تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ۔۔لال مسجد کا بھوت اور ریاست پاکستان

اسلام آباد میں جامعہ فریدیہ کے تنازعہ میں ملا عبدالعزیز نے ایک بار پھر اپنی قوت کا مظاہرہ کیا ہے اور ایک بار پھر یہ سوال شدت سے سامنے آیا ہے کہ کیا ریاست و سیاست بدستور انتہا پسند اور آمادہ بہ فساد عناصر کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے۔ کیا ریاست کے پاس مقامی انتظامیہ کے ذریعے عبدالعزیز جیسے لوگوں سے ’مذاکرات یا منت سماجت‘ کرکے معاملہ طے کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے؟
اسی سال کے دوران اسلام آباد انتظامیہ کی طرف سے تصادم کے خوف میں مولانا عبدالعزیز کے ساتھ دوسرا معاہدہ کرنے کے بعد یہ سوال بھی فطری طور سے سامنے آیا ہےکہ کیا 2007 میں لال مسجد کو طاقت کا مرکز بنا کر فوج کے ساتھ دوبدو ہونے کا سانحہ بھلا دیا گیا ہے؟ کیا ایک بار پھر وہی حالات پیدا ہوچکے ہیں کہ کسی مدرسے یا مسجد کا مولوی کسی بھی معاملہ پر حکومت کو چیلنج کرے گا اور حکومت اور اس کے نمائیندے ریاست کی رٹ نافذ کرنے اور قانون شکنی تو روکنے کی بجائے ’مصالحت‘ کے ذریعے تصادم سے بچنے کی کوشش کریں گے۔ مولانا عبدالعزیز نے کبھی اپنے خیالات کو پوشیدہ نہیں رکھا۔ وہ پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے اور اپنے فرمان کے مطابق اسلام آباد کے معاملات چلانا چاہتے ہیں۔ طاقت کے مظاہرے کے لئے انہیں کسی عذر کی ضرورت ہوتی ہے۔ 2007 میں اسلام آباد میں ناجائز مساجد کو مسمار کرنے کی کارروائی کے علاوہ معاشرے میں ’اسلامی تعلیمات‘ کے مطابق سماج سدھار کی مہم کے نتیجے میں بلوے کی کیفیت پیدا کی گئی تھی۔
اس موقع پر طالبات کی ڈنڈا بردار فورس کو اسلام آباد میں اصلاح احوال کے لئے مولانا عبدالعزیز کے احکامات پر عمل درآمد پر مامور کیا گیا تھا۔ اس فورس نے جب چینی شہریوں کے بعض مراکز کو نشانہ بنایا تو ملک کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کو خیال آیا کہ اس ’لاقانونیت‘ کو ختم ہونا چاہئے۔ حالانکہ لال مسجد کو مسلح کرنے اور طالب علموں کو جہادی بنانے کے علاوہ لال مسجد کو دہشت گردوں کا ٹھکانہ بنانے کے طویل عمل میں حکومت میں شامل عناصر بھی عبدالعزیز کے معاون و مددگار تھے۔ لال مسجد کے محاصرے کو فوجی طاقت کے ذریعے ختم کرنا پڑا اور اس تصادم میں ایک سو سے زیادہ لاشیں اٹھائی گئیں جن میں 11فوجی بھی شامل تھے۔ کیا تاریخ کے اس المناک واقعہ سے کوئی سبق سیکھنے کی کوشش کی گئی ہے؟
یہ وقوعہ بھی پاکستان جیسی کسی ریاست میں رونما ہوسکتا ہے کہ ریاستی رٹ کو چیلنج اور سینکڑوں طالب علموں کو ملکی فوج سے مقابلے پر آمادہ کرنے والا شخص اب پھر آزاد ہے اور اپنے پرانے ہتھکنڈے اختیار کئے ہوئے ہے۔ کبھی وہ لال مسجد پر قبضہ کی دھمکی دے کر قیمتی پلاٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے اور کبھی ایک مدرسہ کے قبضہ کا معاملہ اپنے طالب علموں کی غنڈہ فورس کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتاہے۔ اور اسلام آباد انتظامیہ فریقین کے تنازعہ میں عام شہریوں کو محفوظ رکھنے کے نام پر معززین کے ذریعے مولانا عبدالعزیز کو ضمانت فراہم کرتی ہے اور اس طرح انہیں ’سمجھا بجھا کر‘ ایک ماہ کے لئے جامعہ فریدیہ پر قبضہ ختم کرنے پر راضی کیا جاتا ہے۔ کیا کسی شہر یا ملک کا انتظام ریاستی اتھارٹی کو چیلنج کرنے والے عناصر کے سامنے یوں گھٹنے ٹیک کر چلایا جاسکتا ہے۔ کیا پاکستان میں غیر ریاستی عناصر اتنے طاقت ور ہیں کہ وہ ریاست پاکستان کو اپنی شرائط ماننے پر مجبور کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اور ریاست کے نمائیندوں کے پاس صلح اور خفیہ معاہدے کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔
یہ نکتہ تحقیق طلب ہے کہ پاکستان میں مولوی اور گینگسٹر کیسے طاقت ور بنتا ہے۔ وفاقی وزیر علی حیدر زیدی نے حال ہی میں لیاری فیم گینگسٹر عزیر بلوچ کے حوالے سے ایک جے آئی ٹی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کرنے کی کوشش کی تھی کہ یہ شخص دراصل اس وقت صوبہ سندھ میں برسر اقتدار پیپلز پارٹی کی سرپرستی کی وجہ سے اس قدر طاقت ور ہوگیا تھا۔ البتہ علی زیدی مرکزی حکومت کی نمائیندگی کرنے کے باوجود یہ بتانے کے لئے تیار نہیں ہوں گے کہ عبدالعزیز نام کا ایک مجرم اور فسادی شخص کیوں کر دارالحکومت کی انتظامیہ کو اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کر رہا ہے؟ وہ تو سندھ میں جاری ہونے والی تین رپورٹوں میں سے صرف ایک کو موضوع گفتگو بنانا ، اپنے سیاسی مقصد کے لئے کافی سمجھتے ہیں کیوں کہ علی زیدی ہوں یا تحریک انصاف کی حکومت ، اصل ہدف پیپلز پارٹی ہے ، قانون شکنی یا سماج دشمن عناصر نہیں ہیں۔ وگرنہ ملا عبدالعزیز اسلام آباد کے ہی ایک مدرسے میں سکون سے قیام پذیر نہ ہوتا اور اس کے ترجمان یہ دعوے نہ کررہے ہوتے کہ اسلام آباد میں غیر قانونی مساجد گرانے کے جس اقدام کے خلاف 2007 کا ’جہاد‘ کیا گیا تھا، وہی کام اب پھر شروع ہوچکا ہے۔
نوشتہ دیوار یہ پیغام ہے کہ جامعہ فریدیہ کا قبضہ ضمنی بات ہے اصل تنازعہ حکومت سے اپنی طاقت کو تسلیم کروانا ہے۔ مولانا عبدالعزیز کو یہ غیر معمولی طاقت کیسے حاصل ہوئی اور وہ عین اس وقت کیوں حکومت کو پسپا کرنے کے مشن پر گامزن ہوئے ہیں۔ حالانکہ اس وقت تو ملک کا وزیر اعظم ایک ایسا شخص ہے جس کی مدینہ ریاست کا منشور انہی سنہرے اصولوں سے لکھا ہے جنہیں مولانا عبدالعزیز ملکی قانون و آئین سے بالادست قرار دیتے ہیں۔ ان اصولوں کو بیان کرنے کے لئے نام تو قرآن و سنت کا لیا جاتا ہے لیکن اس عنوان سے اپنی طاقت میں اضافہ مقصود ہوتا ہے۔ اسی لئے ملا عبدالعزیز اسلامی شریعت کا نام لیتے ہوئے حکومتی اتھارٹی کو چیلنج کرنا اسلامی شعار کے خلاف نہیں سمجھتے اور عمران خان مدینہ ریاست کا دعویدار ہونے کے باوجود دہشت گردی کو اوڑھنا بچھونا بنانے والے اسامہ بن لادن کو قومی اسمبلی میں شہید قرار دینا غلط نہیں سمجھتے۔ دونوں کے قول و فعل میں اس حیرت انگیز مماثلت کے باوجود عبدالعزیز حکومت کو نیچا دکھانے کے مشن پر متعین ہے۔
وفاقی حکومت کے نمائیندے عزیر بلوچ جے آئی ٹی رپورٹ کی آڑ میں پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کے جرائم کی فہرست تو سامنے لارہے ہیں لیکن بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آتشزنی کے معاملہ پر لب کشائی سے گریز کرتے ہیں حالانکہ اس سانحہ میں 258 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ملک کا ہر ٹی وی چینل اس وقت تک الطاف حسین کے ٹیلی فون خطاب و حرکات کو براہ راست دکھانے پر مجبور تھا جب تک ایک روز اچانک یہ انکشاف نہیں ہؤا کہ وہ اثاثے کی بجائے بوجھ بن چکا ہے۔ جن خدمات کے لئے اس شخص کو کراچی کی حکمرانی سونپی گئی تھی، ان کی ادائیگی میں کمی بیشی ہورہی ہے۔ کیا الطاف حسین کا ووٹر محض ایک واقعہ یا ایک تقریر کی وجہ سے اس شخص سے متنفر ہوکر تحریک انصاف اور محب وطن ایم کیو ایم پاکستان کی طرف دیکھنے لگا تھا؟ یا ووٹروں کی حمایت کا عذر کسی خاص ’قومی‘ ایجنڈے کی تکمیل کے لئے تراشا جاتا رہا ہے؟ الطاف حسین تو اس گندے تالاب کی ایک بڑی مچھلی کا نام ہے، تحریک انصاف کے وزیر و مشیر تو شاید یہ بتانے سے بھی قاصر ہوں کہ ملکی انصاف راؤ انوار جیسے سابق پولیس افسر کی گرفت کرنے میں کیوں ناکام ہے۔ اس کی سرپرستی کا الزام بھی آصف زرادری پر عائد کیا جاتا ہے لیکن اب تو ملک پر انصاف پسند اور دیانت دار شخص کی حکومت ہے۔ لیکن عمران خان ہوں یا ان کے ترجمان کہانی کےممنوعہ کھونٹ کی طرف جانے کا حوصلہ نہیں کرسکتے۔
لال مسجد کا سانحہ پاکستانی ریاست کو چیلنج کرنے کا سب گھناؤنا واقعہ ہے۔ ملک کے دارالحکومت میں سرکاری تنخواہ پانے والے دو بھائیوں نے محکمہ اوقاف کے تحت قائم ایک مسجد کو مرکز بنا کر ریاستی اختیا رکو چیلنج کیا تھا۔ یہ تاثر موجود ہے کہ لال مسجد ایکشن کے بعد ملک بھر میں دہشت گردی کی کارروائیاں شروع ہوئی تھیں۔ تاہم اس کے بعد سے آپریشن ضرب عضب اور آپریشن رد الفساد کے تحت ملک سے دہشت گردی کی بیخ کنی کا دعویٰ بھی کیاجاتا ہے۔ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ امریکہ اور اقوام عالم کو باور کرواتے رہے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کو شکست دینے والا دنیا کا واحد ملک ہے۔ ’کوئی ہمیں امداد دے یا نہ دے لیکن دنیا کا فرض ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے کیوں کہ پاکستانی فوج نے صرف اہل پاکستان کو ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو دہشت گرد گروہوں سے نجات دلانے میں کردار ادا کیا ہے‘۔ پاکستان کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ قبائیلی علاقوں کو ہر قسم کے دہشت گرد گروہوں سے پاک کردیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں الزام تراشی بھارت کے گمراہ کن پروپیگنڈا کا نتیجہ ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اسلام آباد کا ایک مولوی دارالحکومت کی انتظامیہ کو دہشت زدہ اور حکومت کو ہراساں و خوفزدہ کرنے میں کامیاب ہے۔
کسی کو اس بارے میں شبہ نہیں ہے کہ عبدالعزیز نامی شخص کی طاقت کا اصل منبع جامعہ حفصہ کی چند سو طالبات نہیں ہیں۔ پاکستان نے نان اسٹیٹ ایکٹرز کو قومی اثاثہ قرار دینے کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ قومی منظر نامہ پر مولانا عبدالعزیز کے دوبارہ ابھرنے سے اس شبہ کو تقویت ملی ہے کہ بعض درپردہ مقاصد کی تکمیل کے لئے شدت پسند عناصر کی سرپرستی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ یہ واضح ہونا چاہئے کہ عبدالعزیز کی قوت وہ دہشت گرد گروہ تھے جنہیں پاک فوج نیست و نابود کرچکی ہے یا ریاست پاکستان کے بعض عناصر اس کے سر پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں۔ یا پھر لال مسجد کا بھوت مولوی عبدالعزیز کی صورت میں پورے نظام کو خوفزدہ کئے ہوئے ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker