تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : اسلو مذا کرات ، کیا طالبان کے ڈرانے سے دنیا خوفزدہ ہوجائے گی؟

طالبان کے وزیر خارجہ عامر متقی کی قیادت میں پندرہ رکنی وفد ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں مذاکرات کے بعد کل رات کابل روانہ ہوگیا۔ ان مذاکرات میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی ۔ ناروے کے نائب وزیر خارجہ ہنرک تھونے کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور سے یہ بات بھی اہم ہے کہ طالبان قیادت نے افغان سول سوسائیٹی اور خواتین کے نمائیندوں سے ملاقات کی ہے اور ان کی تشویش کو سنا ہے۔ دوسری طرف طالبان نے ان ملاقاتوں کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں تمام دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔
ان مذاکرات میں ناروے کے علاوہ امریکہ، دیگر مغربی ممالک، نیٹو اور یورپی یونین کے نمائیندے شریک تھے۔ اس کے علاوہ افغانستان کی خواتین ، صحافیوں اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے کارکنوں کی بڑی تعداد بھی اوسلو میں موجود تھی۔ افغانستان میں انسانی بنیاد پر امداد کی فراہمی کا کام کرنے والی متعدد تنظیموں اور انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والے اداروں نے بھی ان ملاقاتوں میں حصہ لیا۔ ناروے کی اعلیٰ سیاسی قیادت نے براہ راست طالبان کے ساتھ مذاکرات نہیں کئے البتہ منگل کے روز نائب وزیر خارجہ ہنرک تھونے کی قیادت میں وزارت خارجہ کے اہلکاروں کے ایک وفد نے طالبان نمائندوں سے ملاقات کی اور ان سے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرنے اور خواتین کوتعلیم اور معاشرے میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کرنے مطالبہ کیا۔ ناروے طالبان کی اوسلو آمد سے پہلے ہی واضح کرچکا تھا کہ اس دورہ کا مقصد طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا نہیں ہے بلکہ ہم انہیں اپنی تشویش سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں اور سننا چاہتے ہیں کہ طالبان ان مسائل کو حل کرنے کے لئے کیا اقدامات کریں گے۔
ناروے کی پناہ گزینوں کے لئے کام کرنے والی تنظیم کے جنرل سیکرٹری اور ماضی میں نارویجئن حکومت اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدوں پر کام کرنے والا یان ایگے لاند نے بھی ان ملاقاتوں میں شرکت کی ہے۔ انہیں نے بات چیت کو ’ضروری ، براہ راست اور دیانت دارانہ‘ قرار دیا تاہم ان کا کہنا ہے کہ طالبان کے طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہیں ہے اور انہیں بنیادی حقوق یا معاشرے میں خواتین کی حیثیت کے بارے میں مغربی معیارات سمجھانا آسان نہیں ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان ملاقاتوں میں طالبان نے بتایا ہے کہ موسم سرما کی چھٹیوں کے بعد جب تعلیمی ادارے کھلیں گے تو لڑکیوں کو ہر سطح پر تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ اس وقت طالبان کی حکومت نے بارہ برس سے بڑی بچیوں کے اسکول جانے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ ایگے لاند کی بات درست ثابت ہوئی تو طالبان کی طرف سے یہ بڑی رعایت ہوگی لیکن وہ اس کے بدلے میں مغربی ممالک سے زیادہ اقتصادی امداد کے خواہاں ہوں گے۔خواتین کی تعلیم کے حوالے سے اس مثبت اطلاع کے باوجود ان ملاقاتوں میں شریک ہونے والے وفود نے کسی بڑی پیش رفت کی امید ظاہر نہیں کی اور کہا ہے کہ اوسلو میں طالبان کے نمائیندوں نے جو بھی کہا ہو لیکن دیکھنا ہوگا کہ کابل حکومت عملی طور سے کیا اقدامات کرتی ہے۔ افغان خواتین کے لئے کام کرنے والی ایک ایکٹوسٹ محبوبہ سراج نے ایک نارویجئن اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے طالبان کے وعدوں کو سراب قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جلال آباد اور قندھار میں تعلیمی سال کا آغاز ہوچکا ہے لیکن وہاں پر لڑکیوں کے اسکول مسلسل بند ہیں۔ اس لئے اس وعدے پر اعتبار کرنا مشکل ہے کہ طالبان مارچ سے ملک بھر میں ہر سطح پر لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کریں گے۔ طالبان اس سے پہلے عملی مشکلات یا مالی مسائل کا بہانہ بنا کر لڑکیوں کے اسکول بند رکھتے رہے ہیں۔ مستقبل میں بھی یہی رویہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔
اوسلو مذاکرات کے بار ے میں محتاط اندازے کے مطابق یہی کہا جاسکتا ہے کہ طالبان اور مغربی ممالک کے علاوہ افغانستان میں حقوق کی جد و جہد کرنے والے لوگوں کو ایک دوسرے کی بات سننے اور سمجھنے کا موقع ملا ہے۔ تاہم ان مذاکرات میں نہ تو کوئی بریک تھرو سامنے آیا ہے اور نہ ہی یہ توقع کی جارہی ہے کہ ان سہ روزہ ملاقاتوں کے بعد افغانستان میں انسانی حقوق کی صورت حال میں نمایاں تبدیلی واقع ہوگی۔ طالبان کا خیال ہے کہ لڑکیوں کو تعلیمی سہولت دینے کا وعدہ کرکے مزید معاشی امداد حاصل کی جاسکتی ہے لیکن وہ خود بھی یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ امداد زمینی حالات تبدیل کئے بغیر بحال نہیں ہوگی۔ یان ایگے لاند کا کہنا ہے کہ طالبان اب بھی سخت گیر رویہ رکھتے ہیں اور وہ ابھی تک ماضی کے طالبان کی طرح مغربی اقدار سے متصادم اقدار کو اہم سمجھتے ہیں۔
طالبان کے وفد میں افغان وزارت خارجہ کے معاشی شعبہ میں کام کرنے والے شفیع اعظم بھی شامل تھے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ ’طالبان کوئی ایسا مطالبہ نہیں مانیں گے جو اسلامی اقدار اور قومی مفاد کے منافی ہو‘۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں خواتین کے حقوق کی بات کرنے والے عناصر نے حجاب اور برقع کو نذر آتش کیا۔ آزادی اظہار اور احتجاج کے حق کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسروں کی اقدار کا احترام نہ کیا جائے۔ افغان خواتین کی اکثریت حجاب اور برقع استعمال کرتی ہے۔ مغربی ممالک کو کابل میں سفارت خانے کھول کر خود حالات کا جائزہ لینا چاہئے۔ افغانستان میں مظالم کی کہانیاں سنانے والے دراصل ہمدردی حاصل کرنے اور سیاسی پناہ لینے کے لئے جھوٹا پروپگنڈاکرتے ہیں۔ دنیا کو ان کے بہکاوے میں نہیں آنا چاہئے۔
؎طالبان نے ان مذاکرات کے دوران افغانستان میں حقوق کی صورت حال کو مبالغہ آرائی اور پروپیگنڈا قرار دیا اور مغربی ممالک سے اسے نظر انداز کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ افغان سول سوسائیٹی کے نمائیندے طالبان کے دعوؤں اور وعدوں کو مسترد کرتے ہیں اور افغانستان کے طول و عرض میں ہونے والے متعدد ظالمانہ واقعات کا حوالہ دے کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ ملک میں ایک سخت گیر مذہبی نظام مسلط کیا گیا ہے۔ اس کھینچا تانی میں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آخر ناروے جیسے ملک کو طالبان کے وفد کو ناروے بلانے اور اس ملاقات کا اہتمام کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اور اگر طالبان اپنے طرز عمل میں تبدیلی کا ارادہ نہیں رکھتے تو وہ کس بنیادپر مغربی ممالک کو افغانستان کی امداد جاری رکھنے پر آمادہ کرسکتے ہیں۔ ناروے کے وزیر اعظم اور حکومتی نمائیندوں نے واضح کیا ہے کہ اس ملاقات کا مقصد مواصلت بحال رکھنا تھا تاکہ افغانستان میں حکمران گروہ پر واضح کیا جاسکے کہ وہ دنیا سے علیحدہ ہوکر معاملات چلانے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ دوسری طرف طالبان مغربی ممالک کو یہ پیغام دینے کے لئے اوسلو آئے تھے کہ اگر فوری طور سے افغانستان کی امدا دبحال نہ کی گئی تو ایک طرف انسانی بحران پیدا ہوگا، قحط اور معاشی احتیاج کی وجہ سے ہلاکتیں ہوں گی ۔ یہ حالات مغربی ممالک کے مفاد کے برعکس ہیں۔اس حوالے سے طالبان نے مغرب کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ’جھوٹے پروپیگنڈے‘ کی بنیاد پر افغان حکومت کو نظر انداز کیا گیا اور فوری طور سے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے اور امداد بحال کرنے کے اقدامات نہ ہوئے تو ملک کے معاشی بحران سے مجبور ہوکر افغان لوگوں کی بڑی اکثریت ہجرت پر مجبور ہوگی۔ طالبان کا کہنا ہے کہ اس کا خمیازہ بنیادی طور پر مغربی ممالک کو ہی بھگتنا پڑے گا کیوں کہ یہ لوگ افغانستان چھوڑ کر یورپ ہی کا رخ کریں گے۔ انہی دلائل میں بین السطور یہ کہنے کہ کوشش بھی کی جاتی ہے کہ افغانستان میں معاشی بحران یا سماجی انتشار پیدا ہونے کی صورت میں دہشت گرد عناصر ایک بار پھر مضبوط ہوسکتے ہیں جن سے مغربی ممالک کو براہ راست خطرہ ہوگا۔ سوال ہے کہ کیا اس دھمکی آمیز انتباہ سے امریکہ یا مغربی ممالک کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے؟
موجودہ حالات میں اس کا امکان نہیں ہے۔ امریکی اور اتحادی افواج کی افغانستان میں موجودگی کے دوران حالات مختلف تھے۔ امریکہ افغانستان چھوڑنے کے لئے متبادل انتظامات کی کوشش میں تھا جس کے لئے طالبان سے مذاکرات بھی کئے گئے ا ور ایک معاہدہ بھی ہؤا لیکن اب امریکہ اور طالبان اپنے اپنے طور پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس معاہدہ کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ امریکہ اور اس کے حلیف افغانستان میں سب عناصر پر مشتمل حکومت کے قیام کا وعدہ پورا نہ کرنے اور خواتین کے حقوق نظرانداز کرنے کو طالبان کی طرف سے معاہدہ کی خلاف ورزی کہتے ہیں جبکہ طالبان کا کہنا ہے کہ امریکہ میں افغان فنڈز کو منجمد کرکے معاہدہ کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ یہ فنڈز 9 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں اور طالبان کا کہنا ہے کہ اگر یہ وسائل دستیاب ہوجائیں تو وہ ملکی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرسکتے ہیں۔ تاہم اول تو یہ فنڈز افغانستان کی آمدنی پر مشتمل نہیں ہیں بلکہ امریکہ و دیگر ممالک کی فراہم کردہ امداد کی وجہ سے افغان سنٹرل بنک کی ملکیت میں تھے۔ دوسرے یہ جاننا ضروری ہے کہ طالبان اگر مغربی امداد کے بدلے کچھ سہولتیں فراہم نہیں کریں گے تو انہیں مغرب سے کسی قسم کی اعانت حاصل نہیں ہوگی۔
افغانستان کو اب تین چار دہائی پہلے والی حیثیت حاصل نہیں ہے جب اسے سوویت یونین کے خلاف مزاحمت کا مرکز بنایا گیا تھا۔ اب افغانستان کے ساتھ امریکہ کے کوئی اسٹریٹیجک مفادات وابستہ نہیں ہیں۔ اب یہ دھمکی عالمی توجہ حاصل کرنے کا باعث نہیں بنے گی کہ افغانستان میں بحران سے دہشت گردی فروغ پائے گی یا پناہ گزینوں کی بڑی تعداد دوسرے ملکوں کی طرف روانہ ہوجائے گی۔ افغانستان اس وقت کسی بھی لحاظ سے امریکی مفادات کا مرکز نہیں ہے۔ روس کو انگیج رکھنے کے لئے یوکرائین کا مسئلہ تازہ ہوچکا ہے ۔ اس وقت امریکہ و نیٹو کی پوری توجہ اس طرف مبذول ہے۔ اسی طرح بھارت اور مشرق بعید کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر بحر جنوبی چین میں چین کو چیلنج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ افغانستان سے ابھرنے والا کوئی دہشت گروہ بھی اب عالمی طور سے کوئی بڑا خطرہ نہیں بن سکے گا۔ ایسی کسی صورت میں پاکستان پر دباؤ ڈال کر ایسے عناصر کے خلاف مزاحمت کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
اوسلو کانفرنس کا انعقاد کرنے والوں کو اس وسیع تصویر کا مکمل ادراک ہے۔ یہ خبر نہیں ہے کہ کیا طالبان لیڈر بھی یہ اشارے سمجھتے ہیں۔ انسانی حقوق اور اسلامی اقدار کے دعوؤں کی بحث کی بجائے زیادہ اہم یہ ہے کہ طالبان کی حکومت افغانستان کو ایک بار پھر کیسے اور کیوں کر مغربی و امریکی مفادات کے لئے ناگزیر بنانے میں معاونت کرسکتی ہے۔ اگر طالبان ایسی کوئی سہولت نہیں دیتے اور چین یا روس کے مقابلے میں امریکی مفادات کے فروغ میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کرسکتے تو نہ کسی اوسلو کانفرنس کا فائدہ ہوگا اور نہ ہی طالبان کی دھمکیاں کسی کام آئیں گی۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker