کالم

ڈاکٹر نازش عفان کا کالم : انسداد ہراسا نی ایکٹ ، مدد چاہتا ہے یہ آدم کا بیٹا

یہ قصہ کسی ایک فرد کا نہیں ایک معاشرتی المیہ ہے جس نے شعبہ طب سے وابستہ افراد کو نہ صر ف بے چین کیا ہے بلکہ بے شمار سوالیہ نشان سامنے آنے لگے۔
اس میں شک نہیں کہ خواتین کے کام کرنے کی جگہ پر تحفظ کیلئے بنایا گیا قانون The Protection against Harassment of women at workplace Act.2010
نیک نیتی پر مبنی تھا۔ جس کا مقصد ایک بہترین ماحول کی فراہمی اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس قانون میں غلط شکایت کرنے والے یا معاشرے کے معزز افراد کو اس قانون کا سہارا لے کر سوشل میڈیا، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر بدنام کر کے ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا کوئی ازالہ موجود نہیں ہے۔ اور پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا ہمیشہ حوا کی بیٹی ہی کو تحفظ چاہیے یا کبھی آدم کے بیٹے کو بھی اپنی سالوں بھر کی عزت و وقار کی ضمانت مل سکتی ہے؟ سب سے پہلے تو یہ الزام حضرت یوسف علیہ السلام پر لگایا گیا تھااور پھر قدرت نے کس طرح انہیں عزت و قار کی بلندیوں تک پہنچایا۔ کیا کسی نے کبھی سوچا کہ اس ایکٹ میں ایسے تحفظ کا بھی تذکرہ ہے کہ اگر کسی شریف انسان کی عزت کوئی اچھالنا چاہے تو اس کا کوئی تدارک موجود ہے؟ یہ ایک ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے جس سے فرد نہیں خاندان متاثر ہوتا ہے سوسائٹی پر اثر ہوتاہے۔ اور الزام غلط ثابت ہونے پر ازالہ نہ ہونا ایسا نا قابل تلافی نقصان ہے جس کے ذمہ دار پھر ہم سب ہوتے ہیں۔ انہی خدشات کا اظہار پاکستان اکیڈیمی آف فیملی فزیشنز اپنے اجلاس میں اور گورنر پنجاب کو لکھے گئے خط میں کر چکی ہے، پی ایم اے لاہور اور پنجاب کے صدر بھی ایکٹ پر اپنے تحفظ کا اظہار کر رہے ہیں۔
حال ہی میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر ظاہر ہونے والی سٹوری کی تہہ میں جانے کے بعد ایسے ہی حقائق سامنے آرہے ہیں۔ برصغیر کی معروف طبی درسگاہ میں ایک گریڈ سترہ کی لیڈی ڈاکٹر تسلسل کے ساتھ ایسی شکایات کرتی رہی ہیں۔ پہلے شعبہ طب شرعی کے پروفیسر پر یہی الزام لگتا ہے وہ استاد اپنی عزت کی خاطر بڑوں کو معاملہ سمیٹنے کا کہتے ہیں۔ عزت اچھلنے کے ڈر سے پروفیسر صاحب معاملہ ختم کر دیتے ہیں۔ پھر دوسرے شعبہ میں بھی ایسی ہی خط وکتابت سامنے آتی ہے۔ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا موصوفہ گرلز ہاسٹل کی اسٹنٹ وارڈن کے طور پر اپنے کسی سینئر کو ماننے کے لئے بھی تیار نہیں۔ ہاسٹلز کے قوانین کی پاسداری نہیں ہو رہی۔ اسٹنٹ وارڈن کی رہائش میں بلا اجازت والدہ محترمہ اور خاندان کے دیگر افرادرہائش پذیر ہو جاتے ہیں اور ملازمین اور ہاسٹلز کے مکینوں کی شکایات کا سلسلہ شروع ہو تا ہے تو وارڈن جو کہ خود بھی ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں اور چیف وارڈن گریڈ 20 کی سینیئر پروفیسر، شعبہ میڈیسن کی سربراہ ہیں ان کی ہدایات ہوا میں اڑا دی جاتی ہیں۔ بلکہ الٹا انہیں موصوفہ اسٹنٹ وارڈن کی طرف سے ایسے خطوط جو کہ مس کنڈکٹ میں آتے ہیں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ پانچ سو سے زائد ہوسٹل کے مکینوں کی ذمہ داری، چیف وارڈن اور انتظامیہ کی ہوتی ہے۔ ان کے تحفظ کو یقینی بنانا اور قانون کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں جن میں ان کی طرف سے رکاوٹ کے علاوہ Disobedience بھی کی جاتی ہے۔ معاملہ ڈینز کمیٹی میں زیر بحث ہوتا ہے اور ڈینز کمیٹی چیف وارڈن کے عمل کو درست قرار دیتے ہوئے موصوفہ اسٹنٹ وارڈن کے خلاف ڈسپلنری کمیٹی میں ایکشن کی سفارش کرتی ہے۔
یہ ایک خالص انتظامی معاملہ ہے جس کیلئے قانونی راستہ اختیار کیا گیا۔ حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ اس قانونی راستہ کو روکنے کیلئے ہراسانی ایکٹ کا سہارا لیا گیا اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف درخواست دے دی گئی کیونکہ یہ واحد راستہ سمجھا گیاجس کے ذریعے ہر قسم کی بے قاعدگی کو وقتی تحفظ مل سکے اور پھر موصوفہ کے وکیل نے معاملہ کو ایک غلط بے بنیاد رخ دے کر اپنے نام سے فیس بک، ٹویٹرپر اپلوڈ کیا۔ اخلاقی طور پر یہ انتہائی غلط حرکت کی گئی کہ محتسب کی عدالت میں درخواست دیکر اس کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے سامنے لا کر عزت اچھالنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ جس کا کسی طرح بھی اخلاقی جواز نہیں بنتا ہے۔ یہ تو اللہ پاک کا کرم ہے کہ محترم وائس چانسلر کی ایک بے داغ زندگی، بہترین کیرئیر کا نہ صرف شعبہ طب گواہ ہے بلکہ زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس بے بنیاد الزام پر بے زاری کا اظہار کیا اور اس طرح کی حرکت کی پر زور الفاظ میں مذمت کی۔ شعبہ طبی تعلیم کے ایک بڑے ادارے سی پی ایس پی کی انتظامیہ سے ان کا تعلق گزشتہ 15 سالوں سے ہے۔ اور کم از کم پانچ ہزار سے زائد خواتین ڈاکٹرز ان سے وقتا فوقتا مختلف اکڈیمک اشوز پر ملتی بھی رہیں۔ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی جو کہ خواتین کا طبی ادارہ ہے کے پہلے ریگولر وائس چانسلر رہے دو ہزار سے زائدطالبات زیر تعلیم رہیں اور اس طرح پہلے کیمکولین کنگ ایڈورڈمیڈیکل یونیورسٹی کے ریگولر وی سی بنے۔
سوشل میڈیا ان کی اعلیٰ اخلاقی اقدار اور مثالی کردار سے بھرا پڑا ہے۔چار سے پانچ ماہ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں رہے۔ ہر طالبعلم، استاد ان کے اوصاف کا گواہ ہے۔ یونیورسٹی کے لئے ان کی خدمات اپنی مثال آپ ہیں ۔
فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کی پرو وائس چانسلر نے لکھا۔ بطور پروفیسر آف فزیالوجی اور پرووائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں نے پروفیسر گوندل کے ساتھ کام کیا میں ان کی اعلیٰ اخلاقی اقدار، عزت نفس کی گواہ ہوں، میں نے ان کو انتہائی محنتی، دیانت دار اوربہترین کردار کا حامل پایا۔
کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے لئے ان کی طبی تعلیمی اور تحقیقی خدمات سب پر عیاں ہیں بنیادی مضامین پی ایچ ڈی کی منظوری، ریسرچ میں کوالٹی کے معیار کی بلندی جاری منصوبوں کی تکمیل، شعبہ ٹیلی میڈیسن کا قیام، کوویڈ میں ملحقہ ہسپتالوں کے کردار کے ساتھ سب سے اہم فیکلٹی میں ٹیم سپرٹ کی موجودگی اور ترقی کا ایسا سفر جسکا اعتراف انگلینڈ ا ور امریکہ سمیت ایلومینائی نے برملا کیا۔
میڈیکل ایجوکیشن میں تمغہ امتیاز ملا، پانچ سال قبل ہی طبی خدمات کی بنیاد پر گریڈ 21 مل گیا۔ سچی بات تو ہے کہ کسی نے کہا کہ نظر لگ گئی۔ مگر یہ نظر ایک فرد واحد کو نہیں لگی۔ یہ ایک ادارے کو لگ گئی۔ ایک پروفیشن کو لگ گئی۔ ایک جدوجہد مسلسل سے حاصل کی گئی شہرت اور مقام کو لگ گئی۔ الزام غلط ثابت ہونے پر کون کریگا اس کا ازالہ کون کس کو ذمہ دار ثابت کرے گا؟ کون سامنے لائے گا ان کو جو اس نا پسندیدہ عمل کے محرک بنے انفرادی مفاد کی خاطر اجتماعیت، ادارے کے تشخص کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔یہ ایک المیہ ہے۔ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ میرے لئے، ہم سب کے لئے اور ارباب اختیار کے لئے ایک بہت بڑا سوال ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker