سید مجاہد علیکالملکھاری

نفرت پھیلانے سے بھارت سپر پاور نہیں بنے گا۔۔ سید مجاہد علی

ہندو انتہا پسندی اور قوم پرستی کے نام پر برپا کئے ہوئے طوفان کی بنیاد پر انتخاب جیتنے کے بعد نریندر مود ی نے دنیا سے مطالبہ کیا ہے کہ اب بھارت کو سپر پاور مان لیا جائے۔ دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی غیر معمولی کامیابی کا جشن منانے کے لئے جمع ہونے والے پر جوش اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نومنتخب لیڈر نے بھارت میں سیکولرازم کو دفن کرنے کا دعویٰ بھی کیا اور کہا کہ سیکولرازم کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دینے والے ناکام ہوچکے ہیں۔
نریندر مودی انتہا پسندی کے سرکش گھوڑے پر سوار ہوکر اپنے ملک کی آئینی اور اخلاقی اساس کو ختم کرنے کا اعلان کررہے ہیں۔ لیکن انہیں جمع خاطر رکھنی چاہئے کہ ہندو انتہا پسندی اور جنگ سنگھی معاشرہ قائم کرنے کا جو خواب وہ دیکھ رہے ہیں ، اس کو پورا کرتے ہوئے وہ دنیا سے عزت و احترام اور بھارت کے لئے وقار حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔
یہ درست ہے کہ بھارت اس وقت دنیا کی دوسری بڑی آبادی کا حامل ملک ہے اور اسی لئے اسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی کہا جاتا ہے۔ کثیر آبادی اور ترقی کی مناسب رفتار کے ساتھ بھارت نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران معاشی لحاظ سے دنیا کی توجہ حاصل کی ہے۔ امریکہ سمیت دنیا کے سب ممالک بھارت کی کثیر آبادی کی وجہ سے وہاں کی منڈیوں کو پر کشش اور سرمایہ کاری کے لئے مناسب سمجھتے ہیں۔ تاہم یہ سلسلہ صرف اسی صورت میں جاری رہ سکتا ہے اگر بھارت داخلی امن و امان اور اپنے تمام شہریوں کے لئے مساوی مواقع و امکانات پر مشتمل نظام استوار کرے گا۔
بھارت کے ساتھ دنیا یا دوسرے لفظوں میں سپر پاور امریکہ کے ’فلرٹ‘ کی وجہ بھارتی منڈیوں کے علاوہ چین کے ساتھ جاری تجارتی اور علاقائی تزویراتی ضرورتیں ہیں۔ ایک طرف بھارت کی وسیع منڈیاں امریکی مصنوعات کے لئے پر کشش ہیں تو دوسری طرف وہاں کا سرمایہ کار اس ملک میں صنعتیں لگا کر سستی لیبر کے لئے چین کا متبادل تلاش کرتا رہا ہے۔ بحر جنوبی چین میں بالادستی کے لئے امریکہ، چین کے گرد جو حصار باندھنا چاہتا ہے، بھارت نے اس مقصد میں بڑی حد تک غیر مشروط طور پر اس کا ساتھ دے کر امریکہ سے عالمی اداروں میں سرپرستی اور اعانت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی تعاون کے نتیجے میں ستمبر 2018 میں بھارت نے امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ پر دستخط کئے تھے جس کے تحت دونوں ملک کسی تصادم کی صورت میں ایک دوسرے کا مواصلاتی نظام یا فوجی اڈے استعمال کرسکتے ہیں۔ بھارتی اور غیر ملکی ماہرین اسی وقت سے یہ سوال کررہے ہیں کہ بھارت کو اس فوجی معاہدہ سے کیا فائدہ ہو گا؟ اس کے برعکس امریکہ بھارتی تنصیبات کو مشرق وسطیٰ یا مشرق بعید میں اپنے عسکری مفادات کے لئے استعمال کرسکتا ہے۔
اسی طرح امریکہ اور یورپی ممالک بھارت کو اپنے اسلحہ کی بڑی منڈی سمجھتے ہیں ۔ امریکہ ، سوویٹ یونین کے بعد اب امریکی اسلحہ پر انحصار کررہا ہے۔ اس کا دفاعی بجٹ پچاس ارب ڈالر کے لگ بھگ ہوتا ہے اور اس کی افواج کو دہائیوں پرانے اسلحہ اور ہتھیاروں کو تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ پر کشش تجارتی منڈی ہونے کے باعث بھارت کو امریکہ اور یورپ کی منڈیوں میں خصوصی مراعات بھی حاصل ہوتی رہی ہیں جس کی وجہ سے اس کی برآمدات میں اضافہ ہؤا اور وہ کسی حد قومی پیداوار میں اضافہ کی شرح سات فیصد تک برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ تاہم اس تعاون کی اصل بنیاد یہ رہی ہے کہ بھارت میں کوئی بڑا داخلی انتشار موجود نہیں ہے۔ اگرچہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال تشویشناک ہے اور متعدد عالمی دارالحکومتوں میں اس معاملہ پر تشویش بھی پائی جاتی ہے۔ لیکن بھارت سرمایہ اور اجناس کی دلکش منڈی ہونے اور چین کے خلاف حصار بندی میں غیر مشروط تعاون فراہم کرنے کے باعث کشمیری عوام کی تحریک پر مغربی ممالک کو مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
نریندر مودی نے حالیہ انتخابات میں کسی سیاسی ایجنڈے کی بنیاد پر حصہ نہیں لیا بلکہ ان کا واحد سیاسی نعرہ ہندو توا یا بھارت میں ہندو اکثریت کی حکمرانی کے خواب کی تکمیل ہے۔ منتخب ہونے کے بعد انہوں نے سیکولرازم کے خلاف حقارت آمیز انداز میں بات کرتے ہوئے دراصل اپنے حامیوں کو یہی باور کروانے کی کوشش کی ہے کہ جب تک ملک میں ایسی سیاسی پارٹیاں طاقت ور رہیں گی جو ملک کے سب شہریوں کے لئے بلاتخصیص عقیدہ و نسل مساوی حقوق کی بات کرتی رہیں گی، اس وقت تک بھارت کی ہندو آبادی کو مکمل اقتدار حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی نے 2014 کی کامیابی کے بعد دھیرے دھیرے یہ حکمت عملی اختیار کی تھی کہ اسے اقلیتی آبادیوں کی سیاسی حمایت کی ضرورت نہیں ہے۔ ریاستی انتخاب کے دوران اس کا تجربہ اتر پردیش جیسی ریاست میں کیا گیا۔ کثیر آبادی کی اس ریاست میں مسلمانوں کی آبادی 20 فیصد کے لگ بھگ ہے ۔ یہ قیاس کیا جاتا رہا ہے کہ کوئی سیاسی پارٹی مسلمانوں کی اعانت کے بغیر اتر پردیش میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔
2017 کے ریاستی انتخاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اتر پردیش میں مسلمان امید وار کھڑے کرنے سے انکار کیا۔ پھر بھی اسے 403 کے ایوان میں 312 نشستیں حاصل ہوگئیں۔ بی جے پی نے اس غیرمعمولی کامیابی کی وجہ سے انتہا پسند ہندو لیڈر یوگی ادتیا ناتھ کو ریاست کا وزیر اعلیٰ منتخب کروا لیا۔ اس طرح اس نے ریاست کی مسلمان آبادی کی حساسیات اور ضرورتوں کو یکسر مسترد کرنے کا اعلان کیا۔ یوگی ادتیاناتھ کی حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد مسلمان اقلیت کے خلاف دیگر اقدامات کرنے کے علاوہ متعدد شہروں کے تاریخی ناموں کو تبدیل کرنے کے مشن پر گامزن ہے۔ بی جے پی اور اتر پردیش کی حکومت کو ان ناموں کا ماضی کے مسلمان حکمرانوں سے تعلق ناگوار گزرتا ہے۔
اس سال ہونے والے انتخابات میں بی جے پی نے اپنی انتخابی حکمت عملی میں دلت آبادی کو بھی اسی طرح نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے۔ اس طرح بھارت کو خالص ہندو مملکت بنانے کی طرف ایک بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔
نریندر مودی کو بطور لیڈر مقبول بنوانے کی حکمت عملی میں ان کی دو خوبیوں کو خاص طور سے اجاگر کیا جاتا رہا ہے۔ ایک یہ کہ وہ ہندو قوم پرست ہیں اور بھارت دیش میں ہندوؤں کی کھوئی ہوئی طاقت بحال کرنے کے لئے کام کرتے ہیں۔ اور دوسرے وہ پاکستان کے خلاف بھارت کا تحفظ کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسی حکمت عملی کے نتیجہ میں فروری میں پلوامہ سانحہ کے بعد پاکستان کو نشانے پر لیتے ہوئے نفرت انگیز سیاسی مہم جوئی کی گئی۔ پاکستان پر اس سانحہ کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ بھارت اس دہشت گردی کا انتقام لے گا۔ اس کے بعد فضائی مہم جوئی کی ناکام کوشش میں بھارتی فضائیہ کو منہ کی کھانا پڑی اور پاک فضائیہ کے ساتھ ایک جھڑپ میں اس کا ایک طیارہ بھی ضائع ہؤا اور پائلٹ ابھے نندن بھی پکڑا گیا۔ اس کے باوجود نریندر مودی اور بی جے پی کی پروپیگنڈا مشینری دشمن کے علاقے میں ’گھس کر مارا‘ کا سیاسی نعرہ لوگوں میں بیچنے میں کامیاب رہی۔ اس کی واحد وجہ یہ تھی کہ بھارت میں نریندر مودی کو ہندو قوم پرستی کے احیا کا اہم اور طاقت ور ترین لیڈر تسلیم کروالیا گیا ہے۔ میڈیا نے اس حوالے سے بی جے پی کی نیت پر کوئی سوال اٹھائے بغیر پارٹی کو مکمل حمایت فراہم کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ انتخاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے صرف ہندو برتری کا نعرہ لگاتے ہوئے سماج سدھار کے کسی وعدے کے بغیر تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔
کامیابی کے اسی نشہ میں اب مودی دنیا سے بھارت کو سپر پاور تسلیم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ کسی ملک کی برتری کے لئے جو لوازمات درکار ہوتے ہیں وہ پہلے بھی بھارت میں موجود نہیں ہیں لیکن نریندر مودی جیسے لیڈر کی قیادت میں اخلاقی انحطاط، سیاسی پو لرائزیشن، سماجی انتشار ، فرقہ وارانہ منافرت اور علاقائی بے چینی کا ایک نیا دور شروع ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ نفرت اور گروہ بندی کی بنیاد پر منتخب ہونے والا لیڈر کسی قوم کو متحد کرنے اور ترقی کے سفر پر گامزن کرنے بصیرت اور صلاحیت کا حامل نہیں ہوتا۔ بھارت اگر اپنی اقتصادی ترقی اور سیاسی و سفارتی امکانات کی وجہ سے اقوام عالم کی صف میں باوقار مقام پانے کی طرف گامزن تھا تو مودی کی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا منشور اس سفر میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوگا۔
انتخابی مہم کے دوران بلند کئے گئے نعروں اور وعدوں کو پیش نظر رکھا جائے تو نریندر مودی کی نئی حکومت علاقے میں تناؤ پیدا کرے گی۔ اپنی اقلیتوں کے خلاف اس کے اقدامات داخلی انارکی کی صورت اختیار کرسکتے ہیں، کشمیر کے بارے میں سخت گیر پالیسی میں تبدیلی کے بغیر وہاں خوں ریزی میں اضافہ ہوگا اور علیحدگی کی جد و جہد تیز ہوگی۔ پاکستان کے خلاف کسی مہم جوئی کے شوق میں اگر مودی سرکار نے ایک نئی جنگ کا خطرہ مول لیا تو یہ بھارت کی معاشی ترقی پر براہ راست حملہ ثابت ہوگا۔
ان حالات میں نریندر مودی بھارت کے سپر پاور ہونے کا نعرہ لگا کر اپنے حامیوں کو تو مسحور کرسکتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کی حکمت عملی بھارت کو ترقی کی طرف گامزن ملک سے ایک دوسرے سے دست و گریبان معاشرے میں تبدیل کرسکتی ہے۔ بھارت کا جمہوری و قانونی نظام بہر حال امریکہ کی طرح مستحکم نہیں ہے۔ امریکہ کا نظام شاید ڈونلڈ ٹرمپ جیسے مقبولیت پسند لیڈر کے آٹھ برس پر محیط دور کے نقصانات سے جان بر ہوسکتا ہے۔ لیکن بھارت کا نظام مودی کا بوجھ برداشت نہیں کرسکے گا۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker