ماہ طلعت زاہدی کی موت پر میرا لکھنا ایک قرض تھا جو ایک عرصے سے مجھ پر واجب الادا تھا ۔تاخیر کی وجہ کیا ہوئی؟ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔ شاید اُس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ میں نے ابھی تک اُن کی موت کو تسلیم ہی نہیں کیا کہ میں نے ہمیشہ ماہ طلعت زاہدی کو زندگی سے بھر پور قہقہے لگاتے ہوئے دیکھا تو ایسے میں اُن کی موت پر لکھنا نہ صرف مشکل بلکہ بہت ہی مشکل ہو جاتا ۔میری اُن سے آخری ملاقات فروری میں ہوئی جب میں اور رضی اُن کے گھر گئے۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے چائے کی پرتکلف میز سجائی‘ ڈرائی فروٹ‘ بسکٹ‘ نمکو کے ساتھ ڈاکٹر اسد اریب کے ساتھ چٹ چیٹ نے محفل کو اور بھی خوبصورت بنا دیا تھا۔ حوصلہ مند اتنی تھیں کہ تب تک انھیں معلوم ہو چکا تھا کہ وہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو چکی ہیں لیکن زندگی و موت کی اُس جنگ میں وہ زندگی کے ساتھ کھڑی تھیں کہ انہیں یقین کامل تھا کہ وہ موت کو شکست دے کر ایک مرتبہ پھر شاعری‘ تنقید اور تحقیق کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گی لیکن یہ سب کچھ دھرا ہی رہ گیا جب موت نے ماہ طلعت زاہدی کا اُس طرح سے تعاقب کیا کہ وہ ہم سے اچانک بہت دور چلی گئیں۔
ماہ طلعت زاہدی کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جہاں انہیں بچپن سے ہی کاغذ قلم کی وابستگی میسرآئی۔ اُن کے والد ڈاکٹر مقصود زاہدی خاکہ نگار‘شاعر‘ یاد نگار‘ افسانہ نگاراورنقاد کی حیثیت سے اردوادب میں معتبر مقام رکھتے ہیں۔ ترقی پسند تحریک کے ساتھ ڈاکٹرصاحب کی وابستگی غیرمشروط تھی ۔ماہ طلعت زاہدی کے بھائی ڈاکٹرانور زاہدی بھی شاعری‘ افسانے اورتراجم کے حوالے سے اردو ادب کا معتبرحوالہ ہیں۔ ماہ طلعت زاہدی 8 ستمبر 1953ء کوملتان میں پیدا ہوئیں ۔ اُن کی ایک علمی ادبی ماحول میں پرورش ہوئی ۔ماہ طلعت نے1967ء میں گورنمنٹ گرلز سکول نواں شہر سے میٹرک کیا ۔گرلزڈگری کالج کچہری روڈ ملتان سے 1969ء میں ایف اے اور1972ء میں بی اے کا امتحان پاس کیا۔1977ء میں ایمرسن کالج بوسن روڈ سے ایم اے اردوکیا۔ماہ طلعت زاہدی نے زمانہ طالب علمی سے ہی شعر کہنا شروع کر دیا ۔ادبی محافل اورمشاعروں میں اُن کی شرکت نہ ہونے کے برابررہی لیکن انہوں نے مشاعروں میں شرکت کئے بغیر بہت باوقار اندازمیں ادبی حلقوں سے اپنی صلاحیتوں کا اعتراف کرایا اور ناقدین اَدب سے بھرپور داد وصول کی۔ 2000ء میں نامور ماہر تعلیم‘ نقاد اورمحقق ڈاکٹر اسد اریب اُن کے رفیق حیات بنے جس کے بعد ماہ طلعت زاہدی کی کتابوں کی اشاعت بھی شروع ہوئی ۔ اُن کی نظموں کے دو‘ غزلیات اورسہ حرفیوں کا ایک ایک مجموعہ شائع ہوچکاہے جبکہ سفرنامہ انگلستان‘ تاب نظارہ نہیں کے نام سے منظرعام پر آیا تھا ۔راجہ بھرتری ہری ‘ رابندرناتھ‘ ٹیگور‘ عمرخیام‘ واحد بشیر‘کبیرداس‘ میرابائی کے بارے میں مضامین پرمشتمل اُن کی ایک اور کتاب بھی اشاعت کی منتظرہے۔ ماہ طلعت زاہدی کی مطبوعہ کتابوں میں روپ ہزار‘ شاغ غزل‘ میں کیسے مسکراتی ہوں؟‘تین مصرعوں کاجہاں اور تاب نظارہ نہیں شامل ہیں ۔ ماہ طلعت زاہدی ملتان کی فعال ترین ادبی بیٹھک کی تاسیسی رکن تھیں اور گاہے گاہے اُس کے اجلاسوں میں شریک ہوتی تھیں۔
ماہ طلعت زاہدی کا پورا گھرانہ علم و ادب کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اُن کے والد گرامی ڈاکٹر مقصود زاہدی قیام پاکستان سے پہلے بطور ادایہ نویس کے دو اخبارات کے لیے کام کرتے تھے۔ لطف کی بات یہ تھی کہ ایک اخبار مسلم لیگ کا ترجمان اور دوسرا اخبار کانگریس کا حامی۔ ڈاکٹر مقصود زاہدی روزانہ اُن دونوں اخبارات کی پالیسی کو سامنے رکھ کر دو مختلف اداریے تحریر کرتے تھے۔ پاکستان میں رباعی کے حوالے سے وہ بڑا نام تھے‘ سیاسی شخیصات کے خاکے بھی لکھے‘ تنقید اور تحقیق کے میدان میں اپنے جوہر دکھاتے رہے ۔ ملتان میں اُن کا گھر اور کلینک دوستوں کےلئے کسی نعمت سے کم نہ تھے کہ پورے پاکستان سے اہل ِعلم ملتان آنے پر سب سے پہلے انہی سے رابطہ کرتے۔ میری جناب فارغ بخاری‘ عطاشاد‘ اسرار زیدی‘ شہزاد احمد اور دیگر نامور اہلِ علم سے انہی کے ہاں پہلی ملاقات ہوئی۔وہ انتہائی خوش اخلاق اور خوش لباس فرد کی حیثیت سے اپنی پہچان رکھتے تھے۔ اُسی طرح اُن کے بیٹے اور نامور ادیب‘ شاعر‘ افسانہ نگار اور مترجم ڈاکٹر انور زاہدی نے ادب کے مختلف شعبوں میں نام کمایا۔ ڈاکٹر مقصود زاہدی کی موت کے بعد ڈاکٹر انور زاہدی اور ماہ طلعت زاہدی نے اپنے والد گرامی کے چھوڑے ہوئے ادبی ورثہ کو آگے بڑھایا‘ اور خوب آگے بڑھایا ۔ چند سال پہلے ڈاکٹر انور زاہدی کو گردوں کی تکلیف ہوئی تو ملتان کا گرم موسم چھوڑ کر اسلام آباد منتقل ہو گئے جب بیٹے نے ہجرت کی تو پھر والدین اور بہن ماہ طلعت زاہدی کو بھی ملتان چھوڑا پڑا۔ ہمارا جب بھی اسلام آباد کسی کانفرنس یا تقریب میں جانا ہوتا تو وہاں ڈاکٹر مقصود زاہدی‘ ڈاکٹر انور زاہدی اور ماہ طلعت زاہدی سے لازمی ملاقات ہو جاتی۔
ملتان کے احباب کا تذکرہ ہوتا تو وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوتا پھر ادبی حلقوں کےلئے اُن کی ڈاکٹر اسد اریب کے ساتھ شادی بہت بڑی خبر تھی ۔ ڈاکٹر اسد اریب نے بھی اُن کے ساتھ سیر وتفریح کا کوئی موسم نہ جانے دیا‘ اُس شادی کے بعد ہم نے جب بھی کبھی ڈاکٹر اسد اریب سے رابطہ کیا تو معلوم ہوتا تھا کہ دونوں کبھی شمالی علاقوں میں ہیں تو کبھی یہ علم ہوتا کہ وہ بیرون ملک گئے ہوئے ہیں ۔ ایک مرتبہ کتاب کی اشاعت کے سلسلہ میں کتاب نگر تشریف لائے تو میں نے ماہ طلعت زاہدی کو بھابی کہہ دیا تو ایک دم سے ڈاکٹر اسد اریب کو متوجہ کر کے کہنے لگی مجھے تو شاکر صاحب کا بھابی کہنا بہت اچھا لگا! آپ کو کیسا لگا؟ ڈاکٹر صاحب زیر لب مسکرائے اور کہنے لگے جو بات آپ کوپسند ہو تو ہمیں کیسے نا پسند ہو سکتی ہے!
ماہ طلعت زاہدی کا علمی مرتبہ طے کرنے کےلئے آنےوالے دنوں میں اہلِ علم وادب جو کام کریں‘ وہ بہت اہم ہو گا‘ خاص طور پر ماہ طلعت زاہدی نے زندگی کے آخری برسوں میں اپنی خود نوشت‘خاکے اورتحقیقی اعتبار سے جو کچھ لکھا وہ بھی خاصے کی تخلیقات ہیں ۔ ماہ طلعت زاہدی نے ایک بھر پور زندگی گزاری اور پھر اچانک بیمار ہوئیں‘ نہ کہیں دعائے صحت کی اپیل آئی نہ کسی نے عیادت کی‘ کورونا کے موسم میں اُن کی رخصتی ہوئی‘ دوست احباب گھروں میں قید تھے اور ماہ طلعت زاہدی ہمیں کہہ رہی تھیں ۔
بے کہے ‘ بے سنے خدا حافظ
جو بھی گزرے اسے خدا حافظ
درد رک بھی گیا اگر تو کیا
ہے اجل سامنے خدا حافظ
لغزشیں سب معاف ہوں میری
وقت عجلت میں ہے خدا حافظ
ِِاِتنی ناراضگی، ارے توبہ!
وہ بھی بیمار سے!خدا حافظ
کم سے کم مڑ کے دیکھئے صاحب
زندگی کہتی ہے خدا حافظ
درد ہے یا ہے موت کی دستک
بے بسی کیا کرے‘ خدا حافظ
کارِ دنیا تو ختم ہوتا نہیں
کہنا ہی پڑتا ہے خدا حافظ
(بشکریہ: روزنامہ خبریں )
فیس بک کمینٹ

