تہران : ایران میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے آج (سات جنوری) 12ویں روز میں داخل ہو چکے ہیں اور فی الحال اُن میں کمی کا بھی کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایرانی حکومت کو دھمکی دی ہے کہ اگر ایرانی عوام کے خلاف ’پرتشدد کارروائیوں‘ کا سلسلہ جاری رہا تو امریکہ مداخلت کرے گا۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ دھمکی وینزویلا میں ایک ڈرامائی فوجی کارروائی کے دوران صدر نکولس مادورو اور اُن کی اہلیہ کو تحویل میں لینے سے ایک روز پہلے دی گئی تھی۔
ایک امریکی صدر کی طرف سے ایران میں جاری احتجاج کے دوران دی جانے والی دھمکی کو ایران میں غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی پولیس اور سکیورٹی فورسز نے احتجاج کے آغاز سے ہی مظاہرین کے خلاف سخت رویہ اپنایا ہے۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے کا کہنا ہے کہ ’ایران میں گذشتہ دس روز کے دوران حکومت مخالف مظاہروں میں کم از کم 36 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔‘
’ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی‘ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 34 مظاہرین اور دو سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ تاہم ایرانی حکام نے سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے کوئی اعدادوشمار جاری نہیں کیے ہیں۔
ادارے کے مطابق اس دورانیے میں 60 سے زائد مظاہرین زخمی جبکہ 2076 گرفتار کیے گئے ہیں جبکہ ایران میں 28 دسمبر کو شروع ہونے والا یہ احتجاج اب مُلک کے 31 میں سے 27 صوبوں میں پھیل چکا ہے۔

