ریلوے کرسنگ پر لگا پھاٹک جب کھلا تو جہاں ٹریفک کا بے ہنگم ہجوم تو تھا ہی جو ہارن بجاتے، کسی انجانے کام کے لئے جلد بازی کرتے ہوئے ٹریفک جام میں اپنا حصہ ڈال کر دوسروں کو کوس رہے تھے۔ اس لئے گاڑی جب ٹریک کے عین درمیان میں کچھ دیر کے لئے رکی تو میں نے ریلوے ٹریک کے دائیں طرف نظر دوڑائی تو ٹرین کا آخری ڈبہ نظروں سے آہستہ آہستہ اوجھل ہو رہا تھا تو وہیں میری نظر ٹاٹے پور سٹیشن کے پلیٹ فارم پر پڑی تو ایسا لگا جیسے نظر کا دھوکہ ہو۔ کیونکہ وہاں پلیٹ فارم تو موجود تھا لیکن وہاں پر گورا صاحب کے دور کا بنا ہوا ریلوے سٹیشن جو کہ ٹاٹے پور ریلوے سٹیشن کے نام سے ایک صدی سے زیادہ عرصہ سے موجود تھا اب وہاں پر پوری عمارت غائب تھی۔
پہلے تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ٹریک موجود ہو، پلیٹ فارم موجود ہوں، پورا قصبہ اسی طرح آباد ہو اور صرف ریلوے سٹیشن کی عمارت درمیان میں سے کسی نے اُچک لی ہو۔
یہ بات میں کر رہا ہوں ملتان سے صرف چودہ پندرہ کلومیٹر دور ایک قصبے کے چھوٹے سے ریلوے سٹیشن کی جن سے جڑی یادوں کا ایک لامتناہی سلسلہ اس وقت میرے ساتھ ہے ۔
وہ بھی کیا سفر ہوتا تھا۔ خوبصورت اور خواب ناک۔ابا جی اپنے ویسپا کو نہر کی پٹری پر لاتے جس پر بیلداروں نے بالٹی کے ذریعے چھڑکاؤ کر رکھا ہوتا تھا۔ پہلے تو اس نہر کی پٹری کو جس پر مقامی بااثر افراد اور محکمہ انہار کے ملازمین نے درختوں کا جو قتل عام کیا اُس کے بعد وہ نہر کی پٹری جو کسی چھوٹے موٹے جنگل کا منظر پیش کرتی تھی اور نہر کا پانی اُن درختوں کی چھاؤں میں انجانی منزلوں کو سیراب کرنے کے لئے خاموشی سے اپنی منزل کی طرف بہہ رہا ہوتا تھا۔ اب سورج کی کرنوں کی تپش کی کسی پہاڑی گلیشیئر سے جنم لینے والے پانی کے ان قطروں کو جلا رہی تھی۔
پھر ہم اس خوبصورت پٹری کے جس کے دنوں اطراف پرانی دور اپنی منزل کی طرف پیاسی زمین کو زندگی بخشنے کے لئے رواں دواں ہوتا تھا۔ پٹری پر ریشم، کیکر کے درختوں کی چھاؤں اور اُن پر بیٹھے ہزاروں پرندوں کی چہچہاہٹ۔جن میں چالاک کوؤں سے لے کر طوطے اور چڑیاں ہوتی تھیں۔
اور میں ویسپا کی اگلی سیٹ کا اگلا حصہ جو کھلا ہوتا تھا وہاں کھڑا ہوتا تھا۔ سامنے سے آنے والی ٹھنڈی ہوائیں چہرے کو چھوتیں تو ایسے لگتا کہ جیسے فضاؤں میں تیر رہا ہوں۔
اس سفر کو ایک نئی جہت ملتی کہ کبھی کبھار اس ریلوے ٹریک پر ٹرین جس کو ایک دیو ہیکل انجن کسی دیو کی طرح کھینچ کر لے جا رہا ہوتا۔ ٹرین کے ڈبے قطار در قطار تیزے سے گزرتے۔ کھڑکیوں میں بیٹے مسافروں کی شکلیں گڈ مڈ سی ہو جاتیں۔ اور یہیں وہ سٹیشن موجود تھا۔ ٹاٹے پور سٹیشن کا نام یہاں موجود قصبے کے نام کی مناسبت سے مشہور تھا۔
ہمارے خطے کے گورے حکمرانوں نے اس کو اپنے دور حکمرانی میں ہندوستان پر حکومت کے دوران چھوٹا سا سٹیشن لیکن پُرشکوہ علاقے کے لوگوں کے لئے ایک چھوٹا سا تجارتی مرکز کہ جہاں سے لوگ پیسنجر ٹرین اور ایک دو ایکسپریس ٹرینوں کے ذریعے ملک کے مختلف حصوں کے لئے سفر کرتے۔
لیکن حیرانی اس بات کی تھی کہ پورا سٹیشن اپنی جگہ سے غائب تھا۔ نہ یہاں کسی غیر ملکی دشمن نے حملہ کیا تھا اور نہ ہی اس ملک میں کوئی خانہ جنگی ہوئی تھی لیکن بھر بھی پورا کا پورا سٹیشن غائب تھا۔
میں چونکہ بیرون ملک رہنے کی وجہ سے خود کافی عرصہ بعد اس قصبہ کی طرف آیا تھا جو کہ میرے آبائی علاقے سے صرف آٹھ کلومیٹر دور ہے۔ جب علاقے میں موجود دوستوں اور رشتہ داروں سے اس سٹیشن کی کسی جادوگر کے ہاتھوں اچانک غائب ہو جانے کے متعلق بات کی تو جان کر دکھ اور صدمے کی جو کیفیت طاری ہوئی جس نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔
پتہ چلا کہ مختلف ادوار میں چاہے مارشل لاء کی حکومت تھی یا پھر سیاسی جادوگروں کی۔ جہاں پاکستان میں ہر حکومتی شعبہ تباہی اور بربادی کا شکار ہوا وہیں ریلوے جو کہ اٹھارویں صدی عیسوی میں انگریزوں نے اس خطے میں بچھائی تھی اور جس کو بچھانے میں جو مشکلات پیش آئی تھیں اور جو معاشی اور دفاعی فوائد حاصل ہونے تھے اس کا صحیح اندازہ رضا عابدی صاحب کی کتاب ریل کہانی پڑھ کر ہی سمجھ آ سکتی ہے۔ لیکن ہمیں چونکہ بحیثیت قوم اپنے ملک کے وسائل کو ضائع کر کے پھر بھیک مانگنے کا شوق ہے اور ہمیں احساس تک نہیں کہ ریلوے جیسے اثاثے ملک کے دفاع اور معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ساتھ ہی زندگی کے ہر شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن جس قوم کو کراچی جیسے معاشی مرکز سرکلر ریلوے جیسے اثاثے کی تباہی پر کوئی دکھ نہ ہو۔ وہاں ایک چھوٹے سے قصبے کے ایک گمنام سٹیشن کی تباہی کا نوحہ کون پڑھے گا؟
قصہ مختصر علاقے کے لوگوں کے بقول پہلے اس سٹیشن پر رکنے والی ٹرینوں کی تعداد گھٹتے گھٹتے ختم ہو گئی اور پھر اس سٹیشن کو بند کرنے کا حکم دے دیاگیا اور پھر اسلامی ملک کے ایماندار لوگ آہستہ آہستہ اس سٹیشن کی ایک ایک اینٹ اکھاڑ کر لے گئے۔ لیکن اس محکمے میں مختلف حکومتوں میں ہر دفعہ وزیر ریلوے رہنے والے صاحب دنیا کے ہر موضوع پر تقریر کرنے کیلئے گئے ہوئے تھے اور شاید اس لاوارث سٹیشن کی لاوارث عمارت کی آخری اینٹ کی سسکی اُن تک نہیں پہنچی ہوگی۔
فیس بک کمینٹ

