ادبطلعت جاویدلکھاری

” شاخِ غزل “ میں ماہ طلعت زاہدی کی زندگی کی جھلک ۔۔ طلعت جاوید

ڈاکٹر اسد اریب اور ماہ طلعت زاہدی نے جب شاخِ غزل پر اظہارِ رائے کی دعوت دی تو مجھے ایک خوشگوار حیرت ہوئی کہ ایک مستند شاعر کے کلام پر جو سالہاسال ڈاکٹر صاحب کی ادبی کٹھالی میں جِلا پاتا رہا ہو، مَیں اس پر اظہارِ رائے کے قابل کیسے ٹھہرا؟ مَیں نقاد ضرور ہوں مگر کاروباری کھاتوں کا، بطور آڈیٹر اظہارِ رائے ضرور دیتا ہوں مگر نفع و نقصان اور جمع خرچ کی دستاویزات کی، شاعری پر اظہارِ رائے میرے لیے نئی بات تھی۔
مَیں ہمیشہ روشن پہلو کی تلاش میں رہتا ہوں اور وہ مَیں نے تلاش کر لیا۔ ڈاکٹر اسد اریب اور محترمہ ماہ طلعت غالباً یہ چاہتے تھے کہ مَیں ایک عام قاری کی حیثیت سے اس کتاب کو دیکھوں اور اس پر اظہارِ خیال کروں لہٰذا مَیں نے بخوشی حامی بھر لی۔
ایک خوبصورت تقریب میں جہاں نامور شعراء ، نقاد اور باذوق سامعین تشریف فرما تھے مجھے اپنی کم مائیگی اور ادب میں کم علمی کا شدت سے احساس ہوتا رہا لیکن کم علمی کبھی کبھار رحمت بھی ثابت ہوتی ہے۔ کہا گیا ہے:
Ignorance is blessing.
قدرت نے ہمیں لاتعداد نعمتوں سے مالامال کر رکھا ہے مگر ہم ایک حد تک ہی ان نعمتوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ ہمارا علم ان نعمتوں کے سلسلے میں بے حد محدود ہے۔ ہم اگر آنے والے کل کی حقیقت جان جائیں تو ہمارا آج بھی تفکرات کی نذر ہو جائے گا۔ خدا نے ہمیں صرف اسی قدر قوت سماعت دی ہے جو خود ہمیں ناگوار نہ گزرے۔ قوت گویائی صرف اسی قدر عطا کی ہے جو دوسروں کو ناگوار نہ گزرے۔ ہمیں بینائی صرف اسی قدر عطا کی ہے جو ہماری ضروریات کے لیے کافی ہو۔ اگر ہم دیواروں کے پار دیکھ سکتے، کھانے اور پانی میں ملے لاکھوں جرثومے اور خوبصورت مسکراہٹوں میں پنہاں لاتعداد وائرس دیکھنے کی صلاحیت رکھتے تو ہماری زندگی اجیرن ہو جاتی۔ یہ ہماری کم علمی اور کوتاہ بینی کی رحمت ہی ہے کہ ہم بادلوں میں خوبصورت بارہ دریاں اور محرابیں تلاش کر لیتے ہیں اور گھنٹوں ان میں کھوئے رہتے ہیں۔ ملتان کے لق و دق میدانوں میں کبھی ساون کی گھٹائیں چڑھیں تو نانگا پربت اور K-2 کے خوبصورت مناظر نظر آ جاتے ہیں۔ شاخِ غزل سے ایک شعر عرض ہے:
گھٹائیں جھوم کے اٹھیں گی اپنے خوابوں کی
ہم ان کی چھاؤ ں میں خود کو نہال دیکھیں گے
ڈاکٹر اسد اریب اور ماہ طلعت زاہدی کا مجھے اظہار کے لیے کہنا غلط نہیں تھا۔
شاخِ غزل ایک خوبصورت شعری مجموعہ ہے۔ شاعری کا یہ تجربہ ربع صدی پر محیط ہے۔ تمام غزلیں بڑے ادبی مجلوں میں وقتاً فوقتاً چھپتی رہی ہیں اور شرفِ قبولیت کی سند لیے ہوئے ہیں۔ 1978ءسے 2003ءتک لکھی گئی غزلوں میں کشادہ دریاؤ ں جیسی روانی، ٹھہراؤ اور توازن ہے۔ کچھ سالوں میں لکھی گئی غزلوں کی تعداد 2 سے 8 تک ہے جبکہ 2003ءمیں لگ بھگ 20 غزلیں کہی گئیں یا ان کی اشاعت ہوئی۔ معلوم نہیں لکھی جانے والی تمام غزلیں اس مجموعہ کی زینت بن سکیں یا ان میں سے کچھ شامل نہیں ہو سکیں۔ ایک چیز بہرحال واضح ہے کہ تمام غزلیں نہایت عمدہ اسلوب اور پیرائے میں لکھی گئی ہیں اور شاعرہ اپنے دل کی آواز قارئین تک پہنچانے میں کامیاب رہی ہیں۔ شاعری میں بعض اوقات لغت کے اعتبار سے بھاری بھرکم الفاظ کا استعمال شعر کے تسلسل اور مفہوم پر گراں گزرتا ہے لیکن ماہ طلعت کی شاعری میں ایسا نظر نہیں آتا۔ مَیں نے خاص طور پر اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ ڈاکٹر اسد اریب کا شریک روز و شب ہونا محترمہ ماہ طلعت کی شاعری پر اور اشاعت سے پہلے اس کی نوک پلک سنوارنے پر کیسے اثر انداز ہوا ہے۔ مَیں نے تمام غزلوں کو ان کی اشاعت کے سال کی نسبت سے دیکھا تو محسوس کیا کہ محترمہ ماہ طلعت کی شاعری اپنا اصلی رنگ لیے ہوئے ہے۔ 25 سالوں میں البتہ مزاج میں آنے والی پختگی غزل لکھنے کے انداز میں بہرحال ضرور فرق لائی ہے۔ شروع کے سالوں میں لکھی گئی غزلیں ایک بے ساختہ پن لیے ہوئے ہیں، ان میں معصومیت، آرزوئیں، تمنائیں، رنگ برنگی قوس و قزح اور خوبصورت خوابوں کے رنگ ہیں اور یہ رنگ 2003ءتک قائم رہتا ہے۔ مثلاً 1981ءکی ایک غزل:
تری پہچان کے ساگر میں اترنا تھا مجھے
تجربے سے تو بہرحال گزرنا تھا مجھے
اب کوئی ہاتھ بھی تھامے تو بھلا کیا حاصل
تند لہروں سے نکل کر تو ٹھہرنا تھا مجھے
پھول بننے کی ہوس میرے بدن میں جاگی
گرچہ بے سمت ہواؤ ں میں بکھرنا تھا مجھے
1983ءکی ایک غزل:
باقی کچھ بھی رہا نہیں ہے
اور یہ غم بھی نیا نہیں ہے
ان آنکھوں میں خواب تھا میرا
بوجھ یہ دل سے ہٹا نہیں ہے
شوق کا دامن کیسے چھوڑوں
خون رگوں میں جما نہیں ہے
کتنی بار پکارا کس کو
سناٹے نے سنا نہیں ہے
گزر گئی بے تابی حد سے
اب ہونٹوں پر دُعا نہیں ہے
1990ءکے بعد ماہ طلعت کی شاعری میں ان خصوصیات کے علاوہ پختگی بھی آ جاتی ہے۔ تمام غزلیں ہر اعتبار سے اعلیٰ درجہ کی ہیں اور ان میں بیک وقت ایک معصوم لڑکی اور ایک پختہ کار شاعر کی جھلک نظر آتی ہے۔
محترمہ ماہ طلعت اور ڈاکٹر اسد اریب میں جس قدر ہم آہنگی پائی جاتی ہے مَیں تصور کر سکتا ہوں کہ انہیں شاعری کے لیے کتنا موزوں ماحول ملتا ہو گا۔ مجھے یقین ہے کہ ہر گھر میں ہونے والی ”آج کیا پکائیں“ کی ناخوشگوار بحث بھی ڈاکٹر صاحب کے ہاں خوبصورت قافیہ ردیف سمیت نہایت خوش اسلوبی سے طے پا جاتی ہو گی۔
پچھلے دنوں جب ڈاکٹر صاحب اور محترمہ ماہ طلعت کئی ماہ یورپ میں گزارنے کے بعد اور پھر کشمیر کی خوبصورت وادیوں میں چند ہفتے سیر و تفریح کے بعد واپس لوٹے تو ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ مَیں نے محترمہ سے شرارتاً ایک سوال کیا کہ وہ اپنی شاعری میں الفاظ کے استعمال کے سلسلے میں ڈاکٹر صاحب سے مشورہ پر من و عن عمل کرتی ہیں؟ دونوں کے درمیان نہایت شائستہ گفتگو کے بعد معلوم ہوا کہ مشورہ سن تو ضرور لیتی ہیں مگر اپنے اندازِ بیاں میں اسے حائل نہیں ہونے دیتیں اور ڈاکٹر صاحب اس سلسلے میں زیادہ اصرار بھی نہیں کرتے۔ ڈاکٹر صاحب کی عظمت میرے دل میں اور بڑھ گئی۔ اس مجموعہ پر میری واحد تنقید یہ ہے کہ اس نے کتابی شکل اختیار کرنے میں بہت تاخیر کر دی۔
فنون لطیفہ جب تک سامنے نہ آئیں وہ ایک گمشدہ خزانے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آج کے دور میں جب کتابیں پڑھنے والے ڈھونڈے سے نہیں ملتے ضرورت اس بات کی ہے کہ تخلیقات کو زیادہ عرصہ اندھیرے میں نہ رکھا جائے۔ خوبصورت تصویر فوراً دیکھنے والے کو اپنی طرف مائل کر لیتی ہے۔ خوبصورت افسانہ جب تک پڑھا نہ جائے وہ منظرِ عام پر نہیں آتا۔ جب وہ ڈرامہ کی شکل اختیار کر لے تو فوراً اپنا آپ منوا لیتا ہے۔ خوبصورت غزل ایک اچھی گائیکی کی صورت میں جلد مقبول ہو جاتی ہے۔ اگرچہ ڈرامے اور گائی ہوئی غزل شعراءاور افسانہ نویس کے لیے ادب کو کمرشل ازم میں تبدیل کرنے کے مترادف سمجھے جاتے ہیں لیکن قارئین بھی یہ حق رکھتے ہیں کہ اپنی تخلیقات ان تک پہنچائی جائیں اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ادب پر قدغنیں لگانے کی بجائے اسے عوام الناس میں مقبول کیا جائے۔
آج کے دور میں شاعری کی کتابیں خریدنے والے بھی زیادہ تر نوجوان طبقہ ہیں جو ہمارا مستقبل ہیں اور اگر وہ شاخِ غزل جیسی خوبصورت کتابوں میں اپنے مطلب کے شعر تلاش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کی خواہش کا احترام کرنا چاہیے۔
محترمہ ماہ طلعت کی کتاب اگر پہلے مارکیٹ میں آ جاتی تو شاید ہمارے بھی بہت سے بگڑے ہوئے کام سنور جاتے۔ یہ کتاب بلاشبہ ادب کی دنیا میں ایک بیش قیمت اضافہ ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker