کالملکھاریوجاہت مسعود

کیا بھارت میں قرارداد مقاصد منظور ہوئی؟ ۔۔ وجاہت مسعود

اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی نے قرار داد مقاصد منظور کی۔ یہ قرار داد پنڈت جواہر لال نہرو نے 13 دسمبر 1946ء کو پیش کی اور چھ ہفتے کے بحث مباحثے کے بعد 22 جنوری1947ء کو متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ اس وقت پاکستان قائم نہیں ہوا تھا ۔ مسلم لیگ کے 73 ارکان دستور ساز اسمبلی کا حصہ تھے تاہم انہوں نے اسمبلی کا بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ آئیے ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی اور اس قرار داد تک سفر کا کچھ پس منظر بیان ہو جائے۔
ہندوستان کے لئے دستور ساز اسمبلی کا خیال معروف کمیونسٹ رہنما ایم این رائے نے 1934ء میں پیش کیا تھا۔ انڈین نیشنل کانگرس نے 1935ء میں اس مطالبے کو باقاعدہ طور پر اپنا لیا۔ 8 اگست 1940 کو وائسرائے لارڈ لنلتھگو نے یہ مطالبہ تسلیم کر لیا کہ ہندوستانیوں کو اپنا دستور مرتب کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔ عالمی جنگ ختم ہونے کے بعد کیبنٹ مشن ہندوستان آیا اور اس منصوبے کے تحت جولائی 1946 میں دستور ساز اسمبلی کے ارکان کے لئے انتخاب ہوا۔ دستور ساز اسمبلی کے ارکان کی کل تعداد 389 تھی۔ صوبائی اسمبلیوں نے 296 ارکان منتخب کئے۔ خود مختار ریاستوں کے نمائندوں کی تعداد 93 تھی۔ مسلم لیگ کے 73 اور کانگرس کے 208 ارکان کامیاب ہوئے۔ انتخاب کے بعد مسلم لیگ نے کانگرس سے تعاون سے انکار کرتے ہوئے دستور ساز اسمبلی کا بائیکاٹ کر دیا۔ مسلم لیگ کے یوم راست اقدام کے بعد کلکتہ، نواکھلی اور بہار میں فسادات شروع ہو گئے۔ مسلم لیگ نے مسلمانوں کے لئے علیحدہ دستور ساز اسمبلی کا مطالبہ کر دیا۔ متحدہ ہندوستان کے لئے منتخب ہونے والی دستور ساز اسمبلی کا افتتاحی اجلاس 9 دسمبر 1946ء کو منعقد ہوا جس میں 208 ارکان شریک ہوئے۔ مسلم لیگ اور ریاستوں کے نمائندوں نے بائیکاٹ جاری رکھا۔ یہ ایک تاریخی موقع تھا ۔ معلوم انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک مقبوضہ قوم نے مذاکرات کی میز پر اپنے لئے حکمرانی کا حق حاصل کیا تھا۔ انسانی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ ایک غیر ملکی طاقت جنگ کے بغیر اپنے مقبوضات سے دست بردار ہو رہی تھی۔ حکمران طاقت اور غلام آبادی میں یہ سمجھوتہ بنیادی انسانی انصاف کے سیاسی اصولوں کی روشنی میں طے پایا تھا۔ حق حکمرانی حاصل کرنے کے بعد نو آزاد ملک کی سیاسی قیادت کے لئے ایک بہت بڑا امتحان تھا کہ وہ اپنے وسیع اور متنوع ملک میں شہریوں اور ریاست کے مابین عمرانی سمجھوتے کے لئے کیا اصول اپناتی ہے۔ چنانچہ اسمبلی کے صدر اور نائب صدر کے انتخاب کے بعد 13 دسمبر 1946ء کو جواہر لال نہرو نے قرار داد مقاصد پیش کی جس میں آزاد ہندوستان کے دستور کے بنیادی اصول بیان کئے گئے تھے۔ قرار داد کا متن حسب ذیل تھا:

۔ 1یہ دستور ساز اسمبلی پورے ایقان اور صمیم قلب سے اس عزم کا اعلان کرتی ہے کہ بھارت کو ایک آزاد اور خودمختار مملکت قرار دے کر اس کے آئندہ ریاستی بندوبست کے لیے ایک دستور مرتب کیا جائے گا۔
.2 مجوزہ مملکت میں تمام علاقے شامل ہوں گے جو اب برطانوی ہند کا حصہ ہیں یا ہندوستانی ریاستوں میں شامل ہیں۔ اسی طرح بھارت کے وہ حصے اور ریاستیں جو اس وقت برطانوی ہند میں شامل نہیں ہیں یا وہ خطے جو آزاد اور خودمختار بھارت میں شامل ہونے پر تیار ہوں گے انہیں انڈین یونین کا حصہ بنایا جائے گا۔
.3 مذکورہ علاقوں کو ہی موجودہ جغرافیائی حدود کے ساتھ یا بھارت کا حصہ بننے والے علاقے فی الحال دستور ساز اسمبلی کے فیصلے کے نتیجے میں اور بعد ازاں دستور کی روشنی میں خود مختار اکائیوں کا درجہ حاصل ہو گا اور ان کا یہ درجہ برقرار رکھا جائے گا۔ ان علاقوں کو حکومت اور انتظامیہ چلانے کے ضمن میں تمام اختیارات حاصل ہوں گے سوائے ان اختیارات اور محکموں کے جو دستوری طور پر یونین کو تفویض ہوں گے اور جو بدیہی طور پر یونین کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
.4 خودمختار اور آزاد بھارت میں اس کی اکائیوں اور ریاستی اداروں کے تمام اقتدار اور اختیار کا سرچشمہ عوام ہوں گے۔
.5 بھارت کے تمام باشندوں کو سماجی، معاشی اور سیاسی انصاف، رتبے کی مساوات یکساں مواقع، قانون کی نظر میں برابری، اظہار کی آزادی، عقیدے اور عبادت کی آزادی، پیشہ اختیار کرنے کی آزادی، تنظیم سازی اور عمل کی آزادی کی ضمانت دی جائے گی اور ان آزادیوں کو صرف قانون اور شہری اخلاقیات کے تابع کیا جائے گا۔
.6 آزاد بھارت کے آئین میں تمام اقلیتوں، بچھڑے ہوئے گروہوں، قبائلی علاقوں اور پسماندہ طبقات کے تحفظ کے لیے مناسب ضمانتیں فراہم کی جائیں گی۔
.7 مہذب اقوام کے قوانین کی مطابقت میں بھارت کی جغرافیائی حدود اور خودمختاری کی زمین، سمندر اور ہواﺅں میں انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پوری طرح دفاع کیا جائے گا۔
.8 بھارت کا قدیم خطہ قوموں کی برادری میں اپنا جائز اور باوقار مقام حاصل کرے گا اور عالمی امن کے فروغ اور انسانیت کی فلاح و بہبود میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔

متحدہ ہندوستان کی یہ قرارداد مقاصد 22 جنوری 1947ء کو متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔
3جون 1947ء کو ہندوستان کی تقسیم کا اعلان ہوا۔ اسی ماہ متعلقہ صوبوں کی اسمبلیوں نے پاکستان کی علیحدہ دستور ساز اسمبلی تشکیل دی۔ 19 جولائی 1947ء کو قانون آزادی ہند کے تحت پاکستان اور بھارت کی آزاد مملکتیں وجود میں آئیں۔ 11 اگست1947ء کو پاکستان کی دستور ساز کا افتتاح ہوا جہاں قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے باشندوں کے ساتھ ریاست کے عمرانی معاہدے کے بنیادی اصول بیان کئے۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد 5 مارچ 1949ء کو دستور ساز اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں وزیر اعظم لیاقت علی خان نے قرار داد مقاصد پیش کی ۔ دستور ساز اسمبلی کے غیر مسلم ارکان نے قرار داد کی سخت مخالفت کی تاہم یہ قرار داد 12مارچ 1949ء کو کثرت رائے سے منظور کر لی گئی۔ اس روز دستور ساز اسمبلی میں 31 ارکان حاضر تھے۔ 21 ارکان مسلم اور دس غیر مسلم ، تمام مسلم ارکان نے قرار داد کی تائید کی جب کہ غیر مسلم ارکان نے متفقہ طور پر قرار داد کی مخالفت کی۔ مذہب کو مملکت کی بنیاد قرار دینے والے اس عمرانی معاہدے میں مذہب ہی کی بنیاد پر تقسیم قابل غور تھی۔
22 جنوری1947ء کو منظور ہونے والی متحدہ ہندوستان کی قرار داد مقاصد اور 12مارچ 1949ء کو منظور ہونے والی پاکستان کی قرار داد مقاصد کے متون میں تقابلی جائزہ دلچسپ ہے۔ دونوں قراردادوں میں نکتہ بہ نکتہ مفہوم کی مماثلت پائی جاتی ہے۔ دونوں قراردادوں میں تمام بنیادی اصول مشترک ہیں۔ صرف ایک نکتہ مختلف ہے ۔ ہندوستان کی قرار داد مقاصد کی شق چار میں اقتدار اور اختیار کا سر چشمہ عوام کو قرار دیا گیا ہے جبکہ پاکستان کی قرارداد مقاصد میں کائنات کی حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ملکیت قرار دیتے ہوئے عوام کے اختیارات کو اللہ کے بیان کردہ حدود کے تابع کیا گیا ہے۔ ہندوستان کی اسمبلی نے تئیس ماہ کی مدت مین آئین کا مسودہ مرتب کر لیا اور اسے 26 جنوری 1950ء کو نافذ العمل کر دیا گیا ۔ اس کے بعد 1974ء میں بنیادی حقوق کی چھ ماہ پر محیط تعطل کے استثنیٰ کے ساتھ بھارت کا ٓآئین تسلسل کے ساتھ کام کر رہا ہے ۔ بھارت دنیا کی مستحکم جمہوریتوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے ساڑھے آٹھ برس کے بعد پہلا دستور مارچ 1956ء میں منظور کیا جو اکتوبر 1958ء میں منسوخ کر دیا گیا۔ 1962ء میں نافذ ہونے والا پاکستان کا دوسرا آئین مارچ 1969 میں منسوخ کر دیا گیا۔ اگست 1973 میں منظور ہونے والا آئین دو مرتبہ بالترتیب آٹھ برس اور تین برس کے دو مختلف ادوار کے لئے معطل رہا۔

بھارت اور پاکستان کی قرار داد ہائے مقاصد میں صرف ایک نکتے کا فرق ہے اور وہ حاکمیت اعلیٰ کے اصول سے تعلق رکھتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ 22 جنوری 1947کو متحدہ ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پنڈت جواہر لال نہرو نے حاکمیت اعلیٰ کے اصول پر بحث کی تھی۔ اس بحث کا تناظر حاکمیت اعلیٰ کے موضوع پر پاکستان میں ہونے والے مباحث سے مختلف تھا۔ ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی میں برطانوی ہند کی شخصی ریاستوں کے 93 نمائندے بھی موجود تھے۔ نوابوں اور مہاراجوں کی نمائندگی کرنے والے ان ارکان نے عوام کو اختیارات اور اقتدار کا سر چشمہ ماننے سے انکار کیا تھا۔ اس پر پنڈت نہرو نے کہا ”قرار داد مقاصد پر بحث کرتے ہوئے ریاستوں کے نمائندوں نے عوام کو اقتدار کا سرچشمہ ماننے سے انکار کیا ہے۔ یہ ایک حیران کن اعتراض ہے۔ تاہم اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ ازمنہ قدیم کے ماحول میں رہنے والے اپنے قدیم واہموں سے الگ ہونے پر تیار نہیں ہیں۔ حیرت اس پر ہے کہ آج کے دور میں زندہ کوئی انسان کسی دوسرے انسان کے الوہی اور مطلق العنان حق حکمرانی کو کیسے تسلیم کر سکتا ہے۔ یہ ایک ایسے اصول کو زندہ کرنے والی بات ہے جسے ضمیر انسانی صدیوں پہلے دفن کر چکا ہے۔ دنیا کے سامنے ایسی غلط بات کر کے یہ حضرات خود اپنے مقام سے گر رہے ہیں۔ ہماری اسمبلی اس اصول کو تسلیم کر کے اپنی بنیادیں نہیں کھود سکتی۔ ہم نے ایک آزاد اور جمہوری بھارت کے خد و خال طے کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے“۔
قوموں کی تعمیر میں ایک اصول کی تعبیر اور تشریح سے پڑنے والا فرق بہت دور تک اثرات مرتب کرتا ہے۔ ان دونوں قرار دادوں کے متن اور اس سے برآمد ہونے والے نتائج پر غور کرنا چاہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker