تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:انتخابی اصلاحات اور جمہوری حق پر چھائے ہوئے نادیدہ سائے

حکومت نے ملک کے انتخابی قوانین میں 49 ترامیم لانے کا اعلان کیا ہے جن میں اہم ترین تجویز الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال ہے۔ اس تجویز کو اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف پہلے ہی یہ کہہ کر مسترد کرچکے ہیں کہ یہ تجربہ کئی ممالک میں ناکام ہوچکا ہے۔ ایک طرف اپوزیشن کو مشاورت کی دعوت دے کر یک طرفہ طور سے انتخابی اصلاحات کا ترمیمی بل لانے کا اعلان ملک کے موجودہ سیاسی ماحول میں مزید کشیدگی کا سبب بنے گا۔
پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری نے بھی کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران انتخابی اصلاحات کو اہم قرار دیا لیکن وہ موجودہ حکومت کی تجاویز کو ’نامزد حکومت‘ کی ترمیم کہہ کر مسترد بھی کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کوئی بھی اصلاحات اس وقت تک مفید نہیں ہوسکتیں جب تک اسٹبلشمنٹ کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کا اہتمام نہیں ہوتا۔ پیپلز پارٹی کے چئیر مین کا مؤقف ہے کہ انتخابات میں دھاندلی اسٹبلشمنٹ کی مداخلت سے ہی ہوتی ہے۔ اگر یہ راستہ بند نہیں کیا جائے گا تو کسی قسم کی اصلاحات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بلاول بھٹو زرداری نے یہ بات دراصل مسلم لیگ (ن) کے کراچی کے حلقے این اے249 میں پیپلز پارٹی کے امید وار سے ہارنے والے مفتاح اسماعیل کی اس درخواست کے جواب میں کہی ہے جو انہوں نے الیکشن کمیشن سے تمام انتخابی میٹریل فوج کی نگرانی میں محفوظ کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کو بھیجی ہے۔ اس پر وزیر اطلاعات فواد چوہدری گزشتہ روز تبصرہ کرتے ہوئے یہ فرما چکے ہیں کہ’ اب مسلم لیگ (ن) کو پتہ چلنا چاہئے کہ ادارے کتنے اہم ہوتے ہیں اور ان کے خلاف بات کرتے ہوئے احتیاط برتنی چاہئے‘۔
ایک حلقہ میں پیدا ہونے والی بدمزگی کو اگر نظر انداز کردیا جائے تو بلاول بھٹو زرداری کی اس دلیل سے انکار ممکن نہیں ہے کہ شفاف انتخابات کے لئے صرف قانون سازی اور الیکٹراننگ ووٹنگ مشینیں ہی کافی نہیں ہیں بلکہ ملکی جمہوریت پر حاوی اس خوف سے نجات ضروری ہے کہ اسے کسی بھی وقت لپیٹا جاسکتا ہے۔ یا اس طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کہ ملک کا ہر ادارہ عسکری اداروں کے اشارے پر وہی کچھ کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے جس کی روک تھام کے لئے قانون ان سول اداروں کو اختیارات تفویض کرتا ہے۔ اس پس منظر میں اگر اسٹبلشمنٹ اور فوج کے خلاف نواز شریف اور مریم نواز کی مہم جوئی اور بیان بازی کو پرکھا جائے اور دوسری طرف مفتاح اسماعل کے اس مطالبے پر غور کیا جائے کہ این اے 249 کا انتخابی مواد یعنی بیلیٹ پیپر اور دوسرے ضروری کاغذات کو فوج کی تحویل میں محفوظ کیا جائے تو دعوے اور خواہش کا کھلا تضاد دیکھنے میں آتا ہے۔ مفتاح اسماعیل کی الیکشن کمیشن کی درخواست کو اگر ایک خاص جذباتی سیاسی کیفیت کا رد عمل بھی سمجھ لیا جائے تو بھی مسلم لیگ (ن) کو اس معاملہ کی اصولی وضاحت کرنی چاہئے کہ وہ ملکی انتخابات کو ’منصفانہ اور شفاف‘ بنانے کے لئے کس حد تک فوج کے کردار کی حامی ہے۔ اس حوالے سے بلاول بھٹو زر داری کے ذریعے پیپلز پارٹی کا مؤقف زیادہ حقیقت پسندانہ ہے کہ انتخابی عمل میں فوج کی مداخلت ہی سے خرابی کا آغاز ہوتا ہے۔ خاص طور سے 2018 کے انتخابات کے حوالے سے یہ کہا بھی جاتا رہا ہے کہ اس دوران فوج کی نگرانی میں انتخابی دھاندلی کروائی گئی تھی تاکہ ملک کی دو مسلمہ سیاسی جماعتوں کو اقتدار سے علیحدہ رکھا جاسکے۔
انتخابی عمل اور دھاندلی کے حوالے سے یہ بات بھی فراموش نہیں کی جاسکتی کہ دھاندلی صرف بیلٹ بکس چوری کرنے، جعلی ووٹ ڈلوانے، گنتی میں ہیر پھیر یا مخالف امیدواروں کے ووٹروں کو ہراساں کرنے ہی کا نام نہیں ہے۔ بلکہ انتخابات سے پہلے جس طرح مضبوط سیاسی دھڑوں یا نام نہاد الیکٹ ایبلز کو وعدوں اور تحریص کے ذریعے ایک خاص سیاسی جماعت اور لیڈر کی امامت میں نیت باندھنے پر آمادہ کیا جاتا ہے، وہ دراصل انتخابی عملی کو ڈھکوسلہ اور جعل سازی میں تبدیل کردیتا ہے۔ اس طریقہ کار کو کسی قانون کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی روک تھام کے دو ہی طریقے ہیں۔ ایک فوج اور اس سے وابستہ ادارے سیاسی پارٹیوں کی نگرانی اور ان کے معاملات میں مداخلت کا دیرینہ طرزعمل تبدیل کریں۔ دوسرے سیاسی جماعتیں بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک پارٹی سے دوسری کی طرف کوچ کرنے والے موسمی سیاسی پرندوں کو خوش آمدید کہنا بند کردیں۔
اگر کوئی بااختیار ایجنسی سیاسی وفاداریاں تبدیل کروانے کے لئے ہتھکنڈے استعمال کرنے میں ملوث پائی جائے تو اس کے خلاف نہ صرف محکمانہ طور سے سخت کارروائی ہو بلکہ ایسے اہلکاروں کے خلاف ملکی عدالتی نظام میں مقدمے چلانے اور سزائیں دلوانے کا اہتمام کیا جائے۔ جب تک طاقت ور خفیہ ایجنسیوں کے افسروں اور اہلکاروں کو یہ یقین نہیں ہو گا کہ ان کے غیر قانونی اقدامات کی گرفت ہوسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں ملازمت سے ہاتھ دھونے کے علاوہ انہیں اپنی غلط کاریوں کا جواب عدالتوں کو دینا ہوگا جہاں سے سزا بھی مل سکتی ہے، اس وقت تک یہ افسوسناک طریقہ ختم ہونے کا امکان نہیں ہے۔
اسی تناظر میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس اور حکومت کی طرف سے ان کے خلاف کردار کشی کی مہم قابل غور معاملہ رہا ہے۔ اب یہ ریفرنس کالعدم ہوچکا ہے لیکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ہراساں کرنے کے لئے جو طریقہ اختیار کیا گیا، اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ملکی جمہوری و عدالتی نظام کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی خواہش رکھنے والے کس قدر دیدہ دلیر اور طاقت ور ہیں ۔ اور کس طرح منتخب حکومت بھی ان کا آلہ کار بن کر راحت محسوس کرتی ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف یہ سارا ڈرامہ دراصل فیض آباد دھرنا کیس میں ان کے غیر روائیتی اور جرات مندانہ فیصلہ کی وجہ سے رچایا گیا تھا تاکہ اعلیٰ عدالتوں کے سب ججوں پر واضح ہوجائے کہ ان کے اختیارات کا تعین ملکی آئین ہی نہیں کرتا بلکہ انہیں کچھ دوسری ’ریڈ لائنز‘ کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے۔ ان ریڈ لائنز کو قومی مفاد و سلامتی کی حساسیات جیسے دلفریب نام دیے گئے ہیں لیکن ان سب اصطلاحات اور ان کی آڑ میں کئے جانے والے اقدامات کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ بعض ایجنسیوں کو حکومتیں بنانے کے علاوہ حکومتیں گرانے کا اختیار بھی حاصل ہے۔
