Browsing: بلوچستان

مسلح افراد نے مسافر بس کو روکا اور اس میں سوار افراد کے شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد پنجاب سے تعلق رکھنے والے 7 مسافروں کو اتارا، اور بعدازاں انہیں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر بارکھان کے مطابق مسلح افراد نے مسافر نہ روکنے پر بس کے ٹائروں پر فائرنگ بھی کی۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے بلوچستان میں غیرملکی طاقتوں کے آلہ کار عناصر کو ہر قیمت پر ختم کرنے اور امن بحال کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ گزشتہ روز دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپوں میں 18 فوجیوں کی شہادت کے بعد کوئٹہ کا دورہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ نام نہاد دوست نما دشمن کچھ بھی کرلیں ، پاک فوج انہیں قوم کے تعاون سے شکست دے گی‘۔

خضدار شہر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مغرب میں اندازاً ساڑھے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس ضلع کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔بلوچستان میں 2000 کے بعد سے خضدار میں بھی بم دھماکوں اور اس نوعیت کے دیگر سنگین بدامنی کے واقعات کمی و بیشی کے ساتھ پیش آرہے ہیں۔یاد رہے کہ نو جنوری کو ضلع خضدار کے علاقے زہری میں 70 سے زائد مسلح افراد آئے تھے اور انھوں نے وہاں لیویز تھانے اور نادرا کے دفتر کو نذر آتش کیا تھا۔ ماضی میں خضدار میں ہونے والے بم دھماکوں اور اس نوعیت کے دیگر زیادہ تر واقعات کی ذمہ داریاں کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے طلباء کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمے کے اندراج کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس سے محسوس ہوتا ہے کہ ریاست شہریوں کے کتابیں پڑھنے اور علم بانٹنے کے عمل سے بھی خائف ہے۔‘