تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

کیا جسٹس وقار سیٹھ قابل گردن زدنی ہیں؟ ۔۔ سید مجاہد علی

سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے اعزاز میں منعقد ہونے والے فل کورٹ ریفرنس سے پہلے گفتگو میں کہا ہے کہ عدلیہ کے خلاف گھناؤنی مہم شروع کی گئی ہے۔ ان کا یہ بیان پرویز مشرف کیس میں خصوصی عدالت کے فیصلے اور اس پر حکومت اور فوج کے رد عمل کے تناظر میں بے حد اہمیت رکھتا ہے۔
اس دوران خصوصی عدالت کے تفصیلی فیصلہ کو نہ صرف پاک فوج کے ترجمان نے انسانیت اور مذہبی اقدار سے گرا ہو ا قرار دیا بلکہ اٹارنی جنرل نے فیصلہ لکھنے والے جج کو فاتر العقل کہنا بھی ضروری سمجھا۔ سرکاری ترجمان اور وزیر و مشیر یکساں تندہی سے جسٹس وقار سیٹھ کی کردار کشی میں مصروف ہیں۔ حتی کہ وزیر قانون فروغ نسیم نے جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا۔ حالانکہ اٹارنی جنرل اور وزیر قانون اس مقدمہ میں پرویز مشرف کے وکیل کے طور پر کام کرچکے ہیں۔ اس معاملہ میں ان کی رائے غیر جانبدارانہ اور قابل قبول نہیں ہو سکتی۔
تفصیلی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے فوج یا حکومت نے سنجیدگی سے غور وخوض کرنے یا 167 صفحات پر مشتمل فیصلے کو احتیاط سے پڑھنے کے بعد رائے بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس مرحلے پر ایسے ہیجان کا مظاہرہ کیا گیا کہ نہ تو میجر جنرل آصف غفور نے گفتگو کرتے ہوئے یہ سوچا کہ ان کا بیان اور لب و لہجہ توہین عدالت کا موجب ہو سکتا ہے اور نہ ہی یہ غور کرنے کی زحمت کی گئی کہ فوج ایک عسکری ادارہ ہے۔ اس کی کچھ حدود و قیود ہیں۔ پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت قائم کرنے اور اس کی طرف سے ایک سخت فیصلہ سامنے آنے کی صورت حال بھی اسی لئے پیدا ہوئی تھی کہ ماضی میں عسکری اداروں بعض عناصر کی طرف سے اپنے عہد کی خلاف ورزی کی گئی اور ملکی آئین کا احترام کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔
پاک فوج کے ترجمان نے مختصر فیصلہ کے بعد بھی ایک بیان میں فوج کے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ایک ایسا شخص کس طرح غدار ہوسکتا ہے جس نے چالیس برس فوج میں رہ کر قوم کی خدمت کی ہو اور جو آرمی چیف، چئیرمین جوائینٹ اسٹاف کمیٹی اور صدر کے عہدے پر فائز رہے ہوں۔ پرویز مشرف کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کرتے ہوئے البتہ پاک فوج کے ترجمان نے یہ بتانا ضروری نہیں سمجھا کہ ریاست سے وفاداری اور ملکی آئین کی پاسداری کے بارے میں فوج کی قیادت کیسے سوچتی ہے۔ اور کیا وہ اس بات پر اصرار کررہی ہے کہ اگر اس کا کوئی افسر آئین شکنی کا مرتکب ہوتا ہے تو بھی فوج اس کی پشت پر کھڑا رہنے پر اصرار کرے گی۔
فوج کی طرف سے خصوصی عدالت کے فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے یا اس کے الفاظ پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے یہ وضاحت کرنا ضروری تھا کہ فوج کا ہر رکن، ہر صورت میں اپنے عہد کا پابند ہے اور اپنے سابقہ سربراہ کے ساتھ وفاداری کا اظہار کسی صورت ملک کے آئین کو نظر انداز کرنے یا معاشرے میں فوج کے کردار کی حدود کو مسترد کرنے کی کوشش نہیں ہے۔ بدقسمتی سے فوج کی طرف سے افسوس اور غصہ کا اظہار کرتے ہوئے ان اہم اور بنیادی نوعیت کے سوالوں کا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اس وجہ سے صورت حال مزید پیچیدہ اور گمبھیر ہوئی ہے۔
گزشتہ روز منعقد ہونے والی پریس کانفرنس میں آئی ایس پی آر کے سربراہ نے یہ اطلاع بھی فراہم کی کہ آرمی چیف نے وزیر اعظم سے ملاقات کی ہے ۔ اس ملاقات میں اہم فیصلے کئے گئے ہیں۔ بعد میں وزیر قانون نے پریس کانفرنس میں جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف ریفرنس لانے کا اعلان کرکے تھیلے میں سے وہ بلی بھی نکال دی جس کی طرف بالواسطہ طور سے میجر جنرل آصف غفور اشارہ کر چکے تھے۔ اب یہ تصویر یوں مکمل ہوتی ہے کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ خصوصی عدالت کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان سے ملتے ہیں اور جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف ریفرنس لانے کا مطالبہ کرتے ہیں اور وزیر اعظم اس مطالبے کے سامنے یوں ہی ہتھیار ڈالنے پر بے بس ہوجاتے ہیں جیسے وہ چند روز پہلے ایم بی ایس کے سامنے کوالالمپور نہ جانے کا وعدہ کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔
سوچنے کا مقام ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ایک جج کے خلاف ریفرنس لانے کا فیصلہ کابینہ کے اجلاس میں عمیق غور و فکر کے بعد طے پانا چاہئے تھا۔ وزیر اعظم کو اگر کسی بے قاعدگی کا یقین بھی تھا تب بھی وہ خود یا ان کے وزیرو مشیر اس وقت تک اس حوالے سے کوئی بات کہنے سے گریز کرتے جب تک قانونی ماہرین تفصیلی فیصلہ کی ہر سطر پڑھ کر اس کی اچھی طرح جانچ نہ کرلیتے اور یہ یقین نہ کرلیا جاتا کہ اس فیصلہ کے کچھ حصے واقعی کسی جج کے وقار کے منافی ہیں اور سپریم جوڈیشل کونسل کو ان پر غور کرنا چاہئے۔ تاکہ اعلیٰ عدلیہ کا وقار و معیار برقرار رہ سکے اور قانون کے تقاضے پورے ہوسکیں۔ کجا کہ فوج کا ترجمان اعلان کرتا ہے اور آرمی چیف کی خواہش پر حکومت نہ صرف یہ کہ ریفرنس لانے کا فیصلہ کرلیتی ہے بلکہ اس کا فوری اعلان بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ملک کے آئینی اداروں کی تضحیک کا اس سے بد تر نمونہ پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔
امور مملکت اور عدلیہ کے ساتھ معاملات کے اس طریقہ کار کے کھلم کھلا اظہار سے یہ واضح ہورہا ہے کہ حکومت یا فوج اس مرحلہ پر آئین کے تقاضوں اور حکومت یا فوج کے درمیان حق و اختیار کی تقسیم کے معاملہ کو اہمیت دینے کے لئے آمادہ نہیں ہے۔ بلکہ ملک کے سب سے طاقت ور ادارے کو مطمئن و خوش کرنے کی تگ و دو کی جارہی ہے۔ یہ طریقہ کار اور رویہ دراصل ان عوامل سے نگاہیں چرانے کے مترادف ہے جن کی وجہ سے پرویز مشرف کو کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑا اور عمر کے آخری حصہ میں ایک ناپسندیدہ اور افسوسناک فیصلہ کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی پس منظر کی وجہ سے حکومت کے سارے کل پرزے نہ صرف خصوصی عدالت کے فیصلہ کے صرف ایک پیرا پر توجہ مرکوز کرکے جائز اور ناجائز کی بحث کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں بلکہ جانے پہچانے اور انجانے حلقوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر جسٹس وقار سیٹھ اور عدلیہ کے خلاف نفرت انگیز مہم شروع کی گئی ہے۔ ملک کے سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس نے اپنی گفتگو میں اسی افسوسناک مہم جوئی کی طرف اشارہ کیا ہے۔
اس سے پہلے بھی ایک جج کو فوج پر تنقید کرنے کے جرم میں فارغ کیا جاچکا ہے اور ایک جج کو ناپسندیدہ فیصلہ لکھنے پر برطرف کروانے کی کوشش ہورہی ہے۔ اب جسٹس وقار سیٹھ کا نام بھی ان مظلومین کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔ پیرا 66 میں ان کے الفاظ کو ہر سطح پر مسترد کیا جاچکا ہے لیکن کسی فیصلہ اور اس کی بھی صرف چند سطروں کی بنیاد پر کسی جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی جو مثال حکومت قائم کررہی ہے، اس سے عدلیہ ہی کمزور نہیں ہوگی، قانون کے احترام اور سب کے ساتھ مساوی سلوک کا وہ اصول بھی دفن ہوجائے گا جس کی بنیاد پر عمران خان شریف و زرداری خاندانوں کے خلاف نفرت کی مہم چلاتے رہے ہیں۔ بدقسمتی سے اقتدار تک ان کی رسائی اسی نفرت انگیزی کی وجہ سے ممکن ہوئی تھی۔ اب ایک آئین شکن سابق فوجی حکمران کو بچانے کے لئے منتخب حکومت نفرت کے اسی رویہ کو نظام اور عدلیہ کے خلاف استعمال کرنے کا اہتمام کررہی ہے۔ اس مقصد کے لئے ہی جسٹس وقار سیٹھ کو نشانے پر لیا گیا ہے۔
سرکاری گماشتے اور دہائیوں سے پروردہ حلقے تبصروں ، تجزیوں اور مشوروں کی صورت میں جسٹس وقار سیٹھ کی کردار کشی کرتے ہوئے دراصل اس ملک سے قانون و آئین کے احترام کا جنازہ نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ فیصلہ کے پیرا 66 کو مسترد کرنے کے باوجود اس فیصلہ میں آئینی بالادستی کے اصول اور ماضی میں اس کی بے حرمتی کے واقعات کے حوالہ سے انکار ممکن نہیں ہے۔ ایک جمہوری حکومت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ جمہوریت اور آئینی برتری کے عدالتی عزم کو اپنی قوت سمجھے گی لیکن اس فیصلہ کو مسترد اور جج کی تضحیک و توہین کے ذریعے تحریک انصاف نے دراصل جمہوری اصول کے ساتھ اپنی وابستگی کو مشکو ک کیا ہے۔ عمران خان اپوزیشن لیڈروں کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے نئی روایت کا علمبردار بن کر اقتدار تک پہنچے تھے لیکن اب وہ اقتدار کو ہی منزل مقصود سمجھنے کی فاش غلطی کررہے ہیں۔
پاکستانی فوج کو بھی اس تنازعہ کو ادارہ کی عزت کا سوال بنانے کی بجائے یہ دیکھنا چاہئے کہ پرویز مشرف نے دو مرتبہ آئین شکنی کی لیکن جس معاملہ میں انہیں سزا ہوئی ہے، اس میں وہ براہ راست عدلیہ پر حملہ آور ہوئے تھے۔ اگر دوسرے سب اداروں اور مملکت کے نظام میں فوج کی بالادستی پر اصرار کیا جائے گا تو اس سے تصادم اور کشیدگی کی صورت پیدا ہوگی ۔ یہ فوج سمیت کسی کے لئے بھی خوش آئیند نہیں ہوگا۔ پرویزمشرف کے بارے میں مؤقف پر اصرار کرتے ہوئے فوجی نمائیندوں کو بھارت کی حکمران پارٹی کے لیڈر سبرا منیم سوامی کی طرف سے پرویز مشرف کو بھارتی شہریت کی پیشکش کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ بھارتی حکومت پرویز مشرف کے بارے میں اس وسیع تر ’انسان دوستی‘ کا مظاہرہ کررہی ہے؟
اب یہ بات بھی واضح ہوچکی ہے کہ ملک میں مارشل لا کا خوف دلا کر جمہوریت کا راستہ نہیں روکا جاسکتا۔ فوج کو اب حکومت کا ایک ماتحت جزو بن کررہنے اور ویسا ہی طرز عمل اختیار کرنا ہوگا۔ ملکی عدلیہ کے ساتھ شروع کی جانے والی محاذ آرائی براہ راست عوام کے ساتھ تصادم کی صورت بھی اختیار کرسکتی ہے۔ کوئی فوج اپنے ہی عوام پر جنگ مسلط کرکے سرخرو نہیں ہوسکتی۔ ماضی کے تجربات اور خصوصی عدالت کا فیصلہ یہی پیغام دیتا ہے۔ اس پیغام کو جتنی جلد ممکن ہو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker