سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا اس بیان کو ویسا ہی ’سرنڈر‘ سمجھا جاسکتا ہے جیسا صدر ٹرمپ نے اسے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ ٹرمپ کے بیان سے تو یہ بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس بیان کو ایران کا سرنڈر کہہ کر اور دوسری طرف ایرانی دفاعی صلاحیتوں کو مکمل طور سے تباہ کرنے کا دعویٰ کرنے کے بعد امریکہ یک طرفہ طور سے اس جنگ کو بند کرنے کاا علان کرے جس کے بعد اسرائیل بھی امریکی تقلید میں جنگ بندی پر راضی ہوجائے۔ گو کہ یہ سب سے سہل اور خوش کن طریقہ ہوگا تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے لیے صرف مسعود پزشکیان کا ایک بیان شاید کافی نہ ہو۔ وہ اس سے پہلے ایران میں من پسند لیڈر کے انتخاب کو بھی جنگ بندی کی اہم شرط کے طور پر پیش کرچکے ہیں۔
بدھ, اپریل 29, 2026
تازہ خبریں:
- عدلیہ کے کفن میں آخری کیل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فیلڈ مارشل کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے : وسعت اللہ خان کا کالم
- قم کے ایک عظیم کتب خانے کا احوال : سیدہ مصومہ شیرازی کے قلم سے
- جذبات کی طاقت اور حیدرآباد کنگزمین کی کارکردگی : ڈاکٹر علی شاذف کا کرکٹ کالم
- ٹرمپ پر حملے کا ملزم اور بہترین استاد کا اعزاز : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
- کیا ایموجی کی نئی عالمی زبان لفطوں کی روشنی ختم کر رہی ہے ؟ شہزاد عمران خان کا کالم
- صحافی کی گرفتاری اور رہائی : پاکستانی میڈیا کے لیے غیر ضروری خبر : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- تہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ : وجے پرشاد کا فکرانگیز مضمون
- اشرف جاوید کے ساتھ برسوں بعد ملاقات : طباق ، تپاک اور چشم نم ناک ۔۔۔ رضی الدین رضی کی یاد نگاری
- ایران میں 4 مبینہ جاسوس گرفتار : ایک شخص کو پھانسی
