ایم ایم ادیبتجزیےلکھاری

یہ انداز ِ گفتگو کیا ہے : کرچیاں / ایم ایم ادیب

ایک حدیث کامفہوم ہے کہ لوگ آگ میں اپنے منہ کے بل گریں گے صرف اپنی زبان کی کھیتی (یعنی الفاظ) کی وجہ سے،اسی لئے بڑے کہتے ہیں زبان آدمی کے پورے وجود کا خلاصہ ہے،آدمی کو چاہئے کہ زبان کی حفاظت کا آخری حدتک اہتمام کرے۔اس لحاظ سے حاکم و محکوم کی ذمہ داری پر غور کیا جائے تونتیجہ یہ نکلنا چاہئے کہ حاکم اس ذمہ داری کو
نبھانے کا زیادہ مکلف ہے۔مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ جن پر ذمہ داری کا بوجھ زیادہ بنتا ہے وہی زبان کے بے جا استعمال کے احساس سے عاری ہیں۔اس امر کا تعلق اپنے مرتبے اور منصب سے بھی ہے،جب کوئی اعلیٰ منصب دار اپنے منصب کے تقاضوں کو طاقِ نسیاں پر رکھ دیتاہے تو اس کے ”کہے“ اور ”کئے“ کی وقعت و اہمیت نہیں رہتی ۔حالات و واقعات کا سرسری جائزہ ہی اس بات کو طشت از بام کر دینے کے لئے کافی ہے کہ مذکورہ حقیقت کا ادراک وقت کے ساتھ کم سے کم تر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ہمارے موجودہ سربراہ حکومت جب اپوزیشن میں تھے تو ان کا عامیانہ لہجہ پڑھے لکھے عوام پر گراں گزرتا تھا،تاہم ان کے جواب آں غزل کے لئے صاحب اقتدار خود تو کچھ نہیں فرماتے تھے مگر اس کے لئے اپنے جو ترجمان رکھے ہوئے تھے وہ کافی سے زیادہ کہنے کی صلاحیت کے حامل تھے،یوں بدلہ چکانے کی رسم اسمبلی کے فورم سے سوشل میڈیا تک یاوہ گوئی کا وہ بازار گرم کرتی تھی کہ بھانڈ بھی ہیچ۔
دھرنے سے اتر کر سوئے سرکار آنے والوں نے اپنے مرتبہ و منصب کی پروا ذرہ برابر نہیں کی،لہجے کی تلخی اور زہر ناکی نے وہ گل کھلائے کہ الامان الحفیظ۔
لسانیات کی اصطلاح میں ایک لفظ استعمال ہوتا ہے euphemismجس کا مطلب ہے الفاظ کا خوشگوار برتاؤ۔یہ بنیادی طور پرانگریزی اصطلاح ہے۔Henry Watson Fowler 1933,1858نے اس لسانی اصطلاح
کی تشریح کی کہ ”یہ ایک ایسی ملائم اور نرم اصطلاح ہے جو تلخ اور ناگوار حقیقت کی جاگزین ہوتی ہے“
”یوفی مزم“ ایک ایسا لسانی اسلوب ِ اظہار ہے جس کے ذریعے ہم الفاظ کی تلخی اور ناگواریت کو کم کر سکتے ہیں،بات کے مفہوم کو عمدہ،لطیف اور مؤدبانہ پیرائے میں بیان کر سکتے ہیں۔مگر اس کے لئے مخاطِب کا پڑھالکھا ہونے کے ساتھ اپنے رویئے میں شائستہ ہونا ضروری ہے کہ وہ اندھے کو ”اندھا“ کہنے کی بجائے ”نابینا“ کہنے کا ہنر جانتا ہو،کسی کو”کوڑھ مغز“ کہنے کی بجائے ”کند ذہن“کہہ دینے پر اکتفا کرنے والا،مگر افسوس کہ ہماری سیاسی اور سماجی لغت سے یہ الفاظ حذف ہو چکے ہیں،ہمارے سیاسی اور سماجی رویوں میں لفظ کی حرمت کا احساس باقی نہیں رہا۔ ہم جدید سائنسی دور میں جینے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر اس کی حقیقت سے کلی طور پر ناآشنا ہیں،ہم جب بولتے ہیں تواس کو
ایک آسان سی بات سمجھتے ہیں کہ ہمیں اظہار پر قدرت ہے،مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ ایک چھوٹے سے چھوٹے لفظ کی ادائیگی کے لئے بھی جسم انسانی کے اندر موجود 70نسوں (veins) کو حرکت دینی پڑتی ہے،اسی طرح ہم دیکھتے اور سُنتے ہیں لیکن فضا کے اندر روشنی اور آواز کی لہریں پیدا ہونے کا حیرت ناک انتظام نہ ہوتا تو ہم آنکھیں رکھنے کے باوجود اندھے ہوتے اور کان ہوتے ہوئے سماعت سے محروم ہوتے اور یہ لہو جو ہمیں قوت حیات عطا کرتا ہے اس کو دل سے جسم کے مختلف حصوں تک پہنچانے کے لئے جتنی شریانیں اور پھر دل کی طرف سے واپس لانے کے لئے جو وریدیں ہیں ان کے سروں کو ایک دوسرے سے ملا کر ناپا جائے تو تین لاکھ پچاس ہزار میل بنے گی جو پوری زمین کے گرد چودہ بار لپیٹی جا سکتی ہے۔یہ سب باتیں بر سبیل تذکرہ آگئیں،بات لفظ کی حرمت اور گفتگو کی شائستگی کی ہورہی تھی،جو موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کے لہجے سے مفقودہوچکی ہے،جس سے ایک پوری نسل کے رویوں میں تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے،اگر یہی کچھ ہوتا رہا تو تہذیبی اقدار جو پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں معدوم ہوکر رہ جائیں گی۔
ایک وقت وہ بھی تھا،جسے گزرے زیادہ عرصہ نہیں ہوا جب نواب زادہ نصراللہ خان جیسے سرائیکی النسل سیاسی رہنما جلسے جلوسوں سے خطاب کرتے تو اردودان،اہل زبان ان کے لہجے پر عش عش کر اٹھتے،مولانا شاہ احمد ؒنورانی کی تو بات ہی اورتھی کہ وہ اردو طبقہ ہی سے تعلق رکھتے تھے،مگر امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ ہوں کہ مولانا عبدالستار خان نیازیؒ اہل زبان نہ ہونے کے باوجود ان کے لہجے کی شائستگی اور دشمنِ جاں فرنگی کے بارے بات کرتے ہوئے جو متانت اور سنجیدگی تھی،وہ دیدنی تھی۔
آج یہ سب کیا ہورہا ہے،کہیں وزیر اعظم کو للکارا جاتا ہے تو کہیں عسکری قیادت پر آوازے کسے جاتے ہیں اور اداروں اور ان کے سربراہوں کی تحقیر تو معمول کی بات بن کے رہ گئی ہے۔سیاسی جلسوں میں جید علماء و مشائخ کی زبان بھی کھردری اور لفظ چبھنے والے ہوتے ہیں کہ جیسے تیرو تفنگ کی بارش پر تُلے ہوں اور جواب میں وزیر اعظم اپنے منصب کا دھیان رکھے بغیر بناداڑھی کے چہرے پر ہاتھ پھیر کر بدلے چکانے پر آمادہ و تیار نظر آتے ہیں جبکہ ان کے ترجمانوں کی درشتگی ایسی کہ چرخ کہن کانپ اٹھے۔
اکیسویں صدی کی سیاسی تاریخ لکھنے والا کن الفاظ میں ہمارے سیاسی،سماجی اور مذہبی اکابر کا ذکر کرے گا،حرف و صوت کی مٹتی ہوئی حرمت کو وہ کیسے سہارا دے پائے گا،کیونکر وہ آنے والی نسلوں کو بتا پائے گا کہ تمہاری صدی کے مدبر تھوتھے
چنے کی مانند تھے جنہوں نے گھنا باجنے پر ہی سب کچھ لٹا دیا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker