تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : کوئٹہ جلسہ، اب عدالت کو آگے بڑھنا پڑے گا

اپوزیشن کی طرف سے آئین کے احترام کا جو اصول بیان کیا جارہا ہے، وہی اس ملک میں حکمرانی کے نظام کی اصلاح کا واحد راستہ ہے۔ اس کے برعکس وفاقی حکومت کے نمائیندے اپوزیشن کے احتجاج اور سیاسی مطالبوں پر جس بے چینی اور شدید رد عمل ظاہر کررہے ہیں وہ ملک کو تصادم اور انتشار کی طرف دھکیلنے کی افسوس ناک کوششوں کا حصہ ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اب بدکلامی سے گریز کرتے ہوئے سیاسی زبان میں شائستگی سے گفتگو کی جائے تاکہ ملک میں مکالمہ کے ذریعے مسائل حل کرنے کی راہ ہموار ہوسکے۔
نواز شریف نے کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ پر انتخابات میں دھاندلی اور تحریک انصاف کی حکومت کو ملک پر مسلط کرنے کا الزام عائد کیا۔ آج کی تقریر میں البتہ نواز شریف نے واضح کیا ہے کہ وہ کیوں فوجی قیادت کے ان لوگوں کے نام لے رہے ہیں جن پر انہیں سیاسی معاملات میں مداخلت کا شبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہ فوج کے جوانوں اور افسروں پر چند افراد کی غلطیوں کی وجہ سے الزام تراشی نہیں ہونی چاہئے۔ سب فوجی ہمارے لئے قابل احترام ہیں۔ وہ ملک کی سلامتی کے لئے اپنی جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہیں یہ بھی جاننا چاہئے کہ جس آئین کے تحت وہ حلف لیتے ہیں ، اس کی حفاظت بھی سرحدوں کی حفاظت کی طرح اہم ہے۔ نواز شریف کی تقریر میں ایک بار پھر اعلیٰ ترین عہدیداروں کا نام لے کر سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ اب فوجی قیادت کے لئے اس معاملہ پر تادیر خاموش رہنا ممکن نہیں ہو گا۔سابق وزیر اعظم نے انتخابی دھاندلی کا ذمہ دار جنرل قمر جاوید باجوہ کو قرار دیا ہے تاہم انہوں نے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو جواب دینا ہے کہ کیوں آپ نے ایک جج کے گھر جا کر دباؤ ڈالا۔ کیوں اسے وقت سے پہلے چیف جسٹس بننے کا کہا۔ کیوں آپ نے نواز شریف اور مریم نواز کو الیکشن تک جیل میں رکھنے کا کہا۔ آپ کی کون سی دو سال کی محنت ضائع ہو رہی تھی۔ آپ نے تو آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا تھا۔ آپ نے سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا حلف اٹھایا تھا پھر کیوں آپ نے ایسا کیا‘۔ کیا آپ فیض آباد دھرنے کے ذمہ دار نہیں۔ سپریم کورٹ نے آپ کے خلاف کیا فیصلہ دیا؟ اس کے باوجود آپ کو لیفٹیننٹ جنرل کے عظیم الشان عہدے پر ترقی ملی اور آئی ایس آئی کے چیف بنے۔
سابق وزیر اعظم نے بعض باتیں کھل کرکہیں اور بعض کرداروں کے نام لینے سے گریز کیا ہے لیکن اس کے باوجود حالات کی یہ تصویر اب دھندلی نہیں رہی جس میں اسٹبلشمنٹ عدلیہ پر دباؤ ڈال کر خاص طرح کے سیاسی انتظام کے لئے ماحول سازگار بناتی ہے۔ براہ راست حکومتوں کا تختہ الٹنا اور پھر پی سی او (عبوری آئینی حکم) جیسے غیر آئینی حکم کے تحت ججوں کو آئین کی بجائے بغاوت کرنے والے جنرل کی اطاعت پر مجبور کرنا اور عدالتوں کو مرضی کے فیصلے صادر کرنے پر آمادہ کرنا ماضی کا سیاہ باب ہیں۔ لیکن موجودہ سیاسی انتظام میں بعض نامزد فوجی کرداروں پر انتخابی دھاندلی اور ایک خاص پارٹی کو کامیاب کروانے کے لئے ماحول تیار کرنے کا الزام لگایا جارہا ہے۔ بلکہ آج نواز شریف نے صراحت سے بتایا کہ بعض فوجی جنرل ججوں پر دباؤ ڈال کر ’دو سال کی محنت‘ بچانے کی بات کہتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک منتخب حکومت کے خلاف دھرنے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ملک کے آئینی نظم حکومت میں یہ مداخلت اگرچہ کوئی ’خبر‘ نہیں ہے لیکن جس صراحت سے سابق وزیر اعظم نے ان حالات کو بیان کرنے کا حوصلہ کیا ہے، اس کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مارشل لا لگائے بغیر ملک کے آئین کو نظر انداز کرنے اور عوامی رائے کو مسخ کرنے کا موجودہ طریقہ قبول کیا جاسکتا ہے؟
اپوزیشن کی 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد پاکستان جمہوری تحریک نے کوئٹہ کے جلسہ میں اس طریقہ کو مسترد کیا ہے۔ اور سوال کیا ہے کہ کیا عوام کے منتخب لوگوں کو حکمرانی کا حق نہیں ملنا چاہئے۔ کیا اب یہ طریقہ ختم نہیں ہونا چاہئے کہ چند لوگ اپنے عہدہ سے ملنے والے اختیارات سے فائدہ اٹھاکر انتخابات جیسے مقدس عمل کو داغدار کریں۔ ملک میں بظاہر سول حکومت قائم ہونے کے باوجود اس کے کل پرزے اپنے ہاتھ میں رکھنے کے طریقہ پر غور کیا جائے تو یہ طریقہ کار براہ راست حکومت سنبھالنے، آئین معطل کرنے اور طاقت کے زور پر عدالتوں سے مرضی کے فیصلے کروانے کے عمل سے بھی بدتر ہے۔ ملکی تاریخ میں جن فوجی سربراہان نے بھی منتخب حکومتوں کے خلاف بغاوت کی اور عدالتوں کو اسیر بنایا، آج کسی زبان پر ان کے لئے قبولیت کا کوئی لفظ موجود نہیں ہے۔ لیکن بظاہر انتخابات اور جمہوری نظام کے تسلسل کا ڈھونگ کرتے ہوئے انتخابات میں دھاندلی کے ہتھکنڈے اور سیاسی عناصر پر دباؤ کے طریقے اختیار کرنے والا انتظام ،براہ راست فوجی حکومت سے بھی بدتر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے اثرات بھی بھیانک ہیں اور اب اس طریقہ کے خلاف احتجاج بھی زیادہ شدت اختیار کررہا ہے۔
گو کہ یہ بھی اس ملک کی تاریخ کا سیاہ باب ہے اور ملکی فوج اور عدلیہ کو بہر حال اس کا جواب بھی دینا ہوگا کہ فوج کے جن سربراہوں یا عدالتوں کے جن ججوں نے آئین شکنی کی اور اس کی توثیق کا شرمناک کام کیا، ان کی ادارہ جاتی بنیادوں پر مذمت کی جائے۔ یعنی فوج اپنے ان تمام سابقہ سربراہوں کے غیر آئینی اقدامات کو مسترد کرے اور انہیں اعزاز دینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ تقریر میں آئین کے احترام کا اعتراف کرنے والوں کی باتوں کو اس وقت تک اعتبار کی سند نہیں مل سکتی ، جب تک وہ آئین شکنی کرنے والوں کی دو ٹوک لفظوں میں مسترد نہ کریں۔ فوج ایک منظم اور باوقار ادارہ ہے۔ اسے ادارہ جاتی اقدام کرتے ہوئے ان سب فوجی لیڈروں کا نام لے کر ان سے لاتعلقی کا اعلان کرنا ہوگا جو عسکری قوت کی بنیاد پر ملکی آئین اور اپنے حلف سے انحراف کے مرتکب ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک پرویز مشرف کو تو ایک خصوصی عدالت آئین سے غداری کا مرتکب قرار دیتے ہوئے پھانسی کی سزا بھی سنا چکی ہے۔ البتہ یہ داغ فوج کے چہرے پر نمایاں ہے کہ اس کے ترجمان نے پرویز مشرف کے خلاف عدالتی فیصلہ کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اسی طرح ملکی عدلیہ کو بھی ان تمام ججوں اور سربراہان سے لاتعلقی کا اظہار کرنا پڑے گا جو ماضی میں فوجی بغاوت کے بعد کسی نہ کسی عذر پر بغاوت کرنے والے فوجی جرنیلوں کی حمایت میں احکامات صادر کرتے رہے تھے۔ سپریم کورٹ کے اپنے داغدار ماضی سے نجات پانے کا ایک ذریعہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی اپیل کی صورت میں موجود ہے۔ چیف جسٹس کو اس حوالے سے کوئی ’سو موٹو‘ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس مقدمہ کی سماعت مقرر کرکے نہ صرف شہید قائد کو بعد ازمرگ انصاف فراہم کرنے کا اہتمام ہوسکتا ہے بلکہ اس حوالے سے ملکی آئین پر حملوں اور انہیں ’جائز ‘ قرار دینے کے عدالتی حکم ناموں کی اخلاقی اور آئینی بنیادوں کو بھی کھنگالا جاسکتا ہے۔
انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر غیر جانبداری سے قانون و آئین کی روح کے مطابق فیصلے کرنے والے ہر جج پر یہ اقدام لازم ہے۔ اس سے روگردانی اپنی آلودہ تاریخ سے مصالحت کے مترادف ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کوئٹہ کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر بھٹو کو پھانسی دینے کے عدالتی حکم نامے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل کا حوالہ دیا۔ اپوزیشن لیڈر متفقہ طور سے عدالت عظمی سے اپیل کررہے ہیں کہ موجودہ سیاسی صورت حال میں اسے اپنا آئینی کردار ادا کرنا چاہئے۔ یہ کردار کسی عدالتی آمریت کی صورت میں ادا نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کے لئے دو سادہ کام کئے جاسکتے ہیں:
اول) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس بات کو یقینی بنائیں کہ ملک کے عدالتی نظام کی کسی بھی سطح پر کسی بیرونی طاقت کے اثر و رسوخ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس حوالے سے معزول شدہ جج ارشد ملک کے نواز شریف کے خلاف فیصلے پر منصفانہ کارروائی اہم عدالتی پیش رفت ہوسکتی ہے۔ تین بار ملک کا وزیر اعظم رہنے والے شخص کے خلاف کے ایک مشکوک جج کے مشتبہ فیصلہ کو برقرار رکھ کر عدلیہ اپنی غیر جانبداری اور خود مختاری ثابت نہیں کرسکتی۔
دوئم)ذوالفقار علی بھٹو کیس میں نظر ثانی کی دائر شدہ اپیل کی سماعت کا آغاز کیا جائے۔ اس معاملہ پر فیصلہ دیتے ہوئے واضح کیاجائے کہ کس طرح طاقت کے زور پر ملکی نظام کو زیر نگیں کرنے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔ کس طرح ایک فوجی آمر نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو بھٹو کیس میں انصاف کا خون کرنے پر مجبور کیا تھا۔
عدالت عظمی ان دو اقدامات کے ذریعے ملک میں آئین کے احترام اور حلف سے غداری کرنے والوں کے بارے میں دو ٹوک اور واضح پیغام دے سکتی ہے۔ ایسا ہی کوئی فیصلہ ملکی عدلیہ کے وقار کو بحال کرسکتا ہے اور حقیقی معنوں میں آئینی بالادستی اور قانون کے احترام کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ جب تک ہماری فوج اور عدالت ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرنے کا اہتمام نہیں کرتیں ، آئین کی بالا دستی اور جمہوریت کے نعرے بے مقصد اور ناقابل قبول رہیں گے۔ نہ معاشرے سے بے چینی ختم ہوگی اور نہ ہی سیاست میں چور سپاہی کے کھیل جیسا طریقہ ترک ہوسکے گا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker