تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

جنید حفیظ کو سزا: انصاف ممکن نہیں تھا ۔۔ سید مجاہد علی

ملتان کے ایڈیشنل سیشن جج کاشف قیوم نے توہین مذہب کیس میں بہاءالدین زکریا یونیورسٹی کے سابق لیکچرار جنید حفیظ کو سزائے موت کا حکم دیا ہے۔ انہیں توہین مذہب کے قانون 295 کی شقات اے، بی اور سی کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید، دس سال قید بامشقت اور پانچ لاکھ جرمانہ کی سزا کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
پاکستان میں توہین مذہب کا معاملہ اتنا حساس اور سنگین بنادیا گیا ہے کہ یہ بات طے ہوچکی ہے کہ ملکی عدالتی نظام میں کوئی زیریں عدالت کسی بھی ایسے شخص کو بری کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتی جس پر بدقسمتی سے توہین مذہب کا الزام عائد کردیا جائے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر کوئی ملزم گروہی “انصاف” سے بچ کر عدالت کے روبرو اپنی بے گناہی کی دہائی دینے کے لئے زندہ بچ جاتا ہے تو اسے “خوش نصیب” ہی کہا جائے گا۔ مذہبی انتہاپسندی اور جذباتی گمرہی کی ایک ایسی فضا ملک میں قائم ہوچکی ہے کہ الزام لگنے کے بعد متعلقہ شخص کسی دلیل اور ثبوت کے بغیر گناہ گار اور سزائے موت کا مستحق قرار دیا جاتا ہے۔ایسے متعدد معاملات کا حوالہ موجود ہے جب کسی ملزم کو یا تو ہجوم نے مار دیا یا اسے پولیس کی حراست یا جیل میں قتل کردیا گیا۔
جنید حفیظ بھی شاید اسی لئے زندہ ہیں کہ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا تھا۔ گو کہ قید تنہائی کے نفسیاتی اور ذہنی اثرات کا اندازہ کرنا آسان نہیں ہے لیکن توہین مذہب کے الزام میں قید کسی شخص کی “حفاظت” کا شاید یہی واحد طریقہ باقی بچا ہے۔ ورنہ جیل میں سنگین اخلاقی اور دیگر فوجداری مقدمات میں قید لوگوں کا جذبہ ایمانی بھی اس قدر توانا ہوتا ہے کہ وہ توہین مذہب کے کسی ملزم کی زندگی لینا عین باعث رحمت سمجھتے ہیں۔ ایسے کسی موقع پر جیل حکام اور عملہ کی دینداری اور ایمان ان کی دنیاوی ذمہ داری پر حاوی ہوجاتی ہے۔
پاکستان کے توہین مذہب قوانین متعصبانہ اور بنیادی انسانی اصولوں سے متصادم ہیں۔ ملک کے فوجی آمر ضیا الحق نے اپنی سیاسی ضرورتوں کے لئے ان قوانین میں ترمیم کی تھی۔ اس کے بعد کوئی سیاسی حکومت ملک میں پیدا کئے گئے ہیجان اور اضطرار کی وجہ سے ان قوانین میں کوئی رد وبدل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ اسی طرح ملک کی اعلیٰ ترین عدالتوں نے اگرچہ عالمی دباؤ اور سنگین ناانصافی کے الزام سے بچنے کے لئے بعض معاملات میں ملزموں کو بری ضرور کیا ہے لیکن اعلیٰ عدلیہ بھی ان قوانین کے حوالے سے کوئی ایسی رولنگ دینے میں کامیاب نہیں ہوسکی کہ توہین مذہب کے الزام میں گرفتار ہونے والوں کے لئے زیریں عدالتیں بھی انصاف کے تقاضے پورے کرسکیں اور ایسے بدنصیبوں کو مقدمہ کے انتظار میں برس ہا برس تک جیل میں غیر یقینی صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
سپریم کورٹ نے موت کی سزا پانے والی عیسائی خاتون آسیہ بی بی کو گزشتہ برس بری کیا تھا اور ناقص شہادتوں اور استغاثہ کی کوتاہیوں کی نشاندہی کی تھی لیکن کوئی سیشن جج یہ حوصلہ نہیں کرسکتا کیوں کہ سخت ترین سزا دیے بغیر اس کی اپنی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ جنید حفیظ کے پہلے وکیل دفاع راشد رحمان کو اپریل 2014 میں مقدمہ کی سماعت کے دوران تین افراد نے دھمکی دی کہ اگر وہ اس مقدمہ سے دست بردار نہ ہوئے تو وہ اگلی سماعت تک زندہ نہیں بچیں گے۔ راشد رحمان نے جج کی توجہ اس دھمکی کی طرف مبذول کروائی لیکن عقلمند منصف نے خاموشی اختیار کرنا مناسب سمجھا۔ راشد رحمان کو 7مئی 2014 کو ان کے دفتر میں قتل کردیا گیا۔ تاہم ملک کا نظام عدل نہ ان کے قاتلوں کو گرفتار کرسکا، نہ ان افراد سے بازپرس ہوسکی جنہوں نے عدالت میں راشد رحمان کو دھمکی دی تھی اور نہ ہی اس جج سے جواب طلب کیا گیا کہ اس نے کس طرح اپنی عدالت میں قتل کی دھمکی دینے والوں کو نظرانداز کیا۔ اس صورت حال میں جنید حفیظ انصاف کی امید کیسے کرسکتا تھا۔
اس کے بعد سے اس مقدمہ میں 9 جج تبدیل ہوئے اور دو وکلائے صفائی نے دھمکیوں کے بعد مقدمہ سے دست بردار ہونے کا اعلان کردیا۔ عالمی دباؤ اور ہیومن رائٹس کمیشن کی مسلسل کوششوں کے بعد اس مقدمہ کی عجلت میں سماعت مکمل کرکے ایک ایسے الزام میں سزا دی گئی ہے جس کے گواہ صرف سرکاری اہلکار ہیں۔ جنید حفیظ پر سب سے پہلے یونیورسٹی طلبہ کے ایک گروہ نے الزام لگایا تاہم بعد میں کہا گیا کہ انہوں نے فیس بک پر نازیبا کلمات لکھے تھے اور اب سزا دیتے ہوئے استغاثہ کے اس مؤقف پر انحصار کیا گیا ہے کہ اسے جنید حفیظ کے کمپیوٹر سے مذہب بیزار مواد ملا تھا۔
جنید حفیظ کو موت کی سزا کے علاوہ عمر قید اور دس برس قید کی سزا دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گو یہ سزائیں بیک وقت شروع ہوں گی لیکن ان میں لگ بھگ سات برس کی وہ مدت شامل نہیں ہوگی جو جنید حفیظ اس فیصلہ کے انتظار میں جیل میں گزار چکا ہے۔ جج صاحب کے خیال میں توہین مذہب کے مرتکب کو قانون کی شق 382 بی کے تحت یہ رعایت نہیں دی جاسکتی کیوں کہ اسلام میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔ گویا تعزیرات پاکستان کے تحت کام کرنے والا جج توہین عدالت کے ملزم کو سزا دیتے ہوئے شریعت کا ماہر اور مفتی بھی بن سکتا ہے اور کوئی اس کو چیلنج نہیں کرسکتا۔
استغاثہ کے وکیل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جنید حفیظ کو عمر قید اور دس برس قید مکمل ہونے کے بعد پھانسی دی جائے گی۔ فیصلہ کے اس پہلو میں پرویز مشرف کی سزا میں پیرا 66 پر شریعت و انسانیت کی توہین تلاش کرنے والے حکومتی اور فوجی ترجمانوں کو کیا سزا کے اس طریقہ میں بھی بربریت اور شرف انسانیت سے کم تر ہونے کا کوئی پہلو دکھائی دیتا ہے کہ ایک شخص کو اس خوف میں جینا ہے کہ جب حکام کے خیال میں اس کی عمر قید ختم ہوگی تو اسے پھانسی پر لٹکایا جائے گا؟ اس موقع پر طاری سکوت حکومت اور معاشرہ کے دوغلے پن اور سفاک ذہنیت کا واضح ثبوت ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ انسانیت کے علمبردار وزیر قانون اور اٹارنی جنرل جو جسٹس وقار کو ایک غیر موزوں پیرا لکھنے پر معزول کروانے کے درپے ہیں، اس ایڈیشنل سیشن جج کے خلاف انضباطی اقدام کرکے اسے فارغ کریں جو بنیادی انسانی اصول سے کمتر فیصلہ دینے کا مرتکب ہؤا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم دنیا میں اسلامو فوبیا کے خلاف کام کرنا چاہتے ہیں۔ اسلام کے خلاف کہیں کوئی نازیبا کلمہ کہا جائے تو وزارت خارجہ بیان جاری کرتی ہے لیکن اگر حکومت اپنے ہی بلاسفیمی قانون کو مذاق بنانے کا موجب بنے گی تو دنیا میں کوئی بھی پاکستانیوں کے نعرہ نما مطالبوں کو تسلیم نہیں کرے گا۔ ان قوانین کے جائز یا ناجائز ہونے پر بات کئے بغیر بھی یہ سوال تو کیا جا سکتا ہے کہ کیا ان کا ذمہ دارانہ اطلاق کرنے کے لئے کوئی اقدام کئے گئے ہیں۔ کیا اس بات کو یقینی بنانے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی جائے گی کہ پاکستان کے اپنے شہریوں کو غلط الزام کے بعد انصاف ملنے کی امید ہو۔ توہین مذہب ایک ایسا الزام ہے جس میں ضمانت کا حق ختم کردیا گیا ہے۔ تو کیا حکومت اور ملک کے چیف جسٹس پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ ان الزامات کی جلد از جلد سماعت کو یقینی بنائیں۔ یہ انتظام کیا جائے کہ ایک مقررہ مدت میں فیصلہ دیا جائے یا ملزم کو رہا کیا جائے۔
دنیا کے مسلمانوں کو اسلامو فوبیا سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ مملکت پاکستان اپنے شہریوں کے حق عقیدہ و رائے کو تسلیم کرے اور مروجہ قوانین کے تحت انہیں حقیقی انصاف میسر ہو۔ جنید حفیظ کو دی گئی سزا واضح کرتی ہے کہ پاکستان کا نظام ان دونوں نکات کی تکریم کا اہتمام کرنے میں ناکام ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker