تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

جج اور جرنیل احتساب سے بالا تر : پارلیمانی کیٹی کا ” انقلابی فیصلہ “ ۔۔ سید مجاہد علی

وزیر قانون زاہد حامد نے اعلان کیا ہے کہ قومی احتساب کی پارلیمانی کمیٹی سال بھر کے غور خوض اور بحث مباحثہ کے بعد اس بات پر متفق ہو گئی ہے کہ ملک میں ججوں اور جرنیلوں کا احتساب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے نئے احتساب قانون کے تحت جو احتساب کمیشن بنایا جائے گا، وہ بھی حسب سابق ان معزز پیشوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے باز پرس نہیں کرسکے گا۔ یوں تو پاکستان تحریک انصاف نے آج احتساب کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کا واک آؤٹ کیا تھا لیکن پارٹی کی ترجمان شیریں مزاری نے میڈیا کو بتایا ہے کہ فوج کے افسروں اور ججوں کو نئے احتساب قانون کے تحت جوابدہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ ان دونوں اداروں کا اپنے ارکان کا احتساب کرنے کا اپنا نظام موجود ہے۔ البتہ پارٹی کے ارکان کو حکمران جماعت کے ’آمرانہ رویہ ‘ کی وجہ سے اجلاس کا بائیکاٹ کرنا پڑا۔ آخر احتجاج رجسٹر کروانا بھی ضروری ہوتا ہے۔
پارلیمانی کمیٹی کے اس ’انقلابی فیصلہ‘ کے بعد امید کی جانی چاہئے کہ ملک میں بلا تخصیص قانون کی بالادستی کا اعلان اور نفاذ کا وعدہ کرنے والی خود مختار عدلیہ خود یہ ’مطالبہ‘ کرے گی کہ اس قسم کا غیر منصفانہ قانون آئین کی روح کے منافی ہے اور اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح زیرو ٹالرنس کا پرچار کرنے والی عسکری قیادت کے رہنما بھی بڑھ کر ملک کے ’ناقص العقل‘ جمہوری لیڈروں پر واضح کریں گے ایسا قانون جس میں بعض بدعنوانوں کے لئے رعایت کی گنجائش رکھی جارہی ہے، اسے نئے پاکستان میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ لیکن ایسی پکار سننے کے لئے اس قوم کو شاید کئی جنموں تک انتظار کرنا پڑے گا۔ ابھی پاکستانی معاشرہ کو انصاف اور مساوی سلوک کے ایک سے پیمانے پر ماپنے کی بات کرنا فاتراعقل یا قومی مفاد کا باغی ہونے کی دلیل سمجھی جا سکتی ہے۔
سیاستدانوں نے گزشتہ ایک برس سے احتساب قانون کو بہتر بنانے اور ملک کے سب طبقوں کو بدعنوانی کی صورت میں قانون کے سامنے جوابدہ بنانے کے لئے نیا قانونی بل لانے پر تبادلہ خیال شروع کیا ہؤا تھا۔ شروع سے ہی یہ بات کہی جارہی تھی کہ سابق فوجی حکمران جنرل(ر) پرویز مشرف کے دور میں نافذ کیا جانے والا احتساب آرڈی ننس مجریہ 1999 ناقص ہے کیوں کہ اس میں فوجی افسروں اور اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔ اس لئے اس دوران یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ نیا قانون بلاتخصیص ملک کے سب شعبوں سے وابستہ لوگوں کا احتساب کرے گا۔ اس بات پر بظاہر سیاسی اتفاق رائے کے باوجود مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائیندے متفقہ تجویز کی راہ میں رکاوٹ بنتے رہے تھے۔ تاہم آج سب سیاسی جماعتوں نے اس بات پر متفق ہو کر یہ واضح کردیا ہے کہ وہ بھلے کوئی اور کام کرسکیں یا نہ کرسکیں، ملک میں سب کو برابر سمجھنے اور قانون کے سامنے سب کی جوابدہی کا اصول تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔
1999 کے احتساب آرڈیننس کے ذریعے سابق فوجی حکمران جنرل(ر) پرویز مشرف نے پبلک عہدوں پر فائز لوگوں، سرکاری ملازمین ، سیاستدانوں حتی کہ عام شہریوں کو بھی اس خصوصی حکم کے ذریعے بدعنوانی پر مقدمات کا سامنا کرنے اور جرم ثابت ہونے پر سزا بھگتنے کے لئے تیار رہنے کا پیغام دیا تھا۔ تاہم انہوں نے بھی اس بات کو یقینی بنایا تھا کہ جج اور فوج کے افسر اس سخت قانون سے محفوظ رہیں۔ سیاستدان احتساب آرڈی ننس کی اسی کمزوری کو دور کرکے قانون کی برابری کے اصول کو نافذ کرنے کے خواہشمند تھے۔ تاہم آج ججوں اور جرنیلوں کو استثنیٰ دینے پر اتفاق رائے کے ذریعے یہ واضح کیا گیا ہے کہ ملک کے سیاست دان کوئی ایسا فیصلہ کرنے کے قابل نہیں ہیں جو کسی اصول پر استوار ہو یا طاقتور طبقوں کی جبیں پر شکن کا سبب بن سکے۔
وزیر قانون زاہد حامد اس اتفاق رائے پر خوش ہیں اور انہوں نے اخباری نمائیندوں کو بتایا ہے کہ نیا قانون سخت ہوگا اور اس کے تحت بننے والا احتساب کمیشن بدعنوانی اور سرکاری اختیارات کے غلط استعمال پر کڑا احتساب کرسکے گا۔ ملک کے دو طاقتور اداروں کو قانون سے استثنیٰ دینے پر یہ سیاسی اتفاق ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ منتخب وزیر اعظم کو بدعنوانی کے ایک مقدمہ میں معزول کرچکی ہے اور سابق وزیر اعظم مسلسل یہ شور مچا رہے ہیں کہ کسی ایک ادارے کو دوسرے پر فوقیت نہیں دی جاسکتی، قانون اور ضابطہ سب کے لئے یکساں ہونا چاہئے۔ اسی دوران پاکستان تحریک انصاف نے بعض دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر مسلسل یہ جد و جہد کی ہے کہ ملک میں انصاف کا بول بالا ہو اور بعض لوگ صرف طاقت اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر قانون کی گرفت سے نہ بچ سکیں۔ اسی قسم کا نعرہ پیپلز پارٹی کی طرف سے بھی بلند ہوتا رہا ہے۔
تاہم حکمران مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیوں نے بھی مجوزہ احتساب قانون میں فوج اور عدالتوں کے نمائیندوں کو مثتثنیٰ قرار دے کر دو باتیں ضرور ثابت کی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ بہر حال کسی نہ کسی بات پر متفق ہونے کی ’صلاحیت‘ رکھتی ہیں۔ دوسرے یہ کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی ملک کی کسی ’مقدس گائے‘ کو چھونے کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker