تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ۔۔بھارتی مذہبی جنون کا جواب انسان دوستی اور جنگ کو مسترد کرکے ہی دیا جاسکتا ہے

دنیا کے ساتھ برصغیر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی صورت حال کے باوجود کشمیر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر روزانہ کی بنیاد پر گولہ باری کا تبادلہ ہورہا ہے۔ اب وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ایک ٹویٹ پیغام میں ایک بار پھر بھارت پر مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔ ایک روز پہلے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھارتی اشتعال انگیزی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ بھارت میں اب صرف مقبوضہ کشمیر کے عوام ہی بی جے پی کی انتہا پسند حکومت کے جبر و ستم کے نشانے پر نہیں ہیں بلکہ کورونا وائرس کو مسلمانوں کے ساتھ نتھی کرتے ہوئے ملک بھر کے 20 کروڑ مسلمانوں کا جینا حرام کردیا گیا ہے۔
بھارت کے طول و عرض سے روزانہ کی بنیاد پر مسلمانوں پر حملوں اور انہیں زد و کوب کرنے کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ کئی واقعات میں پولیس افسر خود بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ مارچ کے وسط میں نظام الدین دہلی میں تبلیغی جماعت کے اجتماع کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کے خلاف نفرت، خوف اور ہیجان کی فضاپیدا کی گئی ہے۔ تبلیغی جماعت انڈیا کے سربراہ مولانا سعد کاندھلوی کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ انتہا پسند جتھوں کی طرف سے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے علاہ سوشل میڈیا اور انتہا پسند مین اسٹریم میڈیا نے بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت کی باقاعدہ مہم شروع کی ہے ۔ حکمران جماعت ایسے سب رجحانات اور مہمات کی سرپرستی کررہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن نافذ ہونے سے پہلے ہی سماجی نقل و حرکت کی سخت پابندیاں عائد تھیں۔ تاہم کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد وہاں پر زندگی مزید مشکل بنا دی گئی ہے۔
سیکورٹی ادارے لوگوں کو دہشت گرد قرار دے کر پہلے بھی تشدد اور مجرمانہ سلوک کا نشانہ بنا رہے تھے ۔ اب مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے لئے پولیس کو کورونا کے نام سے ایک اضافی ہتھکنڈا ہاتھ آگیا ہے۔ پولیس پارٹی کسی بھی گھر میں داخل ہوکر کورونا کے مریض کا سراغ لگانے یا تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شریک ہونے کے شبہ میں ہراساں کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ کورونا اور تبلیغی جماعت کے اجتماع کا تعلق قائم کرنے کے بعد ملک بھر میں پولیس نے مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے ایک منظم منصوبے پر عمل شروع کیا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ کسی سرکاری افسر نے اس کا باقاعدہ حکم تو نہیں دیا لیکن وفاقی حکومت سرکاری بیانات کے ذریعے مسلمانوں اور خاص طور سے تنلیغی جماعت کے خلاف جو فضا بنائی گئی ہے، اس میں پولیس ہی نہیں ’جے رام جے بھارت‘ کا نعرہ لگانے والے ہر شخص کو گویا یہ حق حاصل ہوگیا ہے کہ وہ کسی بھی مسلمان کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ کیوں کہ حکومت اور اس کے ترجمان میڈیا اور سوشل میڈیا کے انتہا پسندوں نے مسلمانوں کو کورونا کی وجہ قرار دیتے ہوئے یہ تاثر قوی کیاہے کہ مسلمان ہی کورونا لانے اور بھارت میں پھیلانے کا سبب بنے ہیں۔
پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے آج اسلام آباد میں ایک میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ بھارتی سیکورٹی فورسز سرچ آپریشنز کے نام پر نوجوان کشمیریوں کو ٹارگٹ کرتی ہیں اور انہیں اٹھا کر لے جاتی ہیں جنہیں بعد میں ہلاک کردیا جاتا ہے یا نامعلوم مقامات پر عقوبت خانوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ وزارت خارجہ کی ترجمان کے مطابق صرف اپریل کے دوران مقبوضہ کشمیر میں سیکورٹی فورسز نے 29 کشمیریوں کو شہید کیا ہے جن میں سے 7 افراد کو رمضان المبارک کے آغاز کے بعد سے مارا گیا ۔ بھارتی سیکورٹی فورسز کو پہلے بھی مقبوضہ کشمیر میں من مانی کرنے اور اپنے جرائم چھپانے کے لئے انسانیت دشمن سخت گیر قوانین کا تحفظ حاصل تھا۔ لیکن کورونا وائرس کے تحت لاک ڈاؤن اور مسلمانوں کے خلاف شروع کی گئی نفرت انگیز مہم نے مقبوضہ کشمیر میں سیکورٹی فورسز کو مزید کھل کھیلنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
دنیا کے تقریباً ہر ملک میں کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کے سبب دوسرے ملکوں کی خبروں کو کم ہی جگہ ملتی ہے لیکن کورونا کی آڑ میں بھارت میں جس طرح مسلمان اقلیت کو تعصب اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے ، اس کے بارے میں عالمی میڈیا میں تسلسل سے خبریں اور رپورٹیں شائع ہورہی ہیں لیکن بھارت میں نریندر مودی کی حکومت اس پر کان دھرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ مارچ کے وسط میں تبلیغی جماعت کے ارکان میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد تبلیغی جماعت اور کورونا کا تعلق استوار کیا گیا اور وزارت صحت کے ترجمان نے بار بار اصرار کیا کہ ’اگر تبلیغی اجتماع نہ ہوتا تو وائرس کی شدت پر قابو پانا آسان ہوجاتا ۔ تبلیغی گروہوں نے اس وائرس کو ملک کی بیس سے زائد ریاستوں میں پہنچا دیا‘۔ اس قسم کی مہم جوئی کے نتیجہ میں جب مسلمانوں پر حملے ہونے لگے اور عالمی میڈیا نے اس پر رپورٹنگ کی تو وزارت صحت نے کورونا کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کا حوالہ دینا بند کیا۔ تاہم اس وقت تک نفرت کا طوفان برپا کیا جاچکا تھا جو اب تک مسلمانوں کی زندگی اور معاش کے لئے شدید خطرہ بنا ہؤا ہے۔
شروع میں یہ سمجھا جارہا تھا کہ ہر پاپولسٹ لیڈر کی طرح نریندر مودی بھی کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے بروقت اور مؤثر کارروائی میں ناکامی کے لئے کوئی عذر تلاش کررہے ہیں۔ اس لئے تبلیغی جماعت کی صورت میں انہیں ایک آسان شکار ہاتھ آگیا ہے۔ لیکن بھارتی جنتا پارٹی کے لیڈروں اور سوشل میڈیا کارکنوں نے جس طرح اس موقع کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور مسلمانوں کو دفاعی پوزیشن میں لانے کے لئے استعمال کیا ہے، اس سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ یہ مہم جوئی صرف وقتی یا کسی ایک واقعہ کے بارے میں حکومتی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی کوشش نہیں ہے بلکہ نریندر مودی اور بھارتی جنتا پارٹی کے وسیع تر ہندو توا ایجنڈے کا حصہ ہے جس کے تحت وہ ہندو انتہاپسندی کو فروغ دیتے ہوئے بھارت کو صرف ہندوؤں کا دیش بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔
تبلیغی جماعت کے اجتماع نے اگرچہ بھارتی حکومت کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا ایک موقع ضرور فراہم کیا ہے ۔ بھارتی حکومت نے 6 مارچ کو ریاستی حکومتوں کو مشورہ دیا تھا کہ بڑے اجتماعات کی حوصلہ شکنی کی جائے ۔ نطام الدین دہلی میں تبلیغی جماعت کا سالانہ اجتماع 13سے 15 مارچ تک منعقد ہؤا۔ نئی دہلی کی حکومت نے 16 مارچ کو 50 یا اس سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کی لیکن اس کے باوجود تبلیغی جماعت کے ایک ہزار سے زائد کارکن مرکز میں ہی رکے رہے تاکہ وہ مولانا سعد کاندھلوی کے خصوصی خطاب سے فیض یاب ہوسکیں۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 19 مارچ کو اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سعد کاندھلوی نے کہا کہ ’کورونا وائرس بدکاروں کے لئے اللہ کا عذاب ہے۔ راست باز مسلمانوں کو اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے‘۔ یہ تقریباً وہی خیالات ہیں جن کا اظہار پاکستان میں تبلیغی جماعت کے سرکردہ رہنما مولانا طارق جمیل وزیر اعظم کی سربراہی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کرچکے ہیں۔ کسی وبا کو آسمانی آفت قرار دے کر لوگوں کو گمراہ کرنے اور احتیاط سے گریز کی طرف راغب کرنے کا یہ طرز عمل مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے رہنماؤں کی طرف سے بھی دیکھنے میں آیا ہے۔
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے لئے البتہ تبلیغی جماعت کا اجتماع ایک بروقت بہانہ تھا ۔ حالات و واقعات سے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ اگر یہ بہانہ نہ بھی ملتا تو بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت عام کرنے اور ان کی زندگی حرام کرنے کے لئے مودی سرکار کوئی دوسرا عذر تلاش کرلیتی۔ مسلمانوں کو پوری دنیا میں پھیلنے والی وبا کی وجہ قرار دے کر بھارتی حکومت نے دراصل اپنا مکروہ انتہا پسندانہ چہرہ عیاں کیا ہے۔ اب بات صرف مقبوضہ کشمیر کے ستّر اسّی لاکھ مسلمانوں کی نہیں ہے بلکہ پورے بھارت میں آباد بیس کروڑ سے زائد مسلمانوں کے مستقبل کے علاوہ ان کی زندگیوں سے متعلق ہے۔ بھارت کے اس جنونی طرز عمل پر پوری دنیا میں خبریں عام ہوئی ہیں اور بعض تنظیموں نے بھی اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حتی ٰ کہ امریکہ کے مذہبی آزادیوں کے کمیشن نے بھی اس ہفتہ کے شروع میں امریکی حکومت سے سفارش کی ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر اس ملک کو ایسے ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے جہاں مذہبی آزادیوں پر قدغن عائد ہے۔
پاکستانی میڈیا میں امریکی کمیشن کی اس سفارش کی وسیع طور سے تشہیر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم عمران خان کے تازہ ٹوئٹ کے علاہ ایسے بیانات سامنے آتے رہتے ہیں جن میں بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کو نازی جرمنی سے مشابہ قرار دیتے ہوئے ہمسایہ ملک میں مسلمانوں کی نسل کشی کے بارے میں خبردار کیا جاتا ہے۔ ایسے بیانات پر کسی ردعمل کی توقع کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اسی امریکی کمیشن کی سفارش پر امریکی حکومت نے پاکستان کو کئی سال سے ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہؤا ہے جہاں اقلیتوں کو جور و ستم اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ پاکستان کو بھارتی مسلمانوں کی امداد کرنے کے لئے پہلے خود اپنے ملک میں آباد مذہبی اقلیتوں کے لئے مثالی ریاست بن کر دکھانا ہوگا۔ ابھی تک پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے معاملات انہی مسلمان لیڈروں کی مرضی سے طے ہوتے ہیں جن کے دباؤ میں حکومت نے وائرس کے شدید خطرہ کے باوجود رمضان المبارک میں مساجد کھولنے اور تراویح پڑھانے کی اجازت دی ہے۔
بھارت جیسے بڑے ملک کے خلاف مؤثر سفارتی مہم چلانے کے لئے بھی پاکستان کو اپنے سیاسی نظام کو مستحکم کرتے ہوئے حقیقی جمہوی بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔ بھارت اپنی تمام تر شدت پسندی کے باوجود اس عذر پر کسی عالمی دباؤ سے محفوظ رہتا ہے کہ وہاں پر جمہوری ادارے کام کررہے ہیں اور حکومت عوام کے ووٹوں سے تبدیل ہوسکتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان ایسا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ اگر کرے بھی تو کوئی اسے تسلیم نہیں کرتا۔ پاکستان میں اب اس رائے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کہ جنگ یا ایٹمی ہتھیاروں کے بل بوتے پر بھارت کو زیر کیا جاسکتا ہے یا مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں آباد مسلمانوں کی مدد کی جاسکتی ہے۔ اب یہ تفہیم عام کرنے کی ضرورت ہے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہے۔ اس لئے جنگ، تصادم چپقلش کے تمام آپشنز کو مسترد کرنے کا طریقہ اختیار کیا جائے۔
پاکستانی حکومت جب عوام کی حقیقی نمائیندہ ہوگی اور جنگ کو آپشن کے طور پر استعمال کرنے کی بات نہیں کی جائے گی تو بھارت میں شدت پسند اور ہندو توا کو ماننے والی حکومت کو بھی ایسی حکومت کے سامنے سرنگوں ہونا پڑے گا۔ اور دنیا کی انسان دوست قوتوں کو بھی پاکستان کا ساتھ دینا پڑے گا۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker