ایم ایم ادیبکالملکھاری

مولانا مفتی تقی عثمانی کا صائب موقف!۔۔ایم ایم ادیب

مفتی تقی عثمانی صاحب ایک معتدل مزاج عالم دین اور بین الاقوامی شہرت کے حامل معیشت دان ہیں ،دنیا بھر کی سٹاک ایکس چینجز ان کے مشوروں کو فالو کرتی ہیں ،یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ دنیا کی کسی بھی زبان میں معیشت پر شائع ہونے والی کتاب سب سے پہلے ان کی میز کی زینت بنتی ہے ،دنیوی امور کے بھی اتنے ہی ماہر ہیں جتنے کہ دینی امور کے ،مفتی ہونے کے ناتے ان کی رائے کو مقدم گردانا جاتا ہے ،یوں بھی معروضی شعور کے حوالے سے فی زمانہ ان کا مدمقابل شاید ہی کوئی ہو ۔اپنے علم میں یکتا ہیں اور عملی زندگی میں شریعت کے سبھی تقاضوں پر پورے اترتے ہیں ۔حکومتی حلقوں میں ان کا نام نہایت عزت و احترام سے لیا جاتا ہے اور ان کا ذاتی کمال یہ ہے کہ اکابر کی سنت کی پاسداری کرتے ہوئے سرکاری ،درباری مجالس سے کنارہ کش رہتے ہیں ،کسی اہم مسئلے پر حکومت وقت کو ان کی رہنمائی کی احتیاج ہو تو صائب
مشورہ جو حق سچ پر مشتمل ہو بلا تامل دیتے ہیں ،اس بارے کسی قسم کے فوٹو سیشن کا حصہ بننے سے ہمیشہ گریز کرتے ہیں ،کسی قسم کا میڈیا ان کے لئے کوئی کشش نہیں رکھتا ،ناں ہی مذہبی سیاسی جماعتوں کی سیاست میں کبھی آلودہ رہے ہیں بلکہ سیاسی اجتماعات میں بھی خال خال دکھائی دیتے ہیں ۔یہاں تک کہ عام میل ملاقات میں بھی زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے ۔
ان کی میری پہلی ملاقات سن دوہزار میں دارالعلوم کراچی میں ہوئی،جب میں اپنے چھوٹے بیٹے عمر عبداللہ الجوزی کے دارالعلوم میں داخلے کے لئے ان کی خدمت میں حاضر ہوا اوراپنے پورے نام محمد معاویہ ادیب کے حوالے سے تعارف ہوا،دوسری بار مدرسہ خیرالمدارس ملتان میں ختم بخاری شریف کی تقریب کے بعد ان سے ملنے کا موقع ملا جبکہ تیسری ملاقات ایک خط کے ذریعے ہوئی جس کی تفصیل کسی اور اظہاریئے پر موقوف کرتے ہیں ۔
حال ہی میں کورونا وائرس کے حوالے سے ہونے والے اجلاسوں میں انہوں نے معروضی حقائق کے کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا اور روشن خیال دینی دانشور اور سکالر کے طور پر حکومت کی اپنے مشوروں سے صحیح سمت کی تعیین میں رہنمائی کی ،کہیں بھی لگی لپٹی رائے پیش نہیں کی ۔دو روز قبل مفتی تقی عثمانی صاحب نے کورونا وائرس کے حوالے سے محراب ومنبراور دینی مدارس سے روا رکھے گئے حکومتی رویوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور بجا طور پر اپنے نقطہ نظر کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا ، اسی موقف کا اظہا ر وفاق المدارس عربیہ پاکستان کے علمائے کرام کی جانب سے ملک میں کرونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر مشترکہ اعلامیہ میں کیا گیاکہ ” پاکستان میں کورونا کی آڑ میں مسجد ،مدرسہ اور دینی معاملات کو ہدف بنایا جارہاہے ،جو افسوس ناک ہے لہٰذا کورونا وائرس کا مذہب اور مذہبی اقدارو روایات کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کسی طور قبول نہیں “ اعلامیہ میں کہا گیا کہ” کورونا وائرس کو فرقہ وارانہ کشیدگی اور اشتعال انگیزی کے کئے استعمال کیا گیا مگر دینی قیادت نے فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوششوں کو اپنی حکمت عملی اور تدبر سے آگے نہیں بڑھنے دیا ،
اعتکاف پر پابندی ،یوم علیؓ پر پیش آنے والے واقعات سے اندازہ ہوا کہ فرقہ وارانہ کشیدگی کا ماحول گرم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،اس کے علاوہ متاثرہ زائرین کو واپس لاتے ہوئے اسے بیلنس کرنے کے لئے تبلیغی جماعت کو ہدف بناکر فرقہ واریت کو ہوا دی گئی۔قیام پاکستان کے تہذیبی اور دینی مقاصد کو ناکام بنانے کی منصوبہ بندی کے ساتھ ملک کو لادین اور فرقہ پرست ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے “۔
ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو وفاق المدارس کے تحفظات بے جا نہیں ہیں ،قرائن صاف بتاتے ہیں کہ دال میں کچھ کالاضرور ہے ورنہ مفتی تقی عثمانی صاحب جیسا آدمی اس درشت لہجے میں بات کرنے والی مجلس کا کبھی حصہ نہیں بنا اور نہ ہی یہ ان کے مزاج کا لازمہ ہے ۔اس کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ ان سب تحفظات کے بیانئے کے لئے سیاسی پلیٹ فارم استعمال کرنے کی بجائے وفاق المدارس کے فورم سے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا ۔حکومت کو اٹھائے گئے ان اعتراضات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے اور سوچ سمجھ کر دلائل براہین کے ساتھ جواب دینا چاہیئے ۔مذہبی امور کے وفاقی وزیر مولانا انوارالحق اس امر کے مکلف ہیں کہ وفاق المدارس کے نمائیندوں خصوصاََ مفتی تقی عثمانی صاحب سے مذاکرات کریں اور حقائق کی روشنی میں انہیں اعتماد میں لیں۔ورنہ بات آگے بڑھی تویاد رکھنا چاہیئے کہ مفتی تقی عثمانی صاحب کا اثرو رسوخ مذہبی سیاسی جماعتوں کے صف اول کے رہنماؤں سے زیادہ ہے ۔وفاق المدارس نے اسٹینڈلے لیا تو حالات میں کشیدگی فروتر ہوجائے گی ،یہ کسی طور اچھا نہیں ۔وفاق المدارس اور مفتی تقی
صاحب کی رائے کو بھر پور اعتبار نہ بخشا گیا اور انہوں نے تنظیم المدارس کو اپنے موقف کے حق میں ہموار کر لیا تو تنظیم المدارس کے رہنماؤ ں کے پاس لبیک کے سوا کوئی راستہ نہ ہوگا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker