اہم خبریں

کوئٹہ میں‌تاجروں اور لیویز فورس میں تصادم : پانچ افراد زخمی

کوئٹہ : پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے کی کوشش کے دوران دکانداروں اور لیویز فورس کے اہلکاروں کے درمیان تصادم میں پانچ افرادزخمی ہو گئے۔
یہ واقعہ کوئٹہ میں مسجد روڈ پر شاپنگ مالز کو بند کرانے کی کوشش کے دوران ہوا۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ شاپنگ مالز بند کرانے کے لیے انتظامیہ اپنی ذمہ داری پوری کررہی تھی کہ شاپنگ مال انتظامیہ نے لیویز جوانوں کو زدوکوب شروع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دوران مشتعل افرادنے لیویز اہلکاروں سے اسلحہ، وائرلیس سیٹ اور موبائل بھی چھین لیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اس واقعے میں لیویز فورس کے دو اہلکار زخمی ہوئے۔
لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ حکومت بلوچستان نے شام 6 بجے کے بعد مارکیٹس بند کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ اس واقعے کے حوالے سے ایک ویڈیو منظر عام پر آگئی ہے جس میں یہ نظر آرہا ہے کہ بعض لوگ ایک اہلکار سے اسلحہ چھیننے کی کوشش کررہے ہیں۔ جبکہ اہلکاروں کی جانب سے فائرنگ بھی کی جارہی ہے۔ سول ہسپتال کوئٹہ کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ نے بتایا کہ اس واقعے کے حوالے سے پانچ زخمی افراد سول ہسپتال لائے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ ’ان میں سے ایک شخص کو ٹانگ میں گولی لگی ہے جبکہ باقی چار افراد ڈنڈوں سے زخمی ہوئے۔‘
تاجر اس واقعے کے بعد شاپنگ مالز کے باہر جمع ہوئے ۔ انھوں نے اس واقعے کے خلاف احتجاج کیا اور فائرنگ کے ذمہ دار افراد کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔ حکومت بلوچستان نے کورونا کی تیسری لہر میں کیسز میں اضافے کی وجہ سے بلوچستان بھر میں سمارٹ لاک ڈاﺅن نافذ کردیا ہے ۔ سمارٹ لاک داﺅن میں سنیچر اور اتوار کو کاروباری مراکز مکمل بند رہیں گے جبکہ باقی دنوں میں کاروباری مراکز سحری سے شام چھ بجے تک کھلے رہیں گے لیکن تاحال کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں کاروباری مراکز میں ان پابندیوں پر عملدرآمد نہیں ہورہا ہے۔ دوسری جانب تاجروں نے مارکیٹوں کی بندش کے حوالے سے احکامات کو ماننے سے انکار کیا ہے۔ مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ کا کہنا ہے کہ لاک ڈاﺅن سے پہلے بھی تاجروں کو نقصان پہنچا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی تاجروں کے منافع کا کوئی موقع آتا ہے تو لاک ڈاﺅن کا سلسلہ شروع کیا جاتا ہے جو کہ تاجروں کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker