تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ۔۔اٹھارویں ترمیم کی خامیوں کے ساتھ کیا توہین مذہب قوانین کے نقائص بھی دور کئے جائیں گے؟

آئین کی اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی تحریک انصاف کے انتخابی منشور کا حصہ نہیں تھی۔ 2018 میں برسر اقتدار آنے سے پہلے تحریک انصاف پانچ برس تک خیبر پختون خوا میں حکومت کرچکی تھی۔ اسے اس ترمیم کے تحت صوبوں کو ملنے والےاختیارات کے فوائد یانقصانات کا بھی بخوبی اندزاہ ہونا چاہئے تھا۔ اس وقت مرکز کے علاوہ تحریک انصاف تین صوبوںمیں حکمران ہے۔ ان میں سے کسی صوبے نے رضاکارانہ طور پر نہ ’کمزور مرکز ‘کی حالت پر رحم کھانے کی بات کی ہے اور نہ ہی بعض سہولتوں کو یہ کہہ کر لینے سے انکار کیا ہے کہ ان پر تو مرکز کا حق ہے۔ اس کے باوجود وفاقی حکومت کے سربرآوردہ وزیروں نے ایک بار پھر اٹھارویں ترمیم کے نقائص کا ذکرکرتے ہوئے اس ترمیم میں تبدیلی کی بحث کا آغاز کیا ہے۔
آئین میں ترمیم یا اس میں کی گئی تبدیلیوں کو درست کرنے کی ہمیشہ ضرورت پیش آسکتی ہے۔ کوئی بھی آئین فرشتوں کا لکھا ہؤا نہیں ہوتا ۔ اسے تحریر کرتے ہوئے اور بعد میں ردوبدل کے ذریعے اسے بہتر اور فعال بناتے ہوئے کسی نہ کسی غلطی کا امکان موجود رہتا ہے۔ اگر اس مؤقف کو درست نہ مانا جائے تو 1973 کے آئین میں گزشتہ 47 برس کے دوران کی گئی 25 ترامیم کا جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے اصولی طور پر اٹھارویں ترمیم ہو یا آئین کی کوئی دوسری شق، اس کے بارے میں اختلافی رائے سامنے لانا اور اس کی اصلاح کی بات کرنا جائز اور عین جمہوری طریقہ ہے۔ لیکن یہ نکتہ مانتے ہوئے اس پہلو پر بھی غور کرنا پڑے گا کہ صوبوں کو اختیار دینے والی آئینی شق پر تو مسلسل مباحث کرنے اور اس کی وجہ سے اختیارات و وسائل کے عدم توازن کی بات کو جائز اور درست طریقہ مان لیا جائے لیکن ایک فوجی آمر کی حکومت میں ملک کے توہین مذہب قوانین میں کی گئی غیر انسانی، ناقابل فہم اور متعصبانہ تبدیلیوں و اضافوں کے بارے میں بات کرنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترداف ہو۔
ملک کے سب سے بڑے صوبے کے گورنر کو ایک آمر کی طرف سے کی گئی انہیں قانونی تبدیلیوں پر اعتراض کی وجہ سے اسی کے ایک محافظ نے سرکاری بندوق سے گولیاں چلا کر ہلاک کردیا تھا۔ سپریم کورٹ کی طرف سے مجرم قرار پانے کے بعد موت کی سزا پانے کے باوجود آج بھی ملک میں ممتاز قادری کو ہیرو سے بھی بڑھ کر ولی اللہ کا درجہ دینے والے لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ لیکن ایسے لوگ انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں جو ملک کے توہین مذہب قوانین میں سزائے موت اور ضمانت نہ دینے کی شقات یا احمدیوں کے ساتھ امتیازی سلوک والے پہلوؤں کو انسانی حقوق کے خلاف کہہ سکتے ہیں۔ دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے توہین مذہب قوانین کو بنیادی انسانی حقوق پر حملہ قرار دیا ہے۔ پاکستان میں 80 کی دہائی میں کی جانے والی ان ترامیم کے بعد سے 75 سے زائد افراد کو توہین مذہب کے شبہ میں قتل کیا جاچکا ہے اور 1500 زائد لوگ ان الزامات میں قید کئے گئے ہیں۔ ایسے درجنوں مقدمات سامنے آچکے ہیں جن میں توہین مذہب کے قانون کو انتقام لینے کے لئے غلط طور سے استعمال کیا گیا۔ اس کے باوجود توہین مذہب کے الزام میں درجنوں افراد کسی مقدمہ کے بغیر سال ہا سال سے جیلوں میں بند ہیں اور کوئی عدالت، سیاست دان یا قانون دان ان کی داد رسی نہیں کرسکتا۔ نہ ہی کسی سیاسی پارٹی کو یہ حوصلہ ہؤا ہے کہ جنرل ضیا کے دور میں کی گئی ان بدنام زمانہ ترامیم کے بارے میں بحث کا آغاز کرسکے یا ان کے امتیازی کردار کو تبدیل کرنے کی بات کرے۔ توہین مذہب قوانین کے بارے میں رائے عامہ کو یوں تیا رکرلیا گیا ہے کہ ان میں ترمیم یا تبدیلی کی محض بات کو ہی اسلام پر حملہ اور پاکستان کی اسلامی شناخت تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیاجاتا ہے۔
اس کے برعکس 2010 میں آئین پاکستان میں کی گئی ان تبدیلیوں پر اکثر حرف اعتراض اٹھایا جاتا ہے جنہیں اٹھارویں ترمیم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس ترمیم پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور تازہ دم وزیر اطلاعات شبلی فراز نے تبصرہ کرتے ہوئے اس کی کمزوریوں کو دور کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ کورونا وائرس کے بحران کے عین بیچ وفاقی حکومت کو کورونا سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کرنے کے علاوہ ہر کام کرنے کی جلدی ہے۔ خاص طور سے صوبوں کو ملنے والے اختیارات اور وسائل میں خرابیاں تلاش کرتے ہوئے رائے عامہ کو یوں ہموار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پاکستانی شہری یہ محسوس کرنے لگیں کہ اگر اس ترمیم کو درست نہ کیا گیا تو پاکستان کے وجود کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، ملک کا دفاع خطرے میں پڑ سکتا ہے اور مرکزی حکومت کو کٹھ پتلی سے زیادہ کوئی حیثیت حاصل نہیں رہے گی۔
یوں تو اس امر میں بھی کیا مضائقہ ہے کہ مرکزی حکومت کو محض رسمی حیثیت حاصل ہو اور عوام کے مسائل اور ضرورتیں صوبائی حکومتیں پوری کریں ۔ اگر معاملہ عوام کی بہبود، تعلیم، صحت اور بنیادی فلاحی ضرورتیں پوری کرنے کا ہی ہے تو انہیں صوبے پوری کریں یا مرکز سے اس کا انتظام کیا جائے ، کیا فرق پڑتا ہے؟ بلکہ اس عمل میں تو وفاق کو بھی اپنی تمام توانائی اور صلاحیت صوبوں کے ہاتھ مضبوط کرنے اور عوامی بہبود کے منصوبے مکمل کرنے میں دست تعاون دراز کرنے میں صرف کرنی چاہئے۔ اس کے برعکس یہ صورت دیکھنے میں آتی ہے کہ صرف ایک صوبہ سندھ ہے جہاں تحریک انصاف کی حکومت نہیں ہے لیکن وزیر اعظم کی سرکردگی میں وفاق کی پوری قوت اس صوبے کی حکومت کو نااہل ثابت کرنے اور ناکام کرنے میں صرف کی جارہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری دو ٹوک الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت نے کوئی مدد فراہم نہیں کی اور سندھ حکومت کے ہر کام میں ٹانگ اڑائی ہے۔
پاکستان اپنے قیام کے صرف 24 برس بعد نصف حصہ سے محروم ہوگیا تھا۔ پاکستانی اسکولوں کے سلیبس میں خواہ کیسی ہی عالمی اور ہندو سازشوں کا سبق پڑھایا جائے لیکن اب کسی پاکستانی کو اس بات میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ بنگلہ دیش کا قیام صرف اس لئے ممکن ہؤا تھا کیوں کہ ڈھاکہ کے معاملات کو اسلام آباد سے چلانے پر اصرار کیا جارہا تھا ۔ جب ایک فوجی آمر نے وعدہ کے باوجود اس وقت ملک کے بڑے صوبے سے اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی کو اقتدار منتقل کرنے سے انکار کیا تو صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش بن گیا۔ اس پس منظر میں آئین میں صوبائی اکائیوں اور علاقوں کو دیے گئے اختیارات کا ہر محب وطن پاکستانی کو خیر مقدم کرنا چاہئے اور اختیارات اور وسائل کی مقامی سطح تک تقسیم کو زیادہ مؤثر اور بہتر بنانا چاہئے۔ اس کے برعکس اٹھارویں ترمیم کو نشانہ بنا کر چھوٹے صوبوں اور محروم قومیتوں میں احساس محرومی میں اضافہ کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا جاتا۔
حیرت ہے کہ پاکستانی حکومت اپنی ہی مختصر تاریخ سے سبق سیکھنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ انتخابات کے دوران جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی بات کرنے والی پارٹی اب اسی ترمیم کو نشانہ بنا رہی ہے جس نے جمہوریت کو مستحکم کرنے اور صوبوں کی بے چینی کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اٹھارویں ترمیم کی خامیوں میں سب سے بڑی ’خامی ‘ صوبوں کو ملنے والے مالی وسائل اور ان کا نامناسب مصرف بتایا جاتا ہے۔ حیرت ہے کہ کسی وفاقی حکومت کو صوبوں کے مالی معاملات کا جائزہ لینے کا حق کیسے حاصل ہوسکتا ہے۔ کیا یہ بات طے نہیں ہے کہ صوبائی حکومتیں اپنی کارکردگی کے لئے عوام اور اعمال کے لئے قانون کو جوابدہ ہیں۔ پھر یہ نکتہ کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ اگر صوبائی حکومتیں انصاف نہیں کرسکتیں تو وفاقی حکومت بہتر متبادل ہے؟ یا بدعنوانی صرف صوبوں ہی کی سطح پر رونما ہوسکتی ہے اور وفاق کے پاس اختیار آتے ہی بدعنوانی کا خاتمہ ہوجائے گا؟
اٹھارویں ترمیم کے خلاف ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ صوبوں کے اختیار اوروسائل اسی وقت مناسب طریقے سے استعمال ہوسکتے ہیں جب سیاسی و انتظامی اختیار کو لوکل گورنمنٹ نظام کے ذریعے مقامی سطح تک منتقل کیا جائے۔ لیکن صوبائی حکومتیں بلدیاتی انتخابات نہ کرواکے اٹھارویں ترمیم کی روح کو مجروح کررہی ہیں۔ اس اصول پر اتفاق کرنے کے باوجود صوبائی حکومتوں کی کسی ناکامی کو وفاق کو مضبوط کرنے کی دلیل کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا ۔ وفاق کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو اختیارات دیتے ہوئے مرکز نے صوبوں پر کوئی احسان نہیں کیا تھا بلکہ یہ صوبوں کا حق تھا جو کئی دہائیوں تک غصب کیا جاتا رہا تھا۔ جس طرح ملک کے صدر کو ناجائز طور سےوزیر اعظم کو برطرف کرنے اور پارلیمنٹ توڑنے کا اختیار دیاگیا تھا جسے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے ہی ختم کیا جاسکا تھا۔
تحریک انصاف کو حکومت قائم رکھنے کے لئے بھی قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل نہیں ہے اور سینیٹ میں تو وہ بہت چھوٹی اقلیتی حیثیت رکھتی ہے۔ عملی طور پر اپوزیشن کی مدد کے بغیر تحریک انصاف قانون سازی کرنے کی متحمل بھی نہیں ہوسکتی۔ اس کے باوجود ایک متفقہ آئینی ترمیم کے خلاف رائے سازی کرنا ضروری سمجھتی ہے۔ حکومت کے اس رویہ کو صرف کورونا وائرس یا مالی معاملات میں ناقص کاکردگی پر پردہ ڈالنے کی کوشش سمجھنا صریح غلطی ہوگا۔ اٹھارویں ترمیم دراصل ملک کی اس مقتدرہ یا اسٹبلشمنٹ کے لئے خطرہ ہے جو اشاروں کنایوں میں حکومتیں بدلنے یا مسلط کرنے کا کھیل کھیلتی ہے۔ آرمی ایکٹ میں ترمیم کی طرح اگر یہی کھلواڑ اٹھارویں ترمیم کے ساتھ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے ملکی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے، جمہوری قوتوں کو شدید نقصان پہنچے گا اور دور دراز علاقوں میں آباد لوگ یہ سمجھنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ موجودہ نظام میں کوئی جمہوری عمل ان کے حق کا تحفظ نہیں کرسکتا۔
موجودہ حالات میں پاکستان کو باہم افہام و تفہیم اور مشاورت سے ہی چلایا جاسکتا ہے۔ صوبوں کو یہ اعتماد حاصل ہونا چاہئے کہ طویل جد و جہد کے بعد انہیں جو حقوق حاصل ہوئے ہیں، ان پر آنچ نہیں آئے گی۔ اس لئے اٹھارویں ترمیم یا ملکی آئین کے کسی بھی حصہ میں اگر کسی تبدیلی کی ضرورت ہے تو اس پر غیر ذمہ دارانہ مباحث کی بجائے پارلیمنٹ میں غور کیاجائے۔ اور عوام کی وسیع تر منظوری کے بغیر دھونس و دھمکی سے کسی ترمیم سے گریز کیا جائے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker