تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : امریکہ طالبان معاہدہ افغانستان میں امن کی ضمانت کیوں نہیں دیتا ؟

لغوی معنوں میں ابھی امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان معاہدے کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی اور اس ’تاریخی‘ معاہدے پر تحسین و توصیف کے ڈونگرے ابھی برسائے ہی جارہے تھے کہ افغانستان کے صدر نے معاہدہ کے ایک اہم نکتہ سے انحراف کرتے ہوئے طالبان کے پانچ ہزار قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کردیا ہے۔ صرف اس ایک اعلان سے افغانستان میں امن کے امکانات اور اس میں حائل مشکلات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
ایک سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ہفتہ کے روز طالبان وفد کے قائد ملا عبدالغنی برادر اور امریکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ زلمے خلیل زاد نے دوحہ کی ایک شاندار تقریب میں ایک امن معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کے تحت امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان سے 14 ماہ میں بتدریج اپنی افواج واپس بلالیں گے جبکہ طالبان اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ افغان سرزمین کسی ایسے گروہ، تنظیم یا فرد کو استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے جس سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خطرہ لاحق ہو۔ اس کے ساتھ ہی 10 مارچ سے بین الافغان مذاکرات شروع کرنے اور افغانستان کی حکومت اور نظام کے بارے میں لائحہ عمل طے کرنے کا کام شروع کیا جائے گا۔
امریکہ نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ اگر طالبان امن قائم رکھنے اور اپنے وعدوں پر عمل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں تو امریکہ آئیندہ 135 دنوں میں پانچ ہزار کے لگ بھگ فوجی واپس بلالے گا۔ وہائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر حالات خوشگوار رہے تو پانچ ہزار امریکی فوجیوں کو مئی کے آخر تک وطن واپس بلا لیا جائے گا۔ باہمی اعتماد سازی اور بین الافغان مذاکرات کو کامیاب بنانے کا ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ افغان حکومت طالبان کے پانچ ہزار کے لگ بھگ قیدی رہا کرے گی جبکہ اس کے بدلے میں طالبان اپنی قید میں افغان سیکورٹی فورسز کے ایک ہزار ارکان رہا کردیں گے۔ افغان صدر اشرف غنی اب اسی بنیادی اور اہم نکتہ سے انحراف کرتے ہوئے یہ اعلان کررہے ہیں کہ امریکہ کو افغان حکومت کی طرف سے ایسا کوئی وعدہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ بین الافغان مذاکرات میں ہی کیا جاسکتا ہے۔
گو کہ صدر اشرف غنی کا یہ نکتہ اہم اور قابل غور ہے کہ کوئی تیسرا ملک کس حیثیت میں ایک نام نہاد خود مختار اور آزاد حکومت کی طرف سے کسی رعایت کا وعدہ کرسکتا ہے۔ البتہ افغانستان کے معاملہ میں امریکہ کوئی عام سا تیسرا ملک نہیں ہے بلکہ 18 سال سے افغانستان میں مصروف جنگ ایک طاقت ہے ۔ امریکی فوجی طاقت ہی کی وجہ سے اشرف غنی اس وقت کابل میں اپنی حکومت قائم کئے ہوئے ہیں اور خود کو افغان عوام کا نمائیندہ کہلاتے ہیں۔ یہ قیاس کرنا دشوار ہے کہ امریکہ نے طالبان کے نمائیندوں کے ساتھ معاہدہ میں یہ شرط شامل کرتے ہوئے اس پہلو پر غور نہیں کیا ہوگا یا صدر اشرف غنی اور ان کے نمائیدوں کو اس نکتہ سے آگاہ نہیں کیا گیا ہوگا۔ اشرف غنی کو یہ اعتراض اس وقت کرنا چاہئے تھا جب امریکہ افغان حکومت کی شمولیت کے بغیر طالبان کے ساتھ معاہدہ کے لئے مذاکرات کرتے ہوئے اس کی تفصیلات طے کررہا تھا۔ یہ عین ممکن ہے کہ امریکہ صدر اشرف غنی کا بازو مروڑ کر اور انہیں دباؤ میں لا کر طالبان کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عمل کرنے پر مجبور کردے تاہم ایسا اسی وقت ممکن ہوگا اگر امریکہ واقعی افغانستان میں امن کا خواہاں ہے اور اس کا بنیادی مقصد وہاں سے اپنی افواج کے انخلا تک محدود نہیں ہے۔
ایسے کئی اشارے ابھی سے سامنے آرہے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو اپنی ہی بات سے مکرنے اور پل بھر میں رائے تبدیل کرنے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں، عجلت میں اس معاہدہ کو مکمل کرنے پر محض اس لئے زور دیا ہو کہ وہ اس کی بنیاد پر امریکی عوام کو یقین دلا سکیں کہ انہوں نے سابقہ انتخابات میں کئے گئے سب وعدے پورے کئے ہیں۔ شام میں داعش کی مکمل شکست اور ابوبکر بغدادی کی ہلاکت کے بعد اب طالبان کے ساتھ معاہدہ، صدر ٹرمپ کے لئے اہم انتخابی نعرے کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج وہائٹ ہاؤس میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے یہ واضح کیا کہ اب امریکی فوجیوں کے وطن واپس آنے کا وقت آگیا ہے۔ ٹرمپ کے اقتدار میں رہتے اس بات کا اندیشہ موجود رہے گا کہ ان کی حکومت کسی بھی لمحے طالبان پر الزامات عائد کرتے ہوئے معاہدہ پر پوری طرح عمل کرنے سے انکار کردے یا انتخابی مہم کے دوران سیاسی نعرے بازی کے لئے افغانستان سے واپس بلائے گئے فوجیوں کو دوبارہ وہاں تعینات کردیا جائے۔ ایسی صورت میں طالبان کے ساتھ مذاکرات اور افغانستان میں امن قائم کرنے کی خواہش اور وعدے محض سراب ثابت ہوں گے۔
ان شبہات میں اضافہ کی سب سے بڑی وجہ تو معاہدہ کی تقریب کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نیٹو کے جنرل سیکرٹری ینس ستولتن برگ اور امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کے بیانات ہیں۔ ان سب نے تواتر سے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ اگر طالبان نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی یا اس کے مطابق اپنی ذمہ داری پوری نہ کی تو امریکہ بھی اس پر عمل کا پابند نہیں ہوگا اور افغانستان میں جنگ جاری رکھی جائے گی۔ حیرت ہے کہ جس معاہدہ کا آغاز دھمکیوں اور اس کی شقات سے یک طرفہ انحراف سے ہورہا ہو ، اس کی کامیابی کے بارے میں کتنے یقین سے امید قائم کی جاسکتی ہے۔
افغان طالبان اس معاہدہ کو امریکہ پر اپنی کامیابی کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ ایک لحاظ سے ان کا یہ دعویٰ درست ہے۔ امریکہ نے 2001 میں افغانستان پر حملہ کرکے طالبان کی حکومت ختم کی تھی لیکن اٹھارہ سال کی جنگ کے دوران وہ طالبان کی قوت کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ اس دوران طالبان نے عسکری اور سیاسی طور پر خود کو ایک طاقت کے طور پر منوایا ہے۔ امریکہ جس گروہ کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خاتمے کا عزم کئے ہوئے تھا اب ایک معاہدہ کے ذریعے انہی طالبان سے یہ امید کی جارہی ہے کہ وہ افغان سرزمین کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سرگرمیوں سے پاک رکھنے میں معاونت کریں گے۔ طالبان کا شروع سے مؤقف رہا ہے کہ وہ کابل پر نافذ کی گئی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ امریکہ کے ساتھ ’حملہ آور فوج‘ کے طور پر بات چیت کریں گے تاکہ غیر ملکی فوجوں کو افغانستان سے نکالا جاسکے۔ اس معاہدہ کے تحت طالبان اپنے اس اصولی مؤقف میں کامیاب رہے ہیں۔ جبکہ امریکہ اس سارے عمل میں طالبان کو اس بات پر آمادہ نہیں کرسکا کہ افغان حکومت کے نمائیندوں کو سرکاری یا غیر سرکاری حیثیت میں مذاکرات کا حصہ بنا لیا جائے۔
طالبان نے معاہدہ میں بین الافغان مذاکرات پر اتفاق کیا ہے لیکن افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کا عندیہ نہیں دیا۔ امریکہ کے ساتھ غیر ملکی افواج کے انخلا کا معاہدہ کرتے ہوئے بھی انہوں نے یہ اہتمام کیا کہ افغان حکومت کو فریق تسلیم نہ کیا جائے۔ افغان گروہوں کے درمیان مذاکرات میں افغان حکومت کی پوزیشن بدستور غیر واضح اور اس کا سیاسی مستقبل غیر یقینی ہے۔ اس پس منظر میں بھی صدر اشرف غنی کی پریشانی اور بدحواسی قابل فہم ہوسکتی ہے۔ اسی طرح طالبان نے اس تمام مدت میں اس بات پر اصرار کیا ہے کہ وہ افغانستان کے موجودہ آئین اور انتظام کو نہیں مانتے۔ وہ ملک میں اسلامی شرعی نظام نافذ کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ امریکہ نے صرف یہ ’کامیابی‘ حاصل کی ہے کہ اس سوال کو معاہدہ کا حصہ بنانے کی بجائے اسے افغان گروہوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے لئے کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔
امریکہ، فوجیں واپس بلانے کا معاہدہ کرنے کی جلدی میں طالبان کو ان بنیادی اصولوں پر بھی آمادہ کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا جو گزشتہ اٹھارہ برس کی جنگ جوئی کی بنیاد کہے جاتے رہے ہیں۔ کہ افغانستان میں جمہوری نظام نافذ کیا جائے گا، موجودہ آئین کو تسلیم کیا جائے گا ، مساوی حقوق اور خاص طور سے خواتین کے حقوق کی حفاظت کا اہتمام کیا جائے گا۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والا معاہدہ ان میں سے کسی بات کی ضمانت فراہم نہیں کرتا۔ اس لئے اگر اس پر پوری طرح عمل درآمد ہوتا ہے اور ممکنہ اور متفقہ بین الافغان مذاکرات میں نئے سیاسی انتظام پر اتفاق رائے ہوجاتا ہے تو امریکہ اس نئے انتظام میں انسانی حقوق یا معاشرے میں خواتین کی مساوی حیثیت کے بارے میں کوئی ضمانت حاصل نہیں کرسکے گا۔ امریکہ نے معاہدہ میں صرف ایک شرط رکھی ہے کہ طالبان افغانستان کو امریکہ دشمن عناصر کا مسکن نہیں بننے دیں گے۔ اس مقصد کے لئے دو دہائی سے امریکہ سے برسر جنگ گروہ کو ہی عملی طاقت تسلیم کرلیا گیا ہے۔
اس با ت کا امکان نہیں ہے کہ طالبان مستقبل قریب میں ہونے والی بات چیت میں اپنے اصولوں سے منحرف ہوجائیں گے یہ قیاس کیاجاسکتا ہے کہ امریکہ کی طرف سے ایسے بہانے بنانے کی کوشش کی جائے جس کی وجہ طالبان اس امن معاہدہ کو خود ہی ماننے سے انکار کردیں۔ اس حوالے سے یہ نوٹ کرنا بھی اہم ہے کہ امریکہ طالبان معاہدے میں مکمل جنگ بندی کی کوئی شق موجود نہیں ہے البتہ طالبان کو غیر ملکی فوجوں پر حملے نہ کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں امریکہ ، افغانستان سے اپنی فوجیں نکال کر اس بدنصیب خطے کو ایک بار پھر باہم دست و گریبان عسکری گروہوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker