تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : کیا شاہ محمود قریشی سے جان چھڑانے کا وقت آ گیا ؟

گزشتہ روز دنیا نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں کوئی دوری واقع نہیں ہوئی ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ ’ ہر ملک اپنی خارجہ پالیسی میں خود مختار ہے۔ ان کی اپنی پالیسی ہے اور ہم اپنی پالیسی پر عمل کرتے ہیں‘۔ اس وضاحت کے بعد اب وزارت خارجہ نے بھی سعودی عرب کے ساتھ برادرانہ تعلقات کی تصدیق کی ہے ۔ اس دوران میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نہایت اہم ملاقات کے لئے بیجنگ روانہ ہوئے ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے بیجنگ روانگی سے قبل ایک بیان میں اسے ’ بہت اہم دورہ‘ قرار دیا اور بتایا کہ اس دورہ سے پہلے انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ مشورہ کیا ہے اور وہ چینی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت کا مؤقف پیش کریں گے‘۔ اس اہم دورہ کے بارے میں وزارت خارجہ کے اعلان میں البتہ یہ بتایا گیا ہے کہ وزیر خارجہ چین کے ساتھ اسٹریجک ڈائیلاگ کے لئے منعقد ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لئے بیجنگ گئے ہیں۔ اجلاس میں چینی وفد کی قیادت چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کریں گے۔ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اسٹریٹیجک معاملات پر بات چیت کے اس دور میں کووڈ۔19، دو طرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وزارت خارجہ کے بیان کو پیش نظر رکھا جائے تو وزیر خارجہ کا یہ دورہ معمول کی سفارتی سرگرمی کا حصہ ہے جس میں دونوں ملکوں کے تعلقات کی نوعیت کا جائزہ لیتے ہوئے باہمی تعاون کے فروغ کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ البتہ شاہ محمود قریشی کے بیان میں اس دورہ کو ’بہت اہم‘ قرار دے کر غیر معمولی طور سے سنسنی خیز بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ وزیر خارجہ یہ طریقہ اپنی اہمیت بنانے کے لئے اختیارکرتے ہیں۔ یا مختلف ممالک کے ساتھ پاکستان کے خارجہ تعلقات میں موجود غیر یقینی کی کیفیت کو کم کرنے کی کوشش میں، انہوں نے اپنے دورہ چین کو اہم کہہ کر یہ جتانے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کو تنہا ئی کا شکار نہ سمجھا جائے بلکہ اس کے چین جیسے ملک کے ساتھ بہت قریبی تعلقات ہیں اور وہ ’اہم ملاقات‘ کے لئے چینی قیادت سے ملنے بیجنگ جارہے ہیں۔ اس طرح انہوں نے اپنے علاوہ علاقائی اور عالمی سیاست میں پاکستان کی اہمیت کو اجاگرکرنے کی اپنی سی کوشش کی ہو۔
اس بیان سے پہلے اے آر وائی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سعودی عرب کے بارے میں تنک مزاجی سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی یہ مطالبہ کرچکے ہیں کہ سعودی عرب مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کا اجلاس طلب کرے ورنہ پاکستان کو اپنے طور پر اقدام کرنا پڑے گا۔ اگرچہ انہوں نے یہ گفتگو شائستہ اور مہذب انداز میں کی تھی لیکن ایک ٹی وی ٹاک شو پر ایسی گفتگو کرنے کا محل نہیں تھا اور نہ ہی ایک دوست ملک کے بارے میں اختلاف کا برسر عام پرچار کیا جاتا ہے۔ ایسے معاملات درپردہ سفارتی رابطوں اور مواصلت میں طے کئے جاتے ہیں۔ اس بیان نے پاکستان کے خارجہ تعلقات کے بارے میں ایک غیر معمولی سنسنی خیزی پیدا کی تھی جو یقیناً ان کے دورہ چین کو ’ بہت اہم‘ قرار دینے سے کئی گنا زیادہ تھی۔
خود وزیر خارجہ کی طرف سے پیدا کی گئی سنسنی خیزی ہی کا نتیجہ تھا کہ پہلے سوشل میڈیا اور پھر مین اسٹریم میڈیا میں یہ خبریں گشت کرنے لگیں کہ سعودی عرب نے شاہ محمود قریشی کے بیان سے مشتعل ہوکر پاکستانی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لئے اسٹیٹ بنک میں رکھے ہوئے تین ارب ڈالر میں سے ایک ارب ڈالر فوری طور سے واپس مانگ لئے۔ اس کے علاوہ یہ خبریں بھی عام ہونے لگیں کہ سعودی عرب نے پاکستان کو تین سال تک تین ارب ڈالر مالیت کا تیل کریڈٹ پر دینے کے معاہدے پر نظر ثانی نہیں کی ہے۔ وزیر اطلاعات شبلی فراز کو ان خبروں پر ایک سوال کے جواب میں یہ کہنا پڑا کہ ’بنک میں رکھا ہؤا پیسہ تو کبھی بھی نکلوایا جاسکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ سعودی عرب کو خود اس رقم کی ضرورت ہو‘۔ اس بیان سے صورت حال کی پیچیدگی کے بارے میں اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے۔ ان حالات میں مختلف حلقوں کی طرف سے بے بنیاد قیاس آرائیاں بھی قابل فہم ہیں۔
اب شاہ محمود قریشی چین کے دورے پر جاتے ہوئے جب اسے بہت ہی اہم قرار دے رہے ہیں تو کیا یہ قیاس نہیں کیا جائے گا کہ بات اسٹریٹیجک ڈائیلاگ سے بڑھ کر ہے۔ ایک اندازہ یہ ہوسکتا ہے کہ سعودی عرب اب اپنے باقی ماندہ دو ارب ڈالر بھی واپس مانگ رہا ہے اور زرمبادلہ سے قومی خزانہ کے لبالب بھرے ہونے کا دعویٰ کرنے والی حکومت نے اپنے وزیر خارجہ کو چین سے مزید قرض لینے کے اہم مشن پر بھیجا ہے ؟ یہ سوال یوں بھی زیادہ اہم ہوگیا ہے کہ حکومت نے ابھی تک باقاعدہ طور سے سعودی عرب کے ساتھ مالی معاملات کے بارے میں حقیقت حال واضح نہیں کی ہے۔ یہ بتانے کی زحمت بھی نہیں کی گئی کہ سعودی عرب نے کب اور کیوں اپنے ایک ارب ڈالر واپس طلب کئے تھے اور پاکستان کو کیوں چین سے قرض لے کر عجلت میں یہ رقم واپس کرنا پڑی۔ حالانکہ سعودی عرب کے ساتھ اکتوبر 2018 میں ہونے والا مالی معاہدہ 3 برس کے لئے تھا۔ کیا وجہ ہے کہ کریڈٹ پر تیل فراہم کرنے کے معاہدہ میں بھی مشکلات کا سامنا ہے ۔ کیا سعودی عرب واقعی اپنا باقی ماندہ سرمایہ بھی واپس مانگ رہا ہے جسے چین سے قرض لے کر پورا کیا جائے گا؟
قیاس آرائیوں کا خاتمہ کرنے کے لئے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت حقائق بتا کر صورت حال واضح کردیتی ۔ اس کی بجائے پر اسرار خاموشی اختیا رکی گئی۔ دریں اثنا آرمی چیف سعودی عرب کے دورہ پر گئے جس کے بارے میں آئی ایس پی آر کی پوزیشن یہ تھی کہ یہ پہلے سے طے شدہ دورہ تھا جو دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان تعاون پر بات چیت کے لئے کیا گیا تھا۔ لیکن دنیا بھر کے میڈیا نے اسے دونوں ملکوں کے تعلقات میں لگی ’آگ بجھانے کی کوشش‘ قرار دیا یا دونوں ملکوں کے درمیان پڑنے والی دراڑ کو پاٹنے کی کوشش کہا گیا۔ اس دورہ کے دوران جنرل قمر جاوید باجوہ کی سعودی ولی عہد، وزیر دفاع اور عملی طور سے حکمران شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات بھی نہیں ہوئی۔ اس معاملہ پر لہذا دوستوں اور دشمنوں نے اپنے اپنے طور پر قیاس آرائیاں کیں۔ بعد از خرابی بسیار وزیر اعظم نے ایک ٹی وی انٹر ویو میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں دوری کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا جس کے بعد وزارت خارجہ نے بھی یہی بات دہرا کر اپنی ساکھ بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔
ان حالت میں سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف کی حکومت ملک کے داخلی معاملات کی طرح خارجہ تعلقات اور مالی امور کو بھی سنسنی خیزی پیدا کرکے طے کرنا چاہتی ہے تاکہ مختلف ملکوں کو اس کی ’اہمیت‘ کا اندازہ ہو۔ یا وزیر خارجہ نے کشمیر کے سوال پر پاک سعودی تعلقات کے حوالے سے بیان دے کر جان بوجھ کر سعودی عرب پر یہ واضح کیا تھا کہ پاکستان کو کمزور نہ سمجھا جائے۔ وہ بھی ترکی بہ ترکی جواب دے سکتا ہے۔ جب اس بیان پر ردعمل آیا تو اب اس بحران سے نمٹنے کے لئے بیان بازی کی جارہی ہے۔ وزیر اعظم کو اس وضاحت کی بجائے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں کوئی فاصلہ نہیں ہے بس خارجہ پالیسی کا اختلاف ہے جو معمول کی بات ہے، درحقیقت یہ بتانا چاہئے تھا کہ ان کے وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے بارے میں اشتعال انگیز بیان کیوں دیا تھا اور سعودی عرب کی طرف سے 2018 میں کئے گئے مالی معاہدہ پر سرد مہری کیوں دکھائی جارہی ہے؟
پاکستان برصغیر کا ایک اہم ملک ہے۔ وہ ایٹمی صلاحیت رکھنے والا دنیا کا واحد مسلمان ملک بھی ہے۔ اگر پاکستان کے مفادات سعودی عرب سے وابستہ ہیں تو پاکستان بھی عسکری شعبہ میں تعاون کی وجہ سے سعودی عرب کے لئے کم اہم نہیں ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ امریکہ اور چین یکساں طور سے پاکستان کو اپنے ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی فراموش نہیں کی جاسکتی کہ چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی معاشی جنگ اور اسٹریٹیجک ٹکراؤ میں پاکستان کو کسی نہ کسی مرحلہ پر واضح پوزیشن لینا پڑے گی۔ اسی طرح مشرق وسطی کے حوالے سے ایک طرف ایران، ترکی اور قطر ہیں اور دوسری طرف سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستیں ہیں۔ یو اے ای کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے فلسطینیوں کے علاوہ عام طور سے مسلمان آبادیوں میں جو بے چینی پیدا ہوئی ہے، ترکی اسے پورا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ کیا اس صورت حال میں پاکستان ترکوں کو ’گردش ‘اور عربوں کو ’اخی‘ کہہ کر اپنے مفادات کی نیّا پار لگاسکے گا؟
خارجہ امور پر سنسنی خیزی پیدا کرنا اور حلیف ملکوں کو بالواسطہ آنکھیں دکھانا اگر حکومت کی سرکاری پالیسی ہے تو اسے اس کے نتائج سے بھی خبر دار ہونا چاہئے۔ اقتصادی لحاظ سے کمزور پاکستان کے لئے ہر ملک کے ساتھ مالی تعاون استوار کرنا اہم ہے۔ قرضوں کے موجودہ بوجھ میں اسلام آباد خارجہ پالیسی میں سنسنی خیزی اور دھمکی آمیز رویہ اختیار کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ وزیر اعظم واضح کریں کہ یہ طریقہ شاہ محمود قریشی سے خاص ہے یا ان کا ’ویژن‘ اس کی بنیاد ہے۔
شاہ محمود قریشی اگر سعودیوں سے مطالبوں اور چینیوں سے اہم ملاقاتوں کے ذریعے اپنی پبلک ریلیشننگ کررہے ہیں تو بہتر ہوگا انہیں وزارت خارجہ کی بجائے تحریک انصاف کی گروہ بندی ختم کرنے کے کام پر لگا دیا جائے۔ یا پھر اسی طرح ان سے نجات حاصل کرلی جائے جس طرح جہانگیر ترین کو علیحدہ کیا گیا ہے۔ اگر یہ عمران خان کا ویژن ہے تو اس کج روی کی بھاری قیمت پاکستان کو ادا کرنی پڑے گی۔

( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker