ادبرضی الدین رضیلکھاری

ماہ طلعت زاہدی کی زندگی کے آخری آٹھ ماہ ۔۔ رضی الدین رضی

محترمہ ماہ طلعت زاہدی کے ساتھ میرا کئی حوالوں سے احترام کا رشتہ تھا۔ وہ ڈاکٹر مقصود زاہدی کی صاحبزادی تھیں جن سے میں نے اوائل عمری میں بہت کچھ سیکھا۔ شاعری میں ان سے رہنمائی حاصل کی۔کالموں پر داد وصول کی ،صحافت کے آداب سیکھے۔ ان کی محفل میں ہی فارغ بخاری اور ڈاکٹر انور سدید جیسی ہستیوں سے میری پہلی بار ملاقات ہوئی۔ڈاکٹرمقصود زاہدی کے صاحب زادے اور ماہ طلعت زاہدی کے بڑے بھائی ڈاکٹر انور زاہدی سے بھی اسی زمانے سے میری دوستی ہے۔ انور بھائی کی کتاب” بارشوں کے موسم میں“ سب سے پہلے میں نے ہی روزنامہ سنگ میل میں قسط وار شائع کی تھی۔
یہ اس خاندان کے ساتھ میری 1978 سے 1988 ءتک کی وابستگی کا احوال ہے۔ پھر90ءکے عشرے میں انور بھائی کے ساتھ یہ تمام اہل خانہ اسلام آباد منتقل ہو گئے۔ اس دوران ماہ طلعت زاہدی نے اپنا شعری سفر تواتر کے ساتھ جاری رکھا ۔ وہ چند ادبی رسائل میں شائع ہوتی تھیں اور مشاعروں سے دور رہتی تھیں۔ سو انہیں وہ شہرت نہ ملی جو بعض خواتین شعرا حاصل کر لیتی ہیں لیکن شہرت ان کا مسئلہ بھی نہیں تھا۔
ماہ طلعت کے ساتھ میرا ایک اور تعلق سال 2000 ءکے بعد ڈاکٹر اسد اریب کے حوالے سے قائم ہوا جب وہ ان کی شریک حیات بنیں۔ ان کا اور اسد اریب صاحب کا ایک انٹرویو میں نے 2005 ءمیں روزنامہ جنگ میں شائع کیا تھا جو ازدواجی زندگی کے حوالے سے ان کا واحد انٹرویو ہے ۔ دونوں کی محبت کو سمجھنے کے لئے وہ انٹرویو بہت اہم ہے۔ باتیں اور یادیں تو بہت سی ہیں لیکن میں ستائیس اکتوبر 2019 ءسے نو مئی 2020 ءتک کی ان کی زندگی کے آخری آٹھ ماہ کا احوال یہاں رقم کرنا چاہتا ہوں۔ یہ وہ زمانہ ہے جب وہ زندگی کی جنگ لڑ رہی تھیں اور میں نے ان سے اپنی کتاب سخن وران ملتان کے لئے ان کے حالات زندگی منگوائے تھے۔ 27 اکتوبر 2019 ءکو میرا ان سے پہلا اور نو مئی 2020ءکو آخری رابطہ ہوا ۔سخن وران ملتان میں میں نے ان کی زندگی کا جو احوال شامل کیا وہ کچھ اس طرح سے ہے۔
”محترمہ ماہ طلعت زاہدی نے ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں انہیں بچپن سے ہی کاغذ قلم کے ساتھ وابستگی میسرآئی۔وہ 8ستمبر 1953ءکوملتان میں پیداہوئیں۔ ماہ طلعت نے 1967ءمیں گورنمنٹ گرلز سکول نواں شہر سے میٹرک کیا۔گرلزڈگری کالج کچہری روڈ ملتان سے 1969ءمیں ایف اے اور1972ءمیں بی اے کاامتحان پاس کیا۔1977ءمیں ایمرسن کالج بوسن روڈ سے ایم اے اردوکیا۔2000ءمیں نامور ماہر تعلیم نقاد اورمحقق ڈاکٹراسداریب ان کے رفیق حیات بنے جو ان کے ایم اے اردو کے استاد تھے۔ڈاکٹرصاحب کی رفاقت میں ماہ طلعت زاہدی کی کتابوں کی اشاعت بھی شروع ہوئی۔ان کی نظموں کے دو،غزلیات اورسہ حرفیوں کا ایک ایک مجموعہ شائع ہوچکاہے جبکہ سفرنامہ انگلستان ”تاب نظارہ نہیں “کے نام سے منظرعام پرآیاہے۔ ماہ طلعت زاہدی کی مطبوعہ کتابوں میں”روپ ہزار“ ،” شاخ غزل “،” میں کیسے مسکراتی ہوں“ ،” تین مصرعوں کاجہاں“ اور”تاب نظارہ نہیں“شامل ہیں“۔
27اکتوبر 2019ءکو میری جانب سے پہلے رابطے کے بعد انہوں نے کئی روز تک جواب نہ دیا۔ اس کے بعد ان کے ساتھ گاہے گاہے واٹس ایپ پر مکالمہ ہوتا رہا۔ اسی دوران انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ وہ میری ادارت میں ترتیب پانے والی ویب سائٹ” گردوپیش“ پر مضامین لکھنا چاہتی ہیں۔ میرے لئے تو یہ خوشی کی بات تھی۔ یہ مضامین دو نومبر 2019 ءسے 13 مارچ 2020 ءتک گردو پیش پر شائع ہوتے رہے اور اس دوران ان سے میرا مسلسل رابطہ بھی رہا۔ ماہ طلعت کے مضامین ایک طرح سے ان کی خودنوشت ہے جس میں انہوں نے اپنا اور اپنے اہل خانہ کی زندگی کا بہت سا احوال محفوظ کر دیا۔ انہوں نے یہ گمان بھی نہ ہونے دیا کہ وہ یہ سب کچھ ہسپتال سے تحریر کر رہی ہیں۔ یہ انکشاف ان کی وفات کے بعد ہوا کہ وہ کن تکلیف دہ اور مشکل حالات میں اپنی یادیں قلم بند کر رہی تھیں۔ وہ مجھے واٹس ایپ پر مضمون بھیجتی تھیں۔ کبھی کوئی غلطی ہو جاتی تو دوبارہ ارسال کرتی تھیں۔ کوئی بات لکھنا بھول جاتیں تو اضافہ کراتی تھیں۔ وہ پروف ریڈنگ اور زیر زبر کے حوالے سے بھی بسا اوقات بہت بحث کرتیں اور ہمیشہ تشکر بھرے جذبات کے ساتھ کہتیں” میں آپ کو تنگ کرتی ہوں نا ؟“۔۔
”نہیں ایسی توکوئی بات نہیں، آپ شرمندہ نہ کیجئے۔“ میرے جواب پروہ سلامت رہیں ،جیتے رہیں ،کہہ کر فون بند کردیتیں۔ان مضامین میں انہوں نے اپنے والد اور والدہ کی زندگیوں خاص طور پر مقصود زاہدی صاحب کے بچپن اور لڑکپن کے حوالے سے جو کچھ لکھ دیا وہ اس سے پہلے کہیں محفوظ نہیں تھا۔ میرے لئے یہ اعزاز کی بات تھی کہ انہوں نے میرے ذریعے یہ سب کچھ تاریخ کے حوالے کردیا۔ان کے ان مضامین میں ان کے زمانہ طالب علمی اور بچپن کے بے شمارواقعات، اہم شخصیات کے ساتھ ملاقاتوں کااحوال شامل ہے۔یہ ایک ایسا اسلوب ہے اور ان کی ادبی زندگی کا ایسا پہلوہے جس سے ہم میں سے کوئی بھی پہلے آگاہ نہیں تھا۔ان مضامین نے سب کو حیران کردیا۔اب خیال آتا ہے کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کی زندگی کاسفر تمام ہونے والا ہے تو انہوں نے شعوری طورپریہ سب کچھ اگلے زمانوں کے لیے تحریر کردیا۔میں دعوے سے کہتاہوں کہ جو تجربات اور واقعات انہوں نے قلم بند کیے وہ ایک ایسے ملتان کو سامنے لائے جس سے ہم سب بے خبر تھے۔
آخری بارماہ طلعت زاہدی صاحبہ سے ” سخن وران ملتان“ کی تعارفی تقریب میں ملاقات ہوئی۔وہ 20 فروری کو ڈاکٹر اسد اریب صاحب کے ہمراہ ادبی بیٹھک میں تشریف لائیں۔ان کی طبعیت اس روز بھی ناسازتھی لیکن چونکہ میں اور شاکر ایک روز قبل انہیں کتاب پیش کرنے اور تقریب میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے خاص طورپر ان کے گھرگئے تھے اور انہیں یاد دلایاتھا کہ وہ بیٹھک کی پہلی تقریب میں بھی موجودتھیں ،اس لیے دسویں سالگرہ کے موقع پربھی ان کی موجودگی ہمارے لیے بہت اہمیت کی حامل ہوگی۔ہمیں گمان بھی نہیں تھا کہ ادبی بیٹھک کی یہ تقریب ان کی زندگی کی بھی آخری تقریب ہوگی۔ہماری دعوت پر وہ ناساز طبعیت کے باوجود تشریف لے آئیں۔تقریب میں شرکت کی ۔ ادبی بیٹھک کی دسویں سالگرہ کا کیک کاٹنے کے موقع پربھی وہ موجودتھیں اور پھر چائے پیے بغیر وہ خود گاڑی ڈرائیو کرکے ڈاکٹرصاحب کے ہمراہ واپس چلی گئیں ۔ اگلے روز میں نے شکریہ ادا کیااور کہا کہ مجھے یوں لگ رہا تھا کہ آپ مقصود زاہدی صاحب کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ ”میں اور پاپا کی نمائندگی ، ناممکن ۔۔“ ان کا جواب موصول ہوا۔سات مارچ تک وہ اپنی تحریروں پر آنے والی رائے مجھے ارسال کرتی رہیں پھر طویل خاموشی اختیار کرلی ۔13 مارچ کو دریافت کیاکہ آپ خیریت سے ہیں جواب آیا no ۔ بائیس مارچ کو انہوں نے کہا” جلد دوبارہ رابطے میں آؤ ں گی۔ میری صحت کے بارے میں خاموش رہیں میں خبروں میں نہیں آنا چاہتی“۔ نو مئی کے بعد ان کا واٹس ایپ مکمل طورپر خاموش ہو گیا ۔تیرہ جون کوڈاکٹر انور زاہدی نے مجھے ان کی علالت کی پہلی خبردی۔ باقی سب آپ کو معلوم ہے۔ ایک خوبصورت شاعرہ ، اور روشن خیال دانش ور 12 جولائی کو اپنے حصے کے بہت سے دکھ جھیل کر اپنے پاپا کے پاس چلی گئیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker