کالملکھاریوجاہت مسعود

بزنجو صاحب لیونڈ برژنیف سے بڑے رہنما کیسے بنے؟۔۔ وجاہت مسعود

بلوچتان کے نقشے پر نظر ڈالیے۔ پاکستان کے قریب آدھے رقبے پر پھیلی ہوئی اس وفاقی اکائی کی وسط مشرقی سرحد پر ضلع خضدار نظر آئے گا۔ ٹھیک سو برس پہلے خضدار کے گمنام قصبے نال میں غوث بخش بزنجو نام کا ایک لڑکا پیدا ہوا جس نے کوئٹہ، کراچی اور علی گڑھ سے تعلیم پائی۔ 1938 میں سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ اگست 1989 میں وفات پائی۔ پچاس برس کی سیاسی زندگی میں دس سال سے زیادہ مدت قید خانوں میں کٹی۔ اگر منصب کا پیمانہ مدنظر ہو تو اپریل 1972 سے فروری 1973 تک کل دس مہینے بلوچستان کے گورنر رہے۔
غوث بخش بزنجو اپنے لوگوں کی ثقافتی، تہذیبی اور علمی روایت سے پیوستہ رہتے ہوئے ہم عصر عالمی سایست کے اتار چڑھاؤ پر گہری نظر رکھتے تھے۔ غوث بخش بزنجو کو بارہا غدار اور ملک دشمن کہا گیا لیکن پاکستان کے متفقہ دستور کی تشکیل میں بزنجو صاحب نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ملک کے چند وسیع المطالعہ افراد میں شمار ہوتے تھے۔ سیاست میں مکالمے کی اہمیت ہر اس قدر زور دیتے تھے کہ انہیں بابائے مذاکرات کہا جاتا تھا۔
آئیے اب ایک اور صاحب سے ملاقات کیجئے۔ لیونڈ برژنیف 1906 ءمیں زار شاہی روس میں پیدا ہوئے۔ 17 برس کی عمر میں کمیونسٹ پارٹی کا حصہ بنے۔ اسٹالن اور خروشچیف کے ادوار میں پارٹی عہدوں پر درجہ بدرجہ ترقی پاتے رہے۔ 1964 میں خروشچیف سے اسی طرح اقتدار چھینا جیسے خروشچیف نے اسٹالن کے بعد پارٹی پر قبضہ کیا تھا۔ برژنیف 1982 میں اپنی موت تک سپر پاور سوویت یونین کا حکمران رہا۔ برژنیف کا زمانہ معیشت کے جمود، حکومتی نا اہلی اور بدعنوانی کے لئے جانا جاتا ہے۔
برژنیف کو اپنے لئے اعزازات سمیٹنے کا شوق تھا۔ اسے سو کے قریب تمغے دیے گئے۔ 1975 کے بعد درجنوں بیماریوں میں مبتلا ہونے کے باوجود اقتدار سے چمٹا رہا۔ تاریخ میں اس کا مقام اس کی موت کے ساتھ ہی غروب ہو گیا۔ سوال یہ ہے کہ غوث بخش بزنجو ایک غریب قوم کا فرد ہوتے ہوئے بھی آج تک لاکھوں دلوں میں دھڑک رہا ہے جب کہ اٹھارہ برس تک عالمی منظر پر چھائے رہنے کے باوجود برژنیف تاریخ کی پاتال میں اتر چکا ہے۔ کیوں؟
بزنجو صاحب سیاست دان تھے اور برژنیف محض ایک اہلکار۔ سوویت یونین میں ایک اصطلاح استعمال کی جاتی تھی، اپرتاچک (Apparatchik) یعنی ایک ایسا شخص جو سیاست میں سیاسی کارندے کا تشخص رکھتا ہو۔ ہمارے ہاں اس طرح کے لوگ ٹیکنوکریٹ کہلاتے ہیں۔ ملٹری سائنس کے کسی طالب علم سے پوچھیے، وہ آپ کو اسٹاف آفیسر اور فیلڈ آفیسر کا فرق بتا دے گا۔ اس قضیے کا ہماری تاریخ پر گہرا اثر پڑا ہے کیونکہ ہم نے اپنے ملک میں سیاست کو گالی، سیاست دان کو بدعنوان اور سیاسی کارکن کو شرپسند کہنے کی روایت قائم کی۔
یادش بخیر، ایوب خان نے کنونشن مسلم لیگ بنائی تو اس کی رکنیت کا فارم گورنر مغربی پاکستان امیر محمد خان کالاباغ کے سامنے بھی رکھا گیا۔ ایچی سن کالج کے تعلیم یافتہ کالاباغ نے ایوب خان کی موجودگی میں کاغذ کا یہ ٹکڑا پرے پھینکتے ہوئے کچھ ناقابل اشاعت الفاظ ادا کیے ۔ آج کل بھی ایچیسن کالج کا ستارہ برج عروج میں ہے۔ جاننا چاہیے کہ تحریک انصاف کی رکنیت کا فارم ایک اعلیٰ منصب دار کے سامنے رکھا گیا تو وقت کے راجہ ٹوڈر مل کا ردعمل بھی نواب کالاباغ سے کچھ مختلف نہیں تھا۔
سوال یہ ہے کہ قومی مفاد میں علم، تیکنیکی مہارت، انتظامی صلاحیت اور سرکار دربار کے رکھ رکھاؤ سے آشنا اہلکاروں کی بے پناہ بصیرت اور وسیع تجربے سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا جائے؟ سیاست دانوں کو کیوں گھاس ڈالی جائے جو جلسے جلوسوں کے ذریعے عوام کو اپنے پیچھے لگا لیتے ہیں، جوڑ توڑ کے بادشاہ ہوتے ہیں، قومی مفاد کی نزاکتیں نہیں سمجھتے، نیز یہ کہ ذاتی نام و نمود کے لئے سیاسی افراتفری اور انتشار پیدا کرتے ہیں۔
اس سوال کا جواب ہماری تاریخ میں رکھا ہے۔ اکاؤنٹس سروس کے غلام محمد نے پاکستان کو سیٹو اور سینٹو کا حصہ بنایا جب کہ فیروز خان نون نے ہمیں گوادر کی بندرگاہ لے کر دی۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے ہمیں پاکستان بنا کر دیا جو جنوبی ایشیا سے مشرق بعید تک پھیلا ہوا تھا۔ چاق و چوبند اہل کاروں کی مستعدی کے کارن یہ ملک آدھا رہ گیا۔ اسکندر مرزا نے عرق ریزی سے ون یونٹ بنایا، ایوب خان نے ہمیں شخصی دستور عطا کیا، 1969 میں اسکندر مرزا کا ون یونٹ اور ایوب خان کا دستور ایک ساتھ ڈوب گئے۔ دوسری طرف ذوالفقار علی بھٹو نے ملک بھر کی سیاسی قوتوں کو ایک میز پر بٹھا کر 1973 کا دستور مرتب کیا۔ کسی آئینی ماہر سے پوچھیے کہ کیا پاکستان 1973ء کے دستور سے محروم ہونے کا متحمل ہو سکتا ہے۔
سیاست ایک نامیاتی عمل ہے جس کی تاریخ میں جڑیں ہوتی ہیں اور جس پر مستقبل کا برگ و بار آتا ہے۔ سیاست دان عوام سے اپنی تائید حاصل کرتا ہے۔ سرکاری منصب ریاست کی سونپی ہوئی ایک میعادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ریاستی منصب کے زعم میں سیاسی کردار ادا کرنے کی ہر کوشش ناکامی سے دوچار ہوتی ہے۔ وجہ یہ کہ قومی نصب العین محض طریقہ کار (Procedure ) جاننے کی بنیاد پر متعین نہیں کیا جاتا بلکہ ایک سیال ارتقائی عمل (Process) کے نتیجے میں طے پاتا ہے۔ ہم نے گزشتہ برسوں میں کاٹھ سے بنے ہوئے بہت سے مجسموں کا ظہور دیکھا جنہوں نے اپنی فوق العادت صلاحیت اور ماورائے تصور دیانت داری کی بنا پر قوم کی پتوار سنبھالنا چاہی لیکن کوئی نشان چھوڑے بغیر وقت کی گرد میں گم ہو گئے، وہ پانی میں ڈوب گئے اور میں حیرانی میں۔
ریاست میں آئینی اداروں کے درمیان اختیارات کی علیحدگی کا اصول ضمانت دیتا ہے کہ قوم کسی فرد واحد پر بھروسا کرنے کی بجائے ایک مربوط نظام کے تحت کام کرے۔ اس راستے سے انحراف کرنا بارودی سرنگوں سے اٹے ہوئے میدان میں قدم رکھنے جیسا ہے۔ ایک مثال دیکھیے۔ کوئی 15 برس پہلے ایک منصب دار نے بڑی اچھی نیت سے انتطامی امور میں مداخلت کی کوشش کی۔ کبھی گھی اور چینی کی قیمتیں مقرر کیں تو کبھی خسارے میں چلنے والے اداروں کی نج کاری روک دی۔ آج حکومت سربزانو ہے کہ ماضی کی ان غلطیوں کا تاوان کہاں سے بھرا جائے؟
ہمارے اجتماعی شعور پر مسیحا صفت کردار نے آسیب کی طرح قبضہ کر رکھا ہے، کبھی جہاد کا جھنڈا اٹھا لیتے ہیں، کبھی عدلیہ بحال کرنے نکلتے ہیں، کبھی سیاست تیاگ کر ریاست بچانے کا آوازہ لگاتے ہیں، تو کبھی احتساب سے امیدیں باندھ لیتے ہیں۔ یہ بالغ نظری نہیں۔ پیچھے مڑ کر دیکھئے۔ ایک تھے ذوالفقار علی بھٹو اور ایک تھے مولوی مشتاق۔ ماضی کے ان قصوں سے نمک پاشی مقصود نہیں، صرف یہ اشارہ دینا ہے کہ ایک پسماندہ علاقے سے آنے والا غوث بخش بزنجو تاریخ کے احترام کا نشان کیسے بنتا ہے اور دوسری طرف تمغوں کی پھول لڑیوں سے سجا برژنیف کیسے فراموش ہوتا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی بنے یا نہ بنے، تاریخ احتساب کرنے کا اپنا ڈھب رکھتی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker