تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:پاکستانی سیاست میں’ گناہ کی لذت ‘

مریم نواز کے تازہ بیان پر غور کیا جائے تو جنوری 2020 میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو اپنے عہدہ کی مدت میں توسیع دینے کےلئے کی گئی قانون سازی کا کام ’گناہ‘ میں شامل ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر کا کہنا ہے کہ وہ اس گناہ میں شامل نہیں تھیں۔ جبکہ مبصرین کو یقین ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر توسیع کے معاملہ پر آرمی ایکٹ میں کی جانے والی ترمیم کی حمایت کرنے کا فیصلہ نواز شریف کے حکم کے بغیر ممکن نہیں تھا۔
اس بیان کے بعد مسلم لیگ (ن) میں بیانیہ کی جنگ ایک بار پھر زور پکڑے گی۔ اگرچہ کسی نہ کسی سطح پر یہ قیاس آرائی مستقل طور سے ہوتی رہتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) درحقیقت کیاچاہتی ہے۔ کیا وہ فوجی اسٹبلشمنٹ سے مکمل خودمختاری کے دو ٹوک مؤقف کی حامی ہے تاکہ عوام کسی اثر و رسوخ کے بغیر اپنی پسند کے سیاست دانوں کو منتخب کرسکیں یا پارٹی ایک بار پھر شہباز شریف کی قیادت میں اسٹبلشمنٹ کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے ، انتخابات کے دوران اس کی بالواسطہ اعانت کی خواہشمند ہے۔ تاکہ دو سال بعد ہونے والے انتخابات میں وہ ایک بار پھر اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے۔ اس بحث میں بنیادی نکتہ البتہ یہی ہے کہ سیاست میں فوج کا کردار ہونا چاہئے یا اسے کس حد تک قبول کیا جاسکتا ہے۔
یہ بات تو واضح ہے کہ جو سیاسی پارٹی اقتدار حاصل کرتی ہے ، اسے سیاست یا امور حکومت میں فوج کی محدود مداخلت پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ نواز شریف نے اپنی وزارت عظمی کے دور میں اگرچہ سیاسی لیڈر کے طور پر کسی حد تک خود مختاری حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انہوں نے بھی بطور وزیر اعظم آرمی چیف کے سیاسی کردار کو ختم کرنے کے لئے کوئی جراتمندانہ اقدام نہیں کیا تھا۔ ڈان لیکس کے بعد پاناما پیپرز کے نام سے بننے والے اسکینڈلز کی وجہ سے انہیں اقتدار سے محروم ہونا پڑا اور وزارت عظمی سے نکالے جانے کے بعد اگرچہ انہوں نے ’مجھے کیوں نکالا‘ کی صدا بھی بلند کی لیکن جب تک وہ اقتدار میں تھے ، ڈان لیکس کے تناظر میں شروع ہونے والے تنازعہ میں انہوں نے فوج کو مطمئن کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ البتہ نواز شریف اور فوجی قیادت کے درمیان اس حد تک بدگمانی پیدا ہوچکی تھی کہ انہیں بالآخر وزارت عظمی ٰ سے ہاتھ دھونا پڑے۔
نواز شریف کو بظاہر سپریم کورٹ نے آئین کی شق باسٹھ و تریسٹھ کے تحت ’ صادق و امین‘ نہ ہونے پر وزارت عظمی کا نااہل قرار دیا تھا لیکن پاکستان میں کسی کو اس رائے سے کوئی اختلاف نہیں ہے کہ یہ فیصلہ دراصل ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ساتھ نواز شریف کے اختلافات کی وجہ سے کیا گیا تھا۔ بعد میں 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کو مضبوط کرنے کے لئے اختیار کئے گئے دیرینہ ہتھکنڈے اور انتخاب کے دن ووٹوں کی گنتی میں سامنے آنے والی بے اعتدالیوں کے باوجود جب عمران خان کو قومی اسمبلی میں واضح اکثریت نہیں مل سکی تو چھوٹی پارٹیوں اور آزاد ارکان کو حکومت سازی میں شامل کروانے کے عمل جیسے واقعات میں انہی پراسرار کرداروں کے نشانات محسوس کئے جاسکتے ہیں جنہیں عرف عام میں اسٹبلشمنٹ کہا جاتا ہے ۔ اسی طرز عمل کو بعد میں نوازشریف نے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نام دے کر یہ سیاسی مہم جوئی شروع کی تھی کہ قومی سیاست میں فوج کی مداخلت کا خاتمہ ہونا چاہئے۔
نواز شریف بظاہر اس مؤقف پر قائم ہیں اور چند روز پہلے ایک انٹرویو میں بھی انہوں نے اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ لیکن دوسری طرف پاکستانی سیاست میں مریم نواز کی پرجوش سرگرمیاں اچانک ماند پڑ گئی ہیں اور ان کی جگہ پارٹی کے صدر اور مسلم لیگ (ن) میں مفاہمتی رویہ کے سرخیل شہباز شریف اب سیاسی منظر نامہ پر متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ بظاہر دونوں بھائیوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے اور شہباز شریف بھی مریم کی طرح وہی سیاسی رویہ اختیار کرتے ہیں جس کی اجازت نواز شریف دیں۔ کیوں کہ سیاسی مؤقف میں اختلاف سے قطع نظر کسی کو اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بنک دراصل نواز شریف ہی کی وجہ سے ہے۔ شہباز شریف کو اسٹبلشمنٹ کا خیر خواہ ہونے کے علاوہ ایک اچھے منتظم کی شہرت ضرور حاصل ہے لیکن وہ عوامی سطح پر مقبول اور باعث کشش شخصیت نہیں بن سکے۔ اسے ستم ظریفی ہی کہنا چاہئے کہ شریف خاندان کی آنے والی نسل میں بھی یہ رجحان اسی پیٹرن پر موجود ہے۔ یعنی مریم نواز میں سیاسی اپیل ہے اور وہ لوگوں میں مقبول ہیں لیکن حمزہ شہباز پارٹی تنظیم سازی میں مؤثر ہونے کی شہرت رکھتے ہیں۔
اسی لئے یہ سوال زیادہ دلچسپ ہوجاتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز ’جمہوریت کی بالادستی‘ کے مؤقف کی وجہ سے عوام میں مقبول ہونے کے باوجود کیوں شہباز شریف کی مفاہمانہ حکمت عملی کو تسلیم کرنے اور کسی حد تک اس کے ساتھ چلنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اس کے آثار اس وقت بھی ملکی سیاست میں دکھائی دے رہے ہیں لیکن جنوری 2020 میں جب آرمی چیف کے عہدہ کی مدت میں توسیع کا معاملہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی وجہ سے حکومت اور فوج کی عزت کا سوال بن گیا تھا تو مسلم لیگ (ن) نے صدق دل سے اس توسیع کی حمایت میں ووٹ دیا۔ حالانکہ صرف دس ماہ بعد اکتوبر میں اپوزیشن اتحاد پاکستان جمہوری تحریک نے گوجرانوالہ میں جلسہ منعقد کیا تو نواز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو انتخاب میں دھاندلی اور اپنی حکومت کے خلاف سازش کا براہ راست مرتکب قرار دیا۔ اس موقع پر جمہوریت کے لئے نواز شریف کے ’باغیانہ ‘خیالات کو اس حد تک پذیرائی حاصل تھی کہ کسی نے نواز شریف سے یہ سوال کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ اگر جنرل باجوہ ان کو وزارت عظمی سے نااہل کروانے کا سبب بنے تھے تو اسی سال جنوری میں ان کے عہدہ کی مدت میں توسیع کی حمایت کیوں کی گئی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر صحافیوں سے مریم نواز کی بات چیت کے دوران دراصل یہی نکتہ زیر بحث آیا تھا۔ صحافیوں نے پوچھا تھا کہ اب وہ نیب چئیر مین کی ممکنہ توسیع کی مخالفت کررہی ہیں لیکن جنوری 2020 میں مسلم لیگ (ن) نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدہ کی مدت میں توسیع کی حمایت کی تھی۔ مریم نواز کا جواب تھا کہ چئیرمین نیب کے حوالے سے معاملہ ابھی پارٹی کے سامنے نہیں آیا لہذا اس پر مؤقف دینا قبل از وقت ہے لیکن ’میں پہلے گناہ میں شامل نہیں تھی‘۔ یعنی مریم نواز نے ذاتی طور پر جنرل قمر جاوید باجوہ کو بطور آرمی چیف توسیع دینے کی حمایت نہیں کی تھی۔ عملی طور پر یہ بات درست ہوسکتی ہے کیوں کہ مریم نواز قومی اسمبلی کی رکن نہیں ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی نے ہی آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ لیکن یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کوئی فیصلہ نواز شریف کی مرضی کے بغیر نہیں کرسکتی اور جنوری 2020 میں یک بیک آرمی چیف کی مدت میں توسیع کی حمایت کی گئی تھی۔
اس حوالے سے متعدد قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں لیکن اصولی معاملہ یہ ہے کہ نواز شریف ووٹ کو عزت دو کا نعرہ اسی وقت شدت سے بلند کرتے ہیں جب انہیں اسٹبلشمنٹ سے کوئی ’گرین سگنل‘ نہیں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں دو علیحدہ علیحدہ مؤقف کی بحث شدت سے موجود رہتی ہے۔ تجزیہ نگار اس داخلی اصولی انتشار کوپارٹی کے مستقبل کے لئے مہلک بھی قرار دیتے ہیں۔ اس کے باوجود نہ مصالحت کا طریقہ ترک کیا جاتا ہے اور نہ ہی ووٹ کو عزت دو کا معاملہ سرد پڑتا ہے۔ نواز شریف بے یقینی کی اسی کیفیت میں ہی پارٹی کو آئیندہ انتخابات میں کامیابی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ اس طرز عمل کی وجہ بھی بہت سادہ ہے۔ پاکستان کے انتخابی عمل میں جمہوری روایت کی بالادستی کے لئے ووٹ دینے والے لوگ گروہی ، برادری اور علاقائی نسبت سے ووٹ دینے والوں کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ یہ درست ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کا اسٹبلشمنٹ مخالف بیانیہ کثیر تعداد میں ووٹوں کو ان کی حمایت پر آمادہ کرتا ہے لیکن جہاں دیدہ سیاست دان کے طور پر نواز شریف پارٹی کے ان عناصر کو ناراض یا علیحدہ نہیں کرسکتے جو اپنے اپنے حلقوں میں ٹھوس سیاسی حیثیت کے حامل ہیں اور نواز شریف کا مقبول ووٹ ملاکر آسانی سے اسمبلی کے رکن منتخب ہوسکتے ہیں۔
پاکستانی سیاست کی یہی کمزوری ملکی سیاست میں اسٹبلشمنٹ کی طاقت اور سیاست دانوں کی مجبوری بن چکی ہے۔ اب بھی نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) دراصل اس امید پر سیاسی منصوبہ بندی کررہے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ تحریک انصاف کی ناکامیوں اور معاشی ناقص کارکردگی سے عاجز آکر بالآخر 2023 کے انتخابات تک عمران خان کے سر سے ہاتھ اٹھالے گی اور مسلم لیگ (ن) کو کسی دھاندلی کے بغیر انتخابات میں حصہ لینے کا موقع مل جائے گا۔ پنجاب کی حد تک تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بیرونی مداخلت یا اثر و رسوخ کے بغیر ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) واضح کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ اسی لئے شہباز شریف آئیندہ انتخابات میں ’جھرلو‘ سے نجات کی بات کرتے ہیں ۔ یا یہ کہتے رہے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ نے تحریک انصاف کی جتنی حمایت کی ہے اگر اس کا نصف حمایت بھی مسلم لیگ کو دی جاتی تو حالات مختلف ہوتے۔
ان حالات میں غیر جمہوری فیصلوں کی حمایت کو مریم نواز جیسے لیڈروں کی طرف سے ’گناہ‘ قرار دینے کے باوجود اس بات کے آثار دکھائی نہیں دیتے کہ ملک میں کوئی سیاسی لیڈر خالص جمہوری مقصد کے لئے غیر معینہ مدت تک اقتدار سے باہر رہنے کا تصور کرسکتا ہے۔ حالات کی کوئی کروٹ اگر مسلم لیگ (ن) کو اقتدار میں لے آئی تو مریم نواز بھی اسی فرسودہ نظام کا حصہ بن کر اس ’گناہ‘ کی لذت سے لطف اندوز ہورہی ہوں گی جس میں شرکت سے وہ اس وقت انکار کررہی ہیں۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker