تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : چیف جسٹس کے ریمارکس اور سندھ حکومت ، کیا ہونے والا ہے ؟

آج سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ نے کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں شہر میں نالوں پر تجاوزت اور دیگر معاملات پر مقدمہ کی سماعت کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس گلزار احمد کے ریمارکس اور اٹارنی جنرل کی باتوں سے یہ شبہ تقویت پکڑے گا کہ وفاقی حکومت عدالتوں کے تعاون سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سپریم کورٹ کو ایسی کسی سازش کا حصہ بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
تحریک انصاف کو مرکز کے علاوہ ملک کے تین صوبوں میں اقتدار حاصل ہے۔ جمہوری طریقہ سے منتخب ہونے کے سبب کسی بھی سیاسی جماعت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ وفاق کی تمام اکائیوں میں عوام کے فیصلہ کا احترام کرے۔ جہاں اسے حکومت نہ مل سکی ہو ، وہاں پر اکثریت حاصل کرنے والی سیاسی پارٹی کو بھی اتنے ہی اطمینان سے کام کرنے دیا جائے جس کا وہ خود استحقاق رکھتی ہے ۔ تحریک انصاف کے نمائیندوں نے پہلے دن سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا اور مختلف طریقوں سے اس کے کام میں مداخلت کرنے اور اس کے خلاف ماحول بنانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اس حوالے سے کبھی اٹھارویں ترمیم کے خلاف فضا بنائی جاتی ہے اور کبھی صدارتی نظام کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے۔ مختلف قومی اداروں میں سندھ حکومت کو تنہا کرنے اور اس کے حصے کے وسائل کی فراہمی میں رکاوٹیں ڈالنے کا معاملہ اس سے الگ ہے۔
سندھ حکومت یقیناً فرشتوں کی حکومت نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی طویل عرصہ سے اس صوبے میں حکمران ہے ۔ کراچی کے دگرگوں حالات کی وجہ سے عوام کی مشکلات اور ناراضی کو سمجھنا دشوار نہیں ہونا چاہئے۔ پیپلز پارٹی کی کوتاہیوں کی وجہ سے بھی کراچی اور صوبے کے مختلف معاملات میں خرابی پیدا ہوئی ہو گی لیکن کراچی کے حالات کی ساری ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد نہیں کی جاسکتی۔ کراچی کے حالات کو سمجھنے کے لئے ماضی قریب میں جھانکنے، الطاف حسین کی قیادت میں ایم کیو ایم کے کردار اور ان کی پشت پر موجود سرکاری اداروں کی مجبوری، لاچاری یا سوچی سمجھی اعانت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کراچی میں شہری سہولتوں کی فراہمی کا معاملہ صرف گزشتہ پانچ یا دس برس میں پیدا نہیں ہؤ۔ اس کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس لئے کسی جج یا اٹارنی جنرل کو شہر میں سول سہولتوں پر پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے محتاط انداز میں بات کرنے اور پوری تصویر کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف مرکز کے علاوہ تین صوبوں میں حکومت کررہی ہے۔ پوچھا جانا چاہئے کہ کیا باقی تمام صوبوں میں دودھ و شہد کی نہریں بہنے لگی ہیں کہ اب مرکزی حکومت کراچی میں سندھ حکومت کو ناکام قرار دیتے ہوئے انقلابی اقدمات پر غور کرنا چاہ رہی ہے۔ وزیر اعظم اور مرکزی حکومت اگر واقعی کراچی کی حالت میں کوئی قابل عمل تبدیلی چاہتے ہیں تو کیا انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ کے ساتھ ملاقات میں کوئی منصوبہ بنانے کی کوشش کی اور صوبائی حکومت کو اصلاح احوال کے لئے مناسب وسائل، انتظامی اعانت اور ٹیکنیکل سپورٹ فراہم کرنے کا کوئی میکنزم تیار کیا گیا؟ یا کراچی اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی لوٹ مار اور ناکامی کے قصے سناتے ہوئے کبھی پنجاب اور خیبر پختون خوا میں رونما ہونے والے سانحات پر بھی غور کیا گیا۔ کیا یہ یقین کرلیا گیا ہے کہ لاہور اور پشاور میں ساری تجاوزات ختم ہوجائیں اور صفائی کا ایسا انتظام ہو کہ شہری واہ واہ کریں اور اگلے انتخاب میں سندھ کے عوام بھی تحریک انصاف اور عمران خان کو منتخب کریں تاکہ انہیں بھی ویسی ہی سہولتیں فراہم ہوسکیں جو تحریک انصاف دوسرے صوبوں کے عوام کو پہنچا چکی ہے۔پنجاب میں تو وزیر اعظم کے وعدے کے باوجود ساہیوال سانحہ میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف کارروائی تک نہیں ہوسکی اور نہ ہی ماڈل ٹاؤن سانحہ میں جاں بحق ہونے والوں کے قاتلوں کا سراغ لگایا جاسکا۔ گزشتہ روز لاہور میں نیب دفتر کے باہر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہونے والا تصادم اگر ایک اہم اپوزیشن پارٹی کو ہراساں کرنے کا کوئی سوچا سمجھا منصوبہ نہیں تھا اور اس کی ’سازش‘ واقعی جاتی عمرہ میں تیار کی گئی تھی تو بھی صوبائی حکومت امن و امان قائم رکھنے میں کیوں ناکام ہوئی اور مریم نواز کے اصرار کے باوجود ان سے پوچھ گچھ سے انکار کی نوبت کیوں آئی؟ تحریک انصاف کے لیڈر ان سوالوں کے جواب دینے کی ضرورت تو محسوس نہیں کرتے لیکن سندھ حکومت، پیپلز پارٹی اور کراچی کے حالات پر انہیں سخت بے چینی لاحق رہتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی سرپرستی میں گورنر سندھ عمران اسماعیل نہ صرف یہ کہ صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ کے خلاف بیان بازی کرتے رہتے ہیں بلکہ کراچی میں متوازی حکومت قائم کرنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے تاکہ پیپلز پارٹی کو ناکام ثابت کیا جاسکے۔
کورونا وائرس کے آغاز سے ہی سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے قائدانہ کردار ادا کیا اور مسلمہ طریقہ کار کے مطابق لوگوں کی حفاظت کے نقطہ نظر سے فوری اور مؤثر اقدامات کئے۔ انہوں نے روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کرنے اور متاثرین کا اہتمام بھی کیا۔ تاہم وفاقی حکومت کو سندھ کے وزیر اعلیٰ کی یہ کامیابی اور خلوص نیت ایک آنکھ نہیں بھائی۔ وزیر اعظم کی قیادت میں لاک ڈاؤن کے خلاف ایسی فضا بنائی گئی کہ وائرس کے بارے میں عوامی رائے متاثر ہونے لگی۔ پھر چند ملاؤں کو لاک ڈاؤن کے باوجود مساجد کھولنے اور رمضان المبارک میں ہمہ قسم عبادات کا انتظام کرنے کی اجازت دی گئی۔ سندھ حکومت کے خلاف ملاؤں کے اس محاذ کی بنیاد گورنر ہاؤس سندھ میں رکھی گئی تھی۔ ایک ایسے موقع پر جب ملک میں ہم آہنگی اور مل جل کر سماجی دوری اختیار کرنے اور لاک ڈاؤن کے ذریعے کورونا وائرس روکنے کی ضرورت تھی ، پہلے سندھ حکومت کو نیچا دکھانے کے لئے اس کی شدید مخالفت کی گئی اور اسے غریبوں کے روزگار اور احتیاج کا معاملہ بنا کر پیش کیا گیا ۔ بعد میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے نام پر اسی طریقہ کو اختیار کرکے ، اس کی ’کامیابی‘ کا سہرا عمران خان کے سر باندھنے کی مضحکہ خیز کوشش کی گئی۔
ان حالات میں آج سپریم کورٹ میں کراچی کی صفائی اور دیگر سول سہولتوں کے حوالے سے مقدمہ کی سماعت میں اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کایہ بیان قابل غور ہے کہ ’ کراچی میٹروپولیٹن شہر ہے۔ کوئی بھی ملک اپنے میٹروپولیٹن شہر کو تباہ ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔ کراچی کے معاملہ میں (حکومت) سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ تمام آئینی و قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے کوئی حتمی بات نہیں کرسکتا لیکن جلد فیصلہ ہوگا‘۔ کراچی کے حالت پر وفاقی حکومت کی ’پریشانی‘ ظاہر کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے آئینی و قانونی اقدامات کی بات کی ہے۔ یہ سنجیدہ بیان صرف ایک شہر کی صفائی کے معاملہ تک محدود نہیں ہوسکتا۔ سپریم کورٹ کو اٹارنی جنرل کی اس یقین دہانی کے سیاسی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
خاص طور سے اگر یہ حقیقت پیش نظر رکھی جائے کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں تحریک انصاف کی حکومت نہیں ہے اور پارٹی آئیندہ انتخابات تک کراچی میں الطاف حسین والی ایم کیو ایم کی سیاسی پوزیشن حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کو کراچی سے صوبائی و قومی اسمبلی کی چند نشستیں ہی حاصل ہوتی ہیں لیکن فی الوقت عمران خان اور تحریک انصاف کو سب سے بڑی رکاوٹ پیپلز پارٹی اور اس کی صوبائی حکومت ہی دکھائی دیتی ہے۔ وہ یہ حقیقت نظر انداز کررہے ہیں کہ تحریک انصاف کا اصل مقابلہ مہاجر ووٹر کی نمائیندگی کا دعویٰ کرنے والی ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی سے ہوگا۔ یہ طویل اور مشکل سیاسی لڑائی ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان اس وقت حکومت کی اتحادی ہے اور عمران خان اس کی تائد سے ہی وزیر اعظم بننے کے لئے اعتماد کا ووٹ حاصل کرسکے تھے۔
اس کہانی کا بھی کوئی پس منظر ہوگا کہ ایم کیو ایم پاکستان کیوں عمران خان کی اتحادی ہے اور ایک زمانے میں ایم کیو ایم کو پاکستان نہیں تو برطانیہ میں دہشت گرد ثابت کرنے کا دعویٰ کرنے والے عمران خان، آخر انہی لوگوں کی امداد و تعاون قبول کرنے پر کیوں آمادہ ہوگئے۔ عمران خان اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ عسکری قیادت کی داخلی اور خارجی حکمت عملی ہی ان کی حکومت کے رہنما اصول ہیں۔ فوج نے کبھی اٹھارویں ترمیم کے خلاف اپنی رائے خفیہ نہیں رکھی اور صوبوں کے اختیار اور وسائل محدود کرنے کی بات صرف اسلام آباد کے سیاسی لیڈروں کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ملک میں صوبوں اور مرکز کے درمیان اختیارات اور وسائل میں توازن کے موجودہ انتظام میں پیپلز پارٹی کو رکاوٹ سمجھتے ہوئے ، سندھ حکومت کے خلاف میدان ہموار کیا جارہا ہے تو یہ منصوبہ قومی اتحاد کے لئے خطرناک دھچکہ ثابت ہوسکتا ہے۔
اس پس منظر میں ایک شہر کی صفائی کے معاملہ پر غور کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد کے اشتعال انگیز اور غیر جمہوری ریمارکس بھی ناقابل فہم ہیں۔ عدالتوں کے ججوں کو قانون کی روشنی میں فیصلے کرنے اور حکم دینے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ ان کے ریمارکس کو کسی قانونی نکتہ کی تفہیم تک محدود رہنا چاہئے۔ لیکن چیف جسٹس کے آج دیے گئے ریمارکس ذاتی غم و غصہ کا شدید اظہار ہیں اور ایک منتخب حکومت کے خلاف ’حکم ‘ صادر کرنے کے مترادف ہیں۔ ان کا یہ کہنا تھاکہ ’گزشتہ 20 برسوں میں سندھ حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ نہ سندھ حکومت کام کررہی ہے اور نہ ہی بلدیاتی حکومت کچھ کر رہی ہے۔ سندھ حکومت مکمل ناکام ہوچکی ہے۔ حکمران صرف مزے کر رہے ہیں۔ اور یہاں مافیا آپریٹ کر رہے ہیں‘۔ یہ باتیں کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کسی انتظامیہ یا حکومت کی سرزنش نہیں کی بلکہ ان عوام کی توہین کی ہے جنہوں نے پیپلز پارٹی کو سندھ میں حکومت کے لئے منتخب کیا ہے۔ سپریم کورٹ میں مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران ججوں کے ریمارکس کی روشنی میں یہ پوچھا جانا چاہئے کہ کیا انصاف فراہم کرنے کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز کسی جج کو غصہ کا یوں برملا اظہار زیب دیتا ہے؟
چیف جسٹس کے ریمارکس کو اگر اٹارنی جنرل کے ارادوں کی روشنی میں پڑھا جائے تو یہ افسوسناک تصویر ابھرتی ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کے تعاون سے ایک آئینی انتظام کو عدم توازن کا شکار کرسکتی ہے۔ چیف جسٹس پر لازم ہے کہ وہ آئین کے کسٹوڈین کے طور پر اپنی پوزیشن واضح کریں اور حکومت کی کسی سیاسی بدنیتی کا حصہ نہ بنیں۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker