افسانےزعیم ارشدلکھاری

زعیم ارشد ۔۔ مافیا

یہ ان دنوں کی بات ہے جب محلے داریاں عروج پر تھیں اور لوگ تعلقات صداقت و ایثار کے ساتھ نبھاتے تھے اور بلا تفریق ایک دوسرے کا مان رکھتے ۔ میں اس زمانے میں چوتھے یا پانچویں درجے میں پڑھتا تھا۔ ان دنوں ہماری گلی میں مغرب کے کچھ دیر بعد ایک گداگر لڑکا جو میرا ہم عمر ہی ہوگا اپنا نام ناصر بتاتا تھا دروازہ بجا کر کھانا مانگا کرتا تھا۔ اس زمانے میں گداگر پیسوں سے زیادہ کھانا مانگ کر لے جاتے تھے۔ وہ عمومی گداگروں سے الگ ایک خوش شکل لڑکا تھا، بات چیت بھی بہت ہی سلیقہ سے کرتا تھا، کیونکہ وہ روز آتا تھا اور میری ذمہ داری تھی کہ کھانا وغیرہ گھر والوں سے لے کر اس کے حوالے کروں تو روز کچھ نہ کچھ بات ہوتی تھی۔ میں جب اسے سالن روٹی دیتا تھا تو وہ روٹی ایک جھولے میں ڈال لیتا تھا اور سالن ایک دھاتی بالٹی میں ڈال لیتا تھا۔ میں اس سے پوچھتا تھا کہ اس میں تو پہلے ہی سے بہت سے سالن پڑے ہیں یہ بھی اسی میں ملا دیا تو کیا مزہ آئے گا تو ہنس کر کہتا تھا کہ آپ کو کیا پتہ اس میں جو مزہ ہے وہ کسی اور میں نہیں۔
وہ کتوں سے بچنے کے لئے ایک بہت عمدہ سی قریب پانچ فٹ کی لکڑی اپنے ہاتھ میں رکھتا تھا ، کچھ دن میں مجھ پر انکشاف ہوا کہ وہ تو بنوٹ یعنی پٹہ لکڑی چلانے کا ماہر ہے، اس نے کئی ہاتھ تو مجھے بھی چلانا سکھا دیئے تھے۔ کچھ سال اسی طرح گزرے تھے کہ یکایک اس نے آنا بند کردیا ، اور اس کی جگہ ایک اور بچہ جو ویسا نہ تھا آنے لگا، ایک دن جب میں بس میں دوسرے شہر جا رہا تھا تو بس درمیان میں رکی، اس زمانے میں بسیں درمیان میں رکا کرتی تھی، کیونکہ بسیں لوکل ہوا کرتی تھیں اور اتنی آرامدہ اور ایئر کنڈیشنڈ نہیں ہوتی تھیں ، جتنی کہ آج ہیں تو وہ مسافروں کو کچھ راحت دینے کیلئے آدھے راستے پر دس پندرہ منٹ کا ایک وقفہ دیتے تھے، کہ اگر نماز کا وقت ہے تو نماز پڑھ لے ، کوئی چائے پی لے یا ٹانگیں سیدھی کرلے۔ یہاں سے جب بس چلتی تھی تو عموما چندہ مانگنے اس میں چڑھ جاتے تھے، آج بھی ویسا ہی ہوا، مگر اس بار جو کچھ میں نے دیکھا اس نے مجھے بری طرح چونکا دیا، وہ مجھے ہائے وے پر بس میں مسجد کا چندہ مانگتا ہوا ملا، اس نے نہایت صاف کپڑے پہن رکھے تھے چہرے پر تھوڑی تھوڑی ڈاڑھی نکل رہی تھی اور حلیہ سے وہ کسی مدرسہ کا طالب علم لگ رہا تھا۔
میں اسے دیکھتے ہی چیخ پڑا مگر اس نے مجھے یکسر نظر انداز کردیا اور انجان بن کر پاس سے گزر گیا ، برا تو مجھے بہت لگا مگر خاموش رہا، دوسرے دن شام کو وہ گھر آیا تو نئی موٹر سائیکل پر سوار تھا، اس زمانے میں لوگوں کے پاس سائیکل نہیں ہوتی تھی اور وہ موٹر سائیکل پر تھا۔ کہنے لگا کہ میں آپ سے معافی مانگنے آیا ہوں، میں نے کہا کہ بھائی کوئی بات نہیں یہ کیا ماجرا ہے تو اس نے بتایا کہ اس کی ترقی ہو گئی ہے اور وہ اب گلی گلی مانگنے کے بجائے ہائے ویز پر مساجد کا چندہ جمع کرتا ہے۔ میری حیرت کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا کہ اگر آپ کے پاس کچھ وقت ہے تو میرے ساتھ چلیں میں آپ کو کچھ اور بھی دکھاتا ہوں۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے میں ذرا والدہ کو بتا دوں۔ اس کے بعد وہ مجھے اپنی موٹر سائیکل پر بٹھا کر اپنے ڈیرے پر لے گیا۔ وہ ایک غیر قانونی قبضہ کی گئی بہت بڑی جگہ تھی ، جس میں بہت ہی بڑا صحن تھا وہ مجھے اپنے ساتھ اندر لے گیا، اندر بہت ساری چارپائیاں بچھی تھیں اور لوگ لیٹے مزے سے رنگین ٹی وی کے مزے لوٹ رہے تھے، اس زمانے میں خود ہمارے گھر میں رنگین ٹی وی نہ تھا، میں حیرت زدہ سوچ میں گم تھا کہ اس نے کہا کہ ہم بازار سے دودھ خرید کر نہیں استعمال کرتے ہیں بلکہ یہ بھینسیں پال رکھی ہیں۔ وہ سب نہایت خوشحال اور بے فکرے لگ رہے تھے بلکہ کچھ کچھ تو ان میں سے بدمعاش اور داداگیر لگ رہے تھے۔ اس کے بعد اس نے میری خاطر کرنے کی کوشش کی جو میں نے رد کردی کہ یار امی انتظار کررہی ہوں گی تم مجھے واپس گھر چھوڑ دو، وہ مجھے واپس گھر چھوڑ گیا مگر میرے دل میں ایک کسک سی رہ گئی کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ یہ تو گلی گلی کھانا مانگا کرتا تھا آج کیا ٹھاٹ باٹ ہیں؟ بات گزر گئی اور وقت کے ساتھ وہ میرے دل و دماغ سے اترتا چلا گیا اور ایک وقت ایسا آیا کہ وہ بالکل ہی محو ہوکر رہ گیا زندگی تیزی سے دوڑ رہی تھی ہم اپنی تعلیم کے معاملات میں گم تھے اور ساری توجہ بس حصول تعلیم پر تھی، میں اس زمانے میں بی بی اے کر رہا تھا، کچھ دوست ساتھ گھر پڑھنے آیا کرتے تھے، جیسا کہ پہلے زمانے میں گلی محلوں میں چائے کے ہوٹل ہوتے تھے جن پر کیرم بھی رکھا ہوتا تھا اور کیرم کھیلنے کیلئے آپ کو کم از کم چار چائے منگانا ضروری ہوتا تھا ورنہ بھر شرط لگتی تھی، تو میرے ساتھ پڑھنے والے چند دوست کیرم کے شوقین تھے میں بھی اچھا کھیل لیتا تھا، تو جب کبھی پڑھتے پڑھتے تھک جاتے تو جاکر بڈی کے ہوٹل پر کیرم کھیلا کرتے تھے اور ایک دو بازی لگا کر واپس آجاتے تھے ، بڈی ایک ریٹائرڈ بدمعاش تھا او ر کہتے ہیں کہ وہ اس وقت بھی در پردہ منشیات فروشی کیا کرتا تھا۔
عموما کیرم کھیلتے ہوئے کھلاڑیوں میں اختلافات ہوجاتے تھے، اور کبھی کبھی جھگڑا بھی ہو جاتا تھا، مگر بڈی جانتا تھا کہ ان معاملات کو کیسے نمٹانا ہے، اور حالات پھر سے نارمل اور کھیل پھر سے شروع ہوجاتا تھا، مگر آج بات کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی تھی میرے دوست شرط لگا کر دو لڑکوں کے ساتھ میچ کھیل رہے تھے، سردیاں تھیں ، ابلے ہوئے انڈے، چائے، کستوری دودھ اور ہارنے والا سارے بل چکائے گا داﺅ پر لگا ہوا تھا کہ کسی بات پر جھگڑا ہو گیا، بڈی نے بیچ بچاﺅ کرا دیا مگر ہارنے والے لڑکے میرے دوستوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے چلے گئے، معاملہ بظاہر لگ رہا تھا کہ ٹھنڈا پڑ گیا ہے، مگر کچھ ہی دیر بعد ایک دم سے شور اٹھا اور نئی نئی جیپ ہوٹل کے سامنے آکر رکیں اور وہ لڑکے چند پہلوان نما غنڈوں کے ساتھ آن دھمکے، ان میں سب سے آگے ایک نہایت ہی وجیہہ طویل قامت اور تنومند شخص تھا جس کے ہاتھ میں ایک قیمتی طمنچہ تھا اور وہ اس سے ہوائی فائرنگ کرتا ہوا ہوٹل میں داخل ہوا، سب سے پہلے اس نے بوڑھے ہوٹل والے اور ریٹائرڈ دادا بڈی کو مارنا شروع کردیا، اتنے میں میرے دوست تو فرار ہوگئے ، میں کھڑا رہ گیا، کیونکہ میری تو کوئی لڑائی ہی تھی ، مگر ان لڑکوں نے چیخ کر کہا کہ ناصر دادا وہ سب بھاگ گئے ہیں اور میری جانب اشارہ کر کے کہا مگر ان کا یہ دوست موجود ہے، تو وہ لحیم شہیم شخص یکایک میری جانب گھوما اور مجھے دیکھتے ہی جیسے اسے کرنٹ لگا ہو، لپک کر میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ عرشی بھائی آپ یہاں اس ہوٹل میں؟
اور کیا وہ لڑکے آپ کے دوست ہیں ؟ اب میرے حیرت زدہ ہونے کی باری تھی، میں نے دبی دبی آواز میں کہا ارے ناصر تم، پستول اب بھی اس کے ہاتھ میں تھا، میں نے کہا کہ ہاں وہ سب میرے دوست ہیں اور میرے گھر پڑھنے آتے ہیں، وہ ذ را پیچھے ہٹا اور اپنے لڑکوں سے تحکمانہ لہجے میں کہا کہ بس ختم لڑائی، وہ عرشی بھائی کے دوست ہیں ہم ان سے جھگڑا نہیں کریں گے۔ اور مجھ سے علیک سلیک کرکے ہاتھ ملا کر جانے کیلئے مڑا تو، میں نے دیکھا کہ بڈی بری طرح سہما ہوا کاﺅنٹر کے پیچھے کھڑا بغور ناصر کو دیکھ رہا تھا۔ میں نے کافی کوشش کی کہ وہ چائے پی لے مگر وہ یہ کہہ کر ہنس پڑا کہ جناب ان ہوٹلوں کا نقلی دودھ تو میں سونگھتا تک نہیں اس کی بنی چائے کیا پیوں گا۔
اس کے جانے کے بعد ہوٹل کے ملازمین اور مالک سب میرے گرد جمع ہو گئے اور مجھے رشک بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے، وہ مجھ سے خاصے مرعوب بھی نظر آرہے تھے آخر بڈی نے پوچھا ہی لیا کہ عرشی بھائی آپ اسے کیسے جانتے ہیں؟ میں نے الٹا سوال کیا کیوں ایسی کیا بات ہے اس میں؟ تو وہ کہنے لگا کہ یہ تو مشہور بردہ فروش مافیا ڈان ناصر ہے، اس کا تو جرائم کا بہت بڑا اور مضبوط نیٹ ورک ہے پولیس بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ، اسکے سر پر تو بڑے بڑوں کا ہاتھ ہے۔ یہ تو بچے اغواء کراکر بھیک منگواتا ہے، منشیات بکواتا ہے، جوئے اور شراب کے اڈًے چلاتا ہے، زمینوں پلاٹوں پر قبضے کراتا ہے، یہاں تک کہ اجرت پر قتل بھی کراتا ہے، وغیرہ وغیرہ، غرض یہ تو ہرفن مولا ہے، اس کا سیاسی اثر رسوخ بہت زیادہ ہے ورنہ کچھ بھی صحیح مجھ پر اتنی آسانی سے تو کوئی ہاتھ نہیں اٹھا سکتا، مگر حیرت اس بات پر ہے کہ وہ آپ کو دیکھ کر ایک دم ٹھنڈا پڑ گیا اور واپس چلا گیا، یہ کیا معاملہ ہے، مجھے بڈی کی آواز کہیں دور سے آتی سنائی دے رہی تھی ، جس میں مافیا مافیا کی تکرار تھی، اور میں بھی دل میں مافیا مافیا کی تکرار کرتا ہوا بنا کوئی جواب دیئے ہوٹل سے باہر آگیا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker