایڈوکیٹ کے مطابق وہ اس مقدمے میں تیسرے وکیل ہیں کیونکہ بقول اُن کے راشد رحمان کے بعد اس مقدمے کی پیروی کرنے والا دوسرا وکیل مقدمے سے دستبردار ہو گیا تھا۔
اسد جمال نے بتایا کہ استغاثہ کے تمام گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں جبکہ جیند حیفظ بھی بیان ریکارڈ کروا چکے ہیں۔ان کے مطابق استغاثہ کی جانب سے 26 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کروائے جانے تھے لیکن صرف 15 گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہو سکے ہیں۔
یاد رہے اپریل 2014 میں سکیورٹی خدشات کی بنا پر جنید حفیظ کے خلاف مقدمے میں ملتان سینٹرل جیل میں سماعت کے موقع پر ملزم کے وکیل راشد رحمان اور اللہ داد مقدے کی سماعت کے دوران جج کے سامنے پیش ہوئے تھے۔جب وہ ملزم کی بریت کے لیے دلائل دے رہے تو تین افراد نے جج کی موجودگی میں راشد رحمان ایڈوکیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا: ‘آپ اگلی مرتبہ عدالت نہیں آ سکیں گے کیونکہ آپ اب مز ید زندہ نہیں سکیں گے۔’
ایڈوکیٹ رحمان نے جج کی توجہ دھمکی کی جانب دلائی تاہم اطلاعات کے مطابق جج صاحب نے مبینہ طور خاموشی اختیار کیے رکھی۔اس کے اگلے ہی ماہ سات مئی 2014 کو انھیں ہلاک کر دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ وکیل راشد رحمان کے قتل کے دو ماہ بعد 11جولائی سنہ 2014 کو مقدمے کی پہلی سماعت ایڈیشنل سیشن جج شہباز علی پراچہ کی غیر حاضری کی وجہ سے ملتوی ہو گئی تھی۔جبکہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے جنید کا مقدمہ لڑنے کے لیے آٹھ وکلا کی ٹیم تشکیل دی تھی۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے وکیل راشد رحمان کے قتل کی تفتیش کرنے والے پولیس اہلکار کا بھی اس واقعے کے چند ہفتے بعد تبادلہ کر دیا گیا تھا۔بعض وکلا کے بقول اس تبادلے نے تحقیقات کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
دسمبر 2014 میں جنید حفیظ کے وکیل شہباز گرمانی کے مطابق انھیں ہراساں کرنے کے لیے نہ صرف ان کے گھر کے قریب ہوائی فائرنگ کی گئی بلکہ انھیں دھمکی آمیز خط بھی موصول ہوا تھا۔شہباز گرمانی کا کہنا تھا کہ اس کے بعد انھیں ایک دھمکی آمیز خط موصول ہوا جس میں انھیں کہا گیا تھا کہ ‘ان کے ساتھ بھی راشد رحمان والا سلوک کیا جائے گا۔ اگر تم نے توہینِ رسالت کے ملزم جنید کی وکالت کی یا اس طرح کا کوئی بھی مقدمہ لڑا تو تمہارا سر قلم کر دیں گے۔’
جنید حفیظ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسر تھے۔ جنید آٹھویں جماعت کے بعد سے ہمیشہ اول پوزیشن لیتے آئے ہیں اور پی ایچ ڈی کے لیے اُس برس ان کا امریکہ پھر جانے کا ارادہ تھا۔ وہ پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر بھی ہیں۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker