پنجاب حکومت نے بہت لیت و لعل کے بعد ملک کی گیارہ اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد پاکستان جمہوری تحریک کو جمعہ کے روز گوجرانولہ میں حکومت کے خلاف احتجاجی جلسہ منعقد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ البتہ گوجرانوالہ کے ڈپٹی کمشنر کی طرف سے جاری کئے گئے اس ’اجاز ت نامہ‘ کی کسی بھی شق پر عمل ممکن نہیں ہوگا۔ یہ شرائط نامہ دیکھ کر اپوزیشن ہی نہیں غیر جانبداری سے اس احتجاج کا مشاہدہ کرنے والے بھی مسکرائے بنا نہیں رہ سکتے۔
کورونا کی وجہ سے بغیر ماسک کے کسی کو جلسہ گاہ میں نہ جانے کی اجازت سے لے کر کسی بھی سزا یافتہ شخص کو جلسہ سے خطاب نہ کرنے کا ’حکم‘ جاری کرکے دراصل ضلع کے حکمران نے اپنے لئے ایک ایسا ناممکن سوال نامہ تیار کیا ہے ، جس کے کسی سوال کا درست جواب وہ خود بھی نہیں دے سکتے۔ چہار طرف سے احتجاجی جلوسوں کی یلغار میں کیا کوئی بھی ضلعی انتظامیہ یہ پڑتال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہےکہ جلسہ گاہ میں داخل ہونے والے ہر شخص نے ماسک پہنا ہو؟ یا ڈپٹی کمشنر ایسی کسی زبانی یا تحریری یقین دہانی کو مان سکتے ہیں کہ احتجاجی جلسہ سے خطاب کرنے والے سیاسی لیڈر کس کے خلاف کیا بات کریں گے۔ شاید اسی لئے اس حکم نامہ میں یہ آپشن کھلا رکھا گیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں یا تو جلسہ کی اجازت واپس لے لی جائے گی یا پھر ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔ گوجرانوالہ کی انتظامیہ چند درجن مقدمے قائم کرکے ضرور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اور وزیر اعظم عمران خان کے سامنے سرخرو ہوسکتی ہے۔
جلسہ کی اجازت میں یہ ساری شرائط عائد کرنے کا اہم ترین نکتہ دراصل لندن سے نواز شریف کی تقریر کو روکنا ہے۔ انہیں العزیزیہ ریفرنس میں قید کی سزا ہوچکی ہے اور اب اس سزا سے فرار حاصل کرنے کے الزام میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے شخص کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔ اس حکم پر عمل درآمد کا اہتمام لفظ کے حقیقی معنوں میں کرنے کے لئے ، نواز شریف کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت پر مشتمل ایک اشتہار پاکستانی اور لندن کے اخبارات میں شائع کرنے کا انتظام بھی کیا جارہا ہے۔
یوں تو نواز شریف کوئی بہت اچھے مقرر نہیں ہیں لیکن 20 ستمبر کو آل پارٹیز کانفرنس میں دوٹوک بیانیہ پر مشتمل تقریر کے بعد سے ان کی باتوں اور پیغامات کو بہت غور سے سنا اور پرکھا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو گوجرانوالہ کے جلسہ میں جمع ہونے والے لوگوں کی تعداد سےزیادہ اس بات کی فکر ہے کہ نواز شریف اس موقع پر کون سا نیا انکشاف کریں گے۔ ان کی کوئی بھی بات سیاسی حکومت کے علاوہ طاقت کے اصل مراکز میں ارتعاش پیدا کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ عمران خان نے اگرچہ 20 ستمبر کی تقریر براہ راست قومی ٹی وی اسٹیشنز پر نشر کرنے کی اجازت دی تھی لیکن اب پوری حکومت اس فیصلہ پر پچھتا رہی ہے۔ اسی لئے یہ کوشش کی گئی ہے کہ گوجرانوالہ کے اجتماع سے نواز شریف کا خطاب روکا جائے اور اگر وہ کسی طرح خطاب کرنے میں کامیاب ہو بھی جائیں تو اس کی تشہیر کو محدود کیا جائے۔ پیمرا کے ذریعے ملک کے الیکٹرانک میڈیا کوکنٹرول کیا گیا ہے۔ قومی ٹی وی نشریات پر نواز شریف کی تقریر کا بلیک آؤٹ کروانے کی کوشش کی جائے گی۔
ٹی وی نشریات کے علاوہ پاکستان کے پرنٹ میڈیا نے بھی اپوزیشن کے سیاسی احتجاج اور تیاریوں کی رپورٹنگ میں مستعدی دکھانے سے گریز کیا ہے۔ گوجرانوالہ سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق نامعلوم افراد احتجاجی جلسہ کے بینرز شہر کی دیواروں سے ہٹانے پر مامور کئے گئے ہیں اور ضلعی انتظامیہ ان شکایات کے بعد ’متعلقہ حکام‘ سے رجوع کرنے کا مشورہ دے رہی ہے۔ یہ متعلقہ حکام دراصل اسلام آباد کے وزیر اعظم ہاؤس میں مورچہ لگائے ہوئے ہیں ۔ وزیر اعظم کی نگرانی میں گزشتہ دو ہفتوں سے کابینہ اور اہم ترین سرکاری نمائیندے اس ایک نکتے پر سر جوڑ کر بیٹھے ہیں کہ گوجرانوالہ میں اپوزیشن کا جلسہ کیسے ناکام کیا جائے۔
گویا عمران خان اور ان کے مشیروں نے اصولی طور پر یہ بات تسلیم کرلی ہے کہ اس جلسہ کی کامیابی دراصل حکومت کی ناکامی ہے اور اس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ ماضی کے متعدد دیگر حکمرانوں کی طرح عمران خان کی حکومت بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس جلسہ کو اہمیت دے کر، اجازت دینے سے گریز کے بعد ناقابل عمل شرائط عائد کرکے دراصل حکومت نے خود ہی اس احتجاج کی تشہیر کا اہتمام کیا ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے عائد ’پابندیوں‘ کی خلاف ورزی پر 400 سے زائد سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات کے اندراج سے جلسہ تو متاثر نہیں ہوگا لیکن حکومت کا وقار اور اعتماد ضرور متاثرہؤا ہے۔ اب جمعہ کو ہونے والے جلسہ کے بعد یہ دیکھا جاسکے گا کہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں احتجاجی طاقت کے اس مظاہرے کے ملکی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اپوزیشن پارٹیوں نے دو سال تک انتظار کرنے کے بعد احتجاج شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس دوران متعدد ایسے مواقع آئے تھے کہ پارلیمنٹ کے اندر یا دیگر کسی پلیٹ فارم پر اپوزیشن کو انگیج کرکے سیاسی مسائل پر گفت و شنید کا انتظام کیا جاتا۔ عمران خان اگر اس قسم کی مواصلت کی اہمیت کو سمجھ پاتے اور اس بات پر اصرار نہ کرتے کہ اپوزیشن کی ہر بات دراصل کرپشن کے خلاف ریلیف لینے کی کوشش ہے تو اس وقت ملک میں سیاسی تصادم کی موجودہ صورت حال موجود نہ ہوتی۔ یہ بات بھی یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ گزشتہ سال نومبر میں نواز شریف کو علاج کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت دے کر جو فضا قائم کی گئی تھی، اسے جاری رکھا جاتا تو شاید اپوزیشن کبھی بھی احتجاج کے لئے اتفاق رائے کرنے اور سڑکوں پر طاقت کا مظاہرہ کرنے پر مجبور نہ ہوتی۔
عمران خان ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سیاسی طاقتوں کے ساتھ بات چیت ہی جمہوریت کا حسن ہے۔ وزیر اعظم جس این آر او کی بات کرتے ہیں، وہ تو درحقیقت ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ وہ خود احتساب بیورو کو ’خود مختار‘ ادارہ قرار دیتے ہیں۔ تحریک انصاف کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ ملک میں عدالتیں بھی آزادانہ طور سے کام کررہی ہیں۔ اس صورت میں منتخب سیاسی حکومت کی حیثیت تو خاموش تماشائی سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ لیکن حکومت نے احتساب کو سیاسی نعرہ بناکر نیب کے علاوہ دیگر سرکاری اداروں کو اپوزیشن اور خاص طور سے مسلم لیگ (ن) کے خلاف شکنجہ سخت کرنے پر مجبور کیا۔ اس کے نتیجہ میں عمران خان کی سیاسی مشکلات میں اضافہ ہؤا اور احتساب کا رہا سہا بھرم بھی جاتا رہا۔ اب حکومت کے مٹھی بھر حامیوں کے علاوہ ملک کا کوئی بھی شہری سیاسی لیڈروں کے خلاف قانونی کارروائیوں کو ڈھونگ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو کل گوجرانوالہ میں تند و تیز تنقید کا سامنا ہوگا اور لوگ محسوس کریں گے کہ اپوزیشن لیڈروں کی باتیں حکومت کے اعلانات سے زیادہ قابل اعتبار ہیں۔ یہ جال عمران خان نے اپنی ضد، عاقبت نااندیشی اور بدانتظامی کی وجہ سے خود اپنے لئے بنا ہے۔
پاکستان جمہوری تحریک (پی ڈی ایم) کا احتجاج شروع ہونے یا اس کے جاری رہنے سے کسی فوری سیاسی تبدیلی کی توقع نہ تو اپوزیشن کو ہوگی اور نہ اس کا امکان موجود ہے۔ لیکن اس کے نتیجے میں معاشی اور انتظامی لحاظ سے ناکام حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ اس کی ناکامیوں کو نمایاں طور سے پیش کیا جائے گااور اس کے دور رس داخلی اور خارجی اثرات کے بارے میں بڑھا چڑھا کر باتیں کی جائیں گی۔ گھر کا چولہا جلانے میں ناکام شہری اور روزگار سے محروم ہونے والے لاکھوں کروڑوں لوگ ان باتوں پر سر دھنتے ہوئے عمران خان کے وعدوں اور دعوؤں کے سحر سے باہر نکلیں گے۔ اپوزیشن کے لئے عوام کو صرف اس بات پر آمادہ کرلینا ہی کافی ہوگا کہ عمران خان کی یہ بات نہ مانی جائے کہ ’گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے‘۔ بلکہ وقت آگیا ہے کہ لوگ اپنے معاشی مستقبل اور پاکستان کے بہبود و سلامتی کے بارے میں حقیقی معنوں میں فکر مند ہوں۔ ملک میں مہنگائی اور بیرزگاری کی موجودہ صورت حال میں اپوزیشن کا یہ پیغام کرپشن سے بچنے کا طریقہ معلوم نہیں ہوگا بلکہ اسے سچائی کے طور پر قبول کیا جائے گا۔ حکومت پر عدم اعتماد کا یہ ماحول عمران خان نے اپنی ناقص کارکردگی اور بے مقصد نعرہ بازی کی وجہ سے پیدا کیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر تو اس صورت حال کو بیان کرنے کا کام کررہے ہیں۔
نواز شریف یہ اعلان کرچکے ہیں کہ ان کی جد و جہد عمران خان کے خلاف نہیں بلکہ انہیں اقتدار تک پہنچانے والوں کے خلاف ہے۔ اس بیان میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ سیاسی قوتیں مقتدرہ کے ساتھ شراکت اقتدار کی شرائط کو دوبارہ طے کروانا چاہتی ہیں۔ تحریک انصاف کو مسلط کرکے دراصل ملک کی دیگر سیاسی قوتوں کو نظر انداز کرنے یا انہیں سیاست سے غیر متعلق کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی تھی۔ یہ پالیسی ناکام ہوگئی ہے۔ اب نواز شریف کی قیادت میں اپوزیشن پارٹیاں کام کرنے کا بہتر ماحول اور عوامی نمائیدوں کی اہمیت کو منوانے کی جد و جہد کررہی ہیں۔ اسی لئے اس تحریک کو ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نام دیا گیا ہے۔
گوجرانوالہ کا جلسہ طے کرے گا کہ اپوزیشن اور خاص طور سے مسلم لیگ (ن) کس حد تک غیر منتخب قوتوں کو پسپا ہونے پر مجبور کرسکتی ہے۔ براہ راست تصادم سے بچنے کی خواہش رکھنے والی ہر پارٹی اور قوت اس جلسہ کے بعد اپنے پتوں پر نظر ثانی کرے گی۔ اس احتجاجی جلسہ کی تاریخی اہمیت یہی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت غیر متعلق ہونے کے باوجود احتجاج کا سامنا کرنے پر مجبور ہے۔ عمران خان سیاسی منظر نامہ کو پڑھنے کی کوشش کرتے تو ان کی حکومت خاموش رہ کر اس کھیل کو تبدیل کرنے کی کوشش کرسکتی تھی۔ اب وقت حکومت کے ہاتھوں سے ریت کی مانند پھسل رہا ہے۔
( بشکریہ : کاروان ناروے )