تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : آزادی اظہار، لاعلمی کامعاملہ یا بے عملی کا

وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں عید میلاد النبیﷺ کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں مغرب میں آزادی رائے کے نام پر توہین آمیز اظہار کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہیں یہ احساس ہی نہیں ہے کہ مسلمان اپنے رسولﷺ سے کس قدر محبت کرتے ہیں ۔ مسلمان لیڈروں کو اہل مغرب کو یہ معلومات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی لیڈر کا کہنا تھا کہ مسلمان لیڈر یہ کام کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ اب وہ خود اس مشن کی قیادت کریں گے۔
عمران خان کا یہ بیان یا تو انتہائی سادہ لوحی پر مبنی ہے یا اس کے سیاسی مقاصد ہیں تاکہ وہ ملک میں خود کو درپیش سیاسی مسائل سے جان بچانے کے لئے مذہبی جذبات میں پناہ لے سکیں۔ سادہ لوحی کی صورت میں پاکستان کے وزیر اعظم کو جاننے کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ اہل مغرب کی مواصلت صرف گزشتہ چند دہائیوں کے دوران نہیں ہوئی جب غریب مسلمان ملکوں سے لاکھوں افراد نے متعدد مغربی ممالک کی طرف ترک وطن کیاتاکہ یا تو وہ اپنے ملکوں کے گھٹن زدہ ناقص حکمرانی کے نظام سے جان چھڑا سکیں ۔ یا وہ اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے بہتر معاشی مواقع حاصل کرسکیں۔ مسلمانوں اور یورپی ملکوں کا تعلق صدیوں پر محیط ہے۔ نوآبادیاتی نظام کے عہد میں متعدد مغربی ممالک نے طویل مدت تک مسلمان آبادیوں والے کئی ملکوں پر حکمرانی کی ہے۔ اس دوران نہ صرف حکمرانوں کو وہاں آباد مسلمان آبادیوں کے عقیدہ و ثقافت کو جاننے کا موقع ملا بلکہ اس دوران علمی مواصلت کا اہتمام بھی ہؤا۔ مغربی ممالک کے دانشوروں اور اہل علم نے مسلمان ملکوں کے بارے میں غور و خوض بھی کیا اور اس بارے میں قابل ذکر عملی کام بھی کیا گیا ہے۔
یہ کہنا حقائق سے نابلد ہونے کے مترادف ہے کہ آزادی اظہار کے نام پر یورپی ملکوں میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی دراصل لاعلمی اور ناقص معلومات کی بنیاد پر روا رکھی جاتی ہے۔ اس وقت مسلمانوں کو بیشتر یورپی ملکوں اور خاص طور سے فرانس میں جن حالات کا سامنا ہے ، اس کا مقابلہ یہودی آبادی کی صورت حال اور ہولوکوسٹ کے دوران نازی جرمنی میں ساٹھ لاکھ سے زائد یہویوں سے کی ہلاکت سے کرنا بھی درست موازنہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ دوسری جنگ کے دوران نازیوں کے یہودیوں کے خلاف جرائم اپنے ہی لوگوں کے خلاف بربریت اور نسل پرستی کا بدترین نمونہ تھا۔ یورپ کے سیاست دان اور اہل دانش اس نسل پرستی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے سنگین جرائم پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ اسی لئے ہولوکوسٹ کو نسل پرستی اور کسی ایک اقلیت کے خلاف تعصب اور نسلی کشی کے خلاف علامت کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر یورپی ملکوں میں ماضی قریب کے اس (واقعاتی طور پر قابل تصدیق)ظلم سے انکار کو درست تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ہولوکاسٹ سے انکار مذہبی عقیدے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ناقابل قبول طرز سیاست کی حمایت کے مترادف ہے۔ اس صورت حال کو سمجھنے اور بیان کرنے کے لئے یہودیوں کے منظم ہونے یا ان کے بااثر اور باوسیلہ ہونے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس کے برعکس یورپی ملکوں میں جب مسلمان اقلیتوں کے خلاف بھی پائے جانے والے تعصبات سے انتباہ دینا مقصود ہوتا ہے تو یہودیوں کے خلاف موجود تعصبات اور معاشروں میں پائے جانے والی نسلی منافرت پر گفتگو کی جاتی ہے۔ یورپی ملکوں میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں انہی دیرینہ تعصبات کی بنیاد پر دیکھنے میں آتی ہیں۔ یورپ کے سماجی حالات اور سیاسی صورت حال سے باخبر کوئی بھی شخص بخوبی جان سکتا ہے کہ یورپ میں آج بھی یہودی لوگ نسل پرستوں کے نشانے پر ہوتے ہیں۔ نسل پرست گروہ آج بھی نازی علامات کو استعمال کرکے اپنی نفرت اور تعصب کا اظہار کرتے ہیں۔ گو کہ بعض اوقات کسی سماجی تعصب کی فوری وجوہات میں معاشی محرومیاں بھی شامل ہوتی ہیں لیکن ان کا کسی بھی معاشرے میں یہودیوں کے باوسیلہ اور طاقت ور ہونے اور مسلمانوں کے معاشی لحاظ سے کمزور اور کم مایہ ہونے سے رشتہ نہیں جوڑا جاسکتا۔ یورپ میں متعدد مواقع پر یہودی اور مسلمان لیڈر مل کر ان سماجی اور مذہبی تعصبات کے خلاف جد و جہد کرتے ہیں کیوں کہ انہیں مشترکہ طور پر ان عناصر سے خطرہ لاحق ہے جو نسل و عقیدہ کو بنیاد بنا کر سماجی انتشار پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
اس پس منظر میں کسی مسلمان لیڈر اور پاکستان جیسے ملک کے وزیر اعظم کا یہ بیان حقائق سے متصادم ہے کہ ہولوکوسٹ کے حقائق سے انکار کو جرم کی حیثیت یہودیوں کی معاشی طاقت کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے اور یورپ میں مسلمانوں کو اسلام اور مسلمان روایات سے جہالت و لاعلمی یا ان کی معاشی و سماجی کمزوری کی وجہ سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اور اس کمزوری کو مسلمان ملکوں کے لیڈروں کو دور کرنا پڑے گا۔ بہتر ہوگا کہ عمران خان یورپ کو اسلام کا سبق سکھانے سے پہلے خود یورپ کے نسلی تعصبات کی تاریخ اور مسلمانوں میں یہودیوں و دیگر عقائد کے خلاف پائے جانے والی غلط معلومات کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں۔ یہودیوں کے حالات کا مسلمانوں سے موازنہ کرتے ہوئے بیشتر مسلمان لیڈروں کی طرح عمران خان کی باتوں سے کم علمی کے علاوہ تعصب کا شائبہ بھی ہوتا ہے۔ مسلمان ملکوں میں یہودیوں کے خلاف پھیلائے جانے والے یہ تعصبات جزوی طور سے فلسطینی عوام کے ساتھ برتے جانے والے سلوک کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں لیکن مسلمانوں کے مذہبی اور سیاسی لیڈروں نے بھی ان تعصبات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
عمران خان سمیت مسلمان لیڈر اگر یورپ یا دیگر غیر مسلم ممالک میں آباد مسلمانوں کے ساتھ برتے جانے والے تعصبات و زیادتیوں کے خلاف واقعی کوئی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے انہیں خود ہمہ قسم مذہبی و سماجی تعصب سے بالا ہونا پڑے گا ۔ اس کے بعد اپنے معاشروں میں اقلیتوں کے خلاف پائے جانے والے منفی جذبات کو ختم کرنا ہوگا۔ مسلمان ممالک میں اگر غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ مناسب اور منصفانہ سلوک روا رکھا جائے تب ہی ان کے لیڈر سماجی انصاف اور تعصبات ختم کرنے کے خلاف بات کرتے اچھے لگیں گے۔یہاں پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کو درپیش صورت حال کے احاطہ کا محل نہیں تاہم یاد دلانا چاہیے کہ حال ہی میں کراچی میں ایک کم سن مسیحی لڑکی کو اغوا کیا گیا اور پھر عدالت میں ایک عمر رسیدہ شخص کے اس دعوے کو تسلیم کرلیا گیاکہ اس لڑکی نے اسلام قبول کرکے ، اس سے شادی کرلی ہے۔ اس طرح صرف ملک کا نظام عدل ہی ناکام نہیں ہؤا بلکہ مذہبی و سیاسی لیڈروں کی خاموشی اور بے عملی ، مذہبی اقلیتوں کے عدم تحفظ کی پوری داستان بیان کرتی ہے۔ عمران خان عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر فرانسیسی مسلمانوں کی صورت حال پر آنسو بہانے کی بجائے، اگر اس معصوم بچی اور اس کے خاندان کو انصاف دلانے کا اعلان کرتے تو ان کا سیاسی قد بھی بلند ہوتا اور سماجی ومذہبی تعصبات کے خلاف ان کی باتوں کو بھی دیانت دارانہ و مخلصانہ سمجھا جاتا۔
کوئی بھی پاپولسٹ لیڈر کسی بھی معاشرے میں مذہبی جذبات کو استعمال کرتے ہوئے عوام کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ فرانس میں یکے بعد دیگرے دہشت گردی حملوں میں معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد صدر میکرون نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا ہے۔ البتہ فرانس میں ریاست اور مذہب کو چونکہ علیحدہ کردیا گیا ہے لہذا وہاں کا صدر آزادی اظہار اور سماجی و ثقافتی روایات کا نعرہ لگا کر مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ پاکستان اور مسلمان ملکوں میں البتہ مذہب اب تک سیاسی لحاظ سے مؤثر ہتھکنڈا ہے۔ مسلمان لیڈر جب تک مذہب کی بنیاد پر سیاسی نعرے بازی کے اس سحر سے باہر نہیں نکلیں گے، وہ دوسرے ملکوں میں تو کیا اپنے ملکوں میں بھی انصاف اور مساوات فراہم نہیں کرسکتے۔
فرانس میں ایک استاد کا سر قلم کرنےکے بعد ، دو روز پہلے ایک چرچ میں حملہ کرکے تین شہریوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ عمران خان سمیت مسلمان لیڈر ان حملوں کی مذمت کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ وہ اگر اسلامی اقدار کے تحفظ کا وعدہ کرنے کے ساتھ انسانی جانوں کے ضیاع پرفرانس  کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ،تب ہی ان لیڈروں کی باتوں میں توازن پیدا ہوسکتا تھا اور انہیں نعرے سے زیادہ کوئی حیثیت دی جاتی۔ دوسری طرف فرانسیسی حکومت نے انتظامی اقدامات کے ذریعے صورت حال پر قابو پانے کی کوشش کے علاوہ ، نئے واقعات کو ثقافتی تصادم کے طور پر پیش کرکے عوامی تائید و حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس حوالے سے ہی گستاخانہ خاکوں کو آزادی اظہار کی علامت بنا لیا گیا ہے۔ اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے عمران خان یا کوئی مسلمان لیڈر خود کو آزادی اظہار کی اعلیٰ مثال کے طور پر پیش نہیں کرسکتا۔ بیشتر مسلمان ممالک میں آمرانہ نظام نافذ ہے اور جہاں جمہوریت موجود بھی ہے وہاں اختلاف رائے کو سختی سے کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان، ترکی یا بنگلہ دیش کوئی بھی اس حوالے سے مثالی حیثیت نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان یا صدر طیب اردوان یورپ کو آزادی اظہار کا سبق سکھانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ کسی کی اصلاح کے لئے خود بہتر نمونہ بننا ضروری ہوتا ہے۔
جب مسلمان ممالک میں مذہبی آزادی اور اختلاف رائے کے احترام کا قابل قدر ماحول پیدا کیا جائے گا ، تب ہی وہ عالمی اسٹیج پر اعلیٰ انسانی اقدار کے نمائیندے بن سکیں گے۔ ورنہ ان کے سب نعرے صدا بہ صحرا ثابت ہوں گے۔

(بشکریہ کاروان ناروے)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker