تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ۔۔چیف جسٹس کورونا وائرس کو کیسے روکیں گے؟

پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد تین سو سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ اس وائرس کی وجہ سے لاحق بیماریوں کے سبب دو افراد کے مرنےکی تصدیق کی گئی ہے۔ ملک میں اس وائرس کے حوالے سے قیادت کا فقدان اور معلومات کی کمی دکھائی دیتی ہے۔ یہ صورت حال تیزی سے پھیلنے والے اس وائرس کی روک تھام کے حوالے سے تشویشناک ہے۔
کووڈ۔19 کے پھیلاؤ پر قوم کو اعتماد میں لینے کے لئے گزشتہ شام وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کیا تھا۔ انہوں نے حسب عادت لکھی ہوئی تقریر پڑھنے کی بجائے براہ راست خطاب کرنا مناسب خیال کیا جس کی وجہ سے یہ تقریر بھی قوم کی مناسب رہنمائی کا مقصد پورا نہیں کرسکی۔ وزیر اعظم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ لکھی ہوئی تقریر کرنے سے کسی فکری کمزوری یا صلاحیت کی کمی کا اظہار نہیں ہوتا بلکہ اس طرح اہم مواقع پر قومی لیڈر بنیادی نکات کی وضاحت کرسکتے ہیں اور حکومت کی پالیسیوں کو نکتہ وار بیان کرسکتے ہیں۔ عمران خان بدستور اس طریقہ کو اختیار کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ ہو یا قوم سے خطاب ، وہ براہ راست بولنے اور اپنے جوش و جذبہ سے لوگوں کے روح و قلب کو گرمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ طریقہ سیاسی مقاصد تو حاصل کرسکتا ہے لیکن اس طرح کسی خاص اور اہم معاملہ پر حکومت کی پالیسی ، طریقہ کار اور اقدامات کا احاطہ نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے گرشتہ روز وزیراعظم نے اپنی تقریر میں اگرچہ ’گھبرانا نہیں ہے ‘ کا مشورہ دیا تھا لیکن لوگوں میں اس تقریر کے بعد پریشانی اور بے یقینی میں اضافہ ہؤا۔
اس وقت پوری دنیا کورونا وائرس کے چیلنج کاسامنا کررہی ہے۔ ہر ملک میں حکومتی اقدامات پر تنقید بھی کی جارہی ہے لیکن کسی نے ابھی تک اس متفقہ طریقہ کار سے اختلاف نہیں کیا ہے کہ کووڈ۔19 ایک سے دوسرے انسان میں تیزی سے منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لئے اس صورت حال میں خود اختیار کردہ تنہائی یا حکومت کے بنائے ہوئے مراکز میں متاثرہ لوگوں کو آئسولیشن میں رکھنا ضروری ہے۔ اس وائرس کی تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت کی وجہ سے ہی یورپی ملکوں اٹلی، سپین اور فرانس میں مکمل لاک ڈاؤن کی صورت حال ہے اور حکومتوں نے اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنےکے احکامات جاری کئے ہیں۔
اسی طرح امریکہ میں صدر ٹرمپ کی حکومت نے اگرچہ تساہل کا مظاہرہ کیا لیکن اب وہاں پر متاثرین اور مریضوں کی تعداد بڑھنے سے حکومت انتہائی اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوئی ہے۔ امریکہ میں اس وقت کورونا سے متاثرین کی تعداد پانچ ہزار سے بڑھ چکی ہے جبکہ ایک سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایک کھرب ڈالر کے مالی پیکیج کا اعلان کیا ہے ۔ یہ وسائل بڑے اداروں کا خسارہ پورا کرنے کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والے بیروزگاروں کو مشاہرہ دینے پر صرف کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ حکومت پر کورونا وائرس کے زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کا اہتمام کرنے کے لئے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ جنوبی کوریا، سنگاپور اور جاپان کے تجربے سے واضح ہؤا ہے کہ بروقت ہر ایسے شخص کا ٹیسٹ کرنے سے وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکتا ہے جس میں اس وائرس کی موجودگی کا اندیشہ ہو۔ امریکہ ابھی تک وائرس کے بھرپور ٹیسٹ کرنے کے معاملہ میں دیگر ملکوں سے پیچھے ہے۔
متعدد یورپی ممالک میں بھی کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے حوالے سے مباحث دیکھنے میں آرہے ہیں۔ صحت کے شعبہ پر دباؤ اور عملہ کی کمی کی وجہ سے کئی ممالک کو اس رفتار سے اتنی تعداد میں ٹیسٹ کرنے میں دقت پیش آرہی ہے جو عالمی ادارہ صحت کی ہدایت کے مطابق ضروری ہیں۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے بیرون ملک سفر سے واپس آنے والے لوگوں کو دو ہفتے تک گھروں میں ’سیلف آئسولیشن‘ میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی شہروں اور علاقوں میں اجتماعات اور نقل و حرکت کو محدود کرکے وائرس کو روکنے اور لوگوں کو اس میں مبتلا ہونے سے بچانے کی کوشش ہورہی ہے۔ اس وقت پورا یورپ ایک طرح سے قید خانہ کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ آمد و رفت کی شدید ممانعت کی جارہی ہے اور بین الملکی سفر تقریباً بند ہوچکا ہے۔ ہر ملک اپنے شہریوں کی بہبود کے لئے ایسے اقدامات کرنے پر مجبور ہوچکا ہے جن کے ملکی معیشت، پیداوار اور روزگار پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم طبی ماہرین کے مشورہ کی روشنی میں نقل و حمل روک کر وائرس کا پھیلاؤ کم کرنےکی کوشش کی جارہی ہے۔ بنیادی نکتہ یہی ہے کہ انسانوں کی زندگی باقی سب معاملات سے اہم ترین ہے۔
اس سنگین بحران کے باوجود کوئی ملک دوسرے ملکوں میں پھنسے ہوئے اپنے شہریوں کو بھولنے کی بات نہیں کررہا۔ بلکہ ائیرلائنز کے ساتھ مل کر یہ کوشش کی جارہی ہے کہ اگر کچھ شہری کسی دوسرے ملک میں موجود ہیں اور واپس آنا چاہتے ہیں تو انہیں مناسب سفری سہولت فراہم کی جائے۔ یہ بحران چونکہ سب ملکوں کے لئے یکساں شدید اور مشکل ہوچکا ہے اس لئے ہر ملک کی حکومت اپنے طور پر اپنے شہریوں کی ذمہ داری قبول کرنا ہی اہم ترین فریضہ سمجھتی ہے۔ البتہ پاکستان سے موصول ہونے والی اطلاعات اس مزاج اور طریقہ سے مختلف ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے پہلے امریکی میڈیا سے ایک انٹرویو میں پاکستان پر غیر ملکی قرضوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں معاف کرنے کی بات کی اور پھر قوم سے خطاب میں پریشان اور بدحواس نہ ہونے کا مشورہ ضرور دیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کردیا کہ حکومت کے پاس اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے اور اس سے پیدا ہونے والی ایمرجنسی سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں ہے۔
پاکستان کے محدود وسائل اور مشکل مالی حالت کی وجہ سے حکومت سے یہ توقع بھی نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس وبا کے پھیلنے پر اسی طرح طبی سہولتیں فراہم کرسکتی ہے جیسی کی بعض ترقی یافتہ ملکوں میں فراہم ہورہی ہیں لیکن کم وسائل والے ممالک بھی متبادل اقدامات کے ذریعے اس وبا کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ اس کے مظاہرے متعدد ممالک میں دیکھنے میں بھی آرہے ہیں جن میں ایک مثال ایران نے قائم کی ہے۔ عالمی پابندیوں اور ادویات کی شدید کمی کے باوجود ایرانی لیڈروں نے اس بحران میں قیادت کرنے اور اپنے لوگوں کا ساتھ دینے کو ترجیح دی ۔ اسی لئے وہاں کئی اعلیٰ عہدیدار اس وائرس کا شکار ہوئے جن میں سے چند فوت بھی ہوچکے ہیں۔ پاکستانی حکومت اور سماجی ادارے ابھی تک کوئی ٹھوس مثال قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ وزیر اعظم نے یہ کہہ کر اپنی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا ہے کہ پاکستان غریب ملک ہے اس لئے لاک ڈاؤن مسئلہ کا حل نہیں ہے۔
وزیر اعظم کی بات درست ہونے کے باوجود یوں غلط ہے کہ حکومت نے نہ تو عوام میں اس وائرس کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی کوئی باقاعدہ مہم شروع کی ہے اور نہ ہی تحریک انصاف کی قیادت نے سوشل میڈیا یا مواصلت کے دوسرے ذرائع سے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ملک میں اب بھی ریستورنٹ کھلے ہیں، مساجد میں کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے، مذہبی مدارس کو بند نہیں کیا گیا اور لوگوں نے میل جول میں احتیاط کرنے اور حفظان صحت کی بنیادی تراکیب پر عمل کرنے کا آغاز نہیں کیا ہے۔ اس کے برعکس افواہ سازی اور جھوٹی خبریں پھیلانے کا کام زور شور سے ہورہا ہے۔ وزیر اعظم کی ایک تقریر عوام میں شعور پیدا نہیں کرسکتی۔ اس کے لئے مسلسل کام کرنے اور یاددہانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے بنیادی احتیاط اختیار نہ کرنے والوں کو جرمانہ یا سزا کا خوف دلا کر بعض باتیں ماننے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔
پاکستانی حکام اور اداروں میں اپنی ذمہ داری دوسروں پر منتقل کرنے کا مظاہرہ صرف وزیر اعظم کی تقریر سے ہی سامنے نہیں آیا بلکہ سول ایوی ایشن کے ایک حکم نامہ اور سپریم کورٹ میں کورونا وائرس کے حوالے سے سامنے آنے والے ریمارکس میں بھی اس کا عکس دیکھا جاسکتا ہے۔ سول ایوی ایشن نے حکم دیا ہے کہ 21 مارچ سے بیرون ملک سے آنے والے تمام مسافروں کو کووڈ۔19 وائرس کا ٹیسٹ فراہم کرنا ہوگا۔ یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ یہ ٹیسٹ سفر شروع کرنے سے زیادہ سے زیادہ 24 گنٹے پہلے لیا گیا ہو۔ دنیا بھر میں اس وقت جو طبی ایمرجنسی نافذ ہے، اس کی صورت حال میں بیشتر لوگوں کے لئے اس تقاضے کو پورا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ عملی طور سے پاکستان دوسرے ملکوں سے وطن واپس آنے والے اپنے شہریوں کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے کا اعلان کررہا ہے۔ کوئی حکومت اپنے ہی شہریوں کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھ کر دراصل اس ذمہ داری سے فرار کا اعلان کررہی ہے جو قانونی اور اخلاقی طور سے اس پر عائد ہوتی ہے۔
اسی طرح سپریم کورٹ میں آج پی آئی اے کے سربراہ کی تقرری کے معاملہ پر ایک درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ ’ کورونا وائرس ایئرپورٹ سے ملک میں آیا، یہ حکومت اور پی آئی اے کی نااہلی کی وجہ سے ہوا۔ اس وقت ملک بھر میں ہر جگہ کورونا کی بات ہورہی ہے۔ اگر سیکیورٹی کا یہ حال رہا تو پتہ نہیں مزید کون سی بیماریاں ملک میں آجائیں گی‘۔ ان ریمارکس میں حیران کن بات یہ ہے کہ عدالت میں اس وائرس کے حوالے سے کوئی معاملہ زیر غور نہیں تھا لیکن پھر بھی چیف جسٹس نے ایک ایسے معاملہ پر رائے دینا ضروری خیال کیا جس کے بارے میں ان کی معلومات کسی عام شہری سے زیادہ نہیں ہوسکتیں۔ عدالت کا جج نہ ڈاکٹر ہوتا ہے اور نہ ہی محقق یا ماہر ۔ اس کے پاس ایسے وسائل بھی نہیں ہیں کہ وہ یہ رائے قائم کرسکے کہ پاکستان میں یہ وائرس کیسے پھیلنا شروع ہؤا۔ محض اپنا غصہ نکالنے اور اپنے رتبے کی دھونس میں ایسے غیر متعلقہ ریمارکس کورونا کے خلاف قومی جنگ کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ واجب الاحترام چیف جسٹس کے پاس کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کا کوئی نسخہ بھی نہیں ہے۔
دنیا کا ہر ملک کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے پریشان ہے ۔ پاکستان اس کے پھیلنے سے شاید متاثر شدہ مریضوں کا مناسب علاج کرنے کے قابل نہیں ہوگا لیکن اس مشکل وقت کو روکنے کے لئے لوگوں میں شعور اور حوصلہ پیدا کرنے کا اہتمام تو کیا جاسکتا ہے تاکہ کسی طرح اس وبا سے بچا جاسکے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker