چار کروڑ سے زیادہ آبادی رکھنے والا جنوبی پنجاب ایسا خطہ ہے جو ہراعتبار سے پسماندہ کہلاتا ہے،اگرچہ یہاں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ قائم ہے،مگر اس کے پاس وسائل اور اختیارات نہ ہونے کے برابرہیں، اس کو اب تک بااختیار کیوں نہیں بنایا گیا ؟ اس میں کیا رکاوٹیں ہیں ؟ باخبر لوگ اس سے بخوبی آگاہ ہیں ،ویسے بھی ان صفحات پر متعدد بار ان رکاوٹوں کی نشان دہی کی جاچکی ہے۔
بے اختیاری کی اس بحث کو ایک طرف رکھتے ہوئے آج ہم جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے کچھ اچھے کاموں کا ذکر کرتے ہیں ،ان میں ایک کام ٹرانس ایجوکیشن پراجیکٹ کا ہے،جس کا آغاز جولائی 2021ءمیں ملتان میں ہوا،اس وقت ڈاکٹر احتشام انور سیکرٹری سکول ایجوکیشن جنوبی پنجاب تعینات تھے،ڈاکٹر احتشام انور جو کہ بیرسٹربھی ہیں ایک اچھے بیوروکریٹ کی شہرت رکھتے ہیں،بنیادی طور پر ٹرانس ایجوکیشن پراجیکٹ ان ہی کا برین چائلڈ ہے،انہوں نے پاکستان کی تاریخ میں ٹرانس جنیڈر ایجوکیشن کے منفرد پراجیکٹ پر کام شروع کیا،ان کی ٹیم میں ایڈیشنل سیکرٹری سکول ایجوکیشن جنوبی پنجاب ظہیر عباس شیرازی(موجودہ ڈی سی مری) ،ڈپٹی سیکرٹری سیکرٹری سکول خواجہ مظہر الحق(موجودہ ایڈیشنل سیکرٹری )سکول ایجوکیشن جنوبی پنجاب اور ٹرانس ایجوکیشن کی فوکل پرسن مس حنا چوہدری شامل تھیں،شاندار ٹیم ورک کا نتیجہ 7جولائی 2021ءکوسامنے آیا،جب گورنمنٹ گرلز کمپری ہنسیو ہائر سیکنڈری سکول گلگشت کالونی ملتان میں پاکستان کے پہلے ٹرانس جینڈر ایجوکیشن کی کلاسز کا آغاز ہوا ، داخلے پرائمری،مڈل ،میٹرک اور ہائر سیکنڈری سطح پر کیے گئے،ابتدا میں 18داخلے ہوئے،احتشام انور صاحب نے ہمت نہ ہاری ،انہوں نےمارچ 2022ءمیں بہاولپور اور پھر اگست 2022ءمیں ٹرانس جینڈر ایجوکیشن پراجیکٹ ڈیرہ غازی خاں کے ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں متعارف کرادیا،بعد ازاں وہ یہاں سے ٹرانسفر ہوکر سیکرٹری سکول ایجوکیشن پنجاب مقرر کردیے گئے۔
تاہم 2021ءمیں انہوں نے ٹرانس ایجوکشن کو جو پودا ملتان میں لگایا وہ آج وہ جنوبی پنجاب میں اپنی جڑیں بتدریج مضبوط کرتا جارہا ہے،اس وقت ملتان میں ٹرانس ایجوکیشن میں 130،بہاولپور میں 80اور ڈیرہ غازی خان میں70طالب علم زیر تعلیم ہیں،جنوبی پنجاب کی ڈویژنل ہیڈکوارٹر ملتان،بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان میں ٹرانس ایجوکیشن کلاسز شام 3بجےسے ساڑھے 6بجے تک منتخب سرکاری سکولوں میں لگائی جاتی ہیں،خواجہ سراؤں کو ان میں مفت تعلیم دی جاتی ہے ،کتب اور بیگ بھی فراہم کیے جاتے ہیں،ٹرانسپورٹ کا خرچہ بھی ان کو دیا جاتا ہے،یہ ہی نہیں بلکہ حوصلہ افزائی کے لیے ایسے طالب علم جن کی حاضری پوری ہوتی ہے ان کو ماہانہ 5ہزار روپے اعزازیہ بھی دیا جاتا ہے،محکمہ سکول ایجوکیشن جنوبی پنجاب کی کاوشوں سے گورنمنٹ گرلز کمپری ہنسیو ہائر سیکنڈری سکول ملتان میں 50کے وی اے کے سولر پینل بھی لگائے گئے ہیں ،جس کےباعث ٹرانس جینڈرز کے تمام 6کلاس رومز اور 6لیب میں ایئرکنڈیشنڈ کی سہولت بھی میسر ہے،موجودہ سیکرٹری سکول ایجوکیشن جنوبی پنجاب ڈاکٹر عبیداللہ کھوکھر کی قیادت میں مس حنا چوہدری اس وقت ٹرانس جینڈر ایجوکیشن جنوبی پنجاب کےپراجیکٹ ڈائریکٹر کی حثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں، دسمبر2023ءمیں ٹرانس ایجوکیشن پراجیکٹ جنوبی پنجاب میں سٹیٹ آف آرٹ ووکیشنل لیبز متعارف کرائی گئیں،جس کے باعث طالب علم انڈسٹریل ٹیچنگ،بیوٹی پارلر اینڈ ہیر سروسز،کوکنگ اینڈ بیکنگ جیسے ہنر سیکھ رہے ہیں ۔
یہاں پروڈکشن ہاوس بھی قائم کیا گیاہے جہاں طالب علم فوٹو گرافی ،مارکیٹنگ ،گرافک ڈیزائنگ سمیت دیگر ہنر سیکھ رہے ہیں ،اس سےان کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک باعزت روزگار کے مواقع بھی حاصل ہوسکیں گے، ٹرانس ایجوکیشن جنوبی پنجاب سے فارغ التحصیل متعدد طالب علم ایمرسن یونیورسٹی ملتان اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے بی ایس (چار سالہ ) پروگرام میں زیر تعلیم ہیں،یہ امر قابل ذکر ہے کہ رواں برس بھی12ٹرانس جینڈر(خواجہ سرا) بچوں نے تعلیمی بورڈملتان سے جماعت نہم اور 7نے بارویں جماعت کا امتحان دیا ہے،بتایا گیاہے کہ جو طالب علم ٹرانس ایجوکیشن پراجیکٹ کے ذریعے ہزمند ہوچکے ہیں وہ انسٹرکٹر بن کراب اپنے نئے داخل ہونے والے ساتھیوں کو ہز سیکھا رہے ہیں،ٹرانس ایجوکیشن محکمہ سکول ایجوکیشن جنوبی پنجاب کا وہ پراجیکٹ ہے جس کی تعریف اپنوں کے ساتھ ساتھ اغیار بھی کرتے ہیں،اقوام متحدہ کے ادارے ًیونیسیف ً نے بھی اس پراجیکٹ کو بہت سراہا ہے،آج کوئی بھی غیر ملکی سفارتکار یا اداروں کے وفود جب جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا دورہ کرتے ہیں تو انتظامیہ ایک فخر کے ساتھ ٹرانس ایجوکیشن پراجیکٹ بارے ان کو آگاہ کرتی ہے،جنوبی پنجاب ہو یا اس کا سیکرٹریٹ ارباب اختیار کی خصوصی توجہ کا طالب ہے،بقول علامہ اقبال…….ذرا نم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
فیس بک کمینٹ

