ادبسلمیٰ اعوانلکھاری

سری پاڈا کی مہم جوئی( سفر نامہ ) ۔ 1 ۔۔سلمیٰ اعوان

بڑی میٹھی اور گہری نیند تھی۔جگانے کےلئے دستک بھی بڑی زور دار قسم کی تھی۔آنکھوں میں جھری سی پیدا ہوئی۔چوٹی پر جانے کا یاد آیا۔
“ہائے”کی ایک درد انگیز کراہ نکلی۔ روزے کے لیے سحری کے وقت اُٹھنے والی مجبوری اور بےزاری کی سی کیفیت تھی۔
”سری پاڈے کو دفع کر و ۔اسے گولی مارو ” نیند نے جیسے سرگوشی کی۔
پر اسے ہرگز دفع نہیں کیا جا سکتا تھا اور نہ اسے گولی ماری جا سکتی تھی۔ اتنے پینڈے کی مارو ماری آخر کِس لئیے تھی؟
شراٹے مارتی ا وائل فروری کی اس تیسرے پہر کی خوشگوار خنکی سے لبا لب بھری ہوا ئیں ڈھلانی پہاڑیوں پر اُگے چائے کے پودوں سے گتھم گتھا ہو کر آنے کا بھرپور تاثر دیتی تھیں۔ نیچے گھاٹیوں میں خوفناک گہرا اندھیرا تھا جہاں ہوائیں سیٹیاں بجاتی اور شور مچاتی تھیں۔
رات کے اس پہر بھی ہر عمر اور ہر سائز کے ہجوم عاشقاں کا سیل رواں تھا۔ نو عمر لڑکے لڑکیوں کی اٹھکھیلیوں اور چھوٹے بچوں کی اُچھل کود نے حرم کعبہ کی بہت سی یادوں کو تازہ کر دیا تھا۔بس کچھ فرق تھے جن میں متانت اور سنجیدگی سر فہرست تھی جو وہاں تھی اور یہاں نہیں۔
آدم پیک کا راستہ آغاز میں خاصا کشادہ ،کلیجی مائل سرخ بجری سے ڈھنپا اطراف میں جا بجا سٹالوں سے سجا پڑا نظر آیا تھا۔ رات کے گھور اندھیرےاردگرد کے نظاروں کی باریکیوں کو دیکھنے اور سراہنے کی راہ میں حائل تھے۔ تاہم مصنوعی روشنیاں جہاں تک ممکن تھاراستے صاف کرتی تھیں۔نوجوان بُدھ بھکشووں کی زائرین کی طرف دلچسپی اور بھرپور توجہ متاثر کن تھی کہ اطراف میں لگائے گئے چھوٹے سے کیبنوں میں کھڑے وہ نوجوان لڑکیوں کی کلائیوں میں دھاگہ نما ڈوریاں باندھنے اور انہیں ہدایات دینے میں بڑے انہماک سے جُتے ہوئے تھے۔
مسلسل چلنے اور موڑوں کی چڑھائیوں سے ہم ہونکنی کی کیفیت میں تھے شاید اسی لیے چائے کے سٹال کے سامنے دھری کرسیوں پر ڈھے سے گئے۔ پر یہاں چائے نہیں کافی تھی۔ اور ہائی بلڈ پریشر کے مریض کے لیے کافی خطرے کا سگنل ہے۔ پر تھوڑا سا تازہ دم ہونے، تھوڑی سی بشاشت اور بوڑھی ہڈیوں کو متحرک کرنے کے لیے چند گرم گھونٹوں کا اندر جانا بھی بہت ضروری تھا۔ سو ڈرتے ڈرتے آدھا کپ پیا۔
سٹال پر کھڑا خوش طبع اور تعلیم یافتہ لڑکا ”غزل اُس نے چھیڑی مجھے ساز دنیا“ کی عملی تفسیر نظر آیا تھا کہ جونہی میں نے یہ جاننے کے لیے لب کھولے کہ حضرت آدم سے متعلقہ اس روایت کا کوئی تاریخی حوالہ بھی ہے یا یونہی ساری قصہ کہانی ہی ہے۔ اُس نے تو پل نہیں لگایا اور حوالوں کے ڈھیر لگا دئیے۔
پہلا تو اُن عرب تاجروں کا تھا جو یقینا بڑا معتبر بھی تھا کہ جب وہ پہلی صدی عیسوی میں سےلون (سری لنکا کا پرانا نام) آئے تو چوٹی سے نکلتے مختلف رنگوں کی بوچھاڑ نے نہ صرف انکی رہنمائی کی بلکہ انہیں یہ یقین دلایا کہ بابا آدم یہیں تو گرے تھے۔
دوسرا طاقتور حوالہ مارکوپولو، ابن بطوطہ اور مریگنولی کی تحریروں کا تھا۔ تیسری تفصیل اُس راہب کی تھی جو 1346 میں اوپر گیا اور جس نے واپس آکر یہ کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اوپر پہاڑ پر جا کر انہیں کوئی جنت یا کوئی ما ورائی چیز نظر آئے گی کیونکہ اس سے پہلے دنیا بھر میں یہی نظریہ کار فرما تھا سخت غلطی پر ہیں۔ہمارے آباﺅ اجداد اب وہاں نہیں ہیں۔ ہاں اُن کی کچھ نشانیاں ضرور وہاں ہیں۔
ہم دونوں میں سے کسی کی کلائی پر رسٹ واچ نہیں تھی۔ سٹال پر گھڑی کی ٹک ٹک کچھ کہتی تھی کہ تمہارا پینڈا چوکھا بھی ہے اور کٹھن بھی۔ پو پھٹنے سے پہلے اوپر نہ پہنچیں تو سفر کھوٹا ہو جائے گا۔ تاریخ کی کتاب کو بند کردو اور راستہ ناپو۔پس تو ایم۔ پی سنا سنی کو خدا حافظ کہا۔
بڑھاپے کے عشق اکثر و بےشتر بڑے مہنگے پڑتے ہیں۔ سانس لوہار کی دھونکنی کی مانند پھولا پڑتا تھا۔ اوپر والے سے میری سرگوشی بڑی رازدارانہ تھی۔
”سر میرا کلیجہ پھٹ کر سری پاڈے کے اس پہاڑ پر ہر گز ہرگز بکھرنا نہیں چاہیے۔“
پسینے سے تر بتر پیشانی، پھولتے سانس، خشک ہونٹوں اور سانولی رنگت والی اس ناٹے قد کی عورت کو پیچھے سے آنے والے اُس حلیم طبع آدمی نے بہت ہمدردانہ نظر سے دیکھا تھا جو پورے خاندان کی لام ڈور کے ساتھ تیز اور پُر اعتماد قدموں سے چلتے ہوئے ہمارے ساتھ آن ملا تھا۔ ڈی ایس کرونا رتنا (Karunaratna) نے ہماری حالت کے پیش نظر یہ کہنا شاید ضروری سمجھا تھا۔
”اطمینان سے چلیے ۔ اگلی دو میل کی عمودی چڑھائی تو آپکا پٹڑہ کر دے گی ۔“
میرے جیسی دلیر پاکستانی عورت کے لیے تو یہ بات شرمندگی کا باعث تھی۔ جواب دینا بہت ضروری سمجھا تھا۔
میں نے اپنے ملک میں اس سے زیادہ اونچی اور خطرناک چڑھائیاں چڑھی ہیں مگر تب جب یہ آتش جوان تھا۔
وہ بھی مسکرایا میں بھی مسکرائی۔ بندہ بیبا اور دلچسپ لگا۔ سگریا کا رہائشی اور وہیں کالج میں فزکس کا اُستاد تھا۔ بدھ مسلک کا جان کر میں نے بدھ لوگوں کے اِس مقدس نشان کے بارے میں تاویل جاننی ضروری سمجھی۔ جواب کچھ ان الفاظ میں تھا کہ تیسری صدی قبل مسیح میں بدھ مت کے پیروکاروں نے اس نقش کو بدھا کا پاﺅں ہی جانا۔ کیونکہ برصغیر کی قدیم تاریخ میں اسطرح کے نشانات صرف دیوتاﺅں کے ہی تصور ہوتے تھے۔
ایک اور پڑاﺅ آیا۔یہاں پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ چائے دستیاب ہے۔یہ کیسی رنگ رنگیلی مہم جوئی تھی۔ جگہ جگہ بکتی کھانے پینے کی اشیا۔ اعزازی رضاکاروں کے قائم کردہ فسٹ ایڈ اسٹیشن اور چائے کافی کے سٹال آپکو چند لمحوں کے لیے توانائی اور سرشاری و لطف کا احساس ضرور دیتے ہیں۔دائیں بائیں ہنستے مسکراتے چہرے یہی کام کررہے تھے۔جوانوں کی چہلیں کہیں تصویر کشی،کہیں باتوں کے سلسلے ۔
اب ایک اور بات بھی مشاہدے میں آئی جسکا شاید میں نے خیال نہیں کیا تھا کہ مردوں نے سروں پر سفید کپڑا پگڑی کے سے انداز میں لپیٹا ہوا تھا۔سفید لباس کو بھی اِس زیارت کےلئے بہت پسندیدہ خیال کیا جاتا ہے۔بےشتر مرد اسی پہناوے میں نظرآئے تھے۔تاہم استثنائی بھی موجود تھی۔
گورات تاریک تھی۔مگر آسمان پر چمکتے ستارے بہت روشن تھے۔چڑھائی کے دوران ذرا سا سانس کی درستی کےلئے رُکتے تو کہیں کہیں گھاٹیوں،کہیں پہاڑی ڈھلانوں پر کھلے پھول اور اُنکے رنگ شب دیجور میں جگنوﺅں کی مانند جگمگاسے جاتے۔ ٹھنڈی اور جنگل کی خوشبوﺅں سے لدی پھندی ہوائیں تازگی اور فرحت کا احساس بخشتیں۔
ٍ ان ہواﺅں کے جھُلاروں میں ہم نے خود کو” کیا ٹائم ہے؟ اور کتنا باقی ہے؟” جیسے سوالوں اور جوابوں کی پریشانی سے آزاد کر لیا تھا کہ ساتھ چلنے والے بھی تو اسی مار دھاڑ میں لگے ہوئے تھے۔ ساتھ چلتے بوڑھوں اور جوانوں کو کم وبیش اپنی جیسی کیفیات میں مبتلا دیکھتے اور مسکراہٹوں کا تبادلہ کرتے ہانپتے کانپتے راستہ طے ہونے لگا تھا۔
ذرا تھم اے راہرو کہ پھر مشکل مقام آیا۔
اور وہ مشکل مقام آپہنچا تھا۔
عمودی چڑھائی کا ٹوٹا افسانوی بیانات اور رنگوں سے قطعی کم نہ تھا۔ میرا سانس اور ٹانگیں تب بھی پھولتیں اگر اسکے پیچھے تازہ خون بھی ہوتا۔ تاہم اس ٹکڑے کو ممکنہ حد تک آرام دہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ سُرخ پتھر کی سیڑھیوں کو درمیان کی ریلنگ سے الگ کرتے ہوئے اُترنے اور چڑھنے والوں کو اطراف سے بھی سہارا فراہم کرنے کی کاوش بہترین تھی۔
کہیں بہت زیادہ کشادہ اور کہیں قدرے چوڑے راستے پر کھُلے ڈھلے انداز میں چلنے والے ٹولے اب سمٹ کر ایک دوسرے کے بہت قریب ہو گئے تھے۔ یوں جیسے کوئی چوڑے پاٹ کا دریا کسی پہاڑی پیچ وخم میں آ کر سکڑ جائے۔
حکومت کی مسلسل توجہ نے اسے بہت روشن اور آرام دہ بنا دیا ہے۔ گزشتہ صدی کے نصف میں سفر کرنے والوں سے کوئی پوچھے کہ اس پر چڑھنا کتنا جان جوکھوں کا کام تھا۔
ہمارے ساتھ چلتے ہوئے ایک نوجوان لڑکے نے کہا تھا۔
1950 کے اوائل اور اس سے قبل حج بھی ایسی ہی صعوبتوں کا نام تھا۔ میری یاداشتوں میں اپنی نانی اور ماموں ابھرے تھے جو حج سے واپسی پر دنوں بیمار رہے۔ جن کے پاﺅں صفا اور مروہ کے پتھروں پر سعی کرتے ہوئے زخمی ہو گئے تھے۔
صبح کاذب نے اُمید ایر منزل کے قریب آنے کی نوید سنائی تھی۔ اور جب صبح صادق کا اُجالا مقدس عمارت اور ارد گرد کے خوبصورت مناظر کو آشکارہ کر رہا تھا۔ ہم چوٹی پر پہنچ چکے تھے۔ انسانوں کے اژدہام کے باوجود نظم و ضبط کمال کا تھا۔ دھکم پیل نہیں تھی۔میرے لیے یہ بات خاصی تعجب انگیز تھی۔
مقدس عمارت کی طرف بڑھنے کی بجائے ہم دونوں ریلنگ کے ساتھ ایک جانب ہو کر سانسوں کی تیز رفتاری کو اعتدال پر لانے، سورج نے کس سمت سے برآمد ہونا ہے کا جائزہ لینے اور لوگوں کو سیڑھیوں کے پوڈوں پر ہی سجدہ ریز ہوتے دیکھنے کے لیے رک گئیں۔
ذرا سا رُخ پھیرنے پر منظروں تو ایک جہان نظر آتا تھا۔ پہاڑوں کی چوٹیاں اور ڈھلانیں نیلگوں کہرے کی چادر اوڑھے لمبی مسافتوں کے بعد سستانے جیسی کیفیت کی عکاس تھیں۔ تاحد نظر پھیلے ہوئے ہرے کچور جنگلوں کا سلسلہ مختلف النوع پھول پودوں سے سجا اور چھوٹے بڑے جانوروں سے بھرا پڑا تھا۔ جنہیں صبح صادق نے نیند سے اٹھا کر متحرک کردیا تھا۔ ان جنگلوں کے پھول بوٹوں پر سے تیر کر آتی ہوائیں اپنے دامنوں میں چُرائی ہوئی خوشبوﺅں سے مالامال رخساروں کو چھوتے ہوئے ناک میں داخل ہو کر جیسے سارے سریر کو سرشار سا کرتی تھیں۔ دھنک رنگوں والی ہزاروں تتلیاں سروں پر یہاں وہاں اُڑتی نظروں کو لُبھا رہی تھیں۔
صرف ہم ہی نہیں بلکہ وہ سب بھی جو پینڈا مارتے یہاں تک پہنچے تھے لوگوں کو کہنیاں مارے اور دھکے دئیے بغیر اُس قطعہ پر اکٹھا ہونا شروع ہو گئے جو طلوع آفتاب کے نظارے کے لیے مخصوص تھی۔
قطعہ غیر ملکیوں اور مقامی لوگوں سے بھرا پڑا تھا۔ چھوٹے بچوں کو بڑوں نے اُٹھا رکھا تھا۔ مجھے لگتا تھا جیسے ان لمحوں میں وقت کی گردش رُک گئی ہے اور ارد گرد کا ماحول سنگی بُت بن گیا ہے۔ ہر آنکھ مشرق کی جانب اُٹھی ہوئی تھی۔ سچی بات ہے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے مشرق کا سینہ نظروں کے تیروں سے چھلنی چھلنی ہو جائے گا۔
اس بڑے سے قطعے کے اگلے حصے کو تین ساڑھے تین فٹ اونچی اور خاصی لمبی دیوار سے محفوظ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ دیوار میں جا بجا لگائے گئے بانسوں پر یقیناً منتوں مرادوں کے پھریری جو موسم کی نرم گرم سختیوں سے بد رنگی اور بوسیدہ ہو چکے تھے ہوا کے جھونکوں سے اٹھکھیلیاں کرتے ہوئے کچھ یاد دلا گئے تھے۔
کون جانتا ہے ان لیروں میں سے کتنی ایسی ہوں گی جنہیں دو دلوں چار ہاتھوں اور چار آنکھوں نے جانے کیسے کیسے خوابوں کے زیر اثر باندھا ہو گا۔ اور جانے کوئی زندگی اس شعر کی بھی تفسیر بن گئی ہو گی۔
ہسن کھیڈن نال لے گئیوں
سٹ گئےوی وچ فکراں
پاٹی لیر پرانی ونگوں
ٹنگ گئیوں وچ ککراں
ترجمہ: میرا ہنسنا کھیلنا تو سب تم اپنے ساتھ لے گئے ہو
فکروں میں مبتلا کرکے چھوڑ گئے ہو
کسی پھٹے پرانے کپڑے کی طرح
مجھے کیکر کے درخت پر ٹانگ گئے ہو
( جاری )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker