واشنگٹن : امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی شہریوں سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے لیے امریکی مدد پہنچنے والی ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’ایرانی محبِ وطن، احتجاج جاری رکھو۔ اپنے اداروں کا کنٹرول سنبھال لو!!! قاتلوں اور مظالم کرنے والوں کے نام یاد رکھ لو۔ وہ اس کی بھاری قیمت چکائیں گے۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا ’میں نے ایرانی حکام کے ساتھ تمام ملاقاتیں منسوخ کر دی ہیں جب تک کہ مظاہرین کے ناسمجھ آنے والا قتل عام بند نہ ہو۔ مدد پہنچنے والی ہے۔‘
ایران میں مظاہرے اگرچہ نسبتاً خاموش ہو گئے ہیں، لیکن ہلاکتوں اور زخمیوں کی اصل شدت اب سامنے آ رہی ہے۔
ایک حکومتی اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم دو ہزار ہے، جن میں سکیورٹی فورسز بھی شامل ہیں۔ تاہم اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
ایرانی اب بیرونِ ملک فون کالز کر سکتے ہیں، لیکن ایران کی بین الاقوامی تنہائی مزید گہری ہو گئی ہے۔
جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ ’ہم اس حکومت کے آخری دنوں اور ہفتے دیکھ رہے ہیں۔ جب کوئی حکومت صرف تشدد کے ذریعے اقتدار برقرار رکھتی ہے تو اس کا خاتمہ قریب ہوتا ہے۔ عوام اب اس حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔‘
تاہم سب ایسا نہیں کر رہے۔ حکومت کے حامی مظاہرین بھی بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے ہیں اور ایران کے لیے اپنی وفاداری کا اظہار کیا ہے۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے کسی بھی ملک پر 25 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔ چین، جو ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے، نے کہا ہے کہ وہ اپنے مفادات کا دفاع کرے گا۔
فی الحال ایرانی حکام شاید یہ لڑائی جیت گئے ہوں، لیکن یہ سات برس سے کم عرصے میں ان کے اقتدار کے خلاف تیسرا بڑا چیلنج ہے۔ اور ہر بار ان کی طاقت مزید کمزور ہوتی جا رہی ہے۔
ایران میں حکومت مخالف مظاہروں پر کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ بات بی بی سی فارسی کے نامہ نگار جیّار گل اور خبر رساں ادارے روئٹرز کے ایک ذریعے نے بتائی ہے۔
جیّار گل کا کہنا ہے کہ وہ ’یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے‘، اور اگرچہ حکومت نے پہلے بھی طاقت کا استعمال کیا ہے، ’اس بار صورتحال بالکل غیر معمولی ہے۔‘
روئٹرز نے ایک ایرانی سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد تقریباً دو ہزار تک ہو سکتی ہے۔
یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا ہے جب اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے ترجمان جیریمی لارنس نے جنیوا میں ایک کانفرنس کے دوران کہا کہ ’رپورٹس کے مطابق سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار کیے گئے ہیں۔‘
جیریمی لارنس نے کہا کہ یہ اندازہ اقوامِ متحدہ کے اپنے زمینی ذرائع سے حاصل ہوا ہے اور ’یہ قابلِ اعتماد ذرائع ہیں۔‘
اس سے قبل ایک انسانی حقوق گروپ نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں تقریباً 650 مظاہرین ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔
ایران میں ہلاکتوں کی درست تعداد جاننا مشکل ہے کیونکہ ملک میں بین الاقوامی خبر رساں اداروں پر پابندیاں ہیں اور گزشتہ پانچ دنوں سے انٹرنیٹ بھی بند ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )

