سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا اس بیان کو ویسا ہی ’سرنڈر‘ سمجھا جاسکتا ہے جیسا صدر ٹرمپ نے اسے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ ٹرمپ کے بیان سے تو یہ بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس بیان کو ایران کا سرنڈر کہہ کر اور دوسری طرف ایرانی دفاعی صلاحیتوں کو مکمل طور سے تباہ کرنے کا دعویٰ کرنے کے بعد امریکہ یک طرفہ طور سے اس جنگ کو بند کرنے کاا علان کرے جس کے بعد اسرائیل بھی امریکی تقلید میں جنگ بندی پر راضی ہوجائے۔ گو کہ یہ سب سے سہل اور خوش کن طریقہ ہوگا تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے لیے صرف مسعود پزشکیان کا ایک بیان شاید کافی نہ ہو۔ وہ اس سے پہلے ایران میں من پسند لیڈر کے انتخاب کو بھی جنگ بندی کی اہم شرط کے طور پر پیش کرچکے ہیں۔
پیر, جولائی 27, 2026
تازہ خبریں:
- "جھیل، سمندر اور سبزہ زار” کا ایک جمالیاتی جائزہ : سراج احمد تنولی کا کتاب کالم
- جامعات کی گھٹن اور میرٹ کا تماشا : یاسر پیرزادہ : کا مکمل کالم
- انسانی پلیسینٹا: شفا کا ذریعہ یا ضمیر کا سودا؟ شہزاد عمران خان کا کالم
- بھارتی نوجوان جیت گئے : وزیرِ تعلیم کے مستعفی ہونے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج ختم
- بہار گزشت : وجاہت مسعود کی جیون کہانی کا ایک باب
- حسن رضا گردیزی ۔سرائیکی اور انگریزی : رضی الدین رضی کا 1989 میں لکھا گیا مضمون
- اٹھو، اب ماٹی سے اٹھو، جاگو میرے لال ( جنگ کے گم نام ہیرو ) – وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم
- آزاد کشمیر میں مخالفین کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں، اب اصل وارث آگئے ہیں، مریم نواز
- ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کی ’ریڈ لائنز‘ کیا ہیں؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ٹانک میں خود کش حملہ : 12 فوجی اہلکاروں سمیت 15 افراد لقمہ اجل