ورنہ کون نہیں جانتا کہ پہلے عمران خان اور علامہ طاہر القادری کی سرکردگی میں 2014 کا دھرنا اور پھر نومبر 2017 میں فیض آباد میں تحریک لبیک کا دھرنا کس کی ضرورت و خواہش کے لئے کس کے خلاف دیا گیا تھا۔ یہ دونوں دھرنے مسلم لیگ (ن) کی حکومت گرانے اور اس پارٹی کو سیاسی طور سے تباہ کرنے کی اسکیم کا حصہ تھے۔ اس کے باوجود اگر اب مسلم لیگ (ن) کسی وقتی سیاسی مقابلہ بازی کی صورت میں فوج کے سیاسی کردار کو ’جائز‘ قرار دینے کی کوشش کرے گی تو اس سے ملکی جمہوریت کو درپیش تہ دار اور پیچیدہ مشکلات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
موجودہ ملکی انتظام میں عدالتوں کی خود مختاری بھی اسی وقت تک قابل قبول ہوتی ہے جب تک وہ اس اختیار کو تسلیم کرتے ہوئے اس میں سہولت کار کا کردار ادا کریں۔ اس طرح انتخابی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے صرف اسٹبلشمنٹ کو ملک کے جمہوری عمل سے علیحدہ کرنے ہی سے بات نہیں بنے گی بلکہ یہ بھی یقینی بنانا پڑے گا کہ ملکی عدالتیں بھی آئین کے سوا کسی ’نظریہ ضرورت‘ کو رہنما اصول کے طور پر اختیار نہ کریں۔ دیکھا جائے تو جس جج نے نطریہ ضرورت ایجاد کیا اور جس جس جج نے ان کے اتباع میں نظریہ ضرورت کو ملکی آئین سے بالا تر سمجھا اور غیر آئینی فیصلے کئے، وہ سب درحقیقت آئین سے غداری کے مرتکب ہوئے ۔ انہیں آئین شکن کے طور پر ہی یاد کیا جانا چاہئے۔ لیکن پاکستان میں انہیں بدستور عزت مآب کہا اور سمجھا جاتا ہے۔ سچ ہے کہ ٹیڑھی بنیاد پر جو دیوار بھی چنی جائے گی وہ ٹیڑھی ہی رہے گی۔
پاکستان میں معاملات اس حد تک سنگین اور مشکل ہوچکے ہیں کہ حکومت اگر انتخابی اصلاحات کے لئے دیانت دار ہے تو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر سارے معاملات اس کے سامنے رکھے جائیں۔ اپوزیشن جماعتیں بھی اقتدار کی رسہ کشی کو بھول کر وسیع تر قومی مفاد میں انتخابی عمل کی حفاظت سمیت تمام اہم قومی مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے حکمران جماعت کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھیں ۔ اور کوئی ایسا قومی منصوبہ تشکیل دیا جائے جس پر عمل درآمد سے اداروں کی آئینی حدود کا تعین کرتے ہوئے عدالتوں کی خود مختاری اور سیاسی رائے کی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔ تاہم جب تک ملک کی سب سیاسی جماعتیں اپنے اپنے طور پر جمہوریت کی چیمپئین بن کر بوقت ضرورت ’غیر جمہوری‘ طریقوں کو اختیار کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کریں گی اس وقت تک مبصر اور تجزیہ نگار اپنی بات کا اختتام اسی فقرے پر کرتا رہے گا کہ ’بالادست اداروں کے ساتھ براہ راست تصادم سے کوئی کیسے کامیاب ہوسکتا ہے‘۔
انتخابی اصلاحات سے پہلے یہ اصول طے کرنے کی ضرورت ہے کہ ملکی سیاست میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ یہ اصول تسلیم کرتے ہوئے صرف مفتاح اسماعیل کا الیکشن کمیشن کو لکھا گیا خط ہی غلط قرار نہیں پائے گا بلکہ ہر وہ ہتھکنڈا ناجائز سمجھا جائےگا جو سیاسی مفاد کا راستہ تو ہموار کرتا ہے لیکن جمہوری راستے میں کانٹے بچھانے کا سبب بھی بنتا ہے۔ جمہوری عمل ضرور صبر آزما ہوتا ہے لیکن یہ ایسا حق ہے جو حوصلہ مندی سے حاصل کرنا پڑتا ہے ۔ کوئی حکومت یا ادارہ خوشی سے اپنے اختیار سے دست بردار نہیں ہوتا۔ الیکشن ایکٹ میں ترمیم اس مقصد کی تکمیل میں کوئی کردار ادا نہیں کرے گی۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker