گزشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کا اگر سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو ایک انتہائی تشویشناک تصویر سامنے آتی ہے۔ ان ویڈیوز کی بڑی تعداد جنسی سکینڈلز، غیر اخلاقی حرکات اور ذاتی زندگی کی نمائش پر مشتمل ہوتی ہے۔ مزید تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ کئی معاملات میں ویڈیو میں موجود کردار خود ہی دانستہ یا بالواسطہ طور پر اس مواد کو وائرل کرواتے ہیں۔ چند گھنٹوں میں ان ویڈیوز کے ویوز لاکھوں تک پہنچ جاتے ہیں، شیئرز ہزاروں میں ہوتے ہیں اور تبصروں میں سنجیدگی، ہمدردی یا اخلاقی احساس کے بجائے تماش بینی کا رجحان غالب نظر آتا ہے۔
یہ سوال شدت کے ساتھ ابھرتا ہے کہ کیا پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے لیے ایسی ویڈیوز کو بلاک کرنا واقعی مشکل کام ہے؟ ماضی میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ پی ٹی اے چند گھنٹوں میں مکمل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ویب سائٹس یا مخصوص مواد تک رسائی روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سیاسی احتجاج، مذہبی تنازعات یا حساس ریاستی معاملات پر فوری پابندیاں لگ جاتی ہیں، مگر جب بات جنسی اور غیر اخلاقی مواد کی ہو تو کارروائی اکثر تاخیر کا شکار ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً جب تک کوئی ویڈیو بلاک ہوتی ہے، تب تک وہ ہزاروں موبائل فونز میں محفوظ ہو چکی ہوتی ہے اور اس کا زہر پھیل چکا ہوتا ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا پر ہونے والی عالمی تحقیق کے مطابق جنسی نوعیت کا مواد عام مواد کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے وائرل ہوتا ہے۔ ایک بین الاقوامی ڈیجیٹل رپورٹ کے مطابق فحش یا نیم فحش مواد کو عام ویڈیوز کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ شیئر کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور سوشل میڈیا اینالیٹکس سے وابستہ اداروں کے اندازوں کے مطابق وائرل ویڈیوز میں کم از کم 40 فیصد مواد اخلاقی طور پر قابلِ اعتراض ہوتا ہے، جسے لاکھوں صارفین نہ صرف دیکھتے ہیں بلکہ بلا جھجھک دوسروں کو بھی بھیجتے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے جن میں ٹک ٹاکرز، یوٹیوبرز یا عام افراد کی ذاتی نوعیت کی ویڈیوز چند گھنٹوں میں قومی سطح پر موضوعِ بحث بن گئیں۔ بعض کیسز میں یہ بھی سامنے آیا کہ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد متعلقہ افراد نے خود ہی اشاروں کنایوں میں اس کی تشہیر کی تاکہ ویوز اور شہرت میں اضافہ ہو۔ اس روش نے ثابت کر دیا کہ سوشل میڈیا پر مقبولیت حاصل کرنے کی دوڑ میں اخلاقیات کو ثانوی حیثیت دے دی گئی ہے۔
اس سارے منظرنامے میں سب سے افسوس ناک کردار ناظرین کا ہے۔ لاکھوں لوگ ایسی ویڈیوز کو محض تجسس یا تفریح کے نام پر دیکھتے ہیں، اسکرین ریکارڈ کرتے ہیں اور واٹس ایپ گروپس، فیس بک پیجز اور نجی چیٹس میں شیئر کر دیتے ہیں۔ ایک مقامی ڈیجیٹل رویہ جاتی سروے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 58 فیصد سوشل میڈیا صارفین یہ اعتراف کرتے ہیں کہ وہ کم از کم ایک بار غیر اخلاقی یا متنازع ویڈیو کسی اور کو فارورڈ کر چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اخلاقی گراوٹ کا دائرہ صرف مواد بنانے والوں تک محدود نہیں بلکہ دیکھنے اور پھیلانے والے بھی برابر کے شریک ہیں۔
اس روش کے معاشرتی اثرات نہایت سنگین ہیں۔ نوجوان نسل، جو پہلے ہی سوشل میڈیا کی اسکرینوں سے چمٹی ہوئی ہے، مسلسل ایسے مواد کو دیکھ کر اخلاقی حساسیت کھوتی جا رہی ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق بار بار جنسی نوعیت کے مناظر دیکھنے سے ذہن میں غیر حقیقی توقعات، رشتوں کے بارے میں بگاڑ اور عملی زندگی میں بے راہ روی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ایک تحقیقی مطالعے کے مطابق وہ نوجوان جو روزانہ تین گھنٹے سے زیادہ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، ان میں اخلاقی حدود کو معمولی سمجھنے کا رجحان تقریباً 35 فیصد زیادہ پایا گیا۔
یہ صورتحال صرف انفرادی سطح کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی اخلاقی بحران ہے۔ جب کسی کی ذاتی زندگی کی تذلیل کو تفریح سمجھا جانے لگے اور غیر اخلاقی مواد کو وائرل کرنا معمول بن جائے تو معاشرتی اقدار آہستہ آہستہ کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ شرم، حیا اور پرائیویسی جیسے تصورات محض کتابی الفاظ بن کر رہ جاتے ہیں۔
ریاستی اداروں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ پی ٹی اے کے پاس نہ صرف تکنیکی وسائل موجود ہیں بلکہ قانونی اختیارات بھی ہیں کہ وہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ فوری رابطہ کر کے ایسے مواد کو ابتدائی مرحلے میں ہی روک سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ جان بوجھ کر فحش یا جنسی مواد پھیلانے والوں کے خلاف مؤثر اور نظر آنے والی قانونی کارروائی بھی ضروری ہے تاکہ ایک واضح مثال قائم ہو سکے۔
تاہم محض ادارہ جاتی اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ اصل تبدیلی تب آئے گی جب معاشرہ مجموعی طور پر یہ فیصلہ کرے گا کہ وہ ایسی ویڈیوز کو دیکھنے، محفوظ کرنے اور پھیلانے سے انکار کرے گا۔ ہر فرد کو یہ سوچنا ہوگا کہ ایک غیر ذمہ دارانہ شیئر کس طرح معاشرتی اقدار کو نقصان پہنچا رہا ہے اور آنے والی نسلوں کے ذہنوں کو آلودہ کر رہا ہے۔
آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا ہم واقعی اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں اخلاقی گراوٹ ہمیں تفریح محسوس ہونے لگی ہے؟ اگر ہم نے اب بھی اجتماعی طور پر خود احتسابی نہ کی تو سوشل میڈیا کی یہ اسکرینیں صرف ویڈیوز نہیں بلکہ ہماری اقدار، روایات اور اجتماعی شناخت کو بھی نگلتی چلی جائیں گی۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے، اور شاید آخری موقع بھی، کہ ہم اس بہاؤ کے آگے بند باندھ سکیں۔
فیس بک کمینٹ

