تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : آفات میں گھرا ملک اور مسائل کو ہنسی میں اڑاتا وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان کے اے آر وائی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو سے موجودہ حکومتی انتظام کا بدنما چہرہ اور ناکامی و کمزوری پوری طرح عیاں ہوکر سامنے آگئی ہے۔ اس انٹرویو میں پتہ چلا کہ ملک پر ایک ایسا شخص وزیر اعظم بن کر حکومت کررہا ہے جو اپنے سوا کسی کو حکمرانی کا اہل ہی نہیں سمجھتا۔ عمران خان کا یہ دعویٰ کہ اگر وہ اقتدار میں نہ رہے تو سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں گے، جمہوریت اور پاکستانی قوم کی توہین کے مترادف ہے۔
ملک پر ایک ایسا وزیر اعظم حکومت کررہا ہے جو خوابوں کی دنیا میں رہتا ہے اور زمینی حقائق سے پوری طرح نابلد ہونے کا واشگاف الفاظ میں اعلان کررہا ہے۔ اے آر وائی کے اینکرز کو دو گھنٹے کے اس طویل انٹرویو میں عمران خان نے کسی دوسرے کو نہیں خود کو بے نقاب کیا ہے۔ اگر تحریک انصاف کی حکومت اور عمران خان کی قیادت سے کوئی امید کی جاسکتی تھی تو وہ اس انٹرویو کے بعد وہ دم توڑتی دکھائی دیتی ہے۔ عمران خان نہ صرف جمہوریت اور آزادی اظہار کے معنی سمجھنے سے قاصر ہیں بلکہ اس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ ان ہی کی بات کو درست تسلیم کیا جائے۔ انہیں جو عناصر بھی جس مقصد سے بھی اقتدار تک پہنچانےکا سبب بنے ہیں، انہیں بجا طور سے اپنے انتخاب پر شرمندہ ہونا چاہئے۔
ایک طرف عمران خان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ این آار او کے علاوہ ہر معاملہ پر بات چیت کے لئے تیار ہیں لیکن گزشتہ ماہ کے دوران آرمی چیف کو محض اس لئے اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ ملاقات کرنا پڑی کیوں کہ وزیر اعظم گلگت بلتستان کے اہم سوال پر پارلیمانی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے اپنا آئینی کردار ادا کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔ اس سے پہلے اہم عہدوں پر تقرریوں کے لئے اپوزیشن لیڈر سے مشاورت اور ملاقات سے انکار بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ وہ صرف اپنی باتیں سنانے کے لئے پارلیمنٹ میں تشریف لاتے ہیں لیکن اگر اس موقع پر اپوزیشن کی طرف سے سوال اٹھائے جائیں یا احتجاج کیا جائے تو اسے جمہوریت کا حصہ نہیں بلکہ ’این آر او لینے کی صدا‘ قرار دیتے ہیں۔
ملک میں آمرانہ ادوار سے بھی زیادہ گھٹن کا ماحول ہے لیکن وزیر اعظم سرکار نواز چینل کے جانبدار صحافیوں کے منہ سے اپنی تعریفیں سن کر میڈیا کی آزادی کو جمہوریت کی بنیاد بتارہے تھے۔ ان کے خیال میں انہیں میڈیا سے کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن اسی سانس میں ’فیک نیوز‘ کو سب سے بڑا مسئلہ بتا کر اپنی حکومت کی سخت گیر میڈیا پالیسی، سنسر شپ اور جابرانہ ہتھکنڈوں کو قومی مفاد کے طور پر پیش کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔عمران خان اگر واقعی میڈیا کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں تو پیمرا کے ذریعے ٹی وی چینلز اور وزارت اطلاعات کے ذریعے اخبارات کو کنٹرول کرنے کا سلسلہ کیوں بند نہیں کرتے۔ کیا وجہ ہے کہ ان کے دور حکومت میں ایک کے بعد دوسرا صحافی محض ایسی رپورٹنگ کی وجہ سے اٹھا لیا جاتا ہے جو حکومت وقت کو پسند نہیں ہوتی۔ کسی صحافی کو اغوا کرنے یا غیر قانونی طور سے ہراساں کرنے پر حکومت پریشان کیوں نہیں ہوتی ؟ وزیر اعظم اس سے انکار اور ان کے معاونین ایسے واقعات کی وضاحتیں پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر کوئی صحافی کسی قانون شکنی کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کا حساب لینے کےلئے پراسرا لوگ ہی کیوں سرگرم ہوتے ہیں ، ملک کا نظام عدل کیوں حرکت میں نہیں آتا؟ کیا اس کی سادہ سی وجہ یہ نہیں ہے کہ عمران خان کی حکومت کسی قانون اور کسی عدالت کو نہیں مانتی۔ انہیں اپنی مرضی کے فیصلے دینے والی عدالت، خوشامدانہ سوال کرنے والا صحافی اور ہاں میں ہاں ملانے والا ساتھی درکار ہے۔
عمران خان کی گفتگو اور ان کی باڈی لینگوئج موجودہ سیاسی حالات میں ان کی شدید پریشانی اور بدحواسی کی چغلی کھاتی ہے لیکن وہ یہ بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ انہیں ایک ذمہ دار سیاسی لیڈر کے طور پر ملک کی اپوزیشن کو بات چیت کی دعوت دینی چاہئے۔ انہیں ماننا چاہئے کہ ان کی حکومت معیشت کو درست کرنے اور ملک میں سیاسی استحکام لانے کے منصوبہ میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ اس کی بجائے وہ اپوزیشن لیڈروں کو کسی ثبوت کے بغیر ’دشمن کا ایجنٹ‘ قرار دیتے ہوئے یہ اعلان کرتے ہیں کہ اگر انہیں اقتدار سے محروم ہونا پڑا تو وہ عوام کو سڑکوں پر نکالیں گے اور کسی دوسری حکومت کو کام نہیں کرنے دیں گے۔ کیوں کہ ان کا دعویٰ ہے کہ ’چوروں کو واپس نہیں آنے دینا، اگر واپس آئیں گے تو ساری قوم کو سڑکوں پر نکالوں گا۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ یا یہ بچیں گے یا پھر پاکستان بچے گا۔ اس لیے ان سے بات چیت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے‘۔
اس نام نہاد انتباہ کے دو پہلو قابل غور ہیں۔ ایک یہ کہ عمرا ن خان صرف اس جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں جو محض انہیں اقتدار سونپنے کے کام آسکے۔ اسی لئے وہ کسی سیاسی تبدیلی کا خطرہ محسوس کرتے ہوئے پیش بندی کے طور پر آگاہ کررہے ہیں کہ اگر وہ اقتدار سے محروم ہوئے تو اپنے تمام سیاسی مخالفین کو ’چور‘ قرار دے کر احتجاج کا سلسلہ شروع کردیں گے۔ عمران خان کو بتانا چاہئے کہ ملک کی منتخب حکومت کو کون تبدیل کرسکتا ہے اور وہ یہ دھمکی کسے دے رہے ہیں؟ کیا ان کے مخاطب وہی عناصر ہیں جن کے کاندھوں پر سوار ہو کر عمران خان وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہوئے تھے اور اب اپنی پے در پے ناکامیوں سے پیدا ہونے والی صورت حال میں انہی طاقتوں کو دھمکانے پر اتر آئے ہیں۔ تاکہ اسٹبلشمنٹ اپوزیشن کے ساتھ کسی قسم کا سیاسی سمجھوتہ کرنے پر آمادہ نہ ہوجائے جو ملک میں سکون بحال کرسکے۔ اور موجودہ حکومت کی غلط پالیسیوں کو تبدیل کرکے عوام کو ریلیف دینے کا اہتمام ہوسکے۔
اس کا دوسرا پہلو عمران خان کا یہ دعویٰ ہے کہ اگر انتخاب ہؤا تو وہ دوبارہ اس سے بھی بڑی اکثریت سے کامیاب ہوکر حکومت بنائیں گے۔ اگر انہیں اپنے اس دعوے پر یقین ہے تو وہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے کی دھمکی کس بنیاد پر اورکسےدے رہے ہیں۔ عمران خان کے ساتھی ملک میں جاری مباحث کے تناظر میں متعدد بار یہ اشارے دے چکے ہیں کہ اگر وزیر اعظم نے اپنے اقتدار کو خطرہ محسوس کیا تو وہ اسمبلیاں توڑ دیں گے۔ اسمبلیاں توڑنے کے بعد کسی بھی وزیر اعظم کو دوبارہ انتخابات کروانے پڑتے ہیں۔ اپوزیشن بھی دوبارہ انتخابات کا مطالبہ ہی کررہی ہے۔ پھر یہ مطالبہ عمران خان کو بدحواس کیوں کررہا ہے؟ حکمران پارٹی کے نمائیندے موجودہ احتجاج کے حوالے سے اپوزیشن کا تمسخر اڑاتے ہوئے یہ سوال کرچکے ہیں کہ اگر انہیں موجودہ اسمبلیاں دھاندلی زدہ لگتی ہیں تو وہ ان سے استعفیٰ کیوں نہیں دیتے۔ عمران خان بھی جواب دیں کہ اگر انہیں انتخابات میں پہلے سے بھی زیادہ بڑی کامیابی کا یقین ہے تو وہ نئے انتخابات کا اعلان کیوں نہیں کرتے۔ کون سا خوف ان کے ہاتھ باندھے ہوئے ہے۔ عمران خان جانتے ہیں کہ دو سال میں ان کی حکومت نے جو کارکردگی پیش کی ہے ، اس کے بعد وہ عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔
وزیر اعظم کی سادہ لوحی یا خود پسندی کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنی حکومت کی کسی غلطی کو ماننے پر آمادہ نہیں ہیں۔ گیس کی قیمتیں اس لئے زیادہ ہیں کیوں کہ سابقہ حکومتوں نے کمیشن کھا کر ایسے معاہدے کرلئے تھے کہ اب پاکستان کو صرف مہنگی گیس ہی ملتی ہے۔ گندم کی مہنگائی اور نایابی کی وجہ خراب موسم اور پیداوار میں کمی ہے۔ دالیں اور تیل ، عالمی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے مہنگے ہوگئے ہیں، حکومت اس میں کیا کرسکتی ہے۔ چینی نایاب ہونے کی وجہ کارٹل اور مافیا ہیں۔ ان تمام مسائل میں اگر حکومت کا کوئی کردار ہی نہیں ہے تو اس ملک کو عمران خان جیسے ہونہار لیڈر کی قیادت کیوں درکار ہے؟
اپوزیشن کو عدلیہ اور فوج پر دباؤ ڈالنے کا الزام دیتے ہوئے عمران خان یہ بھول رہے ہیں کہ ملک کی کسی بھی نئی قیادت کو پیش از وقت چور قرار دے کر احتجاج جاری رکھنے کی بات کہہ کر وہ خود اسی جرم کے مرتکب ہورہے ہیں۔ ملک کے مسلمہ آئینی طریقہ کار کے خلاف بات کرتے ہوئے کوئی دوسرا نہیں ، ملک کا وزیر اعظم دشمنوں کے عزائم پورا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھی گھبرا جاتے ہیں لیکن میں انہیں بتاتا ہوں کہ احتجاج سے گھبرانا نہیں ہے، یہ تو جمہوریت کا حسن ہے۔ لیکن احتجاج کرنے والوں کے خلاف نیب کے علاوہ اپنے تصرف میں سارے اداروں کو استعمال کرنے کی دھمیاں دے کر وہ خود اپنے اس جھوٹے دعوے کا پول کھولتے ہیں۔ عمران خان کو اگر جمہوریت پر یقین ہوتا، اگر وہ اپوزیشن کے ساتھ مواصلت کو جمہوریت کا حصہ سمجھتے اور اگر ان میں بات سننے یا مشورہ ماننے کا حوصلہ ہوتا تو ملک موجودہ ابتر حالت کو نہ پہنچتا۔ اپنی تمام غلطیوں کا ذمہ دار کسی دوسرے کو سمجھنے والا لیڈر بنیادی جمہوری خصوصیت سے محروم ہوتا ہے۔ غلطی کا ادراک کئے بغیر اصلاح کا راستہ تلاش نہیں ہوسکتا۔ یہی عمران خان کا مسئلہ ہے اور وہ خود اپنے مزاج اور عاقبت نااندیشانہ سوچ کے اسیر ہوکر رہ گئے ہیں۔
ایک صوبے کی حکومت الزام لگاتی ہے کہ ایک ایف آئی آر درج کروانے کے لئے صوبے کے پولیس سربراہ کو اغوا کیا گیاتھا اور آرمی چیف اس کا فوری نوٹس لیتے ہیں۔ ملک کا وزیر اعظم کہتا ہے کہ اسے یہ بات سن کر ہنسی آتی ہے۔ ایسے ہنسوڑ شخص کے لئے وزیر اعظم ہاؤس نہیں کوئی دوسرا گھر تجویز کیا جاتا ہے۔

( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker