اہم خبریں

کورونا وائرس سے پاکستان میں ہلاکتیں شروع ، پنجاب میں دکانیں جلد بند کرنے کا حکم

پشاور : پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور جھگڑا نے کورونا وائرس کے باعث دو ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔ ٹوئٹر پر انھوں نے اپنے پیغام میں مردان اور ہنگو سے تعلق رکھنے والے متاثرہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔جبکہ دارالحکومت اسلام آباد اور صوبہ سندھ، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف علاقوں کے علاوہ کشمیر میں کورونا وائرس کے نئے مریض سامنے آنے کے بعد پاکستان اور اس کے زیرِانتظام کشمیر میں اس وبا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 299 تک پہنچ گئی ہے۔پنجاب میں دکانیں جلد بند کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے اور دفعہ 144 نافذکر دی گئی ہے ۔
وفاقی اور صوبائی اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سندھ میں 208، پنجاب میں 28، خیبر پختونخوا میں 17, بلوچستان میں 23، گلگت بلتستان میں 13 اور اسلام آباد میں کورونا کے سات متاثرین موجود ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی ایک مریض کی تصدیق کی گئی ہے۔اس طرح پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں کورونا وائرس سے متاثر زیر علاج مریضوں کی تعداد 295 ہے جبکہ دو مریض ہلاک اور دو ہی صحت یاب ہو چکے ہیں۔
پاکستان کی مسلح افواج نے بھی کورونا کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر حفاظتی اقدامات کیے ہیں اور جہاں سماجی روابط میں احتیاط برتنے کا حکم دیا گیا ہے وہیں اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔فوج میں اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے جبکہ واپس آنے والوں کی سکریننگ کی جا رہی ہے۔پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے بی بی سی کی فرحت جاوید کو بتایا ہے کہ تمام فوجی ہسپتال مکمل طور پر تیار ہیں، ’ہر ہسپتال میں آئسولیشن وارڈ قائم کر دیے گئے ہیں جبکہ وہاں ڈاکٹر اور طبی عملہ بھی تعینات کر دیا گیا ہے۔‘
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے ملک بھر میں تمام تعلیمی اداروں کو پہلے ہی پانچ اپریل تک بند کیا جا چکا ہے جبکہ ملک کی سرحدیں بھی پندرہ روز تک مکمل بند اور بین الاقوامی پروازیں محدود کی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ صوبہ سندھ میں حکومت نے بدھ سے جزوی ’لاک ڈاؤن‘ کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں دو افراد کی کورونا سے ہلاکت کے بعد صوبے میں اب اس وائرس کے 17 مریض موجود ہیں۔ صوبائی وزیرِ صحت تیمور جھگڑا نے بدھ کی شب جن دو مریضوں کی ہلاکت کی تصدیق کی انھیں حکام نے بدھ کو ہی کورونا کے مریضوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ان میں سے 50 سالہ سعادت خان کا تعلق مردان سے تھا اور وہ نو مارچ کو سعودی عرب سے واپس آئے تھے جبکہ ہلاک ہونے والے دوسرے مریض کی عمر 36 برس اور ان کا تعلق ہنگو سے بتایا گیا ہے۔ مذکورہ مریض کا علاج پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں جاری تھا اور وہیں انھوں نے دم توڑا۔
نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق وزیرِ صحت کے مطابق اب صوبے میں کورونا کے جو 17 مصدقہ مریض ہیں ان میں سے 15 کا تعلق زائرین کے اس گروپ سے ہے جو ایران سے واپس آیا ہے اور انھیں تفتان سے ڈیرہ اسماعیل خان لایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک مریض کا تعلق بونیر اور ایک کا مانسہرہ سے ہے اور مانسہرہ والے مریض بھی حال ہی میں برطانیہ سے پاکستان آئے تھے۔خیبر پختونخوا میں بھی حکومت نے کورونا سے بچاؤ کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے جس کے تحت بازار اب صبح دس بجے سے شام سات بجے تک ہی کھلیں گے تاہم کریانہ اور روزمرہ اشیائےضرورت کی دکانیں 24 گھنٹے کھلی رہ سکتی ہیں۔حکومت نے 15 دن کے لیے صوبے میں خریداری کے بڑے مراکز اور حجام کی دکانیں بند کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ عوامی مقامات اور شادی ہالوں کے علاوہ گھروں میں بھی تقریبات کے انعقاد پر پابندی لگا دی گئی ہے اور سیاحتی مقامات کی جانب سفر بھی ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔تمام ریستورانوں پر بھی پابندی لگائی گئی ہے کہ وہ اپنے احاطے میں کھانا نہیں کھلا سکتے تاہم ہوم ڈیلیوری کی سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ اب سرکاری اجلاس میں صرف پانچ افراد ہی شریک ہو سکتے ہیں اور اگر ضرورت ہوئی تو باقی افراد ویڈیو لنک کے ذریعے شامل ہوں گے
خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیشِ نظر پہلے ہی 15 روز کے لیے تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی اور عوامی اجتماعات پر پابندی لگانے،ہاسٹل بند کرنے اور جیلوں میں قیدیوں سے ملاقاتیں معطل کرنے کے فیصلے بھی کیے جا چکے ہیں۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker