افسانےطلعت جاویدلکھاری

تارا ۔۔ طلعت جاوید ( 1)

وہ اپنا نام تارا لکھتی تھی ۔
نام تو اس کا ستارہ ایوب تھا مگر سب اسے” تارا“ ”تارا“ کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ دستخط کرتے ہوئے خود بھی اردو میں تارا اور انگریزی میں TARA لکھ کر فل سٹاپ کے طور پر ایک چھوٹا سا ستارہ بنا دیتی تھی جو اس کے نام کو اس کی روشن شخصیت کے ساتھ ایک پکا جوڑ لگا دیتا تھا۔ وہ یونیورسٹی میں میری ہم جماعت تھی۔
تارا کے ساتھ میری پہلی ملاقات لگ بھگ چالیس برس قبل ہوئی جب میں سوشیالوجی کے ماسٹرز کے لئے پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ فارم لینے گیا تھا۔ داخلہ فارم لینے کے بعد بہت سے لڑکے اور لڑکیاں کونے کھدروں میں، درختوں کے نیچے گھاس پر بیٹھے یا کیفے ٹیریا کی ماڈرن کرسیوں پر بیٹھ کر اسے پُر کر رہے تھے اور داخلہ فارم کی شِقوں کو سمجھنے کے لئے ایک دوسرے کی مدد بھی حاصل کر رہے تھے۔ میں نے سوچا یہ کام ہم بھی کر لیں گھر جا کر کسی شق کی سمجھ نہ آئی تو دوبارہ اس جنگل میں آنا پڑے گا۔ پنجاب یونیورسٹی کا نیو کیمپس اس وقت جنگل ہی تو تھا۔ چند برس قبل یہ کیمپس شروع ہوا تھا۔ آبادی کے اختتام پر دور دراز پھیلے ہوئے سبزہ زار، یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کی خوبصورت عمارتیں، درمیان میں بہتی ہوئی خوبصورت ندی، ندی میں باندھی ہوئی خوبصورت رنگ برنگی کشتیاں اور ندی کے پار طلبااور طالبات کے ہوسٹل ایک جنت کا سا سماں پیش کر تے تھے۔ فارم حاصل کر کے میں بھی اسے پُر کرنے کےلئے مناسب جگہ کی تلاش کرنے لگا۔ دور سر سبز لان میں گھنے درختوں کے نیچے بنچ رکھے تھے، طلبا اور طالبات کا رُخ اسی طرف تھا لہٰذا میں بھی اسی جانب چل پڑا۔ ایک بنچ خالی ہوا، میں اور ایک لڑکی بیک وقت اس کی طرف لپکے۔ میں جھجھک کر رک گیا، اس نے بنچ پر قبضہ جما لیا اور دوسری طرف رُخ کر کے فارم پُر کرنے لگی۔ وہ بنچ کے ایک کنارے بیٹھی تھی۔ میں نے ”ایکسکیوزمی“ کہا اور بیٹھنے کی اجازت طلب کی۔ اس نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور میں شکریہ ادا کر کے بیٹھ گیا۔ فارم پُر کرنے کےلئے جیب میں قلم تلاش کیا تو قلم ندارد ۔ مَیں ٹھہرا ازلی لاپرواہ، گھر سے قلم لانا ہی بھول گیا تھا۔ اس لڑکی نے پورے انہماک کے ساتھ فارم پُر کیا، کوائف کی نظر ثانی کی پھر مجھے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے دیکھ کر میری طرف متوجہ ہوئی۔ میں اس دوران اس کی محویت سے لطف اندوز ہوتا رہا تھا اور دراصل اس کے قلم کی فراغت کا انتظار کرتارہا۔ وہ کاٹن کے سفید کپڑوں میں ملبوس تھی ۔ گندمی رنگت بڑی بڑی سیاہ آنکھیں، لانبی پلکیں سفید دوپٹے میں سے جھانکتے ہوئے لمبے سیاہ بال۔ اسے لمبی انگلیوں سے تیز تیز فارم بھرتے دیکھتے رہنا اچھا لگ رہا تھا اور میں اسے دیکھنے میں محو تھا ۔ مجھے خالی ہاتھ دیکھ کر اس نے پوچھا ” کیا آپ واقعی داخلہ لینے آئے ہیں ؟ “ پھر خود ہی قلم میری طرف بڑھا دیا۔ کچھ تو فارم طویل تھا کچھ میرا تساہل بلکہ میں خود فارم جلد بھرنے کے موڈ میں نہ تھا۔ وہ جھلا کر کہنے لگی ” مسٹر میں جلدی میں ہوں اور آپ بہتLAZY ہیں یونیورسٹی کھلے تو میرا قلم مجھے واپس کر دیجئے گا “ وہ جانے کےلئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
”جی مِس ضرور ، مگر آپ کا نام ؟“ ”تارا “ بندوق کی گولی کی طرح جواب آیا اور وہ تمکنت سے قدم اٹھاتی روش پر عمارت کی جانب چلنے لگی۔ اس کی چال سبک اورباوقار تھی۔ میں نے کسی لڑکی کو چلتے ہوئے اس قدر محویت سے کبھی نہیں دیکھا۔ اوّل تو اتنی بہتات میں لڑکیوں کو دیکھنے کا یہ پہلا تجربہ تھا اور پھر ڈھنگ سے چلتے ہوئے کب کسی لڑکی کو دیکھا تھا۔ وہی اندرون شہر کی گلیوں میں سمٹی سمٹائی دیواروں سے چپک کر چلنے والی لڑکیاں یا دیواریں اور کوٹھے پھلانگنے والی بے دھڑک لڑکیاں جن کی چال میں کوئی جاذبیت نہیں ہوتی۔ اس لڑکی کی چال میں کوئی بات منفرد ضرور تھی۔ میں اس وقت تک چلتے ہوئے اسے دیکھتا رہا جب تک وہ عمارت کے دروازے میں روپوش نہیں ہو گئی۔
قلم زیادہ بڑھیا نہیں تھا ۔EAGLE کا نیلے رنگ کا عام سا فاؤ نٹین پین تھا ۔ میں نے اسی وقت تہیہ کر لیا تھا کہ یونیورسٹی کھلی تو میں تارا سے اس کے قلم کے گم ہو جانے کا بہانہ کر دوں گا اور یوں میں نے اس قلم کو شناسائیوں کے عجائب خانہ میں جمع کر لیا۔ وہ قلم آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔
اگلے چند ہفتے یونیورسٹی کی تیاری میں صرف ہو گئے۔ ہمارا آبائی گھر اندرون شہر اکبری منڈی میں واقع تھا۔ ابا ملٹری ٹھیکیدار تھے۔ فوج کو اجناس اور گوشت سپلائی کرتے تھے۔ 1971ءکی جنگ کو ایک برس ہو گیا تھا۔ ملک تو دو لخت ہو گیا مگر ابا کے کاروبار میں دن دگنی رات چوگنی ترقی ہوگئی۔ جنگ سے پہلے واجبی سی آمدنی تھی مگر اب دولت کی ریل پیل سی ہو گئی۔ ابا نے گلبرگ کے مہنگے ترین علاقے میں کوٹھی خرید لی۔ خاندان بھر میں یونیورسٹی میں داخل ہونے والا میں پہلا نوجوان تھا۔ ابا نے یونیورسٹی میں آمدورفت کے لئے مجھے ایک نئی نکور فوکسی دلوا دی۔ میرے لئے یہ خوش نصیبی کا دور تھا۔ گلبرگ میں خوبصورت رہائش گاہ ، ذاتی کار ، مہنگے ترین ملبوسات اور اب یونیورسٹی کی مخلوط تعلیم۔ میرے لئے یہ سب نئے تجربے تھے۔
چند ہفتوں کے بعد جب یونیورسٹی کھلی تو میں نہایت طمطراق کے ساتھ یونیورسٹی گیا۔ نیلے رنگ کی بیل باٹم پتلون، گلابی رنگ کی بڑے بڑے کالروں والی شرٹ، کلہاڑی نما بڑی بڑی قلمیں اور لانبے بال۔ اپنی سرخ رنگ کی چمکتی ہوئی فوکسی میں ندی کے پل سے دائیں جانب مڑ کر یونیورسٹی کے گیٹ میں داخل ہوا تو میری نگاہیں لاشعوری طور پر تارا کو تلاش کر رہی تھیں۔ مجھے تارا سے قلم کھو جانے کی جھوٹی معذرت بھی تو کرنا تھی۔
سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں جانے کے لئے فوکسی کو پارکنگ میں چھوڑنا پڑتا جبکہ میں اپنے ملبوسات اور نئی کار سے تارا کو متاثر کرنا چاہتا تھا۔ نرا شہدا پن تھا، نو دولتیوں والا رویہ آج سوچتا ہوں تو اپنی حرکتوں پر شرمندگی ہوتی ہے ۔ میں ابھی تذبذب میں تھا کہ یونیورسٹی کی بس میرے سامنے آن کھڑی ہوئی۔ بس کے اگلے دروازے میں سے اور لڑکیوں کے ہمراہ تارا بھی اتری مگر میرے بار بار ہارن بجانے کے باوجود اس نے میری طرف توجہ نہ دی اور سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی جانب چل دی۔ بادل نخواستہ مجھے بھی اپنی فوکسی پارک کر کے کلاس روم کی طرف جانا پڑا۔ تمام دن سینیئر طلبا کی طرف سے فولنگ اور مذاق کا سامنا کرنا پڑا۔ پروفیسر، ڈین اور ہم جماعتوں سے تعارف کا سلسلہ جاری رہا۔
تارا اپنی سہیلیوں کے جمگھٹے میں تھی۔ ایک بار کوشش کے بعد آمنا سامنا ہوا بھی تو اس کی آنکھوں میں بیگانگی سی نظر آئی۔ مجھے قلم کے فرضی گم ہو جانے کی معذرت کرنا تھی اور کوئی موقع بن نہ پا رہا تھا۔ تارا کو سلام کیا اور پہلی ملاقات کا حوالہ دیا۔ اول تو تارا کو وہ واقعہ یاد نہ آرہا تھا، آیا بھی تو تیز نظروں سے مجھے دیکھ کر کہنے لگی:-
”وہ قلم اسی روز میں نے ضرورتمند سمجھ کر آپ کو بخش دیا تھا ۔“
تارا یہ کہہ کر اپنی سہیلیوں کے ہمراہ کیفے ٹیریا کی جانب چلی گئی اور میں خفیف سا ہو کر نوٹس بورڈ دیکھنے لگا۔ مجھے غصہ بھی آیا کہ یہ سانولی سی لڑکی آخر کس بات پر اتراتی ہے جو مجھے لفٹ نہیں کراتی۔ آخر کیا کمی تھی مجھ میں اچھا خاصا ہینڈسم تو تھا۔ پہلے تو میرا ارادہ تھا کہ تارا کو چھٹی کے وقت لفٹ کی پیشکش کروں گا مگر اس واقعہ کے بعد مجھے ہمت نہ ہوئی۔ مجھے تارا کے ناروا رویے سے مایوسی ہوئی تھی۔ تارا میرے لئے ایک چیلنج سا بن گئی تھی۔ میں تو اپنے خاندان اور جان پہچان کے حلقوں میں سب سے زیادہ سمارٹ اور چاہا جانے والا نوجوان تھا۔ بہت سے والدین کی نظریں مجھ پر تھیں۔ ادھر یہ لڑکی نجانے خود کو کیا سمجھتی تھی کہ نظر تک نہیں اٹھا کے دیکھتی تھی۔
اگلے روز میں اپنی خوبصورتی اور امارت کا تفاخر گھر پر چھوڑ کریونیورسٹی گیا۔ مجھے احساس ہو گیا کہ تارا ملبوسات اور میری نئی کار سے متاثر نہیں ہو گی۔ مجھے اپنی شخصیت میں نہ صرف سادگی اور وقار پیدا کرنے کی ضرورت ہے بلکہ مجھے اپنی تعلیمی استعداد بھی قابل قدر بنانا پڑے گی …. نہ جانے یہ احساس مجھ میں کیوں اور کس جذبے کے تحت پیدا ہو ا کہ اس لڑکی کا دل صرف قابلیت سے جیتا جا سکتا ہے۔ اس روز میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب میں تارا کو ایک قابل ، سنجیدہ اور پر وقار نوجوان بن کر دکھاؤ ں گا ۔
یونیورسٹی کا طریقہ تعلیم اسکول اور کالج سے بالکل مختلف تھا ۔ ایک اسائنمنٹ دے دی جاتی ۔ ہم گروپ کی صورت میں اسے مکمل کرتے اور اپنا اپنا اظہار رائے دیتے اس مقصد کے لئے ہمیں لائبریری سے بھی رجوع کرنا پڑتا تھا۔ میں تارا کے گروپ میں تھا اور وہ گروپ کی لیڈر تھی۔ اب میں مسلسل ایک سنجیدہ طالب علم کا روپ دھارے ہوئے تھا اور تارا کے رویے سے اس طرز عمل کی تعریف اور قبولیت بھی ظاہر ہو رہی تھی۔ میں اب خود بھی محنت کرنے اور اپنے گروپ میں اجا گر ہونے کی سعی میں مصروف تھا۔ دراصل یہ تارا کی نظروں میں قبولیت حاصل کرنے کی کوشش تھی ۔
تیاری کے لئے ہمارے گروپ کی باقاعدہ میٹنگ کیفے ٹیریا میں ہوتی تھی۔ وقفے وقفے سے چائے منگوائی جاتی۔ میرا تعلق چونکہ ایک متمول گھرانے سے تھا ہمارے گروپ کے اکثر طلبا چائے کے ساتھ پیسٹری ، سینڈوچ اور پیٹیس کی فرمائش کر دیا کرتے تھے۔ میں چاہتا تھا کہ کبھی ایسی فرمائش تارا کی طرف سے آئے مگر وہ اس حق میں تھی کہ ہر کوئی اپنا اپنا بل خود ادا کرے۔ ایک روز میں کیفے ٹیریا میں بیٹھا اپنے گروپ کے طلبا کا انتظار کر رہا تھا کہ دور سے تارا آتی ہوئی دکھائی دی۔ میں بادی النظر میں اس کے خوبصورتی سے چلنے کے انداز میں کھویا ہوا تھا۔ تارا نے مجھے یوں محویت سے دیکھتے انداز کو محسوس کرتے ہوئے کہا :-
” فاروق کیا میں کوئی غیر مناسب لباس پہن کر آ گئی ہوں جو آپ مجھے یوں دیکھ رہے ہیں؟“
میں کھسیانا سا ہو گیا ” نہیں دراصل آپ کے چلنے کا انداز بیحد خوبصورت ہے میں اس میں کھو گیا تھا۔“
” کیا مطلب؟“ تارا تیور ی چڑھا کر بولی اور مسکراتے ہو ئے کہا ” فاروق آپ فی الحال پڑھائی کی طرف توجہ دیں …. چال ڈ ھال پر غور مت کریں …. یہ بری بات ہے ۔“تارا نے مجھے ڈانٹا ضرور تھا مگر اس کے لہجے میں تلخی نہ تھی۔
” میں د راصل آپ سے کچھ کہنا چاہ رہا تھا ۔“
میں نے لوہا پگھلتے دیکھ کر سوال کیا ۔
اسی اثنا میں ہمارے گروپ کی کچھ لڑکیاں آگئیں اور میں تارا سے کوئی بات نہ کر سکا۔
پہلے سمسٹر کا خاطر خواہ نتیجہ آیا۔ تارا ڈیپارٹمنٹ میں اول اور میں دوم آیا تھا۔ یونیورسٹی میں داخلے کے وقت میں واجبی سی تعلیمی استعداد رکھتا تھا۔ تارا کی شخصیت میرے لئے ایک روشنی کا مینار ثابت ہو رہی تھی۔
سر صدیقی ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے ڈین تھے۔ ایک روز کلاس میں لیکچر کے دوران وہ مجھ سے مخاطب ہو ئے
”فاروق آپ کلاس کے بعد میرے دفتر آئیں۔ “
میں بے حد پریشان ہوا۔ دل میں خیال آیا کہ کوئی غلطی ہو گئی ہے اور سر صدیقی تادیبی کاروائی کر نا چاہتے ہوں گے۔ کلاس کے تمام لڑکے اور لڑکیاں پوچھ رہے تھے کہ سر صدیقی نے کیوں بلایا ہے ؟ کلاس کے بعد میں اس قدر بوکھلایا ہوا تھا کہ تارا سے مدد کی درخواست کرنے لگا۔
” کیوں بھئی …. میں کیا مدد کر سکتی ہوں؟ انہوں نے بلایا تو چلے جاؤ ڈرتے کیوں ہو ؟“
ٍ ” تم ساتھ چلی آؤ نا ! “ میں نے تارا سے درخواست کی ۔
” کیوں بھئی! میں کس حساب میں ساتھ چلی آؤ ں؟ …. تم خود جاؤ اور ان کی بات سن لو ڈرتے کیوں ہو؟“تارا بولی۔
میں نے ڈرتے ڈرتے سر صدیقی کے دروازے پر دستک دی ” یس ….آجاو پلیز کم ان “ سر صدیقی کی با رعب آواز گونجی میں نے ذرا سا دروازہ کھولا اور اندر جھانکا۔
” ہاں بھئی کون ہے یہ تانک جھانک کیوں کر رہے ہو ؟ “
میں دروازہ کھول کر اندر چلا گیا ۔ سر صدیقی میری رپورٹ سامنے رکھے بیٹھے تھے۔
” بیٹھ جاؤ “ میں بیٹھ گیا۔
” بھئی تم اور مس تارا ایک ہی گروپ میں کیوں ہو ؟“
میرے پیروں تلے زمین نکل گئی …. ”مارے گئے…. انہیں کیسے علم ہوا “ میں نے سوچا۔ میرے جسم پر پسینے کی یورش سی ہوئی …. مجھے کوئی جواب نہ سوجھ رہا تھا۔
” بھئی تم دونوں قابل اور محنتی سٹوڈنٹ ہو اگر الگ الگ گروپ میں چلے جاؤ تو کسی اور کا بھی فائدہ ہو جائے ۔“
میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا کہ یہ مجھے مس تارا کے گروپ سے الگ کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ میں نے سماجت کے انداز میں کہا :
”سر مہربانی فرمائیں مجھے مس تارا کے گروپ میں ہی رہنے دیں آپ کو کبھی کوئی شکایت نہ ملے گی۔“
” کیا مطلب ؟ کیسی شکایت ؟ ارے بیوقوف کسی اور کا بھی فائدہ ہونے دو “ سر صدیقی بولے
” فائدہ ؟ سر کیسا فائدہ ؟“ میں گھبرا کر بولا
”ارے تعلیمی فائدہ اور کیسا فائدہ …. تم تو نری گاؤ دی ہو “
اگلے روز سر صدیقی نے واقعی کلاس میں اعلان کر دیا کہ فاروق کو دوسرے گروپ کا لیڈر بنا دیا گیا ہے …. اب تارا اور فاروق کے گروپ کا مقابلہ ہو گا۔
کلاس میں سب نے مبارک باد دی۔ مجھے دیر سے احساس ہو ا کہ سر صدیقی کس فائدے کی بات کر رہے تھے ۔
پچھلے بنچوں سے کسی نے آوازلگائی
” بٹ صاحب مٹھائی ہو جائے “
سر صدیقی استہزائیہ انداز میں مجھے گھورتے ہوئے بولے ” اچھا یہ بٹ صاحب ہوتے ہیں …. تبھی ۔“ پوری کلاس اس جملے کے سیاق وسباق نہ جانتے ہوئے بھی ہنس پڑی ۔
تارا بھی مسکرا رہی تھی ۔ کلاس ختم ہونے کے بعد تارا خاص طور پر میری جانب آئی، ایک ہونہار طالبعلم کی اپنے گروپ سے علیحدگی پر افسوس کیا اور مجھے مبارکباد دی ۔
” مجھے آپ کی راہنمائی کی ہمیشہ ضرورت رہے گی“ میں نے تارا سے کہا ۔
” کیوں نہیں …. کیوں نہیں ہم دونوں …. یعنی دونوں گروپ “ تارا نے وضاحت کی ” مل کر کام کریں گے “
میں اس روز بےحد خوش تھا۔
چھٹی کے بعد یونیورسٹی سے نکلا تو تارا بس کے انتظار میں کھڑی تھی۔ میں نے لا شعوری طور پر کار تارا کے سامنے روک دی۔ لمحہ بھر تارا نے سوچا اور پھر دروازہ کھول کر کار میں بیٹھ گئی۔
” ایک تو فوکسی میں پچھلی سیٹ کا دروازہ نہیں ہوتا“ تارا خود کلامی کے انداز میں بولی ۔
” جی دراصل فوکسی کے دو ہی دروازے ہوتے ہیں “ میں نے اپنی علمیت جھاڑی ۔
” میں گورو مانگٹ میں رہتی ہوں آج ہمارے گھر میں ایک تقریب ہے مجھے جلد پہنچنا تھا اس لئے آپ کے ساتھ بیٹھ گئی ہوں جہاں آسان لگے …. رکشہ نظر آئے مجھے اتار دیجئے گا ۔“
” میرے لئے اس سے بڑی سعادت کیا ہو سکتی ہے “ میں نے خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوئے کہا ۔
کار فراٹے بھرتی ہوئی گورو مانگٹ کی جانب چل پڑی۔
”مس تارا میں نے آپ سے ایک بات کرنا تھی۔“
مَیں نے موقع کی مناسبت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا۔
”ہاں کہیے! آپ ایک روز پہلے بھی کچھ کہنا چاہ رہے تھے۔“ تارا بولی۔
”جی دراصل ہمارے گھر میں قطعی تعلیمی ماحول نہیں ہے۔ مجھے مسلسل سرپرستی کی ضرورت رہتی ہے …….. مَیں آپ سے بیحد متاثر ہوں …….. کیا یہ ممکن ہے کہ “تارا نے میری بات کاٹ دی۔
”دراصل والدین ہی بہتر سرپرستی کر سکتے ہیں …….. آپ ان سے بات کیوں نہیں کرتے؟“
”جی نہیں مَیں شاید آپ کو سمجھا نہیں سکا …….. والدین والی سرپرستی نہیں …….. دراصل جیسی آپ کر سکتی ہیں۔“ مَیں منمنا کر بولا۔ تارا مسکرا کر بولی۔
”ہاں ضرور مَیں یونیورسٹی کے اوقات میں جب بھی موقع ملا آپ کی سرپرستی ضرور کر دیا کروں گی …….. ٹھیک ہے نا؟“
”اب آپ دھیان سے گاڑی چلائیں۔“
”جی ٹھیک ہے۔“
اور مَیں دھیان سے گاڑی چلانے لگ گیا۔
( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker